برطانیہ میں جاری میری پی ایچ ڈی ڈگری کا یہ چوتھا سال ہے اور اس اعتبار سے چوتھی مرتبہ مجھے مسلسل رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں یہاں شاپنگ مالز میں خریداری کا تجربہ ہوا ہے۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ حسبِ روایت رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد سے لگ بھگ تین ہفتے قبل ہی تمام بڑے سٹوروں اور شاپنگ مالز میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی کردی گئی تھی۔ اس ضمن میں سرکردہ گروسری سٹوروں نے باقاعدہ رمضان آفر کو جلی حروف میں لکھوا کر خریداروں کی رہنمائی اور آسانی کیلئے چند مخصوص شیلفوں پر مشتمل الگ جگہ مختص کر کے کھانے پینے کی اشیائے ضروریہ وافر مقدار میں فراہم کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین کی آگاہی کیلئے تمام بڑے سٹوروں نے اپنی اپنی ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر رعایتی نرخوں کی تشہیر شروع کر رکھی ہے تاکہ خریدار بر وقت خریداری کر سکیں اور سحر و افطار کیلئے حسبِ ضرورت اہتمام یقینی بنا سکیں۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ان رعایتی نرخوں پر دستیاب اشیائے خورونوش کی فراہمی صرف مسلم خریداروں کیلئے ہی نہیں بلکہ تمام خریدار بلا تفریق و امتیاز اس سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ یہ بتانا بھی لازم ہے کہ اگر آپ بطور صارف کچھ اشیا معمول کے مطابق خرید رہے ہوں تو ان سٹوروں پر مامور سٹاف رمضان آفر پر دستیاب اشیا کی طرف آپ کو گائیڈ کر دیتے ہیں تاکہ آپ بلا وجہ زیادہ پیسے نہ صرف کر دیں اور وہی سامان سستے داموں خرید لیں۔ رعایتی نرخوں پر خریداری کی یہ سہولت دیگر مذہبی تہواروں مثلاً ہولی‘ ایسٹر اور کرسمس کے مواقع پر بھی میسر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین سال بھر ان تہواروں کا انتظار کرتے ہیں اور رعایتی نرخوں سے فائدہ اٹھا کر اچھی خاصی بچت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ در حقیقت گوروں کے دیس میں کرسمس کے مذہبی تہوار کو عید کی طرح پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے امریکہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ یورپی ممالک اور برطانیہ میں سال کی سب سے بڑی سیل آفرز کرسمس کے موقع پر پیش کی جاتی ہیں بلکہ کچھ مصنوعات تو اتنے سستے داموں دستیاب ہوتی ہیں کہ باقاعدہ لوٹ سیل کا ماحول بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کرسمس کے اگلے روز بلیک فرائیڈے سپیشل سیل لگائی جاتی ہے جس میں کئی اشیا پر 50سے لے کر 75فیصد تک رعایت کی پیشکش ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ان سٹوروں کے باہر رات گئے صارفین لمبی قطاریں بنانا شروع کر دیتے ہیں اور صبح سٹوروں کے کھلنے تک کئی گھنٹوں انتظار میں گزار دیتے ہیں۔
اس کے برعکس وطنِ عزیز میں ایک طرف رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد پر تقریباً تمام تجارتی مراکز‘ شاپنگ مالز اور بازاروں میں استقبالیہ اور دعائیہ کلمات پر مبنی مبارکباد کے پوسٹرز اور بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔ اسی نوعیت کے روح پرور پیغامات کا سلسلہ سوشل میڈیا پر شروع ہو جاتا ہے اور مذہبی جوش و جذبہ دیدنی ہوتا ہے۔ مگر دوسری طرف تجارتی مراکز اور بازاروں میں انہی بڑے بڑے دعائیہ بینرز کے سائے میں ہماری تاجر برادری اور کاروباری شخصیات کی اکثریت منافع خوری‘ گراں فروشی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر دیتی ہے اور وہ تمام اشیائے خورونوش جو سحر و افطار میں لازماً استعمال ہوتی ہیں‘ ان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک کی آمد سے چند روز قبل ہی ان اشیائے ضروریہ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور پھر ساتھ ہی ہر روز قیمتیں اونچی اڑان بھر کر آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اور یوں عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہو جاتی ہیں۔ منافع خوری اور گراں فروشی میں ملوث عناصر اس قدر طاقتور ہیں کہ حکومتی مشینری ان کی لوٹ کھسوٹ کے سامنے بے بس نظر آتی ہے اور ان کی قیمتوں میں کمی لانے کے بجائے مقامی انتظامیہ سستے بازار قائم کرکے ان میں اشیائے خورونوش مناسب قیمت پر دستیاب کرنے کیلئے سرگرم عمل نظر آتی ہے۔ یہ سستے بازار اس امر کا ثبوت اور اقرار ہوتے ہیں کہ تجارتی مراکز اور شاپنگ مالز میں موجود اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام لوگوں کی قوتِ خرید سے کہیں زیادہ ہیں۔ لہٰذا اس ماہِ مقدس میں لوٹ مار کر کے سال بھر میں کمائے گئے منافع سے کہیں زیادہ رقم جمع کر لی جاتی ہے جس سے بڑی بڑی پُرتکلف افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ اس کا کچھ حصہ صدقہ خیرات پر بھی خرچ کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کچھ افراد عمرہ ادا کرنے حرمین شریفین پہنچ جاتے ہیں اور وہاں عبادات کے ساتھ ساتھ روزہ داروں کی خدمت میں لنگر کا اہتمام بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ وہاں رو رو کر اپنے کاروباری معاملات میں مزید خیرو برکت کیلئے دعائیں بھی مانگتے ہیں۔ ان دعاؤں میں امتِ مسلمہ کے عروج کے ساتھ ساتھ کفار اور یہود و نصاریٰ کی مکمل تباہی و بربادی کیلئے بددعائیں بھی کی جاتی ہیں مگر کیا عجب ہے کہ اس کے باوجود عالمی نظام میں یہودو نصاریٰ کے غلبے اور تسلط میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی وقعت گھٹتی جا رہی ہے۔
اس کی بنیادی وجہ اخلاقی پستی اور ہماری عبادات میں ریاکاری اور دکھاوا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران ہم کھانا پینا چھوڑ کر سمجھ لیتے ہیں کہ ہم روزہ دار ہیں جبکہ روزہ داری کے فلسفہ اور اصل روح پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔ روزہ ہمیں اخلاص‘ احساس اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ دراصل اس عبادت کا بنیادی مقصد بھوک پیاس کی شدت برداشت کرنے اور صبر و استقامت کے ساتھ ان لوگوں کیلئے احساس اور جذبۂ ایثار اجاگر کرنا ہے جنہیں سال بھر دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی اور جن کے گھر کا چولہا زیادہ تر ٹھنڈا رہتا ہے۔ مگر ہمارے تجارتی مراکز اور دکانیں جس بے دردی سے خریداروں کو لوٹتے ہیں اور گراں فروشی کے مکروہ دھندے میں ملوث ہوکر ناجائز منافع خوری کے مرتکب ہوتے ہیں وہ عمل ہر لحاظ سے شعائر اسلام اور اخلاقی اقدار کے منافی ہے۔ دوسری جانب جن مغربی معاشروں پر ہم ہر وقت تبرا پڑھتے ہیں وہاں احترامِ رمضان میں قیمتوں میں نمایاں کمی کر دی جاتی ہے اور اشیائے خورونوش کو عام لوگوں کیلئے انتہائی مناسب قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے سالانہ مذہبی تہوار کرسمس کے موقع پر سال کی سب سے بڑی سیل آفرز پیش کرتے ہیں اور تقریباً تمام مصنوعات اپنی اصل قیمت سے نصف یا اس سے بھی کم پر دستیاب ہوتی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں استقبالِ رمضان المبارک کا سب سے بہترین انداز تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ملک بھر کی تاجر تنظیمیں اور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اپنے اپنے علاقوں میں اس ماہِ مقدس کے آغاز سے پندرہ روز قبل اشیائے خورونوش کے ساتھ ساتھ کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کرتیں جس سے غریب طبقہ نہ صرف آسانی سے سحر و افطار کا بندوست کر پاتا بلکہ وہ مناسب داموں میں عید کی شاپنگ کرکے صحیح معنوں میں عید کی خوشیاں منانے کا اہتمام بھی کر سکتا۔ تاجر برادری کے اس احسن اقدام سے حکومتی سطح پر سستے بازار قائم کرنے کی ضرورت بھی خود بخود ختم ہو جاتی۔ کیا تاجر برادری کیلئے حقیقی طور پر رمضان المبارک کا استقبال کرکے اس بابرکت مہینے کی تمام رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا اس سے زیادہ خوبصورت کوئی اور طریقہ ہو سکتا ہے؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved