ماضی کی رنجشیں اور رقابتیں اس وقت بے معنی ہیں۔ امریکی بیڑے ایران کے اس طرف اور اُس طرف حملے کی تیاریوں میں مصروف ہوں تو مسلک کی پیچیدگیوں سے بے نیاز ہر مسلمان کا انفرادی اور ہر اسلامی ملک کا اجتماعی طور پر فرض بن جاتا ہے کہ وہ جارحیت کے خلاف یعنی ایران کے ساتھ کھڑا ہو۔ جو کچھ ہو رہا ہے یہ نارمل بین الاقوامی تعلقات کا کوئی منظرنامہ نہیں۔ یہ تو کوئی گینگسٹر فلم کے سین ہمارے سامنے رونما ہو رہے ہیں۔ اتنی کھلم کھلا بدمعاشی اور اس انداز کی گفتگو جو دنیا امریکہ سے سُن رہی ہے ایسا رویہ تو گلی محلے کے بدمعاش نہیں اپناتے۔ دنیائے اسلام ہے کہ چپ ہے‘ مصلحت کی ماری اس ڈر کے تابع کہ امریکی صدر کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی۔ کسی مسلمان حکمران نے مثال کیا قائم کرنی تھی ڈیووس میں کینیڈا کے وزیراعظم نے جو تقریر کی اُس سے ہی کچھ سبق حاصل کر لیا جائے۔ کیسے شیر و شکر کے تعلقات امریکہ اور کینیڈا کے ہوا کرتے تھے لیکن صدر ٹرمپ کی باتوں سے تنگ آ کر مارک کارنی کو بھی کہنا پڑا کہ پرانا دور ختم ہو گیا ہے اور درمیانے درجے کے ممالک کو اب نئی راہوں کی تلاش کرنا ہو گی۔ تقریر بہت ہی عمدہ تھی اور بغور ملاحظہ کرنے کے لائق ہے۔
مسلمان ممالک یہ بھی دیکھ لیں کہ بڑے یورپی ممالک میں سے کسی نے بھی یہ صحیح نہیں سمجھا کہ غزہ کے حوالے سے بورڈ آف پیس ناٹک میں شامل ہوں۔ نہ برطانیہ‘ نہ فرانس‘ نہ جرمنی‘ نہ اٹلی‘ نہ کوئی سکینڈینیوین ملک۔ یہ اعزاز مسلمان ممالک ہی کو جاتا ہے کہ صف میں لگ کر اس ناٹک کا حصہ بن گئے ہیں۔ اور اس موقع پر جو تعریفی کلمات صدر ٹرمپ کے حضور میں چند لیڈران نے ادا کیے یہ سمجھ کر کہ وہ بڑا تیر مار رہے ہیں‘ مسلمانوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہے کہ جو اُن کے سربراہ اور لیڈر کہلاتے ہیں وہ ذرا سی مجبوری کے سامنے کس حد تک جھکنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اتنا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ رجیم چینج کا تحفہ جو جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس قوم کو عطا کیا اُس شر سے پاکستانی قوم بچ جاتی تو پاکستان بورڈ آف پیس کا حصہ نہ بنتا۔ یہ تو دور کی بات رہی کہ صدر ٹرمپ کی شان میں کوئی تعریفی کلمات ادا ہوتے۔
پاکستانی مجبوریاں سمجھنے کیلئے یہ کہنا ضروری ہے کہ پورا پاکستان ایک شہر‘ یعنی فیصل آباد‘ کا یرغمالی بنا ہوا ہے۔ پاکستانی اکابرین تو اس ڈر کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے کہ پاکستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف لگے تو فیصل آباد کی ٹیکسٹائل ملوں کے ایکسپورٹ آرڈر ختم ہو جائیں۔ ایٹم بم کے علاوہ اس ملک کی بے شمار صلاحیتوں سے کون سے انڈسٹریل کارنامے سرزد ہوئے ہیں؟ لے دے کے گارمنٹس مصنوعات‘ چمڑا‘ باسمتی چاول اور سیالکوٹ کے فٹ بال۔ بمشکل ملکی ضروریات کے مطابق گندم کی پیداوار پوری ہونے لگی تھی لیکن رجیم چینج والے آئے تو گندم کے ساتھ وہ کیا کہ اُس کی پروڈکشن ملکی ضروریات کے مطابق خطرے میں پڑنے کا ڈر ہے۔ جو ملک اپنے آپ کو زرعی ملک کہتا ہے باعثِ شرم ہے کہ دالیں امپورٹ کرتا ہے اور کوکنگ آئل کیلئے پام آئل بھی باہر سے منگواتا ہے۔ جو اس ملک کی تقدیر کے ساتھ کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں انہیں کیسے سمجھ آئے کہ کمپیوٹر اور جہاز تو پتا نہیں ہم سے کب بنیں گے‘ کچھ زراعت پر ہی توجہ دے دیں تاکہ کھانے پینے کی چیزوں میں تو ہم خودکفیل ہوں۔ لیکن عجیب ماجرا ہے افغان بارڈر کے بند ہونے سے پہلے پیاز اور ٹماٹر بھی وہاں سے آ رہا تھا۔ قرض میں ملک ڈوبا ہوا ہے‘ قرضوں کی ادائیگی دفاعی بجٹ سے تجاوز کر رہی ہے۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ہو نہیں رہی اور سیکورٹی کی یہ صورتحال ہمارے دونوں مغربی صوبوں میں ایسی رہے جیسی ہے تو کون کمبخت یہاں پیسہ لگائے گا۔ پاکستانی جو باہر سے پیسہ بھیجتے ہیں اُسی سے ملک چل رہا ہے‘ نہیں تو ملک چلانے کیلئے اب بیرونی قرضے بھی ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
بہرحال ان سب عوامل کو ایک طرف رکھ کر جو فوری ردِعمل کی صورتحال بنی ہوئی ہے وہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں ہے۔ ایرانی قیادت اشتعال اور بڑھکوں کی زبان استعمال نہیں کر رہی۔ اُن کی طرف سے ایک بھی غیر محتاط بیان نہیں آیا۔ وزیرخارجہ خاص طور پر جو بات کرتے ہیں نہایت ہی نپی تلی ہوتی ہے۔ لیکن جو رسوائی اور بے عزتی امریکہ ایران پر لادنا چاہتا ہے اُس سے ایرانی قیادت انکار کر رہی ہے۔ ایران کا مؤقف بہت واضح ہے کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر رہے‘ یورینیم کی افزودگی کی شرح پر بات کر سکتے ہیں‘ لیکن افزدوگی کے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ایران کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی بہت حد تک امریکی صہیونی لابی کے زیر اثر ہے۔ ایسے تجزیہ کاروں کی کمی نہیں جو کہتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو امریکی فارن پالیسی برائے ایران چلا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی کوئی عقل کی بات کرنے سے قاصر ہو گئے ہیں۔ اُن کی بنیادی لائن یہ ہے کہ ایران یورینیم افزدوگی کے حق سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے۔ یعنی زیرو افزودگی۔ اور صرف یہاں تک نہیں بلکہ بھاری بھرکم امریکی آوازیں کہہ رہی ہیں کہ ایران کا میزائل پروگرام بھی موجودہ مذاکرات کا حصہ بنے۔ یعنی ایران مکمل طور پر بے عزت ہونے کیلئے تیار ہو جائے۔
امریکہ کا مخمصہ یہ بنا ہوا ہے کہ ایران ایسا کرنے کیلئے ہرگز تیار نہیں۔ سٹیو وِٹکاف (Steve Witkof) مختلف مذاکرات میں صدر ٹرمپ کا خاص ایلچی ہے۔ فاکس نیوز کو اُس کا حالیہ انٹرویو تو اب ساری دنیا کے سامنے آ چکا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ صدر ٹرمپ پریشان ہیں لیکن متجسس ضرور ہیں کہ ایران کے قریب اتنا فوجی سازو سامان اکٹھا ہونے کے باوجود ایران سرنڈر کیوں نہیں کر رہا۔ یعنی یہ بات اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ اب دس پندرہ روز کا الٹی میٹم صدر ٹرمپ نے دے رکھا ہے اور یہ مدت پوری ہوتے اُن کی جھنجھلاہٹ انتہا کو پہنچی ہو گی۔ کیونکہ جو دو ایئر کرافٹ کیریئر وہاں کے پانیوں میں پہنچے ہوئے ہیں اُن میں اضافہ بھی ہو جائے ایران نے وہ نہیں کرنا جو امریکی خواہش ہے۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حملہ ضرور ہو گا؟ بہت سے امریکی کمنٹیٹر کہہ رہے ہیں کہ حملے کا فیصلہ ہو چکا ہے لیکن اس بابت کچھ حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ بہرحال اتنا ضرور ہے کہ ایران کی آج کی دفاعی صلاحیت وہ نہیں جو پچھلے سال جون میں تھی جب اسرائیلی حملے ایران پر ہوئے اور بی ٹو بمبار جہازوں سے امریکہ نے بھی اپنا تڑکا لگایا۔ اطلاعات یہ ہیں اور اس حوالے سے انٹرنیٹ پر بہت ہی اچھے اور معلومات افزا پوڈ کاسٹ موجود ہیں کہ چین کی مدد سے ایران کا طیارہ شکن اور میزائل شکن نظام بہت ہی بہتر اور مربوط ہو گیا ہے۔ جس قسم کا ایئر ڈیفنس نظام پاکستان کا تھا جب ہندوستان سے جھڑپ ہوئی اُس سے بھی زیادہ اونچے معیار کا نظام چینی مدد سے ایران نے حاصل کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ بارہ روزہ جنگ میں تمام تر اسرائیلی صلاحیت اور امریکی معاونت کے باوجود خاصی تعداد میں ایرانی میزائل اسرائیلی نشانوں پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ تب ایرانی صلاحیتیں وہ نہیں تھیں جو اطلاعات کے مطابق اب ہو چکی ہیں۔
بہرحال جیسا بھی ملٹری بیلنس ہے اسلامی ملکوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے چپ کا روزہ توڑیں اور ایران کی حمایت میں کھل کر آئیں۔ اتنی بھی مجبوری کیا؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved