ظہر کی نماز ہم نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں ادا کی۔ نماز میں طلبہ کی خاصی تعداد تھی لیکن یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ مسجد انتظامیہ کی بے توجہی کا شکار ہے۔ مسجد اچھے خاصے رقبے پر ہے اور یونیورسٹی کی مرکزی مسجد ہونے کے لحاظ سے پرشکوہ اور خوبصورت ہونے کا تقاضا کرتی ہے لیکن لگتا ہے کہ مدت سے نہ اس کی تعمیر کی طرف دھیان دیا گیا نہ انتظامات کی طرف۔ قدرتی طور پر میرا ذہن اس کا موازنہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کی شاندار جامع مسجد سے کرنے لگا۔ میرے ساتھ میزبانوں نے افسوس کے ساتھ بتایا کہ یونیورسٹی پر بہت مدت سے سیکولر اور قوم پرست ذہن کا غلبہ رہا ہے اور اس نے کبھی مسجد کی طرف توجہ ہی نہیں کی۔ تاہم حالات بہتر ہوئے ہیں اور اب اس جگہ ایک شاندار مسجد بنانے کا ارادہ ہے۔
8 جنوری کی اس سہ پہر میں مسجد کے قریب شریف عثمان بن ہادی شہید کی قبر کے سامنے کھڑا تھا جو کچھ ہی دن پہلے شہید ہوئے تھے۔21 دسمبر کو عثمان ہادی کا جنازہ ڈھاکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ لوگ‘ خاص طور پر نوجوان طلبہ وطالبات دھاڑیں مار کر روتے تھے۔ اس روز قومی شاعر نذر الاسلام کے پہلو میں ایک اور قومی ہیرو کا اضافہ ہو گیا۔ یہاں سے ہمیں بنگلہ میوزیم جانا تھا۔ بنگلہ میوزیم بنگالی زبان کیلئے پچاس کی دہائی میں شروع ہونے والی تحریک کی تصاویر سے سجا ہے۔ یہ غالباً ڈھاکہ کے نواب خاندان کی کسی کوٹھی میں قائم ہے جو ایک زمانے میں گورنر ہائوس بھی رہی۔ میوزیم میں ان نامور لوگوں کی تصاویر بھی آویزاں ہیں جنہوں نے بنگلہ تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی ہی میں بنگلہ اکیڈمی بھی قائم ہے‘ جسے متحدہ پاکستان کے دور میں ایوب خان کے زمانے میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے اندر ایک خود مختار ادارے کے طور پر قائم کیا گیا اور وہ بدستور سرکاری ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس کے سربراہ ڈاکٹر اعظم سے ملاقات ہوئی‘ جو بنگالی زبان وادب کے محقق ہیں اور ڈیپوٹیشن پر یونیورسٹی سے یہاں آئے ہیں۔ ان کے ساتھ چائے کے کپ پر گفتگو رہی۔ وہ احترام سے ملے‘ اگرچہ وہ اسی قومیت پرست ذہن کے نمائندے ہیں جو موجودہ نظریاتی تبدیلیوں سے سخت ناخوش ہے۔ مغرب سے کچھ پہلے ہم نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے نکل کر اگلی منزل کا رخ کیا۔ میرے ساتھ میزبان بار بار بتا رہے تھے کہ ابھی ہمیں کافی دور جانا ہے‘ اور ڈھاکہ کا پُرہجوم ٹریفک آپ کو علم ہے‘ اس لیے جلد چلیے۔ اس تقاضے کے باوجود ہم نکلے تو مغرب ڈھاکہ پر اترنے کو تھی اور سرخ نارنجی شفق کے پھول افق پر کھل کر جگمگا رہے تھے۔ میرے میزبان محمد سرور صاحب نے اگلے دو دن کیلئے مجھے اپنی کپڑے کی مل میں سیر کیلئے بلایا تھا جہاں ان کے رہائشی بنگلے بھی تھے۔ یہ مل بھالوکا میں ہے جو ڈھاکہ سے تقریباً 75 کلومیٹر دور ہے۔
پورا بنگلہ دیش انتظامی لحاظ سے آٹھ ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور ہر ڈویژن آٹھ ضلعوں میں۔ اس طرح پورا بنگلہ دیش 64 اضلاع پر مشتمل ہے۔ ہر ضلع کو اَپ ضلع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ سارا انتظام مقامی بندوبست اور لوکل گورنمنٹ سنبھالتی ہے۔ بنگلہ دیش میں صوبے نہیں ہیں‘ نہ صوبائی اسمبلیاں‘ گورنر اور وزیراعلیٰ وغیرہ۔ آپ سمجھ سکتے ہیں ایسے میں ساری ذمہ داری لوکل گورنمنٹ پر آ جاتی ہے۔ ڈھاکہ سے شمال کی طرف جائیں تو ڈھاکہ ڈویژن ختم ہو کر میمن سنگھ ڈویژن شروع ہو جاتا ہے۔ ہمیں اسی میمن سنگھ ڈویژن کی بستی بھالوکا جانا تھا۔ بھالوکا ایک اَپ ضلع ہے اور صنعتی علاقہ بھی۔ جب انگریزوں کے دور میں یہاں پہلے پہل آبادی ہوئی تو جنگلوں میں ریچھ بہت تھے۔ بنگالی میں ریچھ کو بھالوک کہتے ہیں؛ چنانچہ اس علاقے کا نام بھالوکا پڑ گیا۔ ہم ڈھاکہ کے پُرہجوم ٹریفک سے نکل کر بہت دقت کے بعد میمن سنگھ جانے والی شاہراہ این 3 پر آ چکے تھے اور خیال تھا کہ اب ہجوم سے نکل کر سانس لینے کا موقع مل جائے گا۔ قومی شاہراہوں پر آبادیوں سے نکل کر عام طور پر کھلا علاقہ شروع ہو جاتا ہے اور گاڑیاں بھی اچھی رفتار سے سفر کر سکتی ہیں۔ یہ ڈھاکہ سے باہر سفر کا میرا پہلا تجربہ تھا اور مجھے بہت حیرت ہوئی کہ وہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔ ہم ڈھاکہ سے باہر تھے لیکن آبادی کم وبیش مسلسل ساتھ چل رہی تھی۔ ٹریفک جام نے پیچھا نہیں چھوڑا تھا اور اب بڑی بسوں اور کنٹینرز نے چھوٹی ٹریفک کی جگہ لے لی تھی۔ ہرکچھ فاصلے پر بستیاں تھیں اور ان بستیوں میں بازاروں اور بے ہنگم تجاوزات نے ٹریفک روک رکھی تھا۔ کہیں کہیں تالاب اور درختوں کے جھنڈ نظر آتے تھے۔ اصولاً ہمیں 75 کلومیٹر کا سفر ڈھائی گھنٹے میں طے کر لینا چاہیے تھا لیکن اتنا وقت تو ہمیں ڈھاکہ سے نکلنے میں لگ گیا۔ خدا کا شکر ہے کہ آرام دہ گاڑی‘ ڈرائیور اور مقامی دوست ہمراہ تھے‘ اس لیے تاخیر کے سوا کوئی اور پریشانی نہیں تھی۔ اس ہائی وے پر کم ہی مقام ایسے آئے ہوں گے جہاں گاڑی چالیس کلومیٹر کی رفتار سے چل پائی ہو۔ بالآخر پانچ گھنٹے بعد رات ساڑھے دس بجے کے قریب ہم اس سڑک پر مڑے جسے بھالوکا بستی کا بازار کہنا چاہیے۔ یہ چھوٹی سڑک تھی اور اس وقت بازار کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔ کہیں کہیں روشنی تھی ورنہ سناٹا اور اندھیرا استقبال کرتا تھا۔ کچھ آگے کریانے کی ایک دکان کا شٹر کھلا تھا اور اسی کے ساتھ چائے کے ہوٹل پر کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ سردی کا موسم اور کھلا علاقہ‘ چنانچہ کچھ لوگ چادریں اوڑھے ہوئے تھے۔ اور آگے بڑھے تو دائیں بائیں کھیت‘ تالاب اور درختوں کے جھنڈ منظر میں شامل ہو گئے۔ اسی سڑک پر چند کلومیٹر آگے ہماری منزل تھی۔
یہ ایک بڑی مل ہے جو کم وبیش 75 ایکڑ پر مشتمل ہے۔ مل ایریا سے آگے خوبصورت رہائشی بنگلے دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ گاڑی سے اترے تو خنک تازہ ہوا نے استقبال کیا۔ سرور صاحب بھی خیر مقدم کیلئے موجود تھے اور راستے کی تکلیف کیلئے معذرت خواہ بھی۔ ظاہر ہے اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اس وقت تھکن اور بھوک دونوں شباب پر تھیں اس لیے زیادہ گفتگو کھانے پر ہی ہوئی۔ ایک تو مہمان نوازی دوسرا‘ خود میزبان کھانے کا عمدہ ذوق رکھنے والا۔ انواع واقسام کی نعمتیں دستر خوان پر موجود تھیں۔ بنگلہ دیش میں گائے کا گوشت بہت زیادہ پسندیدہ ہے اور میں نے دیکھا کہ ان کے ہاں گائے کی نسل پاکستانی گائے سے کافی چھوٹی ہوتی ہے؛ چنانچہ اس کا وزن بھی کم ہے‘ اندازاً تیس چالیس کلو کے قریب۔ اس کا گوشت نرم اور لذیذ ہوتا ہے۔ اس رات دسترخوان پر گائے کے بھنے گوشت اور تلاپیا مچھلی نے کسی اور چیز کو ہاتھ لگانے ہی نہیں دیا۔ یا پھر بنگال کی مخصوص دہی‘ جو خود ایک میٹھے کی طرح ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ بکرے‘ گائے اور مرغ کے گوشت سمیت لگ بھگ ہر چیز میزبان کی اپنی تھی۔ یعنی باہر سے نہیں خریدی گئی تھی۔ کم وبیش یہی حال سبزیوں کا تھا۔ شہد بھی مل کے احاطے سے اکٹھا کیا جاتا۔ یہ سلیقہ اور انتظام بہت کم لوگوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔
یہاں دو بڑے رہائشی بنگلے تھے جن میں سے ایک میری مہمان نوازی کیلئے رکھا گیا تھا‘ جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔ پردیس میں محبت کرنے والے مل جائیں اور ہر طرح کی ضروریات میسر آ جائیں تو اس سے بڑی کیا نعمت ہے۔ ذرا دیر کو باہر نکلا تو خنک ہوا کے تازہ جھونکے نے تازہ دم کر دیا۔ اس جگہ کی خوبصورتی اور شادابی مدہوش کن تھی۔ جگمگ حسین روشنیاں‘ خوبصورت پودے‘ صاف ستھرے راستے۔ طرح طرح کے پودوں کی خوشبو سے ہوا بوجھل اور معطر ہوکر مجھ تک پہنچتی تھی۔ نیند سے جھکتی آنکھیں‘ شکم سیری کا خمار‘ تھکن سے ٹوٹتا بدن اور ہوا کی مہکار۔ مجھے لگا کہ میں کسی خواب میں ہوں۔ میرے دائیں ہاتھ ایک بڑا تالاب لمبائی میں کافی دور ایکڑوں تک پھیلا تھا۔ اس کی چوڑائی بھی لگ بھگ 150 میٹر کے قریب ہو گی۔ تالاب کنارے بطخیں اور لمبی ٹانگوں والے راج ہنس رات کی غنودگی میں تھے۔ تالاب کنارے کیلے‘ لیچی‘ آم‘ چھالیہ کے درخت تھے اور خوبصورت رنگوں والی بوگن ولیا کی کئی اقسام۔ قریب سے گزرا تو گہرے عنابی رنگ کی ایک بوگن ولیا نے سرگوشی کی اور پوچھا‘ مجھ ایسا رنگ پہلے کبھی دیکھا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved