تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     24-02-2026

قیدی سے ملاقات

پہلی بار معلوم ہوا کہ کسی قیدی سے ملنا کتنا مشکل ہے!
اس لیے کہ اس سے پہلے یہ تجربہ ہوا ہی نہ تھا۔ کہا گیا درخواست دیجیے۔ درخواست دی۔ پھر کہا گیا ملاقات کی وجہ کیا ہے‘ یہ بھی لکھیے۔ جواب میں لکھا کہ قیدی کی خیریت اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر ایک لمبا انتظار! ایک دن پیغام آیا کہ کل آپ کی ''ملاقات‘‘ ہے۔ میں تڑکے ہی زنداں کی فصیل کے باہر پہنچ گیا۔ صدر دروازے پر پہرہ تھا مگر صاحب! کوئی ایسا ویسا پہرہ! توپ تک نصب تھی۔ کئی تنومند داروغے کلاشنکوفیں اٹھائے کھڑے تھے۔ بالکل ساکت‘ بے حس و حرکت! مجسموں کی طرح! کسی کی بندوق کا منہ شمال کی طرف تھا تو کسی کی گن کی نالی جنوب کی سمت!! ایک داروغہ میری طرف آیا۔ اس کے ہاتھ میں میری تصویر تھی۔ مجھے دیکھا‘ پھر تصویر کو۔ پھر اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ صدر دروازے سے اندر داخل ہوئے تو حیرت ہوئی کہ سامنے وسیع میدان تھا۔ دور بہت دور‘ ایک عمارت نظر آرہی تھی۔ داروغے کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے بہت دیر بعد اس عمارت تک پہنچا۔ یہاں پھر وہی منظر! ویسا ہی صدر دروازہ۔ ویسے ہی اسلحہ بردار داروغے۔ یہاں ایک اور داروغہ تصویر اٹھائے پاس آیا۔ موازنہ کرنے کے بعد اس نے بھی اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ گیٹ سے اندر گئے تو پھر وہی منظر! ایک بہت بڑا میدان‘ اس کے آخر میں عمارت۔ چین کا شہرِ ممنوعہ (Forbidden City) یاد آ گیا جس میں ایک محل کے پیچھے ایک اور محل اور اس کے پیچھے ایک اور محل اور اس کے پیچھے ایک اور محل! یہ سلسلہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا یہاں تک کہ سیاح تھک جاتے ہیں۔ کئی صدر دروازوں اور کئی وسیع و عریض میدانوں اور کئی دور افتادہ عمارتوں سے گزرنے کے بعد اور کئی درشت اور تُرش رو داروغوں کے پیچھے چلنے کے بعد بالآخر ایک ایسی جگہ رکنے کیلئے کہا گیا جو ایک اجاڑ‘ تنہا گوشہ لگتی تھی۔ کچھ دیر کے بعد ایک اور داروغہ آیا۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے‘ قد اُس کا پونے سات فٹ سے کم کیا ہو گا! قوی ہیکل! عظیم الجثہ‘ دیکھ کر بڑے بڑے سورماؤں کا پتّا پانی ہو! شکل اس کی راکھشس جیسی تھی۔ ایک قدم اس کا عام انسانوں کے تین قدموں جتنا۔ وہ مجھے ایک پنجرہ نما‘ پتھر کی بنی ہوئی کوٹھری کے پاس لایا۔ ایک کھڑکی تھی۔ مربع سلاخوں والی۔ دیکھا کہ قیدی یہیں بند تھا۔
جیسا کہ متوقع تھا‘ قیدی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ زنجیروں میں پرویا ہوا تھا۔ زنجیریں اس کے جسم کے مختلف حصوں سے گزرتی ہوئیں! کچھ عمودی‘ کچھ اُفقی! ہاتھ یا پاؤں ہلاتا تو زنجیروں کے ہلنے سے عجیب نوعیت کی خوفناک چیخوں جیسی آوازیں آتیں۔ کوٹھری کا طول و عرض بس اتنا ہی تھا کہ قیدی مشکل ہی سے اس میں سمایا ہوا تھا۔ حیرت انگیز امر یہ تھا کہ اس سارے از حد تکلیف نما ماحول میں بھی قیدی خوش تھا اور مطمئن! ہنستا تو بڑے بڑے دانت نظر آتے۔ آنکھوں میں ایک پُر اسرار چمک تھی۔ چہرے پر غایت در جہ اطمینان! جیسے قید خانہ نہ ہوا اپنا گھر ہوا!!! مجھے دیکھا تو قہقہہ لگاکر کہنے لگا ''مجھے پوری امید تھی کہ تم آؤ گے اور اپنے بے سرو پا کالموں کے ذریعے میری نام نہاد حالت زار اپنے زعم میں‘ خلقِ خدا تک پہنچاؤ گے مگر دیکھ لو کہ میں خوش ہوں اور ہنس رہا ہوں‘‘! کسی لڑائی میں اس کا ایک سینگ آدھا ٹوٹ گیا تھا۔اب ایک پورے‘ لمبے اور دوسرے آ دھے سینگ کے ساتھ وہ پہلے سے بھی بڑا وارداتیا لگ رہا تھا۔ میں نے پوچھا: تم اس کال کوٹھری میں بھی خوش ہو ! آخر کیوں؟ تمہیں تو ادھ موا ہونا چاہیے تھا مگر تم ہو کہ دانت نکال رہے ہو اور آسودہ خاطر یوں لگ رہے ہو جیسے سسرال آئے ہوئے ہو! اس پر اس نے ایک اور قہقہہ لگایا! کہنے لگا: اے احمق کالم نگار!! پاکستان جیسے مسلمان ملک میں مجھے رمضان میں قید کرنے سے کیا ہو گا؟ اسی لیے تو خوش ہوں کہ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ میں آزاد ہوں یا جیل میں‘ میری شیطنت کا سکہ ہر حال میں چلتا رہے گا۔ میرے پیرو کار‘ میرے ایجنٹ‘ میرے چیلے اور میرے ماتحت میری غیرحاضری میں بھی میرے احکام پر پوری طرح عمل کر رہے ہیں۔ میں نے ہنس کر کہا: اپنے آپ کو خوش کرنے کیلئے جو چاہو کہتے رہو! سچ یہ ہے کہ اس ماہِ مبارک میں تم اور تمہارے پیروکار سب زنجیروں میں جکڑ دیے گئے ہیں۔ اس نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔ تم صرف ان کو میرے چیلے سمجھتے ہو جو نماز نہیں پڑھتے‘ روزہ نہیں رکھتے اور قتل اور زناجیسے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مگر یہی تو تمہاری خوش فہمی ہے۔ میرے پیروکاروں میں ایسے ایسے لوگ ہیں کہ تم انہیں دیکھو تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ شیطان کے ماتحت کیا‘ خود ہی پورے شیطان ہیں! یہ جو فروٹ منڈیوں میں بڑے بڑے تاجر اور آڑھتی بیٹھے ہیں‘ جو ماہِ رمضان کے آتے ہی پھلوں کے نرخ کئی گنا زیادہ کر دیتے ہیں‘ یہی تو میرے اصل نمائندے ہیں۔ ان کی چالاکی یہ ہے کہ یہ تراویح بھی پڑھتے ہیں۔ بری امام‘ عبد اللہ شاہ غازی اور داتا گنج بخش کے مزاروں پر دیگیں بھی چڑھاتے ہیں۔ مسجدوں میں چندے بھی دیتے ہیں۔ میلاد پر جلوس میں بھی شامل ہوتے ہیں۔ دس محرم کو سبیلیں بھی لگاتے ہیں۔ حج اور عمرے بھی کرتے ہیں مگر رمضان کے مہینے میں حرام منافع اتنا کما لیتے ہیں کہ سارا سال مزے لے لے کر کھاتے ہیں۔ جب یہ میرا کام اتنی جانفشانی سے میری قید کے دوران بھی کر رہے ہیں تو میں کیوں نہ خوش اور مطمئن رہوں! اسی طرح دیکھنا‘ جوں جوں عید قریب آئے گی‘ بچوں اور خواتین کے ملبوسات حد درجہ مہنگے ہوتے جائیں گے۔ اب تو غیرمسلم ملکوں میں بھی رمضان کے دوران خصوصی طور پر قیمتوں پر بڑے بڑے ڈسکاؤنٹ لگا دیے جاتے ہیں تاکہ مسلمان صارفین کیلئے آسانی ہو جائے۔ میں ان غیرمسلموں سے سخت ناراض ہوں۔ میں ان عرب تاجروں سے بھی ناخوش ہوں جو رمضان میں اشیائے خورو نوش کی اور ملبوسات کی قیمتیں زیادہ نہیں کرتے۔ میری آنکھوں کے تارے تو پاکستانی تاجر ہیں جو اس مبارک مہینے میں ناجائز نفع خوری کرتے ہیں اور اس ناجائز نفع خوری کی تیاری میں مہینوں پہلے ذخیرہ اندوزی کر لیتے ہیں! میں پاکستانی عوام سے بھی خوش ہوں۔ اگر یہ عوام چاہیں تو میرے گماشتوں کی ناروا نفع خوری پر کاری ضرب لگا سکتے ہیں مگر لگاتے نہیں۔ یہ عام صارفین اگر صرف چار پانچ دن پھلوں کا بائیکاٹ کر دیں تو آڑھتیوں کی چیخیں نکل جائیں۔ مگر پاکستانی عوام میں اتنا سیاسی شعور ہے نہ صبر نہ تنظیم نہ اجتماعی بہبود کا احساس! یہ اگر بچوں کے نئے ملبوسات اور جوتے عید سے چند ماہ پہلے خرید کر رکھ لیں تو نہ صرف یہ کہ اس مصنوعی مہنگائی سے بھی بچ جائیں جو تاجر رمضان کے آخری عشرے میں پیدا کرتے ہیں بلکہ ان لالچی‘ آتش خور تاجروں کے دانت بھی کھٹے کر سکیں گے مگر مجھے یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوتی ہے کہ پاکستانی عوام مہنگائی کا رونا بھی روتے ہیں اور عملی طور پر کوئی قدم بھی نہیں اٹھاتے۔یعنی: سب کر رہے ہیں آہ و فغاں سب مزے میں ہیں!!
قیدی سے مل کر گھر واپس لوٹا تو گھر والے منتظر تھے۔ بیگم نے حکم دیا جا کر کچھ پھل لے آئیں! میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ ہمیں پھلوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے‘ قیمتیں ناجائز حد تک بڑھا دی گئی ہیں۔ مگر بیگم نے بگڑ کر کہا کہ بچوں نے دن بھر روزہ رکھا ہے۔ ذرا ذرا سے چہرے نکل آئے ہیں ان کے۔ اب کیا افطار میں فروٹ چاٹ بھی نہ ہو؟ اور پھر ایک ہمارے بائیکاٹ کرنے سے ہو گا بھی کیا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved