1967ء سے 1974ء تک میں نے شمالی انگلستان میں مانچسٹر کے قریب دو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھایا۔ اس دوران میں مانچسٹر سے 30 میل کے فاصلے پر ڈارون نامی قصبے پر ایک پہاڑی پر بنے مکان میں اپنے بال بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ چونکہ ڈاردن میں ہم واحد ایشیائی گھرانہ تھے اس لیے احساسِ تنہائی کم کرنے کیلئے ویک اینڈ مانچسٹر میں ایک عزیز دوست چودھری اعظم کے ہاں گزارتے تھے۔ 1972-73ء کے موسمِ گرما میں اعظم کا فون آیا کہ گھر میں پاکستان سے آئے ہوئے کچھ مہمان ٹھہرے ہیں‘ اس لیے ویک اینڈ پر آئیں تو بال بچوں کو ساتھ نہ لائیں۔ یہ مہمان کون تھے؟ ایئر مارشل (ر) اصغر خان۔ میں نے ایک چھت تلے ان کی رفاقت میں تین دن اور دو راتیں گزاریں اور انہیں قریب سے دیکھا۔ اُن کے بارے میں جو کچھ سنا تھا اُس سے انہیں بہتر پایا۔ سنجیدہ‘ باوقار‘ مہذب‘ چھوٹوں سے شفقت‘ مدبر‘ مفکر‘ بے داغ دامن‘ خوش گفتار‘ خوش کردار۔وہ تحریک استقلال نامی سیاسی پارٹی کے بانی اور قائد اعلیٰ تھے اور اسی حیثیت میں برطانیہ کا دورہ کر رہے تھے۔ جمہوری اقدار‘ انسانی حقوق کے احترام اور قانون کی حکمرانی کے الفاظ اُن کے پرچم پر لکھے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے یہ پرچم برطانیہ کے ہر اُس شہر پر لہرایا (اور بہت اچھی تقاریر کیں) جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد رہتی تھی۔ وہ پاکستان کی فضائیہ کے بانیوں میں سے تھے۔ یہ اُن کا کمال تھا کہ نہ صرف فضائیہ نے اتنے اچھے اور جدید ہوائی جہاز حاصل کر لیے بلکہ ان کو اُڑانے اور آگے چل کر ہوائی جنگیں لڑنے والے ہوا بازوں کو بہترین تربیت بھی دی گئی۔ 1965ء کی جنگ میں چند جرنیلوں کی غلط حکمت عملی اور احمقانہ فیصلوں پر ہماری فضائیہ اور بحریہ کی بہادری اور نہایت قابل قیادت نے پردہ ڈال دیا۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ اس وقت ہمارے پاس اصغر خان تھے اور نور خان بھی۔ اصغر خان کی عمر عسکری میدان میں گزری۔ پھر ریٹائر ہو کر سیاست کے خارزار میں اُترے۔ دونوں جگہ اپنی خداداد خوبیاں منوائیں۔ تاہم انہوں نے ایک رواجی منشور اپنایا۔ روایتی سیاسی پارٹی بنا کر بھٹو صاحب سے لڑنا اور اُنہیں شکست دینا ممکن نہ تھا اور ایسا ہی ہوا۔
اصغرخان 1921ء میں جموں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ڈیرہ دون (دہلی کے قریب) رائل انڈین ملٹری کالج میں داخل ہوئے اور 1940ء میں وہاں سے گریجوایشن کی۔ 1941ء میں انڈین ایئر فورس میں چلے گئے‘ دوسری عالمی جنگ میں بھی حصہ لیا۔ وہ برصغیر سے تعلق رکھنے والے پہلے شخص تھے جس نے جیٹ لڑاکا جہاز (Gloster Meteor Mark II) اُڑایا‘ جو ایک بڑا اعزاز تھا۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد وہ رسالپور میں رائل پاکستان ایئر فورس کالج کے کمانڈنٹ بنائے گئے۔ 1957ء سے 1965ء تک وہ پاک فضائیہ کے سربراہ رہے۔ اُن کی زیر قیادت پاک فضائیہ نے ہر شعبہ میں ترقی کی اور ایک نوزائیدہ ایئر فورس سے ایک بڑی قوت بن گئی۔ 1965ء میں پاک بھارت جنگ سے محض چھ ہفتے قبل (23 جولائی) کو پاک فضائیہ سے ریٹائر ہوئے۔ آپریشن جبرالٹر کے بارے میں اُن سے مشورہ تو درکنار‘ انہیں اس کی اطلاع بھی نہ دی گئی۔ اصغر خان کی جرأت اظہار ملاحظہ فرمائیے کہ اُنہوں نے 1965 اور 1971ء کی جنگوں میں اپنی غلطیوں کو کھلے دل سے نہ صرف تسلیم کیا اور بلکہ اعلانیہ ان پالیسیوں پر تنقید بھی کی۔ عائشہ جلال کی تاریخ پاکستان (مطبوعہ آکسفورڈ پریس) کے صفحہ 279 پر اس کی تفصیل پڑھی جا سکتی ہے۔ اصغر خان کا خاکہ لکھنے والے شخص کیلئے یہ ممکن نہیں (اور نہ ہی مناسب ہے) کہ وہ ان کے بیان کی تائید یا تردید کرے۔ اصغر خان کو اپنی صاف گوئی کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ وہ قیدی بنا کر رکھے گئے۔ صرف یہی نہیں‘ اُن پر کئی حملے بھی ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء میں اصغر خان کو پانچ سال قید کی سزا دی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ جس دیانتداری‘ جذبۂ حب الوطنی اور نیک نیتی سے اصغر خان نے پاک فضائیہ کو ایک ادارہ بنایا اور پھر اسے بخوبی چلایا‘ وہی جذبہ ان کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی کارفرما تھا۔ نہ کسی عہدے کا لالچ اور نہ اقتدار سے مالی فائدہ اُٹھانے کی حرص وہوس۔ برطانوی اخبارات نے انہیں Mr. Clean کا خطاب دے رکھا تھا۔ اصغر خان بذاتِ خود آمریت کے جتنے بھی بڑے مخالف رہے ہوں‘ وہ اپنے بیٹے (عمر اصغر) کی جنرل مشرف کی کابینہ میں بطور وزیر شرکت میں رکاوٹ نہیں بنے۔ قومی سیاست کیلئے افسوسناک المیہ اور بوڑھے باپ کیلئے ناقابل برداشت سانحہ جون 2002ء میں عمر اصغر کی کراچی میں اپنے گھر میں پُراسرار موت ہے۔ آج تک پتا نہیں چلا کہ وہ قتل تھا یا خودکشی۔ جن لوگوں نے اصغر خان کو اپنے ہونہار بیٹے کے جنازہ اور تدفین کے وقت دیکھا وہ اصغر خان کی بہادری اور پامردی کی بے حد تعریف کرتے تھے۔
اصغر خان نے 1968ء میں ریٹائر فوجی افسر کی آرام دہ زندگی چھوڑ کر سیاست کی وادیٔ خارزار میں قدم رکھا۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کا اتحاد (جس میں بھٹو صاحب کی نوزائیدہ پیپلز پارٹی بھی شامل تھی) جنرل ایوب کے آمرانہ نظام کے خلاف تحریک چلا رہا تھا۔ بھٹو صاحب گرفتار کر لیے گئے تو عوامی تحریک کمزور پڑ گئی۔ اصغر خان آمریت کی گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا لگانے کیلئے سیاسی میدان میں اس وقت اُترے جب ہنگامے عروج پر تھے۔ اُنہوں نے تحریکِ جمہوریت اور بھٹو کی حمایت میں بڑے بڑے جلوسوں کی قیادت کی۔ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا مقابلہ کیا۔ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک الگ سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا جس کا نام پہلے جسٹس پارٹی رکھا گیا۔ جدوجہد آگے بڑھی تو یہ پارٹی دوسری جماعتوں (عوامی لیگ (مغربی پاکستان) اور نوابزادہ نصراللہ خان کی پارٹی) میں ضم ہو گئی جس کا نام پاکستان جمہوری پارٹی رکھا گیا۔ اصغر خان جیسے سچے کھرے آدمی کا پیشہ ور سیاستدانوں کے ساتھ زیادہ دیر چلنا ممکن نہ تھا‘ لہٰذا جلد ہی وہ علیحدہ ہو گئے اور تحریک استقلال کے نام سے نئی پارٹی بنا لی۔ اس کا پہلا کنونشن 1970ء میں راولپنڈی میں ہوا۔ نوزائیدہ پارٹی کی تنظیمی ساخت 1970ء کے انتخابات میں نہایت کمزور تھی‘ لہٰذا ان انتخابات میں شرکت ایک غلط فیصلہ ثابت ہوا۔ اصغر خان مغربی پاکستان کے وہ سیاستدان تھے جس نے عوامی لیگ کے حقِ اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں عنانِ اقتدار دینے کا مطالبہ کیا۔ بھٹو صاحب برسر اقتدار آئے تو اصغر خان اُن کے مخالفین کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ 1977ء کے انتخابات میں وہ کراچی کے ایک حلقے سے منتخب ہوئے۔ 1988ء اور 1990ء کے انتخابات میں تحریک استقلال ایک بھی نشست نہ جیت سکی۔ 1993ء میں اُنہوں نے نواز شریف کی مسلم لیگ کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصہ لیا اور پنجاب اسمبلی میں ان کی جماعت دو نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ اگر جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء دس سال نہ لے جاتا اور جمہوری دور جاری رہتا تو روشن امکان تھا کہ بھٹو کے زوال کے بعد اصغر خان مغربی پاکستان میں ایک بڑی سیاسی قوت بن کر اُبھرتے۔ اصغر خان کا سرمایہ نیک نیتی اور دیانتداری تھی تاہم وہ سیاسی سوجھ بوجھ اور حالات کے مطابق مصلحت پسندی جیسی ضروری خوبیوں سے محروم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قومی سیاسی تاریخ پر اپنا کوئی دائمی نقش نہ چھوڑ سکے۔ احراریوں اور خاکساروں کی طرح تحریک استقلال سطحِ آب پر ایک بلبلہ بن کر اُبھری اور پھر کوئی نشان چھوڑے بغیر غائب ہو گئی۔ 1990ء کے عشرہ میں مہران بینک سیکنڈل کے خلاف اصغر خان کی سپریم کورٹ میں تہلکہ مچا دینے والی پٹیشن دائر کی گئی مگر تقریباً تین دہائیوں بعد بھی اس کیس کا حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ 2012ء میں ایک فیصلہ سنایا تو گیا مگر عملدرآمد آج تک نہیں ہو سکا۔اصغر خان نے تین بہت اچھی کتابیں لکھیں جو ہماری فکر ودانش کیلئے روشنی کا مینار ہیں۔ 96 برس کی عمر کے بعد وہ شاہین ایبٹ آباد میں سپردِ خاک کیا گیا جو صحرائوں‘ دریائوں اور پہاڑوں پر راج کرنے والا تھا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved