مریم نواز صاحبہ کے جہاز خریدنے کے عمل کو جس طرح ان کی کارکردگی کے انعام کا اینگل دیا جارہا ہے وہ ان کیلئے زیادہ مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ کیا اچھی کارکردگی کا انعام ایک جہاز ہوتا ہے یا پھر آپ کی نظر اگلے الیکشن پر ہوتی ہے کہ جتنا اچھا پرفارم کریں گے اگلی ٹرم جیتنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے ایک دفعہ میں نے اپنے انگریزی اخبار میں خبر فائل کی تو اگلے دن اس کی وضاحت چھپ گئی۔ میرے ایڈیٹر نے کوئی بات کی تو میں نے لائٹ موڈ میں کہا کہ سر! سینکڑوں خبریں فائل اور بریک کی ہیں کبھی تعریف نہ سنی لیکن ایک وضاحت پر مجھ سے وضاحت مانگ لی گئی۔ انہوں نے سنجیدگی سے مجھے ایک بات کہی جو عمر بھر میرے کام آئی۔ کہنے لگے: آپ کی ہر روز خبر چھپ جاتی ہے‘ہر ماہ تنخواہ کا چیک مل جاتا ہے اور اخبار کی نوکری چل رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم آپ سے مطمئن اور خوش ہیں۔ آپ کو اچھی خبریں دینے کیلئے تنخواہ ملتی ہے نہ کہ غلط خبریں دینے کی لہٰذا اگر آپ اچھی اور درست خبریں فائل کرتے ہیں تو آپ کو اس کام کی تنخواہ ملتی ہے اور یہی آپ کا انعام ہے کہ آپ پروفیشنل انداز میں اپنا کام کریں۔ برے کام کی کون تنخواہ دیتا ہے؟
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ان پچیس برسوں میں مَیں نے پھر کبھی کسی اخبار یا ٹی وی چینل میں کسی مالک یا ایڈیٹر سے اپنی تعریف یا انعام کی توقع رکھی ہو۔ مجھے یہ بھی یاد نہیں پڑتا کہ کبھی کسی میڈیا ہاؤس کے مالک نے مجھے انعام دیا ہو۔ ان کی طرف سے یہی انعام تھا کہ ہر ماہ تنخواہ مل جاتی۔ یاد آیا کہ دو دفعہ ہمارے محترم مرحوم گروپ ایڈیٹر نذیر ناجی صاحب نے دنیا اخبار میں میرے سکوپ کی تعریف کے بدلے تین دفعہ کیش انعام کا اعلان کیا لیکن وہ آج تک نہ ملا اور نہ میں نے کبھی یاد دلایا کہ میں اسی میں خوش رہا کہ میرے گروپ ایڈیٹر کو میرے فائل کیے سکوپ؍ سکینڈلز اتنے پسند آئے کہ انہوں نے سفارش کی کہ رؤف کو کیش انعام دیا جائے۔ میرے نزدیک میرا کام ہی میرا انعام تھا کہ مجھے اس کی ہر ماہ تنخواہ ملتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ نے پنجاب میں اب تک اچھا کام کیا ہے تو اس کے انعام کا انتظار آپ کو کرنا چاہیے جب آپ اگلا الیکشن لڑنے کیلئے تین سال بعد میدان میں اتریں گے۔ اس وقت عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ آپ کو انعام دے کر الیکشن جتوانا ہے یا انہیں سزا دینی ہے تاکہ وہ الیکشن ہار جائیں۔ یہی سیاسی انعام اور سزائیں ہوتی ہیں۔
یہ نئی بات سنی ہے کہ وزیراعلیٰ نے اپنی کارکردگی سے خوش ہو کر خود کو گیارہ ارب کے جہاز کا تحفہ دے دیا ہے۔ اس میں شک نہیں مریم نواز موازنے کے طور پر بہتر پرفارم کررہی ہیں۔ اگرچہ بعض ایشوز پر انہیں تنقید کا بھی سامنا ہے جس میں سی سی ڈی اور کچھ فضول خرچیاں شامل ہیں لیکن جب انہوں نے چند غیرمقبول فیصلے لیے تو ناقدین تک نے ان کی تعریف کی۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب آپ نے خود کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے کہ آپ نے دو سال میں وہ کام کر دیے ہیں کہ آپ کے مخالفیں بھی داد دے رہے ہیں جیسے تجاوزات اور صفائی پراجیکٹس نے لوگوں کے دل پر اثر کیا۔ اچھے حکمران‘ ایک مرحلے پر جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے‘ اسے مضبوط کرتے ہیں۔ مخالفین ان کی تاک میں رہتے ہیں کہ کہیں کمزور یا لوز بال پھینکی جائے تو وہ اس کا فائدہ اٹھا کر اسے گراؤنڈ سے باہر پھینک دیں۔ یہی کام عمران خان نے بھی کیا تھا اور غیر ضروری کیا تھا جس کا نتیجہ وہ بھگت رہے ہیں۔ خان کو بھی ضرورت سے زیادہ اعتماد لے بیٹھا‘ جب انہوں نے بھی تحفے میں ملنے والی گھڑی بیچ دی۔ وہی خان جن کی ایک اپیل پر اربوں روپے اکٹھے ہو جاتے تھے‘ انہیں بھی کمزور لمحوں میں ایک گھڑی اپنے اوپر انسانوں کے اعتماد سے زیادہ مہنگی لگی اور وہ بھی بشریٰ صاحبہ کے ساتھ تحائف کے کھیل میں شریک ہو گئے اور جب پکڑے گئے تو جواب دیا کہ تحائف مجھے ملے‘ میری مرضی میں بیچوں یا رکھوں۔ یہ جواب کسی ملک کا سرونگ یا سابق وزیراعظم نہیں دے سکتا اور نہ دینا چاہیے اور نہ ہی کوئی مانے گا اور نہ ماننا چاہیے۔ آپ کسی بادشاہت کی گدی پر نہیں بیٹھے کہ بادشاہوں سے کوئی سوال جواب نہیں ہو سکتا۔ آپ ایک جمہوری انداز میں عوام سے کچھ وعدے اور ووٹ لے کر آئے ہیں اور آپ ان کو جواب دہ ہیں۔
اگر مجھے اپنی تعریف کرنے پر معاف کر دیں تو کہنے دیں کہ 2008-09ء میں سعودی عرب سے ملنے والی ایک گھڑی کا گفٹ کابینہ ڈویژن جا کر سیکرٹری کابینہ رؤف چودھری صاحب کو جمع کرا آیا تھا۔ چودھری صاحب آج بھی حیات ہیں ان سے پوچھا جا سکتا ہے۔ (کابینہ ڈویژن توشہ خانہ ویب سائٹ پر بھی موجود ہے) انہوں نے کہا تھا کہ گھڑی کی قیمت ایک لاکھ پچیس ہزار لگی ہے‘ آپ 16ہزار دے کر قانون کے تحت رکھ لیں۔ میں نے کہا: نہیں سر میں صحافی ہوں‘ میں اس قانون کے خلاف لکھتا آیا ہوں‘ جنرل مشرف‘ شوکت عزیز سمیت سب کے تحائف گھر لے جانے کے خلاف خبریں فائل کرتا رہا ہوں‘ مجھے یہ گھڑی خزانے میں جمع کرانی چاہیے جو میں دوسروں کو بھاشن دیتا آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: اس وفد میں تقریباً دو درجن صحافی تھے‘ سب لاکھوں کی سعودی گھڑیاں دس فیصد قیمت دے کر لے گئے‘ آپ بھی قانون کے تحت رکھ سکتے ہیں۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور گھڑی جمع کرا کے رسید لے لی۔ مجھے احساس تھا کہ آپ نے اگر صحافی بن کر ہر ایک پر تبرا پڑھنا ہے تو پھر آپ ان تحائف سے دور رہیں۔ عوام کو کبھی پتا چلے گا تو انہیں نہ لگے کہ جو بھاشن دوسروں کو دیتے رہے اپنی باری سوا لاکھ کی گھڑی پر گھٹنے ٹیک دیے۔ اپنے قارئین کا اعتماد اہم تھا گھڑی نہیں۔ یہی اعتراض میرا عمران خان پر رہا کہ لاکھوں لوگوں کا اعتماد اہم تھا یا ایک گھڑی؟ یہی سوال مریم نواز سے بھی پوچھنا چاہیے کہ بے شک دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوں لیکن عوام کو نہ لگے کہ ان کی وزیراعلیٰ نے گیارہ ارب کا جہاز لے لیا۔ یہ سب بات اعتماد کی ہے جو کسی صحافی یا سیاستدان کیلئے اہم ہوتا ہے۔ خان تو خود گیلانی صاحب والے ترکش لیڈی کے ہار کی کہانیاں مزے لے لے کر وزیراعظم بننے تک جلسے جلوسوں اور ٹی وی شوز میں سناتے تھے تو اپنی باری ایک گھڑی کی مار نکلے۔ میں نے برسوں کی رپورٹنگ کے تجربے سے سیکھا ہے کہ میں کسی کے بارے دس ارب کی خبر دوں عام لوگ اس خبر پر پہلے تو یقین نہیں کریں گے چاہے آپ پورے ثبوتوں سمیت خبر دیں لیکن اگر آپ کی کسی چھوٹی موٹی چوری کے بارے خبر دیں تو وہ سب زیادہ ہٹ ہو گی۔ لوگوں کو ان بڑے لوگوں سے چھوٹی حرکتوں کی توقع نہیں ہوتی کیونکہ چھوٹی موٹی وارداتیں وہ سب کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا جب کوئی بڑا لیڈر یا وزیراعظم ان جیسی چھوٹی موٹی واردات کرتے پکڑا جاتا ہے تو انہیں لگتا ہے یار یہ تو اپنی طرح ہی نکلا‘ ہم خواہ مخواہ اسے بہت بڑا بندہ سمجھ کر اس کی عزت کرتے رہے۔ لہٰذا وہ اس خبر کو چسکے لے لے کر سنتے سناتے اور پھیلاتے ہیں۔
عمران خان کی گھڑی بھی ان وارداتوں میں سے ایک تھی۔ ہر ایک کو لگا یار ہم بھی شاید یہی کرتے کہ گھڑی بیچ کر چند لاکھ کما لیتے لیکن انہیں زرداری صاحب کی دبئی سے ڈیوٹی فری منگوائی گئی گاڑیاں جو اُن کے بقول تحفہ ملا تھا‘ اس طرح سکینڈل محسوس نہیں ہوتا لیکن یوسف رضا گیلانی کا ترکش ہار آج تک نہیں بھولے۔ اس طرح خان کی گھڑی نہیں بھولی تو مریم نواز کا جہاز بھی نہیں بھولے گا۔ سیاستدان اور سکینڈلز کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن سمجھدار سیاستدان اپنے مخالفوں کا کام اتنا آسان نہیں کرتے جیسے عمران خان نے کیا تھا یا اب مریم نواز نے کیا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved