'پاکستان اپنے شہریوں اور جوانوں کی شہادتیں مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ اپنے شہید جوانوں کی تصاویر دیکھ کر لہو کھول اٹھتا ہے‘۔ افغانستان کی حکومت کو یہ بات کون باور کرا سکتا ہے؟ کیا اس سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن کا نام لیا جا سکتا ہے؟
سب سے اہم کردار تو حکومت کا ہو سکتا تھا۔ اس نے اپنے تئیں کوشش کر کے دیکھ لیا۔ اس وقت افغانستان کو پاکستان سے کوئی شکایت نہیں‘ صرف پاکستان کو ہے۔ پاکستان میں فساد برپا ہے۔ آبادیاں محفوظ ہیں نہ راستے۔ اس فساد میں وہ لوگ ملوث ہیں جو افغانستان میں بیٹھے ہیں۔ افغانستان کے علما بھی اس کو ناجائز قرار دے چکے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔ اس کے باوجود‘ حملے رکنے کو نہیں آ رہے۔ سب جانتے ہیں کہ ان فسادیوں کا مرکز افغانستان ہے۔ پاکستان نے اپنے طور پر وہاں کی حکومت سے بارہا رابطہ کیا۔ یہی نہیں‘ ترکیہ اور چین جیسے دوستوں کو بھی بطور ثالث اس عمل میں شریک کیا۔ انہوں نے بھی طالبان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہ سب کوششیں ناکام ہو چکیں۔ پاکستان کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ فساد کے ٹھکانوں کو خود نشانہ بنائے۔
یہ صورتِ حال پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے کسی طر ح پسندیدہ نہیں۔ ریاست افغانستان کے ساتھ جنگ چاہتی ہے نہ پاکستان کے شہری۔ جنگ آج ہماری مجبوری بن چکی۔ پاکستان پُرامن راستے اپنا چکا مگر اس کی کسی نے قدر نہیں کی۔ ہمارے پاس حملے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ تاہم اب بھی بات ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ اگر کوئی چاہے تو افغانستان کی حکومت کو متوجہ کر سکتا ہے کہ یہ جنگ افغانستان کے حق میں بھی نہیں ہے۔ یہ 'کوئی‘ میرے نزدیک صرف مولانا فضل الرحمن ہو سکتے ہیں۔
مولانا شاید پاکستان کے واحد سیاسی راہنما ہیں جو اس سارے عرصے میں پاکستان کے مؤقف پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ افغانستان کے طالبان کے ساتھ ان کا نظریاتی تعلق ہے جو ڈھکاچھپا نہیں۔ وہ کھل کر ان کی حمایت میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ یقینا افغان طالبان کے دل میں اس کی قدر ہو گی۔ اگر وہ ان کے ساتھ بات کریں اور پاکستان کی ریاست انہیں یہ مینڈیٹ دے تو توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کے مثبت نتائج نکلیں۔ مولانا ایک زیرک آدمی ہیں جو خارجہ تعلقات کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں اور پاکستان کے مفادات کو بھی۔ اگروہ آمادہ ہوں تو میرا خیال ہے کہ ریاست کو اس بارے میں ضرور غور کرنا چاہیے۔ مولانا کی حکومت پر تنقید کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں پاکستان کا مفاد عزیز نہیں۔
یہ اقدام پاکستان کی کمزوری نہیں‘ خیر خواہی کا اظہار ہو گا۔ دنیا جانتی ہے کہ افغانستان پر پاکستان کو عسکری برتری حاصل ہے۔ اگر پاکستان بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے تو خطے کا کوئی بھی دوسرا ملک پاکستان کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے پاکستان کی طرف سے یہ اقدام اس خواہش کا اظہار ہو گا کہ پاکستان افغانستان کی بربادی نہیں چاہتا۔ یوں بھی پاکستان اور افغانستان کا برسرِ پیکار ہونا خلافِ حکمت ہے۔ پاکستان کو اگر خطے اور دنیا کی سیاست میں ایک بڑا کردار ادا کرنا ہے تو وہ اس طرح کے علاقائی تنازعات میں نہیں الجھ سکتا۔ افغانستان کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ سرحد پر موجود ملک کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات دوستانہ ہوں۔ بھارت کسی طرح اس کے لیے پاکستان کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
یہ بات افغان قیادت کو باور کرانے کی ضرورت ہے۔ مولانا یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ اس کا پوری طرح ابلاغ کر سکیں۔ ان کے مشورے سے کچھ اور افراد کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب اگرچہ پہلے یہ کوشش کر چکے لیکن کوئی حرج نہیں اگر ان جیسی شخصیات کو ایک بار پھر اس عمل کا حصہ بنایا جائے۔ اس معاملے کو عالمِ اسلام کے حوالے سے بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ دو مسلم ممالک کی باہمی آویزش امتِ مسلمہ کے مفاد میں نہیں۔ اس بات کو سمجھنا عقلِ عام کے لیے مشکل نہیں کہ افغانستان سے جنگ پاکستان کے مقاصد میں شامل نہیں ہو سکتی۔ اگر ہمیں یہ اقدام کرنا پڑا ہے تو بادلِ نخواستہ۔ اس وقت افغانستان کو بھی پاکستان سے کوئی شکایت نہیں۔ لہٰذا اس تصادم کا جلد از جلد خاتمہ ہی سب کے مفاد میں ہے۔
افغان طالبان کے بارے میں ہمیں یہ خوش گمانی تھی کہ قدرت نے اگر انہیں دوسری بار موقع دیا تو وہ اسے غنیمت جانتے ہوئے ایک مثبت سوچ کے ساتھ افغانستان کی تعمیرِ نو اور وحدت کو اپنی سعی وجہد کا مرکز بنائیں گے۔ وہ داخلی اور خارجی سطح پر غیر ضروری مباحث میں الجھنے سے گریز کریں گے۔ بدقسمتی سے یہ توقع پوری نہ ہو سکی۔ خواتین کی تعلیم اور بعض دیگر امور میں انہوں نے داخلی طور پر ایسے اقدامات کیے جنہیں خود دیوبندی علما نے بھی اسلام کے خلاف کہا۔ خارجی سطح پر بھی انہوں نے پاکستان سے دوری اور بھارت سے قرب اختیار کیا جو کسی طور افغانستان کے مفاد میں نہیں۔ نہ جغرافیہ اس کی تائید کرتا ہے نہ تاریخ۔ نہ مذہب اور نہ ثقافت۔
ٹی ٹی پی کے معاملے کو بھی افغان حکومت نے حکمت کی نظر سے نہیں دیکھا۔ اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ یہ پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ پاکستان اس معاملے میں کوئی نرم رویہ اختیار نہیں کر سکتا۔ اگر پاکستانی طالبان ملک کے آئین کو مانتے ہوئے یہاں کے پُرامن شہری بن کر رہیں تو ریاست انہیں یہ موقع دینے کو تیار ہے۔ ان کا رویہ مگر بغاوت پر مبنی ہے۔ افغان طالبان کو جاننا چاہیے تھا کہ بغاوت دینی نقطہ نظر سے بھی قابلِ قبول نہیں۔ وہ ابھی تک انہیں اپنا مہمان قرار دیتے ہیں جیسے اسامہ بن لادن کو مہمان بنایا تھا۔ انہوں نے سابقہ تجربے سے کچھ نہیں سیکھا۔ آج افغانستان میں غربت اور جہالت روز افزوں ہیں۔ اس کا مداوا ہو سکتا ہے اگر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خوشگوار ہوں۔ یہ افغان طالبان کے حق میں ہے اگر وہ سمجھیں۔
مولانا فضل الرحمن اگر ان تک یہ پیغام پہنچائیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ مسئلہ جنگ کے بغیر حل ہو جائے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست کیا اس پر آمادہ ہو گی؟ بظاہر تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ریاست مخالفت کرے۔ ریاست بھی یقینا یہ چاہتی ہے کہ مسائل پُرامن طریقے سے حل ہوں۔ مولانا بھی‘ گمان یہی ہے کہ انکار نہیں کریں گے۔ پھر یہ کوئی ایسا نادر خیال نہیں کہ ریاست کا دھیان اس طرف نہ گیا ہو۔ ممکن ہے کہ وزارتِ خارجہ میں جن متبادل راستوں پر غور کیا گیا‘ ان میں یہ راستہ بھی شامل ہو۔ تاہم میڈیا میں اس حوالے سے کوئی خبر نظر سے نہیں گزری۔
پس پردہ سفارتکاری ایک پختہ روایت ہے۔ دو ممالک کے شہریوں کے مابین تعلقات کو اس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں قبائل اور علما کا باہمی تعلق سب سے زیادہ مستحکم ہے۔ پاکستان دونوں کو استعمال کرتا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی بصیرت کو مگر ریاست نے یہ موقع نہیں دیا کہ وہ بروئے کار آئے۔ مولانا نے ایک بار روس کا دورہ کیا تھا جس کے نتیجے میں بند دروازے کھل سکتے تھے مگر اس وقت بھی اس سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔ آج ضرورت ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے اس چینل سے استفادہ کیا جائے۔ افغانستان سے جنگ جیتنا ہمارے لیے مسئلہ نہیں مگر کبھی جنگ کا جیتنا بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ ہم نے یہ جنگ نہیں جیتنی‘ مسئلہ حل کر نا ہے۔ اللہ کرے افغان طالبان کی قیادت اس بات کو سمجھ سکے۔ ہمیں بہرحال آخری کوشش ضروری کرنی چاہیے۔ جنگ کا راستہ تو ہر وقت کھلا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved