تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     22-02-2026

جہاز خریدنا ضروری تھا؟

اس وقت حکومتِ پنجاب شدید تنقید کی زد میں ہے کیونکہ اس نے مبینہ طور پر گیارہ ارب روپے کا جہاز خریدا ہے جو وی آئی پی فلائٹس کیلئے استعمال ہوگا یا دوسرے لفظوں میں وزیراعلیٰ پنجاب کے استعمال میں آئے گا۔ اسی دوران یہ خبر بھی آئی ہے کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران ملک میں غربت کی شرح میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جب تیزی سے خط غربت سے نیچے جانے والے عوام کو یہ پتا چلے کہ ان سے ملکی معیشت کی بحالی کے نام پر جو ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اس سے حکمران اپنے لیے نئے نئے جہاز خرید رہے ہیں تو یقینا ان کو غصہ بھی آئے گا اور مایوسی بھی ہوگی۔ کیا ان حالات میں حکومتِ پنجاب کا جہاز خریدنا ٹھیک فیصلہ ہے؟
وزیراعلیٰ پنجاب کے حالیہ چند اقدامات پر ان کے ناقدین بھی ان کی تعریف کرتے نظر آئے۔ اس سے پہلے کوئی وزیراعلیٰ تاجروں کو ہاتھ نہیں ڈالتا تھا‘ اگر کسی وزیراعلیٰ نے کوشش کی بھی تو چند دن سے زیادہ دبائو برداشت نہ کرسکا۔ اس لیے بڑی مارکیٹوں یا رہائشی علاقوں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہو یا صفائی وغیرہ کے انتظامات‘ ان اقدامات نے عوام پر اچھا تاثر چھوڑا۔ اس وقت آپ کو ہر ضلع حتیٰ کہ ہر تحصیل میں بڑی تبدیلیاں نظر آرہی ہیں۔ میں اس ویک اینڈ پر اپنے گائوں گیا ہوا تھا مجھے وہاں واضح تبدیلیاں نظر آئیں۔ کوٹ سلطان‘ جہاں پہلے سڑک پر پھلوں اور سبزیوں کی ریڑھیوں کی بھرمار کی وجہ سے گزرنا محال ہوتا تھا‘ اس بار یہ ریڑھیاں سڑک سے کچھ فاصلے پر ایک ترتیب کے ساتھ کھڑی تھیں۔ اس وقت جبکہ عوام وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں‘ حکومتِ پنجاب نے ایک ایسا کام کیا ہے جو عوام کو اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ سیاستدانوں کے مختلف روپ دیکھ کر عوام کا دل ہی بھر گیا۔ مجال ہے کہ کوئی ایسا سیاستدان ہو جس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ سب کے سب عوام سے ووٹ لینے کیلئے جعلی بیانات اور جعلی ہمدردی جتاتے رہے ہیں اور اقتدار ملتے ہی سب بدل جاتے ہیں۔ شہباز شریف صاحب کو دیکھ لیں‘ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تو لگتا تھا کہ وہ اتنا کام کرتے ہیں کہ انہیں سونے تک کا وقت نہیں ملتا ہو گا۔ ہر ضلع کے ہر ایشو پر ان کی نظر ہوتی تھی‘ ہر مسئلے پر اس طرح فوری ایکشن لیتے تھے کہ لوگ انہیں شہباز سپیڈ کہنے لگے۔ سب کہتے تھے کہ شہباز شریف وزیراعظم بن گئے تو پنجاب کی طرح پورے ملک کی حالت سنور جائے گی۔ اب حالت یہ ہے کہ ان کے دور میں رپورٹس آ رہی ہیں کہ ملک میں غربت بڑھ گئی ہے اور حکومت کو کوئی پروا نہیں۔ وزیراعظم کو بیرونی دوروں سے فرصت نہیں ۔ وہ اس وقت تک چالیس سے زائد بیرونی دورے کرچکے ہیں اور حالات یہ ہیں کہ جتنے دورے بڑھتے جارہے ہیں غیرملکی سرمایہ کاری اتنی ہی کم ہوتی جارہی ہے۔
میں نے ٹویٹر پر یہ سوال اٹھایا تھا کہ پارلیمنٹ کے تیس اجلاس ہوچکے ہیں لیکن ایک اجلاس میں بھی شہباز شریف شریک نہیں ہوئے۔ ان کی حاضری گیارہ سے پندرہ فیصد بتائی جارہی ہے‘ لیکن اس دوران وہ چالیس بیرونی دورے کر چکے ہیں۔ میں نے پوچھا ان بیرونی دوروں سے پاکستان کا کیا فائدہ ہورہا ہے کہ غربت بڑھ رہی ہے‘ غیرملکی سرمایہ کاری کم ہورہی ہے اور جہاں ان ایشوز پر بات ہونی ہے وہاں وزیراعظم تک کو یاد نہیں ہوگا کہ وہ آخری دفعہ کب وہاں دیکھے گئے تھے۔ اس پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مجھے طویل میسیج کیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ جنگ جیتنے کی وجہ سے اب ہماری دنیا میں عزت بڑھ گئی ہے اور دنیا کے ممالک اب ہمیں دعوت نامے بھیجتے ہیں تو ہم جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا عمران خان دور میں اُن کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان کو شدید عالمی تنہائی کا سامنا تھا۔ نہ دنیا کا کوئی ملک کا سربراہ ہمارے ہاں آنے کو تیار تھا نہ وہ عمران خان کو بلانے کو تیار تھے۔ شہباز شریف اب اس عالمی تنہائی کو دور کررہے ہیں کہ پوری دنیا اب پاکستان کو عزت دے رہی ہے۔ یقینا دنیا پاکستان کو عزت دے رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پوری دنیا عزت ہمیں دے رہی ہے لیکن کاروبار اور سرمایہ کاری انڈیا کو دے رہی ہے۔ شہباز شریف کے ان دوروں کے نتائج عوام کیلئے معاشی خوشحالی بھی لائیں تو ہمیں فائدہ ہو۔ اب حالت یہ ہے کہ ہمارے زرِمبادلہ کے ذخائر نیچے آئے ہیں جس پر چھ سو ملین ڈالرز کا نیا قرضہ ایک بینک سے مہنگے سود پر لیا گیا ہے۔ ایک طرف دورے جو بقول تارڑ صاحب ہماری عزت کی بحالی ہے تو دوسری طرف غربت بڑھ گئی تو ساتھ ہی گیارہ ارب کا جہاز خرید لیا تو اب بینک سے چھ سو ملین ڈالرز کا قرضہ بھی اپلائی کر دیا۔ اب صرف ان چار خبروں کو ملا کر پڑھیں تو مجھے سمجھائیں کہ ہمارے جیسے لوگ اس کا کیا نتیجہ اخذ کریں کہ آپ لوگ ملک اور عوام کی خدمت کررہے ہیں یا اپنے سیر سپاٹے یا ان سیر سپاٹوں کیلئے نئے جہازوں کا بندوبست کررہے ہیں؟
یہ پہلی دفعہ نہیں ہورہا کہ خزانے کا اس طرح حکمران ایلیٹ بے رحم ہو کر استعمال کررہی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے چوہدری امیر حسین جب جنرل مشرف کی پارلیمنٹ میں سپیکر تھے تو وہ اپنے لیے ایک جہاز خریدنے کی تجویز پر کام کررہے تھے۔ فنانس کمیٹی جس کے وہ سربراہ تھے‘ میں بتایا گیا تھا کہ ایران کے سپیکر کے پاس بھی جہاز ہے تو پاکستانی سپیکر کے پاس کیوں نہ ہو۔ میں نے وہ خبر بریک کی اور اس پر ردعمل آیا تو وہ تجویز ختم کی گئی۔ اس طرح نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں اسحاق ڈار نے سارک اجلاس کے نام پر چالیس‘ پچاس کروڑ روپے کی لگژری گاڑیاں یہ کہہ کر لے لی تھیں کہ دوسرے ممالک کے سربراہان اور وفود کیلئے ضرورت ہے۔ حکومت کو علم تھا کہ مودی نہیں آئے گا اور پاکستان میں اجلاس نہیں ہوگا لیکن اس کو بہانہ بنایا اور گاڑیاں خریدی گئیں۔ وہی ہوا اجلاس نہ ہوا تو وہ گاڑیاں شریف خاندان کے چند اہم افراد کو دے دی گئیں۔ نیب نے بڑی مشکل سے عمران خان دور میں کیپٹن صفدر سے ایک گاڑی واپس کرائی تھی۔ اس طرح مری میں گورنر ہاؤس کی آرائش کے نام پر پچاس کروڑ خرچ کیے گئے جو زیادہ تر شریف فیملی استعمال کرتی رہی ہے۔ یہ محض چند مثالیں دے رہا ہوں ورنہ اس طرح کی شاہ خرچیاں بہت ہیں جو ہر دور میں بیوروکریٹس اور حکمران مل کر کرتے آئے ہیں اور ان کے نزدیک دس بیس ارب روپے کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں ۔ ان سب کی سادگی اور ہمدردی محض پاور لینے تک ہے‘ اس کے بعد یہ وہی پروٹوکول اور وہی اپنے گھروں کے کچن کو کیمپ آفس ڈیکلیئر کر کے سب کچھ عوام کی جیب سے کھاتے ہیں۔ جو بھی وزیراعظم یا صدر بنا اس نے کیمپ آفس یا سکیورٹی کے نام پر اپنے آبائی گھروں کی آرائشی اور لمبی لمبی فصلیں ضرور کھڑی کرا لیں۔ مریم نواز خود کو مستقبل کا وزیراعظم سمجھتی ہیں اور ان کا مقابلہ عمران خان اور بلاول بھٹو سے ہے۔ آپ بے شک ارب پتی ہوں‘ عوام اگر غریب ہوں تو آپ کو عوامی انداز اپنانا پڑتا ہے‘ عوام کو لگے کہ آپ ان کیلئے ہمدردی رکھتے ہیں۔ کبھی مغربی بنگال کی 2011 ء سے وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کو دیکھ لیں کہ وہ کس انداز میں سادگی سے رہتی ہیں۔ مریم نواز نے ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ ایک دن انہوں نے بھی نواز شریف اور شہباز شریف کی طرح بیرونی دورے کرنے ہیں لیکن جب تک وہ وہاں نہیں پہنچ جاتیں وہ عوام کو دکھاوا ہی سہی لیکن یہ احساس دلاتی رہیں کہ وہ ان سے ٹیکس کے نام پر وصول کی گئی ایک ایک پائی کی حفاظت کرتی ہیں۔ اسے ضائع نہیں کرتیں۔ اگرچہ مشکل کام ہے کہ اقتدار ملے اور بندہ پاور اور پیسہ انجوائے نہ کرے لیکن اگر طویل سیاست کرنی ہے اور خان جیسے دشمن بھی تاک میں ہیں تو پھر لگژری لائف‘ بے تحاشا پیسے کا شادیوں پر خرچ‘ نئے نئے جہاز اور لگژری گاڑیوں سے دور رہنا چاہیے‘ خصوصاً جب یہ رپورٹ سامنے آئی ہو کہ لوگ آپ کے دور میں غریب ہورہے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved