ابھی صدر زرداری کی قید میں بتدریج ہونے والے اضافے پر لکھے گئے کالم کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان چھ اور سات مئی کی درمیانی رات ہونے والی فضائی جھڑپ میں تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اسے گیارہ تک پہنچا دیا ہے۔ شروع شروع میں یہ تعداد چھ تھی‘ جو سات ہوئی‘ پھر یہ تعداد آٹھ تک پہنچی اور اب غزہ امن بورڈ کے اجلاس کے دوران یہ تعداد چھلانگ لگا کر ایک دم ہی گیارہ تک پہنچ گئی ہے۔ جھڑپ ختم ہوئے نو ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن صدر امریکہ کو اس دوران مزید طیارے گرنے کے غیبی تار آتے رہتے ہیں اور وہ ہر نئی تار کی روشنی میں اپنے پہلے بیان میں ترمیم کر لیتے ہیں۔ یہ اضافہ عموماً وہ ہمارے وزیراعظم کا رُخِ روشن دیکھنے کے بعد فرماتے ہیں۔ وہ جب بھی گرنے والے طیاروں کی تعداد کا ذکر کرتے ہیں‘ ہمارے سپہ سالار اور فیلڈ مارشل کی تعریف بھی کرتے ہیں۔
ہمارے ایک دوست ایک شاعر کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ نہ صرف بڑے گپ باز تھے بلکہ ان کی یادداشت بھی کمزور تھی۔ کوئی بات بھی شروع کرتے تو اس میں مبالغہ آمیزی کیے بغیر نہ رہتے لیکن مسئلہ یہ آن پڑا تھا کہ اپنی کمزور یادداشت کی وجہ سے وہ نہ صرف پرانے واقعات میں ترمیم و اضافہ کرتے رہتے بلکہ بعض اوقات تو واقعہ سناتے سناتے اسی واقعے میں پینترے بازی بھی کرتے رہتے۔ وہ ان کا ایک واقعہ سناتے تھے کہ موصوف ایک بار بڑے موڈ میں اپنا ایک پرانا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہنے لگے کہ تب سیلاب آیا ہوا تھا اور میں گھر کے لاؤنج میں بیٹھا ریڈیو پر سیلاب کے بارے میں تازہ ترین خبریں سن رہا تھا کہ اچانک خبر آئی کہ ہمارے شہر کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا ہے اور پانی شہر کی جانب آ رہا ہے۔ میں نے فوراً ریڈیو بند کیا اور گھر والوں کو آواز لگائی کہ فوری طور پر اس علاقے سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ہمارا علاقہ تھوڑا نشیب میں تھا اور مجھے خطرہ تھا کہ پانی سب سے پہلے ادھر ہی آئے گا۔ میری اہلیہ نے گھر کا کچھ سامان اٹھانا چاہا مگر میں نے کہا نیک بخت! جان ہے تو جہان ہے۔ سب کچھ چھوڑو اور فوری طور پر پورچ میں کھڑی مرسیڈیز میں بیٹھو۔ سامان کا کیا ہے‘ زندگی رہی تو پھر بنا لیں گے۔ خیر ہم لوگ جلدی سے اپنی مرسیڈیز گاڑی میں بیٹھے اور ابھی گھر سے باہر بھی نہیں نکلے تھے کہ پانی ہماری گلی میں داخل ہو گیا۔ ہم گھر سے نہیں نکلے تھے کہ ہماری مرسیڈیز کے ٹائر پانی میں ڈوب گئے۔ ابھی ہم سڑک پر بھی نہیں پہنچے تھے کہ پانی ہماری جیپ کے بونٹ تک پہنچ گیا۔ پانی اس تیزی سے شہر میں آ رہا تھا کہ چوک تک پہنچتے پہنچتے ہمارا تانگہ بالکل ہی ڈوب گیا۔ مرسیڈیز سے شروع ہونے والا سفر اس واقعے میں تانگے پر اختتام پذیر ہوا۔
اللہ جانے صدر ٹرمپ کی یادداشت کمزور ہے کہ وہ ہر بار اپنی گزشتہ بار بتائی گئی طیاروں کی تعداد بھول جاتے ہیں یا انہوں نے اس کو بھارتی وزیراعظم مودی کو چھیڑنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے‘ مگر یہ بات طے ہے کہ اس جھڑپ میں تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد بہرحال صدر زرداری کی قید کی مدت میں ہونے والے اضافے سے زیادہ بھی ہے اور اس کی رفتار بھی اس سے کہیں تیز ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر صدر ٹرمپ ہم پر اتنے مہربان کیوں ہیں؟ میں نے اپنے اس سوال کے جواب کیلئے حسب معمول شاہ جی سے عرض کی تو وہ کہنے لگے کہ تم نے برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ایڈ ڈیوی (Ed Davey) کی پارلیمنٹ میں کی جانے والی تقریر سنی ہے؟ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو پہلے انہوں نے افسوس سے سر ہلایا پھر ناصحانہ انداز میں کہنے لگے‘ میاں! تھوڑی سی توجہ سوشل میڈیا پر بھی دیا کرو۔ یہ تقریر کچھ عرصہ پہلے بڑی وائرل ہوئی ہے۔ شکر ہے میں نے اسے اپنے پاس محفوظ کر لیا تھا وگرنہ تم جیسے کم علم اور حالاتِ حاضرہ سے نا آگاہ لوگوں کا کیا بنتا۔یہ کہہ کر انہوں نے اپنا فون نکالا اور مجھے برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کی تقریر سنوانا شروع کر دی۔ حالانکہ میری انگریزی بھی کچھ خاص اچھی نہیں‘ اوپر سے میں مترجم بھی بس گزارے لائق ہوں‘ تاہم اس تقریر کا ترجمہ زیادہ مشکل نہیں تھا۔ موصوف نے اپنی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایک بین الاقوامی گینگسٹر جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ ایک اتحادی کی حاکمیت کو روندنے کی دھمکی دے رہے ہیں اور نیٹو کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔ اب اگر گرین لینڈ پر قبضے کیلئے ان کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو وہ ہمارے ملک (برطانیہ) اور دیگر سات یورپی ممالک پر ٹیرف لگا کر انہیں بھاری نقصان پہنچانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال برطانیہ‘ یورپ اور پوری دنیا کیلئے سنگین لمحہ ہے کہ وہ بلاوجہ اور بلاجواز ہماری معیشت‘ ہماری روزی روٹی اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ برطانوی کاروباروں اور روزگار کو براہِ راست نشانہ بنانے جا رہے ہیں۔ وہ ایک Bully (ڈنکے کی چوٹ والے بدمعاش) ہیں اور امریکہ کے سب سے بدعنوان صدر ‘ جنہوں نے کبھی ملک کی خدمت نہیں کی۔ اب ان سے بچنے کے صرف دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں کوئی نیا جہاز بطور رشوت تحفے میں دیا جائے یا پھر کچھ ارب ان کے کرپٹو اکاؤنٹ میں ڈال دیے جائیں‘‘۔
شاہ جی نے فون کو دوبارہ اپنی جیب میں ڈالتے ہوئے مجھے مخاطب کرکے پوچھا کہ کچھ سمجھ آئی؟ میں نے انکار میں سر ہلایا۔ شاہ جی نے آسمان کی طرف دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھری۔ ہاتھوں کی انگلیوں کے کڑاکے نکالے اور دوچار لمحے کے تؤقف کے بعد کہنے لگے: تم نے کبھی کرپٹو کرنسی کا نام سنا ہے؟ میں نے فٹ سے کہا کہ ضرور سنا ہے۔ یہ بٹ کوائن وغیرہ یہی کچھ تو ہیں۔ شاہ جی نے میری طرف پھر ملامت بھری نظر دوڑائی اور کہنے لگے‘ تم نے اصل میں برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ایڈ ڈیوی کی تقریر کا آخری جملہ نہیں سنا۔ اس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کورام کرنے‘ خوش کرنے اور مہربان رکھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ان کے کرپٹو اکاؤنٹ میں کچھ ارب ڈال دیے جائیں۔ اب گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا‘ ہمارے پاس انہیں دینے کیلئے بھلا اربوں ڈالر کہاں ہیں۔ہم نے اپنے ورچوئل ایسٹس کے ادارے کے ذریعے امریکی نجی کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل سے وابستہ ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
یہ کمپنی ستمبر2024ء میں قائم ہوئی اور ٹرمپ فیملی اس کمپنی کے ساٹھ فیصد سے زائد حصص کی مالک ہے۔ ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر‘ ایرک ٹرمپ اور بارون ٹرمپ اس کے حصہ دار ہیں۔ خود صدر ٹرمپ اس کمپنی کے بانی کا اعزازی عہدہ رکھتے ہیں۔ صدر بننے کے بعد وہ اس سلسلے میں عملی طور پر کمپنی سے متعلق نہیں ہیں۔ یہ کمپنی امریکی حکومت کا حصہ نہیں ہے ‘ اس کا سارا کاروبار ٹرمپ خاندان اور ان کے قریبی تعاون کاروں کے نجی مالی مفادات سے منسلک ہے۔ ہم نے اس کرپٹو کرنسی کمپنی سے معاہدہ کیاہوا ہے۔ اب یہ معاہدہ کیا ہے ہماری جانے بلا۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ عالمی منظر نامے میں ہماری عزت نہ صرف محفوظ ہے بلکہ بلندیوں پر ہے۔ عقلمندی کا یہی تقاضا ہے۔ تم نے دیکھا ہو گا کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں جب کوئی چموٹے والا ''مولا رنگ لگے رہن‘‘ کہتا ہوا پنڈال میں داخل ہوتا ہے تو میں اس کے مطالبے سے پہلے ہی اسے دو سو روپے دے دیتا ہوں اور پھر تم لوگوں کی بے عزتی سے لطف لیتا ہوں۔ میں مقامی طور پر جو عقلمندی کرتا ہوں ہمارے وزیراعظم عالمی سطح پر وہی کچھ کر رہے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved