''یہ یورپ کا نہیں دوزخ کا سفر تھا۔ میں چیختی‘ چلاتی‘ التجائیں کرتی رہی مگر انسانوں کے روپ میں درندوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوتا۔ ان انسانی سمگلروں نے مجھے مشرقی لیبیا کے ایک بڑے سے جہنم میں لا کر ڈال دیا۔ میں یورپ جانے کی متمنی تھی۔ یہ درندے مسلسل ڈیڑھ ماہ تک شب و روز میرا جنسی استحصال کرتے اور مجھے مارتے پیٹتے رہے۔ میں روتی‘ آہیں بھرتی... کاش! یہ ایامِ سیاہ دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئی‘‘۔
یہ اریٹیریا کی رہنے والی ایک بدقسمت عورت کا انٹرویو ہے جو اس نے یو این او کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کو دیا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس ٹارچر سیل میں چودہ پندرہ سال کی بھی بہت سی بچیاں تھیں‘ جن سے یہ سمگلر ناقابلِ بیان انداز میں زیادتی کرتے۔ منگل کے روز یو این او کے جنیوا آفس سے شائع ہونے والی رپورٹ میں ایک سو سے زائد افراد کے انٹرویو شامل ہیں۔ یہ وہ تارکین وطن ہیں جو اپنا اور اپنے پیاروں کا سب کچھ بیچ کے یورپ جانے اور وہاں آباد ہونے کے سنہرے سپنے پلکوں پہ سجائے انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ گئے۔ یہ افراد افریقہ‘ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔
یو این او کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً آٹھ لاکھ مرد وزن اور بچے لیبیا کے زیادہ تر غیر سرکاری قید خانوں اور کچھ حکومتی کیمپوں میں محصور ہیں۔ اقوام متحدہ کے شعبۂ انسانی حقوق کے جمع کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان لوگوں کے بارے میں خدشہ ہے کہ انہیں جان سے مارا جا سکتا‘ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ‘ عورتوں اور بچوں سے زیادتی کی جا رہی‘ انہیں گھروں میں لونڈیاں اور غلام بنا کر رکھا جا رہا ہے۔ یہ 21ویں صدی کی بدترین غلامی کا منظر نامہ ہے۔
مختلف ملکوں کے انسانی سمگلر اور ایجنٹس انٹرنیشنل انسانی سمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ پہلے تو یہ درندے لوگوں کو طرح طرح کے سپنے دکھاتے ہیں۔ صرف چند ہفتوں میں یورپ پہنچانے‘ وہاں پہنچتے ہی ملازمتیں دلانے اور پھر انہیں باقاعدہ ورک ویزا فراہم کرنے کے عہد وپیمان باندھتے ہیں مگر لیبیا پہنچتے ہی یہ ایجنٹس آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ جیتے جاگتے انسانوں کو آگے دوسرے سمگلروں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں‘پھر ان دربدر ہونے والے لوگوں کو کوئی شناسا چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ بعض ممالک سے تو یورپ جانے کے خواہش مندوں میں پورے پورے خاندان شامل ہوتے ہیں۔ مردوں اور عورتوں سے سمگلر گھروں یا بیگار کیمپوں میں کام لیتے ہیں اور بچیوں سے اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد انہیں قحبہ خانوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
یو این او کی تحقیق کے علاوہ ہم نے بھی اپنے ذرائع سے ریسرچ کی ہے۔ اس کے مطابق لیبیا کے اپنے اور دوسرے بین الاقوامی انسانی سمگلرز یہاں کے چھوٹے بڑے افسروں کی اشیرباد سے یہ بدترین دھندا چلا رہے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ یورپ تک رسائی کیلئے زیادہ تر لوگ لیبیا کا رُخ کیوں کرتے ہیں؟ پہلے یہ سمگلنگ ترکیہ اور یونان کے راستے سے ہوا کرتی تھی مگر اب وہاں کی حکومتوں نے بہت سختی کر دی ہے۔ لیبیا اس لیے بھی انسانی سمگلروں کا بدترین اڈا بن گیا ہے کہ یہاں سے یورپ تک بحیرہ روم کے ذریعے صرف تین سو سے پانچ سو کلومیٹر تک کا بحری سفر ہے۔ لیبیا کے طاقتور حکمران کرنل معمر قذافی کو اُن کے مخالفین نے 2011ء میں بے دردی سے قتل کر دیا۔ آل پا ور فل حکمرانوں کی عوام میں جڑیں نہیں ہوتیں‘ اس لیے جب طاقت کا مرکز بدلتا ہے تو انہیں تنکوں کی طرح پامال کر دیا جاتا ہے۔
قذافی کے قتل کے بعد سے اب تک لیبیا میں امن وامان اور استقرار قائم نہیں ہو سکا۔ اسی لیے اب لیبیا غیر قانونی سمگلروں کیلئے جنت کا کام دے رہا ہے۔ یورپ جانے کے خواہش مندوں اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں سے یہ سمگلر پہلے من مانی رقمیں وصول کرتے ہیں‘ پھر انہیں ذاتی قید خانوں میں پابہ زنجیر کر کے اُن کے گھر والوں کو فون پر اُن کی چیخیں سنواتے اور اُن سے بھاری تاوان طلب کرتے ہیں۔ یو این او کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی برس سے یہ تعذیب خانے لیبیا میں موجود ہیں۔ ان حالات میں جو اپنی جان بچا کر اپنے ملک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے‘ وہ اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہے۔ اوپر ہم نے جن آٹھ لاکھ تارکینِ وطن کا ذکر کیا اُن میں ہزاروں پاکستانی مرد وخواتین بھی ہیں۔ گزشتہ چار پانچ برس کے دوران تارکین وطن کی کشتیاں کبھی لیبیا اور کبھی اٹلی کے ساحلوں کے قریب ڈوب جانے کی خبریں آتی رہی ہیں‘ جن سے خیبر پختونخوا‘ آزاد کشمیر اور پنجاب خصوصاً گجرات اور جہلم کے درمیانی علاقے سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کے گھروں میں صف ماتم بچھتی رہی ہے۔
فروری 2023ء میں جو کشتی بحیرہ روم میں ڈوبی‘ اس میں 94 تارکینِ وطن ڈوب گئے تھے۔ ان میں 28 پاکستانی شامل تھے۔ جون 2023ء میں ایک اور کشتی بحیرہ روم کے نسبتاً پُرسکون پانیوں میں ڈوب گئی ‘ اس میں تقریباً 750 افراد سوار تھے۔ کشتی کا انجن فیل ہوا‘ اس میں شگاف ہوا‘ مدد کے لیے کوئی نہ آیا اور سفاک سمگلر چھوٹی کشتیوں کے ذریعے فرار ہو گئے۔ بے یارو مددگار تارکین وطن میں سے تقریباً 500 اپنی آرزوؤں اور تمناوں سمیت سمندر میں ڈوب گئے۔ تصدیق شدہ معلومات کے مطابق ان میں 209 پاکستانی تھے۔ فروری 2025ء کے دوران جو کشتی اسی بحیرہ روم میں ڈوبی اس میں 65 افراد لقمۂ اجل بن گئے‘ جن میں مصدقہ ذرائع کے مطابق 16پاکستانی تھے۔ محتاط ترین اندازے کے مطابق 2021ء سے 2026ء تک‘ پانچ برس میں (کم از کم) چار سو سے چھ سو پاکستانی تلاشِ روزگار کی جدوجہد میں سمندر کی بے رحم موجوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً 45 فیصد ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ سو میں سے 45 افراد کی روزانہ آمدنی ایک ہزار روپے سے بھی کم ہے۔ ناقص اقتصادی منصوبہ بندی کے نتیجے میں کبھی خون پسینہ بہا کر گندم پیدا کرنے والا کسان منافع نہیں بلکہ خسارہ لے کر گھر جاتا ہے اور کبھی ایک ایکڑ ساڑھے تین لاکھ کے ٹھیکے پر لے کر آلو کی فصل اگانے والا صرف 50 ہزار کما پاتا ہے۔ ایسے میں یہ کسان مقروض ہو کر گھر بیٹھ جاتا ہے اور مایوسی کے عالم میں اپنے جگر گوشوں کو کسی نہ کسی طرح یورپ بھیج کر اپنا قرض اتارنے اور خوشحال مستقبل کی پلاننگ کرتا ہے۔
آج کسان خسارے میں ہے‘ سفید پوش مہنگائی کے ہاتھوں بے حال ہے اور محنت کش بیروزگاری کے عذاب سے گزر رہا ہے۔ اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ آئی ایم ایف کے دباؤ کے نتیجے میں حکومت نے نومبر 2025ء میں پاکستانی لیبر فورس کے بارے میں جو رپورٹ شائع کی‘ اس کے مطابق بیروزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے‘ یعنی تقریباً 80 لاکھ پاکستانی بیروزگار ہیں۔ آزاد ذرائع کے مطابق یہ تعداد دو کروڑ تک ہو سکتی ہے۔ جن محنت کشوں کو ادھورا سا روزگار میسر ہے‘ اُن کی بڑی تعداد بھی اتنی آمدن حاصل نہیں کر پاتی جس سے جسم وجان کا رشتہ برقرار رہ سکے۔ پاکستان میں سات‘ آٹھ برس کے بچے بھی محنت مزدوری پر مجبور ہیں۔ غیر ملکی جب ہمارے حکمرانوں کے اللے تللے دیکھتے ہیں تو وہ پاکستان کو غریب نہیں بلکہ بڑا امیر ملک سمجھتے ہیں۔
جب تک وطنِ عزیز میں روزگار کا بندوبست نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستانی جنت کی تلاش میں دوزخ کا سفر کرتے رہیں گے۔ کبھی بیگار کیمپوں میں محصور ہونے پر مجبور ہوں گے اور کبھی سمندر کی بے رحم موجوں کا لقمہ بنتے رہیں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved