تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     19-02-2026

ناقص پالیسیوں کا ثمر

ملک میں سولر انرجی کا سورج غروب کرنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ دراصل اس کے پیچھے کھرب پتی اشرافیہ ہے۔ مہنگی بجلی‘ لوڈ شیڈنگ اور حکومتی نااہلی سے جان چھڑانے والے لاکھوں سولر صارفین کیلئے حکومت نے ایک ہی فیصلے میں منظرنامہ بدل دیا ہے۔ حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں نیٹ میٹرنگ نظام کو ختم کر کے نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا‘ جس کے تحت اب سولر صارفین کی طرف سے گرڈ میں بھیجی جانے والی بجلی کیلئے انہیں کم از کم قیمت دی جائے گی جبکہ ڈِسکوز سے لی گئی بجلی صارفین کو ان کے موجودہ صارف ٹیرف کے مطابق چارج کی جائے گی۔ تاہم عوامی ردِعمل اور سولر صارفین کی شدید مخالفت کے فوراً بعد وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائے۔ اسی تناظر میں نیپرا نے اعلان کیا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے پرانے صارفین نئے نیٹ بلنگ رولز کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے‘ ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے پرانی شرائط پر ہی برقرار رہیں گے‘ جب تک کہ ان کی مدت ختم نہیں ہو جاتی؛ البتہ نئے سولر صارفین نئے نیٹ بلنگ نظام ہی میں جائیں گے۔ یہاں یہ سوال اہم ہے کہ کیا حکومت واقعی اس اقدام پر مجبور تھی؟ کیا حکومت کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا کہ سولر صارفین کا بوجھ بڑھا دیا گیا؟ دنیا کا مستقبل مصنوعی ذہانت اور سولر انرجی سے وابستہ ہے‘ اور ہماری حکومت سولر انرجی کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں رہا کہ سولر پینلز کی درآمد پر سبسڈی ختم ہونے کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی بعض شخصیات نے مبینہ طور پر ترکیہ اور دیگر ممالک سے سٹاک خریدے۔ مزید برآں حکومت نے خود بھی 2030ء تک ملک میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ بڑھانے کا عزم کر رکھا ہے‘ لیکن یہ عزم صرف نعروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چند روز قبل صنعتکاروں کیلئے چار روپے فی یونٹ بجلی سستی کرنے کا اعلان کیا تھا‘ اس کیلئے حکومت کو 125ارب روپے درکار ہوں گے۔ اس مقصد کیلئے حکومت نے گھریلو صارفین پر فکس چارجز کی مد میں مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ قبل ازیں حکومت گردشی قرضوں کی ادائیگی کیلئے تقریباً فی یونٹ تین روپے بجلی مہنگی کر چکی ہے‘ یعنی حکومت کے پاس توانائی کے شعبے کیلئے کوئی جامع پالیسی موجود نہیں ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کی ساری توجہ صرف انہی معاملات تک محدود ہے جن سے ان کے ذاتی مفادات وابستہ ہیں‘ اپوزیشن کا ایک گروپ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی کوششوں میں مصروف پے جبکہ دوسرا حکومت اور اداروں پر تنقید میں۔ یوں حکومت کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں پر کوئی سوال اٹھانے والا موجودنہیں‘ حکومت چاہے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے یا ملک میں مہنگائی مزید بڑھتی جائے‘ اپوزیشن کو ان معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
ادھر سٹیٹ بینک آف پاکستان نے دسمبر 2025ء تک قرضوں اور واجبات کا ڈیٹا جاری کیا ہے جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025ء تک ملک پر قرضے اور واجبات 95 ہزار464 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ بینک کے مطابق صرف 2025ء میں قرضوں میں 7536 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق 22 ماہ میں حکومتی قرضوں میں 13 ہزار 729 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جن میں مقامی قرضے 12 ہزار697 ارب اور بیرونی قرضے ایک ہزار 31 ارب روپے بڑھے۔ یعنی حکومت نے ملکی اخراجات پورے کرنے کیلئے اپنی ساری توجہ قرضوں کے حصول پر مرکوز کر رکھی ہے۔ یہ پالیسی ملکی معیشت کیلئے کسی زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ قرضوں پر انحصار کے بجائے حکومت کو ملک کو پیداواری معیشت بنانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ سرکاری ملکیتی اداروں کا خسارہ ایک سال کے دوران 300 فیصد تک بڑھا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق 25سرکاری اداروں کا مجموعی خسارہ اس وقت 832 ارب روپے ہے جبکہ نیٹ خسارہ 30 ارب سے بڑھ کر 123 ارب تک جا پہنچا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے اتحادیوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ ناقص حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں قبل از وقت انتخابات کی فضا بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالات بدل رہے ہیں۔ لیڈر آف اپوزیشن کے جارحانہ بیانیے نے حکومت کو اندرونی طور پر مضطرب کر دیا ہے۔ تاہم غیر سنجیدہ بیانات خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ 28ویں ترمیم کے ذریعے بعض شقوں میں ردوبدل کی باتیں بھی گردش میں ہیں۔ عمران خان کی اپنے وکیل سے حالیہ طویل ملاقات کے نتائج بھی جلد سامنے آ سکتے ہیں۔ اربابِ اختیار کو تاریخ کے آئینے میں ماضی کے واقعات کا جائزہ لینا چاہیے۔ تاریخ کے اوراق یہ باور کراتے ہیں کہ سیاسی وفاداریاں مستقل نہیں ہوتیں اور مقتدرہ کی کمزوری پر اتحاد کی صف بندی بدل جاتی ہے۔
مارچ 1969ء میں جب فیلڈ مارشل ایوب خان کی طلب کردہ گول میز کانفرنس کامیاب ہوئی اور متحدہ اپوزیشن بشمول شیخ مجیب الرحمن اور مولانا مودودی نے انہیں ایشیا کا مدبر سیاستدان قرار دیا تو چند ہی دن بعد حالات کا رخ یکسر بدل گیا۔ جنرل یحییٰ خان نے 23 مارچ 1969ء کی سلامی کا شیڈول تبدیل کر کے اقتدار سنبھال لیا اور سیاستدانوں نے ایوب خان کے خلاف آواز بلند کر دی۔ بعدازاں جنرل یحییٰ خان‘ جو ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی سمجھے جاتے تھے‘ تین مارچ 1971ء کا اجلاس منسوخ کرنے کے فیصلے کے بعد سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے سے جڑے اور 18دسمبر 1971ء کو گرفتاری کے بعد گوشہ نشین ہو گئے۔ پرویز مشرف کا انجام بھی تاریخ کا حصہ ہے؛ پانچ فروری کو ان کی تیسری برسی سادگی سے منائی گئی۔دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا سترہ ماہ بعد قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ آئین کے آرٹیکل 64 کے تحت منظور کر لیا گیا ہے۔ اس اقدام سے بلوچستان میں نئی تحریک کے خدشات جنم لے سکتے ہیں۔ پاکستان یقینا ایک نازک دور سے گزر رہا ہے‘یہ فقرہ ہر بحران میں دہرایا جاتا ہے اور اکثر مواقع پر درست ثابت ہوا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جنگیں‘ مارشل لاء‘ سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران‘یہ سب اس کی صداقت کی مثالیں ہیں۔ مقتدرہ کے سیاست سے عدم تعلق کا مؤقف اپنی جگہ مگر تاریخ میں اس کے براہِ راست اور بالواسطہ کردار پر بحث جاری رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات سمیت مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پاکستان میں سیاسی بے یقینی پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ 1972ء میں شاہِ ایران نے بھی ایسے خدشات ظاہر کیے تھے۔ بھارت کی نظریں بلوچستان پر جمی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق بیانات عالمی طاقتوں کی توسیع پسندانہ سوچ کی واپسی کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ عسکری قیادت کو وفاق اور صوبوں کے مالیاتی معاملات‘ کرپشن‘ بڑھتے ہوئے قرضہ جات اور سولر جیسے متنازع فیصلوں کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانا چاہیے تاکہ حکومت کو آئینی اور انتظامی توازن کا آئینہ دکھایا جا سکے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved