تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     22-02-2026

فلٹریشن

خبر یہ ہے کہ لائیو سٹریمنگ کے دوران بیوٹی فلٹر ہٹ جانے کے نتیجے میں ایک چینی خاتون انفلوئنسر نے ڈیڑھ لاکھ فالوورز کھو دیے یعنی ڈیڑھ لاکھ فالوورز نے انہیں اَن فالو (Un follow) کر دیا۔ مذکورہ خاتون سوشل میڈیا پر لائیو سٹریمنگ میں مصروف تھیں کہ اس دوران کسی وجہ سے ان کے چہرے سے فلٹر چند سیکنڈ کے لیے ہٹ گیا جس پر ان کے فالوورز حقیقتِ حال جان کر حیران رہ گئے اور انہوں نے خاتون کو فالو کرنا ترک کر دیا۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ چین سمیت پوری دنیا میں سوشل میڈیا پر یہ ٹرینڈ کافی مقبول ہو چکا ہے کہ انفلوئنسرز لائیو سٹریمنگ کرتے ہیں اور اس دوران اپنے مداحوں کے کمنٹس اور ان کے سوالات کا جواب دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے زیادہ تر فلٹر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اپنے عیب چھپا کر خود کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جا سکے۔ ایسا کرنے میں ویسے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن جب کوئی بھی فلٹر استعمال کرتا ہے تو وہ اصل کو چھپا کر نقل عوام کے سامنے پیش کر رہا ہوتا ہے۔ پتا نہیں اسے دھوکہ دہی قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں یا اس کا شمار سائبر کرائمز میں ہوتا ہے یا نہیں‘ لیکن اسے یقینا کوئی اچھا فعل نہیں کہا جا سکتا۔
فلٹر کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک فلٹر وہ ہے جس کے ذریعے ہم گدلے‘ آلودہ اور مضر صحت ذرات والے پانی کو صاف میں تبدیل کرتے ہیں۔ ایک فلٹر وہ ہے جو ہمارے ایئرکنڈیشنرز میں لگا ہوتا ہے اور ٹھنڈی ہوا کو فلٹر کر کے کمرے میں داخل کرتا ہے۔ ایک فلٹر وہ ہے جو روشنی کو کم یا زیادہ کرنے اور بلیو لائٹ کو فلٹر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سارے ہی فلٹر آلودگی کو ہٹانے اور صفائی لانے کے کام آتے ہیں‘ لیکن جب سے سوشل میڈیا میں عام سے چہرے کو پری چہرہ بنا کر پیش کرنے والا فلٹر آیا ہے‘ ہم جیسے واجبی سے رنگ و روپ والوں کی جیسے چاندی ہو گئی ہے۔ رنگ گورا کرنے والی کوئی کریم‘ کوئی فیس واش حتیٰ کہ کوئی بیوٹی پارلر والا یا والی بھی چہرے کو اتنا تبدیل نہیں کر سکتا یا سکتی جتنا یہ فلٹر کر دیتا ہے اور یہ چونکہ ظاہری چکا چوند اور دکھاوے کا زمانہ ہے تو فلٹر والا سکہ سوشل میڈیا کی دنیا میں فی زمانہ خوب چل رہا ہے۔
پاکستانی فلم 'سزا ‘کا قتیل شفائی کا لکھا ہوا یہ گانا آپ نے بھی ریڈیو پاکستان سے ضرور سنا ہو گا:
جب بھی چاہیں اک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پہ کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ
تو بس سوشل میڈیا پر آج کل ایسا ہی فیشن ہے ‘اور جس طرح آزادی کے 78 سال بعد بھی سفید چمڑی دیکھ کر ہم لوگوں کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں‘ تو سوشل میڈیا والوں نے اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا کیسا دل خوش کنGagetدریافت کیا ہے‘ فلٹر۔ ظاہر کو سب دیکھتے ہیں اور باطن کا کسی کو علم نہیں ہوتا‘ لیکن فلٹر نے ظاہر کو بھی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ فلٹر ظاہر کو وہ بنا دیتا ہے جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں‘ وہ چھپا دیتا ہے جو دکھانے والا دکھانا نہیں چاہتا اور دیکھنے والے تو واضح ہے کہ بالکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے ہوں گے۔
ہم میڈیا والے پروگراموں‘ فلموں اور ڈراموں کی تیاری کے لیے کروما (Chroma) کا وافر استعمال کرتے ہیں۔ ڈرامہ یا فلم کا ایک سین تیار ایک سبز بیک گراؤنڈ کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ایڈیٹنگ کے دوران کوئی اور بیک گراؤنڈ لگا دیا جاتا ہے۔ میں نے کروما کا استعمال سب سے پہلے پی ٹی وی کے سلسلے ''ڈرامہ 83‘‘ میں اشفاق احمد کے لکھے ہوئے لانگ پلے ''ننگے پاؤں‘‘ میں دیکھا تھا۔ میڈیا سے وابستہ ہوا تو اس کا بارہا استعمال خود بھی کیا۔ سوشل میڈیا میں استعمال ہونے والا فلٹر بھی ایک نئی طرز کا کروما ہے۔ جو چاہتا ہے چھپا لیتا ہے‘ جو چاہتا ہے آشکار کر دیتا ہے اور اگر آشکار والے معاملے میں چند سیکنڈز کی ہی غلطی ہو جائے تو پھر حقیقت جان لینے پر ڈیڑھ لاکھ فالوورز سے ہاتھ بھی دھونا پڑ سکتے ہیں۔
فلم امر اکبر انتھونی کا گانا ہے:
ہونی کو انہونی کر دیں‘ انہونی کو ہونی
ایک جگہ جب جمع ہوں تینوں امر اکبر انتھونی
تو جناب یہ جو فلٹر ہے یہ امر بھی ہے‘ اکبر بھی ہے‘ یہ انتھونی بھی ہے کیونکہ یہ بھی ہونی کو انہونی اور انہونی کو ہونی کر دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کا سب کچھ گول مال ہے‘ اس کا کوئی ضلع‘ کوئی زاویہ‘ کوئی کونہ نہیں ہے۔ چین سے آنے والی خبر نے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح کر دی‘ لیکن صرف اچھی صورتیں دیکھنے کے خواہشمند‘ حسن پرست اور عاشق مزاج لگتا نہیں کہ یہ فلٹر کی حقیقت جان لینے کے بعد بھی باز آئیں گے۔
تھوڑا سا اپنے اندر جھانکیں اور تھوڑا سا معاشرے کی طرف دیکھیں تو کیا یہ حقیقت مترشح نہیں ہوتی کہ یہاں ہمارے معاشرے میں ہر کسی نے فلٹر لگا رکھے ہیں۔ بظاہر لوگ بڑے پُرامن اور انسان دوست نظر آئیں گے یا خود کو امن پسند ظاہر کریں گے لیکن تھوڑا سا گہرائی تک اندر جھانکیں تو وہاں ایک خوفناک صورتحال نظر آتی ہے۔ جو بھی ذرا سی اونچی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اس کے سامنے اگر کوئی دستِ طلب دراز کر دے تو وہ اسے اس طرح مطمئن کرے گا کہ جیسے سوال کرنے والے کے گھر پہنچنے سے پہلے اس کا مسئلہ حل چکا ہو گا‘ لیکن فلٹر ہٹے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ وہ اونچی کرسی والا کسی بے وسیلہ کا کام صرف اس لیے نہیں کرے گا کہ وہ اپنے اختیارات‘ اپنے تعلقات اور اپنے وسائل کو کسی دوسرے کے لیے کیوں استعمال کرے‘ اپنے لیے کیوں نہ استعمال کرے۔ یہ مثال میں پہلے بھی دے چکا ہوں کہ اگر آپ پھل فروش کے پاس چلے جائیں تو اس کا فلٹر یہ ہو گا کہ آپ سے بڑے اچھے طریقے سے بات کرے گا اور محسوس کرائے گا کہ اس نے آپ کو بالکل ہی سستے داموں پھل فراہم کر دیا ہے یا فروخت کر دیا ہے‘ لیکن جب آپ گھر پہنچ کر وہ پھلوں والا شاپنگ بیگ کھولیں گے تو نیک اطواری کا فلٹر فوری طور پر ہٹ جائے گا اور ایک کریہہ حقیقت یہ سامنے آئے گی کہ اس نے اپنے فلٹر کی آڑ میں آدھے داغ دار پھل آپ کے شاپنگ بیگ میں ڈال دیے ہیں۔ کسی تندور والے کے پاس چلے جائیں تو اس کا فلٹر بھی اچھے طریقے سے ملنا ہو گا لیکن روٹی وہ بھی آپ کو پورے وزن کی نہیں دے گا‘ البتہ پیسے پورے وصول کرے گا۔ انتخابات میں حصہ لینے والے سیاستدان بھی فلٹر کا استعمال کرتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران وہ آپ کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہر بات مانے گا‘ ہر وعدۂ فردا فرمائے گا لیکن جونہی الیکشن کے ہنگامے ختم ہوں گے اور وہ لوگ منتخب ہو کر منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گے تو پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں گے کہ جن لوگوں کے سامنے انہوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنی جھولی پھیلائی تھی ان کے حقوق پورے کرنے ہیں۔ اس وقت تک فلٹر پوری طرح ہٹ چکا ہوتا ہے۔
واٹس ایپ پر ایسی تحریریں اکثر پڑھنے کو ملتی ہیں کہ یہ جو بیوٹی پارلر والے ہیں یہ شاید بخشے نہیں جائیں گے کیونکہ یہ کسی عام سی صورت کا بھی ایسا میک اپ کرتے ہیں کہ سب کچھ اس میں چھپ جاتا ہے اور دلہن کا اصل روپ اس وقت سامنے آتا ہے جب اگلے دن وہ اپنا ہاتھ منہ دھو کر سامنے آتی ہے‘ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ جس نے فلٹر ایجاد کیا وہ بھی شاید بیوٹی پارلر والوں سے زیادہ ہی سزا پائے گا کہ اس نے دھوکہ دہی کا کیا عجیب آلہ تیار کر دیا کہ لوگ اچھی صورت دیکھ کر ملتفت ہوتے ہیں لیکن جونہی انہیں حقیقت کا پتا چلتا ہے پیچھے ہٹنے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔ جیسے انہوں نے440وولٹ کے ننگے تار کو چھو لیا ہو۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved