تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     19-02-2026

ہمارے ٹارگٹ، تخمینے اور موسم کا حال

اللہ جانے کس نے سردیوں کے شروع میں یہ افواہ پھیلا دی تھی کہ اس سال سردیاں لمبی بھی ہوں گی اور شدید بھی۔ ملتان کی حد تک تو میں کہہ سکتا ہوں کہ نہ شدید پڑیں اور موجودہ حالات دیکھ کر یہ بھی نہیں لگتا کہ سردیاں لمبی ہوں گی۔ فروری کا وسط ہے اور سردی دمِ آخر پر ہے۔ ہر سال ملتان میں کم از کم آٹھ دس دن شدید کڑاکے کی سردی پڑتی ہے اس بار وہ بھی نہیں پڑی۔ ہماری موسمیاتی پیش گوئیاں ویسی ہی ہوتی ہیں جیسی ریڈ انڈینز کے چروکی قبیلے کا سردار کر رہا تھا۔
سردیوں کا آغاز ہونے والا تھا۔ قبیلے کے لوگوں نے سوچا کہ ان کا بزرگ سردار عقلمند بھی ہے اور عمر کے حوالے سے بہت سے سال اور موسم دیکھ چکا ہے اسے یقینا موسموں کا اندازہ ہوگا اور وہ یہ بتا سکے گا کہ اس سال سردی کیسی پڑے گی۔ وجہ صرف یہ تھی کہ قبیلے والے موسم کے مطابق جلانے کیلئے لکڑیاں اکٹھی کرنا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ موسم کا درست علم ہو جائے تو وہ اس کے مطابق کم یا زیادہ لکڑیاں سٹور کر لیں۔ وہ سردار کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ اس کا کیا خیال ہے اس سال سردیاں کیسی ہوں گی؟ برفباری ہو گی یا نہیں؟ اگر ہو گی تو کتنی ہو گی اور سردی کا موسم مجموعی طور پر گزشتہ سال کی نسبت کیسا ہوگا؟ سردار نے سارے سوال سن کر آنے والے لوگوں سے کہا کہ اسے اس معاملے پر غور وفکر کرنے اور سوچنے کیلئے تھوڑا وقت دیں اور کہا کہ کل ان کو موسم کا مکمل حال بتا دے گا۔
سردار کو موسم کے تلّون کا اور موسم کے بارے میں اپنی صلاحیتوں کا پورا ادراک تھا۔ اس نے یہ وقت محض اس لیے حاصل کیا تھا کہ اس دوران وہ محکمہ موسمیات سے معلومات لینا چاہتا تھا تاکہ اس کی روشنی میں وہ قبیلے والوں کو نہ صرف موسم کے متعلق رہنمائی کر سکے بلکہ اپنی سرداری کی لاج بھی رکھ سکے۔ اس نے محکمہ موسمیات والوں کو فون کیا اور سردی کی شدت‘ دورانیے اور برفباری کے امکانات بارے معلوم کیا۔ مقامی محکمہ موسمیات کے دفتر میں موجود نچلے درجے کے نکمے سے اہلکار نے اس فون کو معمول کا فون سمجھا اور ٹرخاتے ہوئے کہہ دیا کہ اس بار سردی شدید ہو گی‘ دورانیہ لمبا ہوگا اور برفباری زیادہ ہو گی۔ سردار نے یہ ساری باتیں اگلے روز قبیلے والوں کو بتا دیں۔ قبیلے والوں نے ان معلومات کی روشنی میں لکڑیاں خریدنا شروع کر دیں۔ ہفتہ گزرا ہو گا کہ انہوں نے دوبارہ سردار سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ سردی زیادہ ہو گی یا بہت زیادہ ہو گی؟ سردار کی جانے بلا! اس نے پھر اگلے روز بتانے کا وعدہ کیا اور پہلی بار کی طرح دوبارہ مقامی محکمہ موسمیات کے دفتر میں فون کرکے سردی کی شدت‘ برفباری کے امکانات اور سردی کے دورانیے بارے پوچھا کہ یہ سب کچھ صرف زیادہ ہو گا یا بہت زیادہ ہوگا۔ مقامی دفتر نے اسی فارغ سے اہلکار نے اس بار زیادہ یقین سے بتایا کہ سردی بہت زیادہ پڑے گی۔
سردار نے اپنے قبیلے کو بتایا کہ سردی زیادہ ہی نہیں‘ بہت زیادہ پڑے گی۔ لوگوں نے مزید زور وشور سے لکڑیاں خرید کر اکٹھی کرنا شروع کر دیں۔ دس پندرہ روز مزید گزر گئے۔ لوگوں نے سوچا کہ آخری بار پھر سردار سے موسم کے بارے میں پوچھ لیں۔ انہوں نے سردار سے کہا کہ وہ لکڑیاں تو دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں لیکن ایک بار مزید پوچھنے آئے ہیں کہ کیا سردی بہت زیادہ پڑے گی یا بہت ہی زیادہ پڑے گی؟ سردار نے حسبِ معمول اگلے روز بتانے کا وعدہ کیا اور اس بارے وہ خود محکمہ موسمیات کے دفتر گیا اور اسی اکلوتے نالائق قسم کے اہلکار سے پوچھا کہ سردی بہت زیادہ ہو گی یا بہت ہی زیادہ ہو گی۔ اس نے یہ بات دریافت کرتے ہوئے لفظ ''بہت ہی‘‘ پر بہت ہی زور دیا۔ اس اہلکار نے سردار کو بتایا کہ اس بار تو لگتا ہے ریکارڈ توڑ قسم کی سردی پڑے گی۔ سردار نے واپس آکر قبیلے والوں کو اس ریکارڈ توڑ سردی کا بتایا تو قبیلے والوں نے مزید لکڑیاں خریدنا چاہیں مگر وہ پہلے ہی اتنی لکڑی خرید چکے تھے کہ اب مقامی منڈی میں لکڑی دستیاب نہ تھی۔ انہوں نے بھاگ دوڑ کر کے ادھر ادھر ساتھ والے علاقوں سے لکڑی خریدی اور سٹور کر لی۔ اب وہ موسم کی شدید ترین صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار تھے۔
اسی اثنا میں محکمہ موسمیات کا صوبائی سربراہ مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا جب اس علاقے میں آیا تو اپنے دفتر کے دورے پر بھی آیا۔ لکڑی کے ایک چھوٹے سے کیبن پر مشتمل اس علاقائی دفتر میں کرسی پر اونگھتے ہوئے اس اکلوتے اہلکار کی آنکھ دورہ کرنے والے صوبائی وفد کی آمد پر کھلی۔ اس نے فٹا فٹ کرسیوں کو ترتیب دے کر انہیں بیٹھنے کا کہا۔ دفتر میں موجود ایک خستہ حال کافی مشین کو آن کرتے ہوئے اس دورے کی غرض وغایت معلوم کی۔ پتا چلا کہ ٹیم مختلف علاقوں میں سردی کے حوالے سے آگاہی اور اس کی روشنی میں عوام کو ہدایات جاری کرنے کیلئے نکلی ہے۔ صوبائی محکمے کے سربراہ نے اپنے اس اہلکار سے پوچھا کہ اس علاقے میں سردی کی شدت کا کیا اندازہ ہے؟ اہلکار نے نہایت ہی اعتماد سے کہا کہ سر! اس سال اس علاقے میں بڑی ریکارڈ توڑ قسم کی سردی پڑے گی۔ افسر اعلیٰ نے پوچھا کہ وہ یہ بات کس بنیاد پر کہہ رہا ہے؟ سر! مجھے تو سردی وغیرہ کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے لیکن یہ جو ریڈ انڈین ہیں نا! ان کی چھٹی جس بڑی تیز ہوتی ہے اور وہ اپنے صدیوں کے تجربے کی بنیاد پر موسم کے بارے میں بڑے درست اندازے لگاتے ہیں۔ اس سال ہمارے علاقے کے ریڈ انڈینز دھڑا دھڑ لکڑیاں خرید رہے ہیں اور ان کا یہ بندوبست ظاہر کرتا ہے کہ اس سال بہت ہی شدید سردی پڑے گی۔
مجھے یہ ساری کہانی ویسے تو اس سال سردی کی شدت اور موسم کے دورانیے کے ممکنہ طور پر غلط ہونے سے یاد آئی ہے لیکن ہمارے ہاں کے سارے محکمے اسی قسم کی بنیادوں پر اپنے تخمینے لگاتے ہیں اور اسی قسم کی معلومات کی روشنی میں اپنے ٹارگٹ طے کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ تخمینے درست ہوتے ہیں اور نہ ہی ٹارگٹ پورے ہوتے ہیں۔ محکمہ زراعت کو لیں تو ان کے افسران دفتروں میں بیٹھ کر اندازے لگاتے ہیں کہ کون سی فصل کتنے رقبے پر کاشت ہو گی اور ایک آدھ فیلڈ دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں کہ فی ایکڑ پیداوار کتنی ہو گی۔ اس سارے حساب کتاب کو مدنظر رکھ کر ملکی پیداوار کا تخمینہ لگایا جاتا ہے جو غلط ثابت ہوتا ہے۔ محکمہ شماریات والوں کو ملک کی حقیقی آبادی کا علم نہیں اس لیے وہ ملکی ضرورت کا جو تخمینہ لگاتے ہیں وہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ کبھی ہمارے سرکاری محکمے کسی فصل یا جنس کو ملکی ضرورت سے زیادہ قرار دے کر ایکسپورٹ کرنے کی سفارش کر دیتے ہیں اور چار چھ ماہ بعد علم ہوتا ہے کہ ملک میں اس چیز کی شارٹیج ہو گئی لہٰذا اب مہنگے داموں امپورٹ کی جائے۔
ٹیکس اکٹھا کرنے والے ادارے دفتروں میں بیٹھ کر ٹیکس کا ٹارگٹ مقرر کرتے ہیں اور ہوائی قلعوں میں بیٹھ کر اس کی وصولی کا ٹارگٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ سہ ماہی ٹارگٹ پورے ہوتے ہیں اور نہ ہی سالانہ ٹارگٹ۔ کوئی اچانک اٹھ کر بیرونِ ملک سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی خبر سناتا ہے اور کوئی سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی پڑی ہوئی دو سو ارب ڈالر کی رقم وصول کرکے آئی ایم ایف کے منہ پر مارتا ہے۔ حال یہ ہے کہ سال بہ سال بیرون ملک سے پاکستانیوں کی بھیجی جانے والی رقوم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ رقم جو سال 2020ء میں 23 ارب ڈالر تھی‘ 2025ء میں بڑھ کر 38 ارب ڈالر ہو چکی لیکن پانچ سال میں اس پندرہ ارب ڈالر کے اضافے کے باوجود ہم اس سال بھی آئی ایم ایف سے محض ایک ایک ارب ڈالر کیلئے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ ہمارے آمدنی اور اخراجات کے نہ تو تخمینے درست ہیں اور نہ ٹارگٹ حقیقی ہیں۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved