تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     18-02-2026

بنگلہ دیش کا نیا منظر نامہ

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمن نے بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام کے مطابق یہ تبدیلی ان کے ملک کیلئے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ بنگلہ دیش میں جین زی کے انقلاب کے بعد حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ ایک طویل عرصہ بنگلہ دیش میں ایک مطلق العنان خاتون شیخ حسینہ واجد حکمران رہی جس نے اپنے مخالفین پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ شیخ حسینہ واجد شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی ہیں اور عوامی لیگ کی صدر۔ وہ جدید دور میں دنیا کی واحد خاتون ہیں جنہوں نے کسی ملک پر مجموعی طور پر تقریباً 20 سال حکمرانی کی۔ وہ پہلے 1996ء سے 2001ء اور پھر 2008ء سے 2024ء تک مسلسل بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں۔ اس کے علاوہ وہ 1991ء سے 1996ء تک اور پھر 2001ء سے 2006ء تک اپوزیشن لیڈر بھی رہیں۔ کسی فرد کا اتنا طویل دورِ حکمرانی جمہوریت نہیں بلکہ آمریت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ان کی پاکستان دشمنی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اپنے ادوار میں وہ بھارت کی آلۂ کار بنی رہیں۔ بنگلہ دیش میں ان کے خلاف احتجاج یوں تو نوکریوں کے کوٹے پر شروع ہوا لیکن اس احتجاج کے پیچھے ان کے طویل اقتدار کا بھی عمل دخل تھا۔ اپنے دورِ حکمرانی میں انہوں نے جہاں مخالفین پر مظالم کے پہاڑ توڑے‘ وہیں کرپشن بھی خوب کی۔ ان کے پاس اندرونِ ملک زرعی زمینیں‘ تجارتی اراضی‘ فش فارمزاور بیرونِ ملک مینشن ہیں۔ جب اگست 2024ء میں وہ بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت فرار ہوئیں تو انقلابیوں نے ان کی رہائش گاہ سے سارا قیمتی سامان لوٹ لیا۔ وہ پُرتعیش زندگی گزارنے والی ایک سنگدل حکمران تھیں۔ شیخ حسینہ نے چن چن کر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے لیڈروں کو نشانہ بنایا‘ اُن کو قتل کرایا‘ پھانسیاں لگوائیں۔ انہیں پاکستان سے ہمدردی رکھنے کی بنا پر غدار کہا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں‘ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم‘ آزادیٔ رائے پر قدغن اور پاکستان مخالف پالیسیاں حسینہ دور کا خاصہ رہی ہیں۔ ان کا غرور اور تکبر اب بھی ختم نہیں ہوا۔ وہ بھارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور کہتی ہیں کہ بنگلہ دیش واپس آ کر سب سے انتقام لوں گی۔
جب اگست 2024ء میں نوجوانوں کی بھرپور تحریک کے نتیجے میں حسینہ واجد کا اقتدار ختم ہوا تو بنگلہ دیش میں عبوری حکومت قائم ہوئی جس کا سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کو بنایا گیا۔ وہ ایک کرشمہ ساز شخصیت ہیں جنہوں نے غریب لوگوں کو چھوٹے قرضے فراہم کر کے بنگلہ دیش میں انقلاب برپا کیا۔ انہیں غریب لوگوں کی بہتری کیلئے کام کرنے پر امن کا نوبیل انعام بھی دیا گیا۔ ان کی سربراہی میں بنگلہ دیش نے نئے سفر کا آغاز کیا۔ 12فروری کو ان کی سربراہی میں ہی بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ بنگلہ دیش کے 12کروڑ 90 لاکھ سے زائد ووٹرز میں بڑی تعداد میلینلز اور جین زی کی ہے‘ جو ووٹرز کے تناسب کا 44فیصد ہیں۔ علاقائی ممالک خصوصاً پاکستان اور بھارت کی نظریں بھی بنگلہ دیش کے الیکشن پر مرکوز تھیں۔ حسینہ واجد کے جانے کے بعد اب بنگلہ دیش کے تعلقات بھارت سے مثالی نہیں۔ نئے نظام نے تعلقات کا جھکاؤ چین‘ پاکستان اور دیگر ممالک کی طرف کیا ہے۔
الیکشن کے آغاز میں جماعت اسلامی کے اتحاد اور بی این پی کے درمیان سنسنی خیز مقابلے کی خبریں گرم تھیں۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان‘ جو سابق وزیراعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیا الرحمن کے بیٹے ہیں‘ الیکشن سے قبل 17 سال کی جلاوطنی کے بعد بنگلہ دیش واپس آئے تھے‘ انہوں نے اپنے الیکشن ایجنڈے میں جمہوری اصلاحات‘ معاشی مواقع‘ تعلیم اور صحت کی سہولتوں کو اولین ترجیح قرار دیا۔ حالیہ الیکشن میں بی این پی نے 300میں سے 212نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے میدان مار لیا ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی نے شفیق الرحمن صاحب کی سربراہی میں 11جماعتی اتحاد تشکیل دیا جس نے حالیہ الیکشن میں 77 نشستیں حاصل کی ہیں۔ طلبہ کی نیشنل سٹیزن پارٹی پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکی‘ سات امیدوار آزاد جیتے اور دو نشستوں پر نتائج آنا باقی ہیں۔ ناہید اسلام جو نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر ہیں‘ انہوں نے ڈھاکہ سے اپنی نشست جیت لی ہے ۔ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔یہ الیکشن مجموعی طور پر پُرامن رہے۔ کچھ جگہوں پر گنتی میں تاخیر اور دھاندلی کا شور ہوا لیکن جماعت اسلامی نے انتخابی نتائج کو قبول کر لیا ہے۔ پاکستان سے بھی کئی صحافیوں نے بنگلہ دیش کا الیکشن کور کیا ‘ ان کے مطابق پولنگ پُرامن تھی اور بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر الیکشن میں حصہ لیا۔ وہ نئے مستقبل کیلئے پُرامید ہیں۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے مرد اور خواتین بہت منظم تھے اور انہوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ حالیہ انتخابات میں خواتین نے بھی حصہ لیا تاہم جنرل نشستوں پر ان کی تعداد محدود تھی‘ اس کے علاوہ اسمبلی میں خواتین کیلئے 50نشستیں مختص ہیں۔
بنگلہ دیش کی نئی قیادت چین کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتی ہے اور نئی نسل جین زی جوبنگلہ دیش میں انقلاب لائی ‘ وہ بھارت کو شدید ناپسند کرتی ہے۔ ان کے مطابق ان کے ملک میں حسینہ واجد کی طرف سے ہونے والے مظالم میں بھارت کا برابر ہاتھ ہے۔ حال ہی میں بنگلہ دیش نے چین سے ایک اہم دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے‘ جس کے تحت دونوں ملک بھارت کی سرحد کے قریب ایک ڈرون فیکٹری قائم کر رہے ہیں۔ اس پر امریکہ نے فوری طور پر بنگلہ دیش کو عسکری تعاون کی پیشکش کی ہے۔ امریکہ نے مزید کہا کہ ہماری بہت سی کمپنیاں بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔ وہ روہنگیا مہاجرین کیلئے بھی امداد دینے کو تیار ہیں۔ امریکہ کی ان نوازشات کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ وہ چین کے خطے میں بڑھتے تعلقات سے پریشان ہے۔ بنگلہ دیش نے پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔ اب جنوبی ایشیا کا منظرنامہ بدل رہا ہے۔
نئی حکومت آنے کے بعد بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان بھی تعلقات میں بہتری آنے کا امکان ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین پروازوں کی بحالی اور کاروباری شراکت داری ایک نئے تعلقات کا مظہر ہے‘ جو آگے چل کر دفاعی امور‘ ٹیکسٹائل‘ زرعی اور طبی شعبے تک بھی پھیل سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ ایک طرف جین زی ہے جو نئی حکومت کے ہر کام پر نظر رکھے گی‘ دوسری طرف عوامی لیگ بھی چین سے نہیں بیٹھے گی‘ جو اَب بھی ایک بڑی سیاسی قوت ہے۔ معیشت اور عوام کی فلاح بھی ایک بڑا چیلنج ہوگی۔ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ مہاجرین کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلیاں بھی حکومت کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنیں گی۔ بھارت نئی حکومت کی راہ میں مشکلات حائل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے کیونکہ شیخ حسینہ بھارت ہی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ وہ ضرور امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گی۔ بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم طارق رحمان پاکستان سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں‘ ان کی والدہ بھی پاکستان سے مضبوط تعلقات کی حامی تھیں۔ عبوری سربراہ ڈاکٹر یونس نے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی۔ڈاکٹر محمد یونس نے پُرامن الیکشن کے انعقاد پر خوشی اور اس امید کا اظہار کیا کہ اب ایک نیا بنگلہ دیش بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ بی این پی کی قیادت میں بنگلہ دیش مستحکم ہوگا‘ جمہوری آئینی بالادستی بڑھے گی اور ملک ترقی کرے گا۔میری خواہش ہے کہ بنگلہ دیش ترقی کرے اور طارق رحمان اس کڑے امتحان میں پورا اتر سکیں۔ مگر یہ راستہ کٹھن ہے اور بھارت کی طرف سے مسلسل مشکلات پیش آئیں گی۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی ہے تاکہ پاکستان اور بنگلہ دیش مضبوط تعلقات کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھیں جس میں دفاع‘ تعلیم‘ سیاحت‘ ثقافت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کو فروغ دیا جاسکے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved