غزہ کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر سرپرستی امن بورڈ کا پہلا اجلاس گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں چین‘ روس اور برطانیہ سمیت سلامتی کونسل کے مستقل ممبران میں سے کوئی موجود نہ تھا۔ صدر ٹرمپ نے افتتاحی اجلاس میں کہا کہ ہم غزہ کے لوگوں کیلئے روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ بورڈ میں شامل دیگر مسلم ملکوں نے جنگ زدہ فلسطینی ریاست کی تعمیرِ نو کیلئے سات ارب ڈالر دیے جبکہ امریکہ نے دس ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستانی قیادت نے اجلاس میں شرکت تو کی ہے مگر فنڈز دینے یا فوج بھیجنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ چونکہ ابھی تک بہت کچھ غیر واضح ہے اس لیے پاکستان نے شاید محتاط طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔
اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جو خطاب کیا اس میں ایک نہیں کئی تضادات تھے۔ ایک طرف امریکی صدر کا کہنا تھا کہ حماس جلد ہتھیار پھینک دے گی مگر یہ غیر واضح ہے کہ اس کی عدم موجودگی میں غزہ کی داخلی سکیورٹی کس کے ہاتھ میں ہو گی۔ نیز غزہ میں قیام امن کیلئے جانے والے عرب اور اسلامی ممالک کی افواج کا دائرہ کار کیا ہوگا۔ ایک طرف صدر ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرنے کا کریڈٹ لینے کی باتیں کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر اس نے ہماری مرضی کا معاہدہ نہ کیا تو نتائج بہت برے ہوں گے اور امریکہ ایران پر حملہ کر دے گا۔ اس مقصد کیلئے دو امریکی جنگی بحری بیڑے بحیرۂ روم میں پہنچ چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اہلِ غزہ کے جس ''روشن مستقبل‘‘ کی بات کی اس کا کوئی واضح منصوبہ یا نقشہ اجلاس میں پیش کیا گیا اور نہ ہی کہیں اس کا کوئی ذکر ملتا ہے۔ اسی لیے جب واشنگٹن میں امن بورڈ کے اجلاس سے امریکی صدر خطاب کر رہے تھے‘ اس وقت باہر مظاہرین ٹرمپ کے خلاف زبردست نعرے بازی کر رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسلسل دو برس تک فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے اور انکے 80 ہزار سے زائد شہریوں کو قتل اور سوا لاکھ سے زائد کو شدید زخمی کرنے والا اسرائیل بورڈ کے اجلاس میں براجمان ہے۔ گویا اجلاس میں جنگی مجرم تو موجود تھا مگر مقتول پارٹی کی کوئی نمائندگی نہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ مظاہرین نے امریکی وعالمی میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کے باضمیر انسانوں کو یہ پیغام بھیجا کہ جب تک فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت نہیں دیا جاتا اور اُنکی خود مختار فلسطینی ریاست قائم نہیں کی جاتی اس وقت تک خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
امن بورڈ کے غزہ پلان میں ایک نہیں کئی تضادات ہیں۔ ڈیلی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ حماس سے ہتھیار واپس لینے کو بہت بیتاب ہیں مگر دوسری طرف یہ سننے میں آ رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں یہ منصوبہ زیر غور ہے کہ داخلی سکیورٹی قبائلی ملیشیا کو دے دی جائے۔ قبائلی وہ مسلح دھڑے ہیں جو برسوں سے حماس کی مرکزیت اور حکومت کی مخالفت کرتے آ رہے ہیں۔ منشیات فروشی‘ سمگلنگ اور دیگر خلافِ قانون سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔ حالیہ دو سالہ جنگ کے دوران جب وہاں قحط کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی‘ اس وقت خوراک کا اکّا دکا کوئی ٹرک غزہ پہنچتا تو یہ قبائلی لوٹ لیتے تھے۔ ان قبائلیوں کو داخلی سکیورٹی دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ غزہ کو اسرائیلی بمباری اور گولہ باری کے بعد اب خانہ جنگی کے شعلوں میں جھونک دیا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیل ان قانون شکن قبائلیوں کو اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے۔ بورڈ نے یہ وضاحت بھی نہیں کی کہ کتنے عرصے میں وہاں امن قائم کر کے انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ غزہ کی باگ ڈور اُنکے منتخب نمائندوں کے سپرد کی جا سکے۔
قریب ڈیڑھ برس قبل میں نے اپنے سابق کولیگ اور دوست احمد الشہابی کو غزہ کال کی۔ میں نے استاذ احمد سے اُن کی اور دیگر اہلِ خانہ کی خیریت و عافیت دریافت کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا بہت شکر ہے‘ ہم اس وقت سمندر کے کنارے بیٹھے قہوہ نوش کر رہے اور خوش خرم ہیں۔ اب یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ غزہ کے گرد کوئی فصیل تعمیر کر کے اہلِ غزہ کی بحیرہ ٔروم کے ساحلوں تک رسائی بند کر دی جائے گی۔ ان ساحلوں پر صدر ٹرمپ اور اُن کے داماد جیرڈ کشنر کے کیا تعمیراتی و تجارتی منصوبے ہیں‘ اس بارے میں کچھ تجزیہ کاروں نے ان خدشات کا بھی اظہار کیا ہے کہ جس طرح 1948ء میں فلسطینیوں کے بہت سے دیہات پر حملے کر کے صہیونیوں اور اس وقت کی برطانوی کنٹرولنگ اتھارٹی نے لاکھوں فلسطینی باشندوں کو اپنے گھروں اور اپنی زمینوں سے بے دخل کر کے پڑوسی عرب ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا تھا‘ اب بھی اسرائیلی وامریکی منصوبہ کچھ اسی طرح کا ہے۔ اس زمانے میں پناہ کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے فلسطینیوں کی تعداد کم وبیش سات لاکھ تھی۔ فلسطینی اس زمانے کو نکبہ یعنی آفت کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اب بھی اسرائیلی وامریکی منصوبہ کچھ ایسا ہی ہے۔ ایک طرف امن کی بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف مغربی کنارے کی زمینوں اور گھروں پر اسرائیلی آبادکار گن پوائنٹ پر فلسطینیوں سے اونے پونے زمینیں خرید رہے ہیں۔
یہ رپورٹیں بھی گردش میں ہیں کہ اسرائیل نے دورانِ جنگ ممنوعہ تھرمل ہتھیار استعمال کیے تھے۔ لیزر شعاعوں کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچنے والے ہتھیار مطلوبہ فرد یا افراد کو نشانہ بنا کر انہیں دھواں اور دھول بنا دیتے ہیں۔ ان رپورٹوں کے مطابق اسرائیل نے تقریباً تین ہزار اہلِ غزہ کو ان ممنوعہ ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ ایسے جنگی مجرم کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا۔ گوکہ عالمی عدالتِ انصاف نے نیتن یاہو کی گرفتاری کے احکامات دے رکھے ہیں مگر افسوس کہ عدالت انصاف تو دیتی ہے مگر اس کے پاس کوئی قوتِ نافذہ نہیں‘ جس سے وہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرا سکے۔
امن بورڈ کے پروگرام میں یہ بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ دیگر ممالک کی امن فورسز کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف کارروائی کرنے کے کتنے اختیارات ہوں گے۔ اکتوبر 2025ء کو نافذ کردہ سیز فائر کے بعد اب تک اسرائیلی فضائی ومیدانی حملوں میں کم از کم 600 اہلِ غزہ شہید ہو چکے۔ فائر بندی کا مطلب تو ہوتا ہے کہ فریقین ایک فائر کرنے سے بھی اجتناب کریں گے۔ مسلسل دو برس تک اہلِ غزہ اسرائیلی آتش وآہن کی برسات کا شکار رہے مگر وہ آج بھی حماس پر اعتماد رکھتے ہیں۔ غزہ میں کوئی ایسا فیصلہ قابلِ قبول نہیں جو فلسطینیوں کی مرضی ومنشا کے خلاف ہو۔ ارضِ فلسطین میں اس وقت تک پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک اسرائیل اس جانب دلچسپی نہیں لے گا۔ اب تک تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست ہر وقت حالت جنگ میں رہنا چاہتی ہے۔ اگر اسرائیل آج اپنا مائنڈ سیٹ بدل لے اور امن کو اپنی ترجیح بنا لے تو کل سارے خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ دراصل نیتن یاہو کی صہیونی حکومت گریٹر اسرائیل کیلئے سرگرمِ عمل ہے۔ اسرائیل کے پاس ہتھیاروں کی کوئی کمی نہیں اور وہ 'ھل من مزید‘ کی آواز بلند کرتا رہتا ہے۔ اسرائیل اور غزہ کی دو سالہ جنگ کے دوران یورپ کے عوام نے مسلسل دو برس تک صدائے احتجاج بلند کی۔ ایک تازہ ترین سروے کے مطابق اس وقت دنیا کی نظر میں سب سے ناپسندیدہ شخصیت اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ہے۔
یہ اچھی بات ہے کہ امن بورڈ میں شامل مسلم ممالک کے درمیان باہمی مفاہمت ویگانگت اور رابطہ ہے۔ سردست تو یہ محسوس ہو رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ میں فیصلہ سازی مکمل طور پر اُن کے اپنے ہاتھ میں ہوگی تاہم بورڈ کے مسلم ممبران کو ہر فیصلہ مشاورت سے کرنے پر اصرار کرنا چاہیے۔ مسلم ممبران کو کسی ایسے منصوبے کا حصہ بننے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے جو اہلِ غزہ کے مفادات کے خلاف ہو۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved