عمران خان کی چشمِ بینا کی بینائی ضائع ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کی طرف بعد میں چلیں گے‘ پہلے کچھ بنیادی انسانی پہلوؤں پر نظر ڈال لیں۔ وہ انسانی پہلو جو صدیوں سے مسلم تہذیب‘ تہذیبِ مشرق اور ہماری رہتل میں حفظِ مراتب کے لینڈ مارک سمجھے جاتے رہے۔ لیکن عمران خان کو آنکھ کی بیماری کیا لگی‘ ان تینوں روایات کے برزجمہر بے نقاب ہو گئے۔ پہلے تو یہ کہ عمران خان سرے سے بیمار ہی نہیں ہیں۔ یہ کوئی ڈیل ہے جو قیدی نمبر 804نے مانگی۔ یا پھر کہ بیماری صرف بہانہ ہے‘ ڈھیل نشانہ ہے۔ کچھ دوسرے اس سے بھی آگے بڑھ گئے‘ انہوں نے وہ‘ وہ مذاق گھڑ لیے کہ الامان الحفیظ۔ میرے قبیلے اور قبیل دونوں کا مزاج ہے کہ دوستی نہ بھی رہے تو بھی ہم گزرے تعلق کو تعلقِ خاطر سمجھ کر یکطرفہ طور پہ نبھاتے رہتے ہیں۔ کاش میں اپنے ایک سابق دوست کے بارے کچھ لکھ سکتا۔ بس اتنا جان لیجئے کہ میں نے پارٹی چھوڑی تو میرے پاس Who is Whoکی لائنیں لگ گئیں۔ خاص طور سے سندھ اور پنجاب سے۔ کچھ زائر بولے: اینکرآپ چن لیں‘ ٹاک شو کی طوالت بھی آپ کی مرضی کے تابع ہو جائے گی۔ ہم آپ سے صرف تین سوال پوچھیں گے۔ تجویز کردہ سوال یہ تھے:
مجھ سے پوچھا جانے والا پہلا سوال: آپ پر الزام ہے کہ بے نظیر بھٹو کی وصیت آپ اور سابق صدر نے مل کر تیار کی؟ اس سوال کے جو بھی پروموٹر تشریف لاتے وہ ساتھ ایک مزید مشورہ بھی دیتے تھے کہ آپ چاہیں تو اس سوال کا ان تین میں سے ایک جواب چن لیں۔ پہلاجواب: نو کمنٹس۔ دوسرا جواب: اگلا سوال کریں۔ تیسرے جواب کے طور پر آپ قہقہہ لگائیں یا مسکراہٹ کے ساتھ منہ دوسری طرف پھیر لیں۔ میں نے اس ''ٹیلر میڈ‘‘ فرمائش کا ہمیشہ ایک ہی جواب دیا۔ میں جواباً پوچھتا تھا کہ آپ مجھے ایک آسان سی بات بتا دیں‘ آپ کو لازماً انٹرویو دوں گا‘ آپ کے تجویز کردہ سوالوں کے جواب بھی۔ جب سوالی پوچھتے کہ ہاں ہاں ضرور بتائیں‘ کیا بات جاننا چاہتے ہیں تو میں سوال داغ دیتا کہ بھائی صاحب! آپ کو میرے پاس بھیجا کس نے ہے؟ پھر میری جگہ سوال کرنے والا غمگین لہجے میں مصنوعی قہقہہ لگا کر واپسی کی راہ لیتا۔
مجھ سے پوچھا جانے والا دوسرا سوال: جب آپ اپنے دوست صدر کے فوجداری ٹرائل میں کراچی‘ اٹک‘ راولپنڈی‘ لاہور اور اسلام آباد کی عدالتوں میں بطور وکیلِ دفاع پیش ہو رہے تھے‘ تب انہوں نے ضمانت حاصل کرنے کیلئے پاگل پن کی Plea لی تھی؟ میں اس سوال کے دو جواب دیتا چلا گیا۔ پہلا یہ کہ لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ مجریہ 1973ء کے مطابق‘ جبکہ ضابطہ دیوانی مجریہ 1908ء کے تحت اور ساتھ ہی قانونِ شہادت آرڈر 1984ء کے آرٹیکل 9اور آرٹیکل 12 کے تحت کلائنٹ کی وکیل سے گفتگو Privilegedہے۔ میں کلائنٹ وکیل ریلیشن میں ایسی ہر گفتگو کو مقدس امانت سمجھتا ہوں۔ دوسرا جواب یہ دیتا کہ مجھے تو آپ کے سوال سے پاگل پن کی بُو آرہی ہے۔
مجھ سے پوچھا جانے والا تیسرا سوال: بی بی کی شہادت سے پہلے میاں بیوی کے آپس میں تعلقات کیسے تھے؟ اس کے جواب میں پوٹھوہاری زبان کا ایک لطیفہ ضرور سناتا اور ساتھ کہتا کہ آپ اپنے سٹاف اور دوستوں سے اپنے اور بیگم صاحبہ کے تعلقات ڈسکس کر سکتے ہیں؟ میرے اس جواب پر ایک صاحب خاصے ناراض ہوگئے۔ کہنے لگے کہ آپ نے بڑی زیادتی والی بات کی۔ عرض کیا: جی نہیں! زیادتی والی بات آپ نے پوچھی‘ میں نے انسانی نفسیات پر مبنی جواب دیا۔ سوال کرنے والے ساتھ کئی کہانی نما ثبوت بھی بیان کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ سبز باغ دکھانے کا دھندہ پاکستانی اشرافیہ کی عادتِ ثانیہ بن چکا ہے۔
مجھے یہ تمہید اس لیے باندھنا پڑی ہے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی میں دو عشرے گزارنے کے بعد جب پیپلز پارٹی کا بوریا بستر پنجاب سے لپیٹا جا رہا تھا‘ میں نے تب بھی اڑھائی سال انتظار کیا۔ پھر عمران خان کو جوائن کیا۔ مگرجس کے گوڈوں میں گرِیس ہو اسے چاہیے سیاست میں بھی Grace دکھائے۔
ان دنوں ایوانِ اقتدار کے عارضی مکین جس بے شرمی سے مالکان کی خوشنودی کیلئے عمران خان کی بیماری پر لکھ اور بول رہے ہیں‘ اس کی مثال کسی دوسرے مہذب ملک کی سیاست سے نہیں ڈھونڈی جا سکتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان کی ڈیوٹی ہے کہ وہ راجہ بھوج اور گنگو تیلی دونوں کے قد برابر کر دکھائیں۔ چنانچہ ہر جمعہ جنج نال ''شاملِ باجا‘‘ بجا رہا ہے۔
اب آئیے عمران خان کی صحت‘ سلامتی اور علاج کے حوالے سے جو سرکاری کھلواڑ سیریل چل رہا ہے‘ اس کے کچھ اہم ترین پہلوؤں کا جائزہ لیں۔
عمران خان کی بیماری کا پہلا پہلو یہ ہے کہ حکومت پانچ معاملات پر سارا زور لگا رہی ہے۔ ایک یہ کہ عمران خان کا علاج کبھی دن کی روشنی میں نہیں بلکہ ہمیشہ رات کے اندھیرے میں ہو گا۔ دن کی روشنی میں کیوں نہیں؟ یہ سوال ہر ذی شعور پوچھ رہا ہے۔ دوسرے نمبر پر سرکاری ہسپتالوں کے طے شدہ ڈاکٹروں سے خفیہ علاج کرانے کی ضد۔ پھر سرکار کے لکھے سکرپٹ کے تحت عمران خان کی میڈیکل رپورٹس خود مریض یا اس کے ذاتی معالجین کے حوالے نہ کرنا آتا ہے۔ تیسرے عمران خان کی بیماری کے دوران بھی ان کے بیٹوں قاسم اور سلمان کو والد سے کسی قیمت پر ملاقات نہ کرنے دی جائے۔ چوتھا یہ کہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر سارے ٹرائل کینگرو کورٹس کے حوالے رہیں۔ حالانکہ ابوالکلام آزاد سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک‘ آصف زرداری سے شروع کرکے نواز شریف تک‘ خان عبدالولی خان سے شیخ مجیب الرحمن تک‘ جو ٹرائل بھی ہوئے وہ کھلی عدالتوں میں ہوئے۔ پانچویں نمبر پر ڈرٹی پالیٹکس آتی ہے۔ کوئی اسے علاج کیوں مانے؟
کیا زمانہ ہے‘ اب یہ بھی بتانا پڑے گا کہ ہر بیماری‘ ہر سرجری اور ہر تکلیف میں ہر ہسپتال آئی سی یو میں مریض کے قریبی رشتہ داروں میں سے ایک اٹینڈنٹ ساتھ رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ عمران خان کو یہ معمولی سی انسانی سہولت بھی حاصل نہیں۔ اگلے روز عالمی ایک نیوز ایجنسی نے عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلمان کا انٹرویو نشر کیا۔ دونوں نے بتایا کہ والد صاحب کئی مہینوں سے علاج سے محروم ہیں۔ علاج کے سرکاری ڈرامے کے پیش کار خود اکیلے اس ڈرامے کے تائید کنندگان ہیں۔
قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھ
زوالِ عشق میں سوداگروں کا ہات تو دیکھ
بس ایک ہم تھے جو تھوڑا سا سر اٹھا کے چلے
اسی روِش پہ رقیبوں کے واقعات تو دیکھ
غمِ حیات میں حاضر ہوں لیکن ایک ذرا
نگارِ شہر سے میرے تعلقات تو دیکھ
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved