تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     24-02-2026

خوارج کے ٹھکانوں پر کاری ضرب

پاکستان کی سالمیت اور ریاستی وقار کا تقاضا ہے کہ جب فتنہ حد سے بڑھ جائے تو اسے کچلنے کیلئے فولادی عزم کا مظاہرہ کیا جائے۔ تین روز قبل افغانستان کے اندر خوارج کے محفوظ ٹھکانوں پر پاکستان کی فضائی کارروائیاں محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ اس امر کا اعلان تھیں کہ ارضِ پاک کا امن سبوتاژ کرنے والوں کیلئے اب کہیں بھی جائے پناہ باقی نہیں رہی۔ یہ کاری ضرب ان فتنہ پرور عناصر کیلئے ایک فیصلہ کن پیغام ہے جو سرحد پار بیٹھ کر معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ ہماری امن پسندی کو کمزوری سمجھنے والے اب اپنی بقا کی فکر کریں کیونکہ ریاستِ پاکستان نے اب دفاعی مصلحتوں کی چادر اتار کر فتنہ الخوارج کی جڑوں پر براہِ راست وار کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان نے انتہائی درست اور مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان کے اندر سات اہم مقامات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں مخصوص اہداف تک محدود تھیں جن کا مقصد سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو مفلوج کرنا تھا۔ صوبہ ننگرہار میں خوارج کے دو بڑے مراکز سمیت چار اہم اہداف کو تباہ کیا گیا جبکہ صوبہ پکتیکا میں دو اور صوبہ خوست میں ایک عسکری مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں 80سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے نشانے نہ صرف درست تھے بلکہ ان کا مقصد دہشت گردوں کے اس ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانا تھا جو پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں ملوث پایا گیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے ان اقدامات کی بنیادی وجہ افغان قیادت کا مسلسل عدم تعاون پر مبنی رویہ ہے۔ اگست 2021ء میں کابل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر افغان طالبان کیلئے آواز اٹھائی لیکن پاکستان کو بدلے میں دہشت گردی کی نئی لہر ملی۔ پاکستان نے گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں درجنوں بار افغان طالبان کو دہشت گردوں کی موجودگی کے ٹھوس شواہد‘ ان کے تربیتی مراکز کی لوکیشنز اور ان کے سرغنوں کی تفصیلات فراہم کیں۔ تاہم ہر بار افغان حکام کی جانب سے ان حقائق کو یکسر جھٹلایا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ جب ایک ملک مسلسل شواہد کو نظر انداز کرے اور دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرے تو متاثرہ ملک کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ ان فضائی حملوں کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت خود کالعدم ٹی ٹی پی کا وہ مذمتی مراسلہ ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ اس خط میں ٹی ٹی پی نے نادانستہ طور پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان نے اس کے ان مراکز کو نشانہ بنایا ہے جہاں مجاہدین عسکری تربیت حاصل کرتے تھے۔ یہ اعتراف اس جھوٹ کو بین الاقوامی سطح پر بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود نہیں ہیں۔ جب دہشت گرد تنظیم خود مان رہی ہے کہ اس کے عسکری تربیتی مراکز تباہ ہوئے ہیں تو افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی عدم موجودگی کا دعویٰ محض ایک سیاسی بیان بازی اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ اس مراسلے نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف سو فیصد درست تھا اور افغانستان میں شدت پسند عناصر کو باقاعدہ سرپرستی حاصل ہے۔
دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انسانی ہمدردی بٹورنے کیلئے روایتی جذباتی حربوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ٹی ٹی پی نے اپنے مذمتی خط میں کہا ہے کہ حملوں میں گھروں‘ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر جعلی اور پرانی تصاویر پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کے خلاف عوامی غم و غصہ پیدا کیا جا سکے۔ تاہم حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج نے صرف مخصوص عسکری اہداف کو نشانہ بنایا اور معصوم شہریوں کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا۔ یہ وہی دہشت گرد ہیں جو پاکستان میں مساجد‘ امام بارگاہوں‘ سکولوں اور بازاروں میں دھماکے کر کے معصوم بچوں کا خون بہاتے ہیں۔ جب یہ خود بے گناہوں کا قتلِ عام کرتے ہیں تو انہیں اسلامی اقدار یاد نہیں آتیں لیکن جب ریاستِ پاکستان ان کے ٹھکانوں پر ضرب لگاتی ہے تو یہ انسانی حقوق کے علمبردار بن جاتے ہیں۔ یہ تضاد ان کے ناپاک عزائم کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔ ٹی ٹی پی اور ان کے سرپرستوں نے ان حملوں کو اسلامی اقدار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ذرا تصور کریں جو باتیں یہ گروہ اپنے مذمتی خط میں لکھ رہے ہیں‘ کیا پاکستان انہی نکات کو لے کر ایک عرصے سے انہیں سمجھانے کی کوشش نہیں کر رہا؟ کیا مساجد میں نماز ادا کرتے ہوئے مسلمانوں کو شہید کرنا اسلامی اقدار کے مطابق ہے؟ کیا پشاور سکول کے معصوم بچوں کا خون بہانا انسانی حقوق کی پاسداری تھی؟ یہ گروہ کس منہ سے عالمی قوانین کی بات کر رہے ہیں؟ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ لوگ کون سے عالمی قوانین کے تحت ایک آزاد اور خود مختار اسلامی ریاست میں دہشت گردی کر رہے ہیں؟ پاکستان میں کیے جانے والے حملے‘ سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں اور معصوم شہریوں کا قتل کس قانون کے تحت جائز ہے؟
ٹی ٹی پی نے اپنے مراسلے میں ان حملوں کو خطے کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ پاکستان کے اس مؤقف کی تصدیق ہے جو ہم برسوں سے بیان کر رہے ہیں‘ اس لیے خطے کیلئے اصل خطرہ پاکستان کی دفاعی کارروائیاں نہیں بلکہ وہ عناصر ہیں جو پاکستان کے دشمنوں کی مالی اور عسکری امداد سے تخریب کاری کر رہے ہیں۔ یہ دہشت گرد گروہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرکے غیر ملکی آقاؤں کے ایجنڈے کو پورا کر رہے ہیں۔ افغانستان کے اندر ان کی موجودگی پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ افغان طالبان اور ان کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والے گروہوں کو اپنی بقا عزیز ہے تو انہیں ادراک کرنا ہو گا کہ دہشت گردی کا یہ راستہ انہیں صرف تباہی کی طرف لے جائے گا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے اپنے اندرونی دشمنوں کا خاتمہ کیا۔ ہم نے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے پاک افغان سرحد پر ہزاروں کلومیٹر طویل باڑ لگائی تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔ ان تمام تر کوششوں کے باوجود اگر سرحد پار سے حملے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ دوسری طرف موجود پناہ گاہیں اب بھی فعال ہیں۔ پاکستان کی حالیہ فضائی کارروائی دراصل اسی نامکمل مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد دہشت گردی کی جڑوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے سرحد کے اُس پار بھی دشمن کو ڈھونڈ نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کی یہ کارروائیاں افغان قیادت کیلئے واضح پیغام ہیں۔ افغانستان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر کے وہ نہ صرف پاکستان کی دشمنی مول لے رہے ہیں بلکہ خود کو عالمی تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پاکستان کی پالیسی اب Clear, Hold, and Strike کی ہے یعنی خطرہ جہاں سے بھی اٹھے گا‘ اسے وہیں کچلا جائے گا۔ ہم اب کسی سفارتی لفاظی یا جھوٹے وعدوں پر یقین کرنے کے بجائے عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ افغان طالبان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر انہوں نے ان شدت پسند عناصر کی خاطر پاکستان پر کسی جوابی مہم جوئی کی کوشش کی تو اس کے نتائج ان کیلئے انتہائی بھیانک ہوں گے اور خطے میں ہونے والی کسی بھی ابتری کی تمام تر ذمہ داری ان کی قیادت پر عائد ہو گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved