اور اب 'رہائی فورس‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ 'اس فورم سے خان صاحب کی رہائی کیلئے آئینی جدوجہد کی جائے گی‘۔ جواب میں کہا جا سکتا ہے: یہ جدوجہد تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کیوں نہیں؟ ایسے سوالوں کے جواب افراد نہیں‘ تاریخ کے پا س ہوتے ہیں۔
فورس‘ کمانڈر‘ یہ سب الفاظ غیر سیاسی ہیں۔ ان کا تعلق عسکریت سے ہے۔ یہ الفاظ اسی دماغ میں ڈھل سکتے ہیں جو تشدد پر یقین رکھتا ہو۔ ہماری تاریخ میں یہ الفاظ اجنبی نہیں۔ اس سے پہلے بھی یہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی لغت میں شامل رہے ہیں۔ ہمارے ہاں پہلے ایک جماعت بنتی ہے‘ پھر اس میں سے کوئی فورس نمودار ہوتی ہے۔ یہ اکثر ڈنڈا بردار ہوتی ہے اور اسے جلسوں کا انتظام سونپا جا تا ہے۔ مذہبی جماعتیں اسلامی رنگ دینے کیلئے‘ حزب اور حرکت جیسے الفاظ بھی استعمال کرتی ہیں۔ امن وامان کے ذمہ دار اداروں کے ساتھ یہ جماعتیں جب برسرِ پیکار ہوتی ہیں تو یہی فورس ہراوّل دستے کا کردار ادا کرتی اور تشددکا ہتھیار اٹھاتی ہے۔ فسطائی حکومتیں بھی یہ کام کرتی ہیں۔ وہ سیاسی مخالفین کو کچلنے کیلئے کبھی 'نتھ فورس‘ بناتی ہیں اور کبھی ایف ایس ایف۔
آج اگر تحریک انصاف کی موجودگی میں ایک نئی فورس تیار کرنے کی بات ہو رہی ہے تو واضح ہے کہ یہ کسی آئینی جدو جہد کیلئے نہیں ہے۔ اس کیلئے تحریک انصاف کی تنظیم کفایت کرتی ہے۔ یہ فورس بنانے کا ایک مقصد جماعت کے اندر ایک ایسا گروہ تیار کرنا ہے جو بزور راستے اور بازار بند کرائے۔ ریاستی نظم کو تہ وبالا کرے۔ یہاں تک کہ حکومت اس کا مطالبہ ماننے پر مجبور ہو جائے۔ بالفاظِ دیگر پسپا ہو کر عمران خان صاحب کو رہا کر دے۔ علی امین گنڈاپور کو لانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ تحریک انصاف کو 'فورس‘ میں بدل دیں گے۔ وہ یہ خدمت سر انجام نہ دے سکے تو آفریدی صاحب کو لایا گیا۔ سوچ یہ تھی کہ جو کام گنڈاپور نہ کر سکے‘ یہ کر یں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ بھی کچھ نہ کر سکے تو؟ اس کا جواب خان صاحب کے ایک مرید دانشور دیتے ہیں۔ وہ حکومت کو خبردار کرتے ہیں: اگر آفریدی صاحب کو ہٹایا گیا تو آنے والا اس بھی چند قدم آگے ہو گا۔
یہی دراصل تحریک انصاف کی قیادت کا المیہ ہے۔ وہ ایک ایسے راستے پر آگے بڑھتی جا رہی ہے جہاں سے واپسی نہیں ہو تی۔ 9مئی جس حکمتِ عملی کا آغاز تھا‘ اس پر پیش قدمی جاری ہے۔ یہ عمران خان صاحب کی اپنی سوچ ہے۔ وہ انقلابی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی لغت سیاسی نہیں‘ اس لیے اس میں مکالمہ‘ گفتگو‘ تبادلۂ خیال‘ جمہوری روایات جس میں دوسروں کے وجود کو تسلیم کرنا شامل ہے‘ ان کی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں۔ وہ اگر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو غیر سیاسی عناصر سے اور اس کا ایجنڈا بھی یک نکاتی ہے: آپ میری حمایت کریں اور دیگر سیاسی کرداروں کو نیست و نابود کرنے میں میری معاونت کریں۔ اسی لیے اپنی غیر حاضری میں جماعت کی قیادت کیلئے ان کی نظرِ انتخاب پڑتی ہے تو گنڈاپور صاحب پر یا آفریدی صاحب پر۔ یہ حسنِ انتخاب دراصل اظہار ہے کہ وہ کن خطوط پر اپنی جدوجہد کو استوار کرنا چاہتے ہیں۔ آفریدی صاحب اس سوچ سے واقف ہیں۔ اس لیے انہوں نے 'فورس‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو کام خان صاحب چاہتے ہیں وہ سیاسی جماعت نہیں‘ کوئی فورس ہی کر سکتی ہے۔
یہ حکمتِ عملی دراصل انقلابی تحریکوں سے مستعار ہے۔ اس میں چی گویرا جیسے لوگ ہیرو ہیں۔ یہ تحریکیں بیرونی استعمار سے آزادی کیلئے برپا ہوئیں۔ یہ گوریلا جنگ کے ہیرو ہیں جن کا تعلق ا شتراکی فکر کے ساتھ تھا۔ یہی فکر جب داخلی سطح پر اقتدار کی جنگ میں فریق بنی تو اس نے سیاسی جدوجہد کے مقابلے میں انقلابی جدوجہد کا تصور متعارف کرایا اوراقتدار کے کھیل میں شریک دیگر داخلی قوتوں کو بھی غیر ملکی غاصب قوتوں کے مثل جانا اور عوام کے سامنے انہیں اسی طرح پیش کیا۔ اسلام کی بنیاد پر اٹھنے والی انقلابی تحریکوں نے بھی یہی حکمتِ عملی اپنائی۔ انہوں نے مسلم ریاستوں کے حکمران طبقے کو طاغوت قرار دیا۔ یہ اصطلاح قرآن مجید نے شیطان کیلئے اختیار کی ہے۔ شدت انقلابی تحریکوں کا امتیاز ہے۔ انقلابی تحریک معتدل نہیں ہو سکتی۔ اگر مسلم حکمران طاغوت ہے تو طاغوت سے مکالمہ نہیں ہو سکتا۔ اس کا خاتمہ ہی مطلوب ہے۔ یہ ہے وہ اندازِ نظر جو سیاسی حکمتِ عملی سے متصادم ہوتا ہے اور یہی معاملہ دوسری انقلابی تحریکوں کا بھی ہے۔
اب ہونا یہ چاہیے تھا کہ انقلابی جدوجہد کی مسلسل ناکامی کے بعد‘ تحریک انصاف دوبارہ سیاسی جدوجہد کی طرف رجوع کرتی۔ اس کا پہلا مرحلہ معاصر سیاسی جماعتوں سے رابطہ ہے۔ اہلِ سیاست میں ہمنوا پیدا کرنا ہے۔ خود کو سیاسی عمل میں شریک کرنا ہے۔ اس کی افادیت ہر سیاسی ذہن پہ واضح ہے۔ اس سمت میں نہ صرف کوئی پیشرفت نہیں ہوئی بلکہ جماعت کی صفوں میں اگر کسی نے ایسا چاہا تو اسے بھی نکو بنا دیا گیا۔ علی امین گنڈاپور صاحب اب جو کچھ کہہ رہے ہیں‘ بجائے ان کی باتوں پر غور کے‘ انہیں مخالف قوتوں کا ایجنٹ بنا دیا گیا اور اس دروازے ہی کو بند کر دیا گیا جو سیاسی عمل کی طرف کھلتا ہے۔ یہ بھی انقلابی تحریکوں کا خاص طریقہ ہے کہ ان کی صفوں میں جس نے بھی سیاسی حقائق کے اعتراف کی دعوت دی‘ اسے تحریک کا غدار بنا دیا گیا۔ یہ سلوک یاسر عرفات کے ساتھ ہوا اور پاکستان میں ان کے ساتھ بھی جنہوں نے جماعت اسلامی کو چھوڑا اور اس کی حکمتِ عملی پر تنقید کی جسارت کی۔
سیاست میں غلط اور صحیح دو اور دو چار کی طرح واضح نہیں ہوتے۔ یہاں بہت کچھ مبہم (Grey Area) ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تحریک انصاف کا مؤقف درست ہے یا غلط‘ سوال یہ ہے کہ اس مؤقف کو منوانے کا سیاسی طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔ جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے توجواب دیا جاتا ہے: جب ہم درست ہیں تو ہماری بات کیوں نہیں مانی جا رہی؟ یہ غیر سیاسی رویہ ہے۔ سیاست میں حق و باطل کے فیصلے نہیں ہوتے‘ یہاں معاملات طے ہوتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ قانون اور اخلاق کی بنیادی حیثیت ہے۔ اس کی تفہیم کا انحصار مگر ہمیشہ فریقین پر ہوتا ہے۔ وہ جس بات پر اتفاق کر لیں وہی درست ہوتی ہے۔ سیاسی ذہن بہ آسانی یہ بات سمجھ سکتا ہے۔ اسے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ انقلابی ذہن مگر یہ نہیں سمجھ سکتا۔ بدقسمتی سے یہ ذہن تحریک انصاف کی صفوں میں موجود نہیں اور اگر ہے تو غیر مؤثر۔ وی لاگرز ایک حکمتِ عملی کے ساتھ ان کے خلاف مہم شروع کر دیتے ہیں اور اسے اس 'باشعور نسل‘ کی نظر میں ایسے گراتے ہیں کہ اس کا اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔
تحریک انصاف کا اصل بحران داخلی ہے۔ یہ کہنے کو سیاسی جماعت ہے لیکن اس کی باگ ان ہاتھوں میں جو انقلابی سوچ رکھتے ہیں۔ یہ انقلابی سوچ کا اکیسویں صدی کا ماڈل ہے جو اس نظریاتی پختگی سے خالی ہے جو بیسویں صدی کے انقلابیوں کا امتیاز تھا۔ یہ سیاسی جماعت کو 'فورس‘ میں بدل دینا چاہتے ہیں۔ یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ رویہ اس جماعت کو کس انجام سے دوچار کر سکتا ہے۔ اگر لوگ آفریدی صاحب کے جانشین کے بارے میں پیش گوئی کر رہے ہیں تو جانا جا سکتا ہے کہ کون سی سوچ پنپ رہی ہے۔ آفریدی صاحب کی حکمت عملی اب یہ معلوم ہوتی ہے کہ زیادہ لوگ اگر سڑکوں پہ نہیں نکلتے توکم لوگوں کو فورس بنا کر وہی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے محبان کو سوچنا چاہیے کہ جب سیاسی جماعتیں فورس بن جاتی ہیں تو فورس باقی رہتی ہے نہ جماعت۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved