آئی ایم ایف نے نومبر 2025ء کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان کی قومی آمدن کا چھ فیصد ہر سال اشرافیہ کو دی گئی مراعات اور کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ ہمارا ملک اشرافیہ کی چراگاہ بن چکا ہے۔ ایوب خان حکومت کے آخری ایام میں 22 امیر ترین خاندانوں کا بڑا شور مچا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق آج ایسے خاندانوں کی تعداد تقریباً دو سو ہے۔ ملک میں غربت آکاس بیل کی طرح پھیل رہی ہے لیکن بڑے شہروں کی سڑکوں پر لمبی لمبی چمکدار کاریں دیکھیں تو لاتعداد ہیں۔ کسی بھی مہنگے ریسٹورنٹ میں جائیں تو بیٹھنے کو جگہ نہیں ملتی۔ نان سروس ممبر شپ کیلئے اسلام آباد کلب میں آغاز میں ستر لاکھ روپے جمع کرانا پڑتے ہیں‘ اور امیدواروں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ یہ امیر اشرافیہ والا غریب ملک ہے۔ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں امیر اور غریب میں فرق بڑھا ہے یعنی امیر امیر تر ہوئے ہیں اور غریب غریب تر۔ آج آپ کو امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بے گھر لوگ ملیں گے اور ایسے بھی کئی افراد ہیں جو متعدد ذاتی جہاز رکھتے ہیں۔ امارت اور غربت کے بیچ بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے یا غربت کو ختم کرنے کی بھی چند ممالک نے کامیاب کوشش کی ہے اور ان میں چین سرفہرست ہے۔
امیر اور غریب کا فرق کم کرنے کے متعدد طریقے ہیں۔ مثلاً ٹیکس پالیسی‘ زرعی اصلاحات اور غریب و پسماندہ طبقات کیلئے اعلیٰ سروسز میں علیحدہ سے کوٹہ۔ انڈیا میں پنڈت نہرو نے آزادی کے فوراً بعد زرعی اصلاحات لاگو کیں۔ تقریباً دو کروڑ ایکڑ زمین 35 لاکھ کسانوں میں تقسیم کر دی گئی۔ بہت سے کسان جو پہلے مزارع تھے ‘زمین کے مالک بن گئے۔ 1950ء تک سارا عمل مکمل کر لیا گیا۔ پاکستان میں پہلی زرعی اصلاحات ایوب خان کے دورِ حکومت میں 1959ء میں ہوئیں۔ دوسری زرعی اصلاحات بھٹو صاحب نے 1972ء میں کیں لیکن شاطر قسم کے فیوڈل لارڈز نے ان اصلاحات کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ کئی زمینداروں نے اصلاحات کے نفاذ سے پہلے ہی زمین بیٹوں اور وفادار مزارعین کے نام لگا دی اور بعد میں واپس لے لی۔ 1989ء میں شریعت کورٹ نے فیصلہ صادر کیا کہ زمین کی ملکیت کو قانوناً محدود کرنا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے لہٰذا آئندہ کیلئے زرعی اصلاحات کا دروازہ بند ہو گیا۔ ملک عزیز میں عمومی طور پر اور سندھ اور جنوبی پنجاب میں خاص طور پر بے شمار وڈیرے ایسے ہیں جو کراچی‘ حیدرآباد‘ لاہور اور ملتان میں بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں اور سال میں ایک مرتبہ زمینوں پر جا کر ٹھیکیدار یا منشی سے بھاری رقوم وصول کرکے واپس آ جاتے ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی انہی لوگوں کی اکثریت ہے۔ کروڑوں کے ترقیاتی فنڈز بھی یہی لوگ لیتے ہیں۔ ذرا ایف بی آر سے پوچھیں کہ زرعی شعبے سے کتنا ٹیکس آ رہا ہے تو پتا چلے گا کہ بہت ہی کم۔ لہٰذا دیہی علاقوں میں جہاں اب بھی ہماری آبادی کی اکثریت مقیم ہے‘ وہاں اقتصادی اور سماجی فرق قائم رہے گا۔ کاش ہمارے علما اور عدالتیں اس بات پر بھی توجہ مرکوز کریں کہ امیر غریب میں اس قدر فرق اسلامی تعلیمات کی روح کے خلاف ہے۔
نچلے طبقات کو معاشرے میں بہتر مقام دلانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پسماندہ علاقوں اور غریب لوگوں کیلئے علیحدہ سے سروس کوٹہ سسٹم لاگو کیا جائے۔ انڈیا میں دلت اور شیڈول کاسٹ کے لوگوں کیلئے کوٹہ مقرر رہا ہے۔ انڈین سول سروس میں باقی افسر میرٹ کی بنیاد پر لیے جاتے ہیں۔ مقابلے کا امتحان خاصا مشکل ہے۔ پچھلے سال انڈیا میں تقریباً ایک لاکھ امیدواروں نے اپلائی کیا تھا اور صرف ایک ہزار لوگ کامیاب ہوئے‘ یعنی کامیابی کا ریٹ صرف ایک فیصد رہا۔ فرض کیجیے کہ اگر نو سو افسر اوپن میرٹ پر آئے ہوں گے تو ان میں یقینا کئی ایک لوئر مڈل کلاس سے بھی ہوں گے اور آئندہ ان کی سماجی حیثیت بہتر ہونے کے امکانات روشن ہوں گے۔
پاکستان میں اشرافیہ نے اعلیٰ سرکاری نوکریوں پر ہاتھ صاف کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد کیے۔ ایوب خان کے دورِ حکومت میں اشرافیہ نے انہیں یہ بات سمجھا دی تھی کہ سول سروس اور پولیس میں آپ کے خاص اعتماد والے افسر ہونے ضروری ہیں۔ ہمارے ہاں ہر حکمران چاہتا ہے کہ تاحیات حکومت کرے؛ چنانچہ بااثر اور وفادار خاندانوں کے بیس انٹرمیڈیٹ پاس نو نہال منتخب کیے گئے اور انہیں مزید تعلیم کیلئے گورنمنٹ کالج لاہور داخل کرایا گیا۔ یہ لوگ ایم اے کرتے ہی پولیس سروس میں آ گئے۔ انہوں نے کوئی مقابلے کا امتحان نہیں دیا۔ اب یہ ان افسروں کے برابر تھے جو بڑی محنت سے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے پولیس سروس میں آئے تھے۔ گویا میرٹ کے قتل کا باقاعدہ آغاز اشرافیہ کی ملی بھگت سے ایوب خان کے دورِ حکومت میں ہوا اور آئندہ اس روش نے مزید فروغ پایا۔
بھٹو صاحب کی لیٹرل انٹری کو عرفِ عام میں لاٹری انٹری کہا جاتا تھا۔ اس لاٹری انٹری میں ارشد سمیع خان (عدنان سمیع کے والد) سمیت کئی افراد مقتدر شخصیات کے اے ڈی سی کے طور پر بھرتی ہوئے۔ بااثر لوگوں نے اپنے بیٹے اور داماد اعلیٰ پوسٹوں پر تعینات کرائے۔ یہ 'سانحہ‘ میرے فارن سروس میں آنے کے جلد بعد ہوا۔ میں نے سانحہ کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ ہم نے بڑی محنت سے سی ایس ایس کا مرحلہ کامیابی سے طے کیا تھا اور ساتھ ہی ایک سو کے قریب لوگ لیٹرل انٹری کے ذریعے آ گئے اور ہماری پروموشن کے امکانات فوری طور پر مدہم ہو گئے۔ میں نے 1970ء میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان بھی دیا تھا۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلا مقابلے کا امتحان تھا جس کے پیپر آؤٹ ہو گئے تھے اور یہ سب بھی ایک بااختیار شخصیت کی وجہ سے ہوا جس کی شدید خواہش تھی کہ اس کا بیٹا بہر صورت مجسٹریٹ بنے۔ کہانی طویل ہے اور کالم کا دامن مختصر! یہ دلچسپ قصہ اپنی زیر تحریر خود نوشت میں تفصیل سے رقم کیا ہے۔ جنرل ضیا الحق نے ڈی ایم جی‘ فارن سروس اور پولیس سروس میں دس فیصد سروسز کوٹہ مختص کر دیا تھا۔ گویا میرٹ نامی درخت کی ایک شاخ ہمیشہ کیلئے کٹ گئی۔ قاری کے ذہن میں سوال آ سکتا ہے کہ میں لیٹرل انٹری کے بارے میں متعصب خیالات رکھتا ہوں تو ایک معتبر نیوٹرل شخصیت کے افکار اس ضمن میں ملاحظہ ہوں۔ جمشید مارکر اپنی کتاب Cover Point کے صفحہ 91پر لکھتے ہیں ''لیٹرل انٹری جیسی سکیم کی بدولت پیپلز پارٹی کے بہت سارے خوشامدی مستفید ہوئے۔ ان کی وجہ سے سول سروس میں اقربا پروری بامِ عروج پر پہنچی۔ کارکردگی اور ایمانداری کو سخت نقصان پہنچا‘‘۔
بات کرپشن سے شروع ہوئی تھی‘ 2024ء میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے تیار کیے گئے عالمی کرپشن انڈیکس میں 180ملکوں میں سے پاکستان کا 135واں نمبر تھا۔ یہ درجہ بندی دراصل ایمانداری ماپنے کا پیمانہ بھی ہے یعنی اس فہرست میں پہلے نمبر پر موجود ملک سب سے ایماندار ہوتا ہے جو کہ ڈنمارک تھا۔ ایمانداری میں ایک مسلم ریاست کا 135ویں نمبر پر آنا میری نظر میں باعثِ شرم ہے۔ کرپشن ہماری ترقی کی راہ میں بھی ایک رکاوٹ ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کا چھ فیصد کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ کرپشن کی تعریف اب خاصی وسیع ہو چکی ہے۔ اقربا پروری جو وطنِ عزیز میں عام ہے‘ یہ بھی کرپشن کی ایک شکل ہے۔ دھاندلی کرکے اپنے پسندیدہ امیدوار کو جتوانا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔
قوموں کی ترقی کا راز میرٹ اور قانون کی حکمرانی میں ہے اور پاکستان میں یہ دونوں زوال کا شکار ہیں۔ سنگاپور نے ترقی صرف میرٹ پر عمل کرکے کی ہے۔ لی کوآن یو نے شاندار اور باصلاحیت سول سروس تیار کی‘ انہیں اچھی تنخواہیں دیں اور کرپشن کو ناقابلِ معانی جرم قرار دیا۔ آج سنگاپور کا پاسپورٹ پوری دنیا میں اعلیٰ ترین وثیقہ سفر شمار ہوتا ہے‘ جبکہ ہم عراق‘ یمن اور صومالیہ کی صف میں کھڑے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved