حکومت کا دعویٰ ہے کہ توانائی ٹیرف میں دی گئی رعایت سے دو ماہ میں ایک لاکھ 27 ہزار سے زائد صنعتی صارفین کو فائدہ پہنچا جبکہ دوسری جانب صنعتکار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر واقعی ریلیف دیا گیا تھا تو اس کا عملی اثر کہاں ہے؟ حکومت کے مطابق دسمبر 2025ء اور جنوری 2026ء کے دوران تقریباً 12 ارب روپے سے زائد کا مجموعی فائدہ صنعتوں کو پہنچا۔ اضافی بجلی کے استعمال پر فی یونٹ 4.04 روپے کمی اور بعض صورتوں میں 10.3 روپے فی یونٹ تک رعایت کو ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاور ڈویژن کے اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 46 فیصد صنعتی صارفین نے اس رعایتی پیکیج سے فائدہ اٹھایا۔ تاہم صنعتکاروں کا مؤقف مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ریلیف محدود نوعیت کا تھا۔ بڑی صنعتیں‘ خاص طور پر بی تھری اور بی فور کیٹیگری سے تعلق رکھنے والے صارفین‘ جو گرڈ پر بوجھ نہیں ڈال رہے‘ وہ پہلے ہی زیادہ ٹیرف ادا کر رہے ہیں۔ فائدہ صرف اُن صنعتوں کو ہوا جو یا تو غیر فعال تھیں یا اضافی بجلی کے استعمال کی مخصوص شرائط پر پورا اترتی تھیں۔ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ میں جنوری کے لیے تقریباً 1.78 روپے فی یونٹ اضافہ اور آئندہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں مزید 40 پیسے فی یونٹ اضافے کی توقع نے اس 4.04 روپے کی کمی کو تقریباً بے اثر کر دیا ہے۔ عملی طور پر ریلیف صرف 1.70 سے 1.80 روپے فی یونٹ رہ گیا۔ یعنی ایک ہاتھ سے دیا گیا ریلیف‘ دوسرے ہاتھ سے واپس لے لیا گیا۔
حکومت صنعتی کیپٹو پاور پلانٹس کی گیس سے بجلی پر منتقلی کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ اگر صنعتیں قومی گرڈ سے بجلی خریدیں تو سرپلس پاور کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے اور کپیسٹی پیمنٹس کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ منتقلی پائیدار بنیادوں پر ہو رہی ہے یا وقتی نرخوں کے باعث؟ پاکستان کی معیشت کو اس وقت برآمدات میں اضافے اور صنعتی توسیع کی ضرورت ہے۔ توانائی کی لاگت پیداواری ڈھانچے کا سب سے اہم جزو ہے۔ اگر توانائی کی قیمتوں میں استحکام نہ ہو تو سرمایہ کار طویل مدتی منصوبہ بندی سے گریز کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری برادری مطالبہ کر رہی ہے کہ وقتی رعایت کے بجائے مستقل اور شفاف پالیسی فریم ورک دیا جائے۔ حکومت کو سمجھناچاہیے کہ ریلیف کا اصل معیار سرکاری اعداد وشمار نہیں بلکہ صنعتکار کی بیلنس شیٹ ہوتی ہے۔ اگر پیداواری لاگت کم نہیں ہو رہی‘ برآمدی آرڈر مسابقتی قیمت پر حاصل نہیں ہو رہا تو رعایتی پیکیج اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ حکومت اور صنعت کے مابین یہ خلیج صرف بیانات سے پُر ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی پالیسی کو سیاسی کریڈٹ کے بجائے معاشی حقیقت کے پیمانے پر پرکھا جائے۔ ورنہ کامیابی کی کہانی پریس ریلیزوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی اور صنعتی پہیہ اسی رفتار سے گھومتا رہے گا جس رفتار سے اس وقت گھوم رہا ہے۔
پاکستان وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت اور ٹرانزٹ روابط بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ مالی سال 2025ء میں مجموعی تجارت تقریباً 442 ملین ڈالر رہی۔ اس میں پاکستان کی برآمدات کم ہوئی ہیں جبکہ درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے‘ یعنی تجارتی خسارہ بڑھا ہے۔ قازقستان پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے قازقستان کے ساتھ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا ہے‘ اس کے لیے زرعی صنعت‘ پیٹرو کیمیکل‘ دھات سازی اور ادویات کے شعبوں میں تعاون کی بات ہو رہی ہے لیکن پاکستان کے لیے یہ راستہ آسان نہیں۔ خطے میں ایک اہم متبادل تجارتی راستہ International North-South Transport Corridor (INSTC) ہے‘ جو بھارت‘ ایران‘ آذربائیجان‘ روس اور وسطی ایشیا کو سمندر‘ ریل اور سڑک کے ذریعے جوڑتا ہے۔ یہ راستہ نسبتاً سستا بھی ہے اور مختصر بھی۔ پاک بھارت کشیدگی نے بھی علاقائی رابطوں کو متاثر کیا ہے‘جس سے بڑے منصوبوں پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اگر پالیسی میں تسلسل‘ سفارتی توازن اور معاشی اصلاحات کو ترجیح دی جائے تو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت ملک کے لیے حقیقی فائدہ ثابت ہو سکتی ہے‘ ورنہ ہم صرف امکانات کی باتیں کرتے رہ جائیں گے۔
حکومت نے برآمدات بڑھانے اور ایکسپورٹ فنڈ کے بہتر استعمال کے لیے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا نیا بورڈ بنایا ہے۔ اس بورڈ میں زیادہ نمائندگی نجی شعبے کو دی گئی ہے تاکہ فنڈز کے اخراجات پر سخت نظر رکھی جا سکے اور بیورو کریسی کا کردار کم ہو سکے۔ برآمد کنندگان پر عائد 0.25 فیصد سرچارج بھی ختم کر دیا گیا ہے جس سے فنڈ میں تقریباً 52 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔ اب فنڈ کے استعمال کی سخت نگرانی کی جا سکتی ہے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق آڈٹ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم ایک خطرہ بھی موجود ہے۔ اگر نجی شعبے کی نمائندگی زیادہ ہو جائے اور نگرانی کا نظام کمزور رہے تو فنڈز کے استعمال میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان بزنس کونسل اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس جیسے اداروں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف نمائندگی نہیں بلکہ پالیسی کی بہتری میں بھی فعال کردار ادا کریں۔
دنیا بھر میں بیٹریوں کی قیمت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ پہلے ایک یونٹ بجلی ذخیرہ کرنے کی لاگت بہت زیادہ تھی لیکن اب اس میں 90 فیصد سے زائد کمی آ چکی ہے۔ جب یہ قیمت ایک خاص حد سے نیچے آ جائے گی تو بجلی بنانے اور محفوظ کرنے کا طریقہ مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ آسان لفظوں میں یہ کہ اگر سولر پینل سے بننے والی بجلی کو بڑی بیٹریوں میں محفوظ کرنا عام رسائی میں آ گیا تو تیل اور گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ اگرچہ بیٹری کی میعاد دس سال سے کم ہو تو نقصان کا اندیشہ ہے۔ آنے والے چند سالوں میں بیشتر لوگ اگر گرڈ سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوتے تب بھی ہائبرڈ نظام استعمال کر رہے ہوں گے۔ یعنی کچھ بجلی سولر سے‘ کچھ بیٹری سے اور کچھ گرڈ سے۔ اگر بیٹریوں کی قیمت میں کمی آئی تو بجلی کا موجودہ نظام دباؤ میں آ سکتا ہے کیونکہ لوگ گرڈ پر انحصار کم کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ اس سے حکومت اور بجلی کمپنیوں پر اپنا نظام بہتر بنانے کا دبائو بڑھ سکتا ہے۔ مختصر یہ ہے کہ بیٹری انقلاب ابھی مکمل طور پر نہیں آیا مگر یہ بہت قریب ہے۔ اگلے چند سال فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں‘ سوال یہ ہے کہ مزید کتنا عرصہ درکار ہو گا۔
رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی مہنگائی کی رفتار کو پر لگ گئے ہیں۔ 19 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے میں مہنگائی 5.19 فیصد بڑھ گئی۔ یہ لگاتار 29واں ہفتہ ہے جب قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یعنی مسلسل کئی مہینوں سے عام آدمی کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ قریب آتے ہی مارکیٹ میں اشیا کی مانگ بڑھ جاتی ہے‘ جس کی وجہ سے قیمتیں اوپر جاتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر بار یہی صورتحال رہے گی؟ رمضان سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی مہنگائی کو ہوا دی ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے‘ اور پھر سبزی سے لے کر آٹے تک ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو ٹماٹر کی قیمت میں 85 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا۔ آٹا‘ گیس‘ بجلی اور گوشت بھی مہنگے ہو چکے۔ اگرچہ کچھ اشیا جیسے آلو اور دالوں کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی ہے‘ لیکن مجموعی طور پر خرچ کم نہیں ہو رہا کیونکہ بجلی‘ گیس اور بنیادی خوراک کا خرچ زیادہ ہو چکا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وقتی اقدامات کے بجائے مستقل حل تلاش کرے۔ ذخیرہ اندوزی کو روکا جائے‘ سپلائی چین بہتر بنائی جائے اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے۔ اگر آمدنی کم اور خرچ زیادہ ہو تو اشیا کی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ بھی بہت بڑا مالی بوجھ بن جاتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved