ملک قرضوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لیے جا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر آنے والے دن میں قرضہ بھی پہلے سے زیادہ ہے اور اس پر سود بھی اسی حساب سے زیادہ ادا کیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس کا کوئی اختتام دکھائی نہیں دے رہا۔ قرض بھی بڑھتا جا رہا ہے اور سود بھی زیادہ۔ ادائیگیوں کیلئے پہلے سے بھی زیادہ قرضوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ اس کا حل صرف دو چیزوں میں ہی پوشیدہ ہے۔ ایک یہ کہ آمدنی بڑھائی جائے اور دوسری یہ کہ خرچے کم کیے جائیں‘ مگر دونوں کا نہ تو دور دور تک کوئی امکان ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ دکھائی دے رہا ہے۔
ملک میں فی الوقت دو چیزوں کا زور ہے۔ ایک سرکاری خرچوں کا اور دوسرا سرکار کو کھانچے لگانے کا۔ جس کا جہاں بس چل رہا ہے وہ اپنی ساری کسریں نکال رہا ہے۔ ایک طرف ہم جھولی پھیلائے عالمی معاشی اداروں کے پیچھے پیچھے صدائیں لگا رہے ہیں دوسری طرف پنجاب حکومت نے دس ارب روپے یعنی تقریباً اڑتیس ملین ڈالر کا ایک لگژری ہوائی جہاز گلف سٹریمG500خرید لیا ہے۔ یہ انیس سیٹوں والا جیٹ جہاز ہے اور دنیا بھر میں کاروباری جیٹ کے طور جانا جاتا ہے۔یہ جہاز سربراہانِ مملکت‘ بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے مالک اور چیف ایگزیکٹوز‘ وی وی آئی پی شخصیات اور چارٹر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ میرے علم میں نہیں کہ گلف سٹریم G500 طیارہ دنیا بھر میں کوئی بھی کمرشل ایئر لائن بطور ریگولر مسافر بردار طیارے کے استعمال کر رہی ہو۔ ہاں! البتہ قطر ایئرویز شاید واحد ہوائی کمپنی تھی‘ قطر ایگزیکٹو ‘جو قطر ایئر ویز کی ذیلی کمپنی ہے‘ نے اس طیارے کو اپنے بزنس جیٹ فلیٹ میں رکھا ہوا تھا اور یہ عام کمرشل پروازوں کے بجائے چارٹر سروس کیلئے استعمال ہوتے تھے۔
مجھے یہ بات اس لیے یاد آئی کہ گزشتہ چالیس روز سے لاہور ایئرپورٹ پر کھڑے اس مہنگے اور لگژری طیارے کے بارے میں شور اٹھا تو حکومت کیلئے ہر طرح کی صفائی دینے پر مامور ایک صوبائی وزیر نے فرمایا کہ یہ طیارہ مجوزہ ایئرپنجاب کے فلیٹ کا حصہ ہے۔ ایئر لائن بزنس اور اس کی ضروریات سے مکمل طور پر لا علم وزیر صاحبہ نے مزید فرمایا کہ ایئر پنجاب کیلئے فلیٹ تیار کیا جا رہا ہے جس میں ہر طرح کے طیارے ہوں گے۔ یعنی رنگ برنگے اور قسما قسم کے طیارے۔ ان ہر رنگ اور نسل کے طیاروں کیلئے الگ الگ سپیئر پارٹس پر مشتمل سٹور ہوں گے۔ دنیا بھر میں ہر نئی اور مختصر فلیٹ پر مشتمل ایئر لائن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ طرح طرح کے طیارے خریدنے کے بجائے ایک ہی کمپنی کے ایک ہی طرح کے طیارے خریدے تاکہ تکنیکی خرابی کی صورت میں اس کے مختلف قسم کے سپیئر پارٹس کا بندوبست نہ کرنا پڑے۔ مزید یہ کہ انجینئرنگ سٹاف میں ہر طرح کے جہاز کے انجینئر نہ بھرتی کرنے پڑیں اور کسی بھی طیارے میں خرابی کی صورت میں فوری طور پر پرزے بدل کر جہاز کو آپریشنل حالت میں لایا جا سکے۔ مزید یہ کہ مختلف طیاروں کیلئے بھانت بھانت کے پائلٹ بھی نہ بھرتی کرنا پڑیں۔ پائلٹ بھرتی کرنے سے یاد آیا کہ اس طیارے کی موجودگی کا علم بھی ایسے ہوا کہ خاص طور پر اس جہاز یعنی گلف سٹریم جی 500کیلئے اسی جہاز کو چلانے کا تجربہ رکھنے والے پائلٹ کا اشتہار دیا گیا تھا جس سے اس جہاز کے بارے میں خبر ہوئی۔
اللوں تللوں کی صورتحال بھی ہمارے سامنے ہے اور معاشی صورتحال بھی ہمارے سامنے ہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے خزانے میں رکھے ہوئے تین ارب ڈالرز میں سے دو ارب ڈالرز کی مدت حال ہی میں ختم ہوئی تو پاکستان کو خاصی منت سماجت کے بعد ان دو ارب ڈالرز کو مزید اپنے پاس رکھنے کیلئے عرب امارات سے دو ماہ کی اضافی مدت عطا کی گئی ہے۔ یہ دو ارب ڈالرز بھی صرف اس لیے رکھے ہوئے ہیں کہ زر مبادلہ کی صورتحال خواہ دکھاوے کیلئے ہی سہی مگر بہتر دکھائی دے اور آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کیلئے مذاکرات کا وقت مل سکے اور پاکستان پر ادائیگی کا فوری دباؤ مؤخر ہو سکے۔دو ارب ڈالرز کی واپسی دو ماہ کیلئے رول اوور ہونے کے بعد اب اس کی ادائیگی 17اپریل 2026ء تک مؤخر ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ یو اے ای نے ہمیں یہ رقم مفت میں مہربانی کرتے ہوئے ادھار نہیں دی بلکہ یہ سالانہ 6.5فیصد کی شرح سود سے دی ہے۔ یاد رہے کہ جس آئی ایم ایف کو ہم عام لوگ گالیاں دیتے نہیں تھکتے اس کے قرضوں پر سود کی شرح ہمارے حاصل کردہ قرضوں میں سب سے کم ہے۔ یہ شرح تقریباً 2‘3 فیصد کے لگ بھگ ہے جبکہ سعودی عرب نے ہمیں جو پانچ ارب ڈالرز کے لگ بھگ رقم دی ہے وہ چار فیصد شرح سود سے ہے جبکہ ہمالیہ سے بلند دوستی والے ملک چین سے حاصل کردہ قرضوں پر شرح سود 6فیصد سے زیادہ ہے۔
اب ایک اور شوشہ خاصی بلند پرواز کر رہا ہے کہ سٹیٹ بینک میں پڑے سونے کے ذخائر میں گزشتہ تین چارماہ کے دوران تین ارب ڈالر سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ میں اس اضافے پر بڑا خوش تھا لیکن ایک دوست نے میری ساری خوشی یہ کہہ کر غارت کر دی کہ یہ اضافہ بھی صدر ٹرمپ والے طیاروں کی تعداد اور زرداری صاحب کی قید کی مدت کی طرح پڑے پڑے ہی ہو گیا ہے اور اضافہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمت بڑھنے سے ہوا ہے۔ یعنی نہ ہینگ لگی اور نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا چڑھ گیا۔ لیکن مجھے فکر اس بات کی پڑ گئی ہے کہ حکمرانوں کی نیت اس سونے کی قیمت سن کر خراب نہ ہو جائے اور وہ وراثت میں ملنے والے اس سونے کی قیمت میں جتنا اضافہ ہوا ہے اتنا سونا بیچ کر اپنے لیے مزید نئے جہاز نہ خرید لیں۔
پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ''نوں کوہ دریا تے ستھن موہڈے تے‘‘ یعنی دریا ابھی نو کوس دور ہے اور نہانے والوں نے اپنی شلواریں اپنے کاندھوں پر رکھ لی ہیں۔ ابھی ایئر پنجاب کا دفتر نہیں بنا‘ آرگنائزیش کا ڈھانچہ نہیں بنا‘ تکنیکی ماہرین بھرتی نہیں ہوئے‘ بزنس پلان نہیں بنا اور ایک عدد جہاز خرید لیا گیا ہے اور جہاز بھی وہ خریدا ہے جو اس سے پہلے دنیا بھر میں کسی کمرشل ایئرلائن نے اپنی عام پروازوں کیلئے کبھی بھی نہیں خریدا۔ اور پھرتیوں کا یہ عالم ہے کہ جہاز کی خرید کا نہ ہی کوئی اشتہار آیا ہے‘ نہ ٹینڈر مشتہر ہوا ہے‘ نہ کسی سے اس کی بولی طلب کی گئی ہے‘ نہ پپرا قوانین کی پابندی کی گئی ہے۔ راہ چلتے ریڑھی سے ٹماٹروں کی طرح جہاز خرید لیا گیا ہے۔
یہ مسافر آدھی دنیا گھوم چکا ہے اور سستی سے لے کر عام کمرشل ٹائپ بھانت بھانت کی ایئرلائنز پر سفر کر چکا ہے اور ایئرانڈسٹری کے درجنوں بزنس ماڈلز دیکھ چکا ہے مگر کسی نئی ایئر لائن کو اس طرح لگژری جہاز کی خرید سے ابتدا کرتے نہیں دیکھا۔19 سیٹوں والے 38 ملین ڈالرقیمت کے حامل گلف سٹریم جی 500 کی آپریٹنگ کاسٹ 5000 ڈالر فی گھنٹہ کے لگ بھگ ہے جبکہ ا تنی ہی سواریوں کی گنجائش کا حامل بیچ کرافٹ 900D اس کیٹیگری میں دنیا کا مقبول ترین ٹربو پروپلر جہاز ہے جس کی قیمت پانچ ملین کے لگ بھگ اور آپریٹنگ کاسٹ 2100 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ یعنی حکومت پنجاب کے خرید کردہ گلف سٹریم سے سات گنا کم قیمت اور اڑھائی گنا کم آپریٹنگ کاسٹ۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ بیچ کرافٹ پنکھوں والا نسبتاً سست رفتار والا نان لگژری جہاز ہے۔
یاد رہے کہ دس ارب روپے اڑتیس ملین ڈالر ہوتے ہیں۔ ہم ایک بلین ڈالر کے قرضے کے لیے آئی ایم ایف کی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved