تحریر : جاوید حفیظ تاریخ اشاعت     23-02-2026

فلسطینیوں کی طویل شبِ غم

1987ء کی بات ہے میں ریاض میں پاکستانی سفارتخانے میں قونصلر تھا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی فوجیں موجود تھیں۔ امریکی سفارتکار ہمیں بڑی گرمجوشی سے ملتے تھے۔ وہ اکثر ہمیں لنچ اور ڈنر پر بلاتے اور ہم بھی انہیں مدعو کرتے۔ دوستیاں خاصی گہری ہو گئیں۔ ایک روز میں نے اپنے ہم منصب امریکی کو بغیر لگی لپٹی کے ڈائریکٹ سوال کیا کہ اسرائیل نے فلسطین کے کئی حصوں پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور امریکہ اسرائیل کی آنکھیں بند کر کے حمایت کر رہا ہے۔ اس نے میری بات پورے تحمل سے سنی اور دو حصوں میں جواب دیا۔ پہلے کہا کہ بہت سے کرسچن امریکن Old Testament کے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں کہ فلسطین یہودیوں کا وطن ہے اور دوسرا یہ کہ امریکہ اسرائیل کیساتھ ساتھ فلسطینیوں کے حقوق کی بھی بات کرتا ہے۔
آج امریکہ اسرائیل کی حمایت تو صبح وشام کرتا ہے مگر فلسطینیوں کے حقوق کی بات بہت کم کرتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ عرب اور مسلم ممالک میں اتحاد کا فقدان ہے۔ او آئی سی ممبر ممالک میں سے کئی ایک نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے اور جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے‘ وہاں اسرائیلی لابی بڑی مضبوط ہے۔ یہ لوگ میڈیا اور مالیاتی اداروں پر چھائے ہوئے ہیں۔ ہر امریکی صدارتی الیکشن میں اسرائیلی لابی دونوں جماعتوں کے امیدواروں پر کھلا پیسہ لگاتی ہے لہٰذا ہر امریکی صدر اسرائیل کیلئے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ اکتوبر2023ء میں حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو امریکی صدر جوبائیڈن بھاگے بھاگے اسرائیل آئے اور بیان دیا کہ میں آئرش بیک گرائونڈ والا کرسچن ہوں اور ساتھ ہی میں صہیونی بھی ہوں۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہر عیسائی صہیونی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر یہودی ہی صہیونی ہو۔ صہیونی صرف وہ ہے جو تورات کے عہد نامہ قدیم (Old Testament) کے اس وعدے پر مکمل ایمان رکھتا ہے کہ فلسطین یہودیوں کی سرزمین ہے۔ البتہ جوبائیڈن نے فلسطینی حقوق سے انکار کبھی نہیں کیا تھا مگر ڈونلڈ ٹرمپ تو اسرائیل کی حمایت میں اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑ گئے ہیں۔ اپنی پہلی ٹرم میں آتے ہی اعلان کیا کہ اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم شفٹ کیا جائے گا۔ مسلم ممالک کا شروع سے مؤقف رہا ہے کہ مجوزہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس ہوگا جو یروشلم کا وہ نام ہے جو مسلمان عمومی طور پر استعمال کرتے ہیں۔ 1967ء کی جنگ تک القدس کا مشرقی حصہ اردن کے پاس تھا جبکہ غزہ مصر کے پاس۔ جب عربوں نے پی ایل او کو فلسطینیوں کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم کر لیا تو مغربی کنارہ اور غزہ فلسطین اتھارٹی کو دے دیے گئے۔ غزہ میں حماس نے 2006ء کے الیکشن میں پی ایل او پر واضح اکثریت حاصل کی اور وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ یاد رہے کہ 2006ء کے الیکشن کیلئے سابق امریکی صدر جمی کارٹر بطور آبزرور آئے تھے اور انہوں نے الیکشن کو صاف شفاف قرار دیا تھا اور آج حماس کو غزہ سے ہر طرح سے آئوٹ کیا جا رہا ہے اور اس مہم میں صدر ٹرمپ پیش پیش ہیں۔
2019ء میں تو صدر ٹرمپ نے کمال ہی کر دیا۔ تمام بین الاقوامی قوانین‘ روایات اور اخلاقیات کے برعکس اعلان کیا کہ گولان کی مقبوضہ پہاڑیاں اب اسرائیل کا حصہ تصور ہوں گی۔ اسرائیل نے ان پہاڑیوں پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔ اس سے پہلے یہ شام کا حصہ تھیں۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگ کے ذریعے کسی ملک کے کسی حصے کو چھین کر اپنے ملک میں ضم نہیں کیا جا سکتا مگر ٹرمپ بین الاقوامی قانون کی قطعاً پروا نہیں کرتے۔ جولان (گولان) کے بارے میں امریکہ کا فیصلہ انوکھا تھا۔ دنیا کے کسی اور ملک نے یہ قدم نہیں اٹھایا تھا۔ یہ بدعت بھی ٹرمپ نے شروع کی۔ آج غزہ کے نصف حصے میں اسرائیلی فوج بیٹھی ہے‘ امریکہ نے مڈل ایسٹ میں موجود یو این کے اُن دفاتر کی فنڈنگ اکتوبر 2023ء سے معطل کر رکھی ہے جو فلسطینیوں کو انسانی امداد فراہم کرتے تھے۔ ان میں UNRWA سب سے اہم ہے۔ اب سے پہلی والی امریکی حکومتیں مغربی کنارے پر قائم یہودی بستیوں کو غیر قانونی تصور کرتی تھیں مگر ٹرمپ کے آنے سے یہ صورتحال بدل گئی ہے۔ یہودی آبادکاروں پر لگائی گئی اقتصادی پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔ اسرائیل یہودی آباد کاروں کیلئے ایک نیا قانون بنا رہا ہے جس سے حوصلہ پا کر مزید آبادکار مغربی کنارے کا رخ کریں گے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ مغربی کنارے کا کُل رقبہ تقریباً ہمارے ضلع میانوالی جتنا ہے۔ تقریباً سات لاکھ اسرائیلی آبادکار یہاں آباد ہیں‘ جو سراسر غیر قانونی اقدام ہے لیکن اب صدر ٹرمپ سے حوصلہ افزائی مل رہی ہے لہٰذا ان کی تعداد بڑھنے کے واضح امکانات ہیں۔ غزہ مغربی کنارے سے متصل نہیں‘ درمیان میں تقریباً 50 کلومیٹر اسرائیل کے زیر تسلط علاقہ ہے۔ اگر مغربی کنارے کے لوگ غزہ جانا چاہئیں تو اسرائیل سے تحریری اجازت لینا پڑتی ہے۔
اکتوبر 2023ء کے بعد غزہ میں جنم لینے والے انسانی المیے کی وجہ سے مغربی کنارے پر دنیا کی توجہ کم رہی ہے لیکن یہاں ہونے والے مظالم کچھ کم تو نہیں۔ مغربی کنارہ القدس سے متصل ہے جہاں مسجد اقصیٰ کے اطراف میں صورتحال اکثر کشیدہ رہتی ہے۔ جنین کا مہاجر کیمپ القدس سے تقریباً سو کلومیٹر دور ہے۔ یہاں چونکہ عرصے سے اجڑے ہوئے مظلوم فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں لہٰذا اسرائیل کی نظر 'کرم‘ مسلسل اس کیمپ پر رہتی ہے۔ صہیونی اگر اس کیمپ پرحملہ کریں تو انہیں مؤثر طریقے سے روکا نہیں جاتا۔ 2025ء میں مغربی کنارے پر انتہا پسند یہودیوں نے جو حملے کئے وہ 2024ء کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ تھے۔ یہ اعداد وشمار اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ہیں۔ بڑے دہشت گردی کے حملے 50 فیصدزیادہ ہوئے ۔
القدس کے اسلامی وقف فنڈ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران ہزاروں یہودی الاقصیٰ حرم میں زبردستی داخل ہوئے۔ 769 مرتبہ اذان میں خلل ڈالا گیا۔ مغربی کنارے پر واقع جنین مہاجر کیمپ میں 23 ہزار لوگ آباد ہیں‘ ایک محدود سے علاقے میں یہ بہت گنجان آبادی ہے۔ یہ مہاجرین سالہا سال سے جس کرب سے گزرے ہیں اس کی وجہ سے جنین کیمپ میں انتہا پسند رجحانات کا فروغ قدرتی ردعمل ہے۔ انہیں یہودیوں اور پی ایل او دونوں کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاریخ کے جبر اور حالات کے بے رحم دھارے میں پھنسے یہ فلسطینی دونوں حکومتوں یعنی محمود عباس اور نیتن یاہو‘ کیلئے مشکوک ہیں۔ مغربی کنارے پر فلسطینی آبادی 35 لاکھ ہے جبکہ یہودی آبادکار سات لاکھ ہیں۔ اسرائیل کو کبھی غزہ میں یہودی بستیاں بنانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس کی دو جوہات ہیں؛ ایک تو غزہ کا رقبہ مغربی کنارے سے بھی کم ہے۔ دوسرا غزہ کے لوگ زیادہ سخت جان ہیں۔ فلسطینی نیشنلزم یہاں زیادہ راسخ ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ فلسطینی انتفاضہ کے کئی دور غزہ میں بھی ہوئے تھے‘ جب غزہ کے فلسطینی غلیلوں سے اسرائیلی فوجیوں پر کنکروں کی بارش کرتے تھے۔ مزاحمت کی روایت غزہ میں زیادہ راسخ رہی ہے۔ ظلم کی ان داستانوں کے بعد انسانی ہمدردی اور نیک جذبات کی کہانی بھی سن لیجئے۔ برطانیہ میں مقیم کئی مسلم آرتھو پیڈک سرجن ایک تنظیم سے وابستہ ہیں۔ اس تنظیم کو پتا چلا کہ ایک امریکی این جی اوکے ذریعے غزہ میں جا کر انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ لاہور کے معروف آرتھو پیڈک سرجن نے اس گروپ کو جوائن کیا اور اردن کے راستے غزہ پہنچے اور دو ہفتے غزہ میں متعدد آپریشن کئے۔ میری ان میں سے ایک ڈاکٹرسے بات ہوئی‘ وہ ملے جلے جذبات لے کر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ سے بھی کئی ڈاکٹر محض انسانی خدمت کیلئے غزہ آئے ہیں اور ان میں سب مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ دو ہفتے میں ان ڈاکٹروں نے یہودیوں کے مکروہ مظالم بھی دیکھے۔ بتا رہے تھے کہ وہاں فائرنگ اب بھی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے تھے۔ اللہ انہیں اجر عظیم عطا فرمائے!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved