تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     27-11-2013

دنیا سے محاذآرائی کی پالیسی

دنیا ہر قابل ِ ذکر اور اہم حوالے سے تبدیل ہوچکی ہے اور تبدیل ہورہی ہے ۔ اس تبدیلی کے ہماری معیشت، ماحول، معاشرے ، اقدار اور سب سے اہم ، سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ آج کی دنیا میں باہمی تجارت اور معلومات کی بلاروک ٹوک فراہمی‘ بین الاقوامی روابط کی بنیاد ہیں۔ ان تعلقات کو ملکی قوانین اور بین الاقوامی معاہدے تحفظ دیتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اقوام ِ عالم ایک دوسرے کے قریب آرہی ہیں۔ بین الاقوامی تعاون کے تصور کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ہر قوم کی فلاح اور خوشحالی دوسری اقوام، خاص طور پر اس کی ہمسایہ ریاستوں، کے ساتھ روابط میں مضمر ہے۔ درحقیقت سمٹتے ہوئے جغرافیائی پیمانے اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہر ریاست دوسروںسے تعاون کرے اور یہ تعاون یک طرفہ نہ ہو۔ اگر کوئی ریاست ایسا کرنے سے گریز کی پالیسی اپناتے ہوئے دیگر ریاستوں کی طرف ہاتھ نہیں بڑھائے گی تو وہ عالمی تنہائی سے دوچار ہو جائے گی ، کیونکہ جس طرح وہ دوسروں کو رد کرے گی، دوسرے بھی اُسے رد کردیںگے۔ 
اس معروضے کو سامنے رکھتے ہوئے عمران خان اور ان کی جماعت، پی ٹی آئی ،کی طرف سے افغانستان میں موجود نیٹوافواج کی، جس میں سینتالیس ممالک کے فوجی دستے شامل ہیں، سپلائی روکتے ہوئے عالمی سطح پر ملک کے لیے محاذآرائی کی کیفیت پیدا کررہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی طویل عرصے تک سپلائی لائن نہ روک سکے اور اس کا موجودہ احتجاج صرف علامتی ہو اور اس کی مدت دوتین دن سے زیادہ نہ ہو لیکن ا س سے عالمی برادری کو جو پیغام جائے گا ، اُس سے ملک کے امیج کو نقصان پہنچے گا۔ عالمی برادری دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے پاکستان کو پہلے ہی ایک خاص زاویۂ نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ایک اور بات، اس کاوش میں صرف پاکستان کا نقصان ہوگا کیونکہ عمران خان عوامی سیاست، یا پارٹی پالیٹکس ، کرتے ہوئے اپنے لیے سیاسی مفاد حاصل کرلیںگے۔ دوسری طرف سپلائی لائن رکنے سے نیٹو دستے بھوکے نہیں مرجائیںگے۔ اس سے ان کی فوجی قوت پر بھی کوئی اثر نہیںہوگا کیونکہ وہ پہلے ہی جنگی کاروائیوں کو کم سطح پر لاکر روانگی کی تیاری کررہے ہیں۔ اس صورت میں اگر کسی ملک کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے تو وہ صرف پاکستان ہی ہے۔ 
عمران خان شروع سے ہی ڈرون حملوں کے خلاف ہیں اور اس مخالفت کی معقول وجہ ہے کیونکہ ان میں دہشت گردوںکے علاوہ عام شہری بھی ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس سے قبائلی علاقوں میں عدم تحفظ اور خوف کی فضا قائم ہوئی ہے۔ ہلاکتوں کی وجہ سے عام شہری بھی انتہا پسندی کی طرف مائل ہورہے ہیں جبکہ امریکہ کے خلاف نفرت کا گراف اونچا ہورہا ہے؛ چنانچہ ڈرون حملوں کی مخالفت کی ٹھوس وجوہ ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ عالمی سطح پر بھی ڈرون حملوں کی حمایت نہیں پائی جاتی۔ درحقیقت دنیا کی بڑی آبادی ان کی وجہ سے ہونے والی نادیدہ ہلاکتوں کو پسند نہیںکرتی؛ تاہم پاکستانی نام نہاد لبرل ان حملوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ ا س کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی لبرل کی سوچ بیرونی دنیا کے لبرل عوام کی سوچ سے مختلف ہے؛ چنانچہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کوجب میڈیاپر بولنے کاموقع ملتا ہے تو وہ ڈرون حملوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں ۔ وہ ایسے ظاہر کرتے ہیں کہ اگر ڈرون حملے نہ ہوں تو گویا دہشت گرد لمحوں میں دنیا سے زندگی کانام ونشان مٹا دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فضا کی بلندیوں میں اڑنے اور دور سے کنٹرول ہونے والے یہ طیارے صرف انتہا پسندوں کو ہی نشانہ بناتے ہیں اور یہ کہ ان کے تباہ کن ہیل فائر میزائل کی زد میں عام شہری آہی نہیںسکتے۔ 
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان حملوں میں انتہا پسندوں کے بہت سے سرکردہ جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں غیر ملکی جنگجووں کے علاوہ بہت سے مقامی طالبان کمانڈر بھی، جو ریاست ِ پاکستان کے خلاف آمادہ ٔ جنگ تھے، ہلاک ہوئے ہیں لیکن یہ بات بھی نہیں جھٹلائی جاسکتی کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل تھے۔ میرا موقف یہ ہے کہ شہری آبادی کو، جو اس لڑائی کا فریق نہیں ہے، پہنچنے والا جانی نقصان بے حد افسوس ناک ہے اورجہاں تک ہوسکے، ہر شہری کی جان بچائی جانی چاہیے۔ اگر شہریوں کا خون بہتا رہا تو ہماری سکیورٹی کو درپیش مسائل میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اس خطرے کاتصور کرنے کے لیے سوچیں کہ جب قبائلی افراد کے بچے یا دیگر اہل ِ خانہ ان حملوں میں ہلاک ہوتے ہیں توان کے اشتعال کا کیا عالم ہوتا ہوگا۔ اس علاقے کی تاریخ اور روایات پر نظر رکھنے والے لو گ جانتے ہیں کہ یہاں بدلہ لینے کا رواج ہے۔ جب تک وہ اپنے دشمن سے بدلہ نہ لے لیں ، وہ ہتھیار نہیں رکھتے۔ اب چونکہ وہ نہ تو ڈرون طیاروںکو مار گراسکتے ہیں اور نہ وہ بٹن دبانے والے ہاتھوں تک ان کی رسائی ہے‘ پس اُن کے سامنے آسان اور واضح ہدف پاکستان کی شہری آبادی اور سکیورٹی ادارے ہیں؛ چنانچہ وہ پاکستان کو اپنا دشمن تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان بھی ان حملوں کو بند نہیںکرا سکتا کیونکہ ریاست نہ تو امریکہ سے براہ راست جنگ کا خطرہ مول لے سکتی ہے اور نہ ہی امریکہ ہماری بات سمجھتا ہے۔ اس صورت میں ہمارے پا س کیا لائحۂ عمل ہونا چاہیے؟
بات یہ ہے کہ عمران خان اوردیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو سمجھنا چاہیے کہ سڑکیں بند کردینا اور اس طرح احتجاج کرنا اس مسئلے کا حل نہیںہے۔ جس راستے پر یہ جماعتیں، خاص طورپر عمران خان کی پی ٹی آئی ، چل رہی ہیں، وہ پاکستان کو نقصان پہنچائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان نے عوامی مقبولیت کے لیے بہت ہی خطرناک راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ملک میں امریکہ اور اس کے ڈرون حملوں کے خلاف اشتعال پیدا کیا جاچکا ہے، اس لیے وہ ان کی آخری حد تک مخالفت کرتے ہوئے ان جذبات کو کیش کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ افسوس، ایسا کرتے ہوئے وہ قومی مفاد سے متصادم راہ پر گامزن ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں پرامن انتقال ِ اقتدار کی زرین روایت کے بعدا یسا لگتا ہے کہ ہم احتجاجی سیاست کے ایک اور مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اس وقت پاکستان کسی قسم کے انتشار اور فساد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس نازک وقت میں ریاست اندرونی اور بیرونی دشمنوں میں گھری ہوئی ہے۔ یہ بات نہایت افسوس ناک ہوگی اگر قومی سیاسی جماعتیں بھی ان دشمنوںکے ہاتھ مضبوط کردیں۔ اس سے پہلے بھی احتجاجی مظاہروں نے دنیا کے بہت سے ممالک کے معاشروں کو تباہ کردیا ہے۔ اور پاکستانی معاشرہ تو پہلے ہی لسانی ، فروعی، نسلی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم در تقسیم کا شکار ہے؛ چنانچہ اسے یہ طرز ِ سیاست ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچائے گی۔ اس وقت جبکہ عمران خان کوئی معقول بات سننے یا سمجھنے کے روادار نہیں ہیں، اس لیے دوسری جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فساد کی طرف نہ بڑھیں۔ پر امن احتجاج جمہوری حق ہے لیکن اس کی آڑ میں ریاست ، سرکاری اور نجی ملکیت ، کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیںدی جاسکتی۔ میں ذاتی طور پر عمران خان کے حوصلے اور عزم کا معترف ہوں لیکن اس وقت ان کی سمت درست نہیںہے۔ میراخیال ہے کہ وہ جتنی جلدی اس بات کو سمجھ لیں اتناہی اچھا ہوگا کہ اس وقت پاکستان‘ امریکہ اور مغربی ممالک سے دشمنی کا متحمل نہیںہوسکتا۔ دوسری بات ، عمران خان کوئی جذباتی نوجوان نہیں ہیں ،وہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ ایک سیاست دان کو جذباتیت کی بجائے عملیت پسند ہونا چاہیے۔ اس وقت پاکستان کو معقول اور عملیت پسند رویوں کی جتنی ضرورت ہے اتنی شاید کبھی بھی نہ تھی۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved