یہ کہانی دلچسپ‘ رنگین‘ کچھ غمگین اور انقلابی و تاریخی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ ہم بنگلہ دیش کو زیادہ تر اپنے حوالوں سے دیکھتے آئے ہیں جس کا مرکزی نکتہ ہماری مشترکہ تحریک آزادی ہے۔ جس تاریخی تناظر میں برطانوی راج کا ہندوستان منقسم ہوا اور ہمارا ملک دو جغرافیائی حصوں کی صورت میں ہمیں عطا ہوا‘ اسے اکٹھا رکھنے کیلئے جن معروضی وسائل‘ تدابیر‘ حکمت اور سیاسی دور اندیشی کی ضرورت تھی اس سے مغربی پاکستان کے حکمران طبقے عاری تھے۔ صرف ابتدا کے 12برسوں میں جغرافیہ کے جبر اور جمہوری سیاست کے تقاضوں کا ادراک اور اس کے بارے میں کچھ حساسیت تھی جو ملک کے پہلے مارشل لاء اور ایوب خان کے اقتدار میں آنے کے بعد ختم ہو گئی۔ بنگلہ شناخت‘ زبان‘ ثقافت اور اس کی سیاسی تاریخ کی ابتدا تحریک آزادی سے تو شروع نہیں ہوئی تھی‘ وہ تو دیگر لسانی اکائیوں کی طرح ہزاروں سال پرانی ہے۔ چونکہ نعرہ بازی کا ہمیں ہمیشہ سے شوق رہا ہے اور نظریاتی بیانیے بنانے کے ماہرین کی ہمارے ہاں کمی نہیں‘ اس لیے معروضی حقائق اور ظاہری سیاسی دھاروں کے پیچھے چھپے سماجی محرکات کو سمجھنا تو درکنار ان کے بارے میں بات کرنا بھی خطرے سے خالی نہ رہا تھا۔ خیر اب ان باتوں کی ضرورت نہیں رہی۔ ہمارے بنگالی بھائیوں نے اپنا ملک 55سال پہلے دنیا سے تسلیم کروا لیا۔ ہم اُس زمانے میں جامعات میں تھے اور اس دور کی سیاسی گفتگو‘ مباحث اور سیاسی کشمکش کے گواہ ہیں۔ آج بھی ہمارے ہاں وسائل اور طاقت کے زور پر اُن اکابرین کو بنگالیوں کے خون کے دھبوں سے صاف کیا اور کرایا جا رہا ہے۔ اس بارے میں کچھ کتابوں کی شکل میں اور زیادہ تر اخباروں اور رسائل میں جب اکثریتی جماعت عوامی لیگ کو اقتدار نہ منتقل کرنے کے ذمہ داروں کے بارے میں آج کے دانشوروں کے تبصرے اور خیالات پڑھتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ ابھی تک یہاں کچھ نہیں بدلا۔
بنگلہ دیش ہمارے مقابلے میں بہت بدل چکا ہے۔ اس تبدیلی کے آثار وہاں آزادی کے پہلے برسوں میں نمایاں تھے۔ آئین ساز اسمبلی کے پہلے دو برسوں کا ریکارڈ اگر کوئی دیکھ سکے تو اچھی طرح اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کس نوع کا پاکستان چاہتے تھے اور ہم کن شاہراہوں پر اپنی طاقت کے گھوڑے دوڑانے کی فکر میں تھے۔ نمائندگی‘ خود مختاری‘ جمہوریت‘ آئین کی بالا دستی اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میں تب کے مشرقی پاکستان کے اراکین نے کیا اس کی نسبت مغربی حصے سے زیادہ تر سرکاری قراردادیں پیش کرنے کے بعد سر ہلانے والے تھے۔ ہماری جامعہ پنجاب میں مشرقی پاکستان سے طلبہ کی بہت بڑی تعداد تھی۔ چند اُن میں ہمارے کلاس فیلو بھی تھے جن سے اس بحران کے دوران گفتگو رہتی تھی اور بعد میں بھی تعلق رہا۔ بہت سلجھے ہوئے‘ ذہین اور ہمارے مقابلے میں عملیت پسند تھے۔ ہماری نظریاتی نعرہ بازی کے مقابلے میں وہ ٹھوس دلائل دیتے تھے کہ ناانصافیوں کا ازالہ نہیں ہوا‘ اور ہمارا استحصال ہوتا رہا ہے۔ ان کی سب باتیں ہمیں تب بھی اور آج بھی سچ معلوم ہوتی ہیں۔ اے کے فضل الحق کی قیادت میں 1954ء میں جگتو فرنٹ (متحدہ محاذ) نے صوبائی انتخابات بھاری اکثریت سے بارہ پوائنٹ کی بنیاد پر جیتے‘ جو بعد میں اختصار کے ساتھ عوامی لیگ کے چھ نکات بنے تھے۔ اصل میں سب سے پہلی سیاسی منڈی ان انتخابات کے نتائج کو ختم کرنے کیلئے مغربی پاکستان کے سیاست بازوں نے لگائی تھی۔ 16سال بعد جب انتخابات ہوئے تو اسی طرح عوامی لیگ نے میدان مارا‘ مگر پھر ''اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ کی سیاست ہم نے شروع کی اور اسے ہمارے بڑے عوامی رہنماؤں اور ان کے سرپرستوں نے ایک خونیں انجام تک پہنچایا۔ سب تاریخ کے کردار ہمارے سامنے ہیں مگر ہم اپنی سیاسی اور نظریاتی تقسیم اور جھوٹے ذاتی مفادات اور تعصبات کے زاویوں سے دیکھتے رہیں گے۔ وہ تاریخ کو اس کے اپنے مخصوص رنگ میں پڑھتے ہیں‘ انہیں دوسروں کے تبصروں کی ضرورت نہیں رہتی‘ وہ انہیں لکھاریوں کی ذہنی ساخت پر چھوڑ دیتے ہیں۔
بنگلہ دیشیوں نے اپنی تاریخ میں جو کمالات دکھائے ہم ابھی ان سے بہت دور ہیں۔ انہوں نے اپنے جغرافیائی اور معروضی حالات کے تناظر میں نئی ترجیحات کا انتخاب کیا۔ قدرتی وسائل کے لحاظ سے آبادی کا پھیلاؤ سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ وہ سیلاب انہوں نے تدبر اور سماجی ترقی کی بدولت روکا۔ آزادی کے وقت انکی ہمارے مقابلے میں اکثریت تھی۔ آج وہ ہم سے آٹھ کروڑ کم ہیں۔ ہم آج بھی کچھ نہیں کر رہے کہ آبادی‘ تعلیم اور سماجی ترقی ہمارے غالب حکمران دھڑوں کی ترجیح نہیں۔ جو ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ ایسے لوگوں کا زمین اور عوام سے رشتہ نعرہ بازی اور دھڑے بندی تک ہی محدود رہتا ہے اور وقت آنے پر انکا ٹھکانہ کہیں اور ہوتا ہے۔ ہمارے سیاسی گروہوں کی نسبت بنگلہ دیشوں کے سیاسی لوگوں کا سماجی اور معاشی پس منظر متوسط طبقے سے رہا ہے۔ وہاں کوئی جاگیرداری نظام ہے اور نہ ہی قبائلیت اور نہ ہی ہر ضلع میں کوئی مخدوم گھرانہ۔ انکی حکومتوں نے تمام خرابیوں کے باوجود تعلیم‘ صحت اور خصوصاً خواتین کے حقوق اور انکی تعلیم اور ہنر مندی میں سرمایہ کاری کی ہے۔ آپ سماجی ترقی کا کوئی عالمی معیار اور پیمانہ لے کر دیکھیں تو ہم انکے مقابلے میں پسماندہ دکھائی دیں گے۔ محدود وسائل‘ نامساعد موسم اور سیلابوں کی زد میں رہنے والا یہ ملک آج کپڑے کی صنعت میں دنیا کے ممتاز ترین ممالک میں شامل ہے۔ اگر مجھے کوئی کپڑا امریکہ یا برطانیہ میں گزشتہ 40 برسوں میں خرید کرنے کا موقع ملا تو اس پر بنگلہ دیش کی مہر ثبت دیکھی۔ انگریز دور سے پہلے بنگال کپاس اور ریشم کے بہترین کپڑے کیلئے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ بنگلہ دیشیوں نے وہی تاریخی اور سماجی ورثہ اس شعبے کی ترقی اور وسعت کیلئے استعمال کیا۔ اس میںزیادہ تر کردار تو حکومتوںکی پالیسیوں میں تسلسل‘ سرمایہ کاری کیلئے بہتر فضا اور مناسب قیمت پر بجلی اور دیگر ضروری سہولتوں کا مہیا کرنا ہے۔ نجانے کتنے صنعت کار ہمارا ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش میں سرمایہ کا ری کر چکے ہیں۔
سب سے اہم بات بنگلہ دیش کے حوالے سے متوسط طبقے اور نوجوانوں کا سیاسی شعور اور بیداری ہے۔ متحدہ ملک کے زمانے میں بھی ان کی سیاسی پختگی کا کوئی جواب نہ تھا۔ دو سال قبل جولائی کے مہینے میں ایک موروثی خاندانی آمریت کو جامعات اور کالجوں کے طلبہ اور طالبات نے جانوں کی قربانی دے کر اپنے ملک اور سیاست کو ایک بار پھر آزاد کروا لیا۔ ہمارے نوجوانوں کا جذبہ ہماری سیاسی جماعتوں نے انہیں ہرکارے بنا کر ان کی روحوں سے نکال دیا ہے۔ ہر سیاسی جماعت کی اپنی نرسری ہے اور سیاسی تقسیم میں یہ نرسریاں اپنے مالک کا راگ الاپتی رہتی ہیں۔ بنگلہ دیش کے ''جوان انقلاب‘‘ میں نظریاتی اختلافات کے باوجود ان میں چند کلیدی اصولوں پر اتفاق سامنے آیا۔ وہ ہیں جمہوریت‘ انسانی حقوق‘ جوابدہ حکومت‘ کرپشن کا خاتمہ‘ بہتر حکومتی کارکردگی اور اقربا پروری سے نجات جو کوٹہ نظام کی صورت میں چل رہی تھی۔ سینکڑوں نوجوان شہید ہوئے‘ اور یہ آزادی کے جذبے کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب عوامی لیگ کی حکومت نے انتخابات میں دھاندلی کرنے کے بعد اپنا سکہ جما لیا۔ اسکا تمام ریاستی وسائل پر قبضہ اور آمرانہ لہجہ اور رویہ سب کو معلوم تھا۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر پابندی‘ مقدمات کی بھرمار اور پھانسیوں تک کی نوبت آ چکی تھی‘ خصوصاً جماعت اسلامی کیلئے۔ ایسی آمریت کے خلاف نوجوانوں کی تحریک اور اسے کامیابی تک پہنچانے کی سماجی طاقت اپنے جیسے ملکوں میں ہم نے صرف بنگلہ دیش میں ہی دیکھی ہے۔ سماجی ترقی ہو یا صنعت کاری‘ ہمیں بنگلہ دیش سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ بیداری کی بات ہم نہیں کرتے۔ 'کہیں کوئی طوفان نہ کھڑا ہو جائے‘ کا کھٹکا بہت سارے دلوں میں رہتا تو ہو گا مگر ابھی تک سیاسی فضا ان کے حق میں ہے۔ کل کیا ہو گا کسی کو کیا علم۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved