تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     25-02-2026

الہ آباد کی تلوار جو شاعر نے اپنے گلے پر پھیر لی

10 اکتوبر 1931ء کو برطانوی ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے یونائیٹڈ پرووینس (یو پی، اب مدھیا پردیش) کے سب سے بڑے شہر الہ آباد میں پیدا ہونے والے ایک بچے کا نام مصطفی حسنین رکھا گیا۔ والدین کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے تھا۔ بچے نے ابتدائی تعلیم الہ آباد کے تعلیمی اداروں میں حاصل کی۔ ماڈرن ہائی سکول سے 1940ء میں میٹرک اور کرسچن کالج سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ دورانِ تعلیم شعر وسخن کے ساگر میں پائوں ڈبونے کا موقع ملا۔ کالج کی ادبی تنظیم (انجمن اُردو) کے سیکرٹری رہے جس سے شعری صلاحیتوں کو جلا ملی۔ کالج کے زمانے میں ان کے دوستوں میں ناول نگار ابن صفی نمایاں تھے‘ جو ان دنوں طغرل فرغام جیسے قلمی نام سے لکھا کرتے تھے۔ مصطفی حسنین‘ جو بعد میں مصطفی زیدی کے نام سے اردو ادب کے افق پر چمکے‘ اس پورے عرصہ میں تیغ الہ آبادی کے نام سے مشقِ سخن کرتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر میں تحریکِ آزادی اپنے عروج پر تھی۔ سیاستدان‘ سیاسی کارکن‘ دانشور‘ ادیب‘ شاعر اور عوام اپنے اپنے انداز میں اس تحریک کو مضبوط سے مضبوط تر کر رہے تھے۔ برصغیر میں جوش ملیح آبادی کے قومی جذبے کی شدت سے پُر نظمیں حریت پسندوں کے دلوں میں آزادی کی خواہش کی آگ لگانے اور ان کو فرنگیوں سے ٹکرانے پر اُکسا رہی تھیں۔ بہت سے نوجوان شاعروں کی طرح مصطفی زیدی نہ اقبال سے متاثر تھے اور نہ ابھرتی ہوئی ترقی پسند تحریک سے بلکہ وہ متاثر تھے کھوکھلے اور سطحی نعرے بلند کرنے والے جوش ملیح آبادی سے۔
1950ء میں مصطفی نے الہ آباد یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں کے ساتھ بی اے کا امتحان پاس کیا‘ جس نے ان کی خداداد ذہانت اور دلجمعی سے نصابی کتابیں پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ثابت کر دیا اور یہی خوبی آگے چل کر اُن کے بہت کام آئی۔ اسی سال وہ نقلِ وطن کر کے ملتان چلے آئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اسلامیہ کالج کراچی اور پشاور یونیورسٹی میں انگریزی پڑھائی۔ ان دو سالوں میں مقابلے کے امتحان (CSS) کی تیاری کیلئے انہیں کافی وقت مل گیا۔ 1954ء میں سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد اُنہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ بھیجا گیا۔ وطن واپسی کے بعد انہیں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز کیا گیا۔ 1959ء میں وہ مری میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ تھے (مقامی انتظامیہ کی سب سے بڑے افسر) اور مضمون نگار محکمہ دیہی ترقی کا سب سے نچلا افسر (برائے تعلقات عامہ) تھا۔ سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی مجھے اکثر ان سے ملنے کا موقع فراہم کرتی۔ میرے ساتھ وہ بڑی شائستگی‘ نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔ ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ان کے ساتھ شامیں گزارنے کا موقع اُن دنوں ملا جب یونیورسٹی میں میرا دوست اور روم میٹ جاوید قیوم اپنے والدین کے ساتھ مری میں دو ماہ ان کا مہمان بنا۔ ایک دن بے تکلفی کا ماحول تھا تو میں نے مصطفی صاحب سے پوچھا کہ آپ برطانیہ پڑھنے گئے تو کون سی ڈگری حاصل کی؟ وہ زور سے ہنسے اور کہا کہ مجھے وہاں میری رفیقہ حیات (جرمن نژاد Vera) مل گئی‘ اس سے بڑی اور اچھی ڈگری اور کیا ہو سکتی تھی؟ دوسری مزیدار بات جو انہوں نے بتائی (اور کئی بار بتائی) وہ یہ کہ جب پنڈت نہرو صدر ایوب سے ملنے مری آئے تو شام کو وہ دونوں سیر کرنے نکلے۔ میں ان کے ساتھ تھا۔ صدر ایوب اور پنڈت نہرو ایک پہاڑی پگڈنڈی پر چل رہے تھے‘اور میں ان کے پیچھے چل رہا تھا۔ پنڈت نہرو‘ جو کتابیں پڑھنے کے بہت شوقین تھے اور اس حوالے سے بات کرنا چاہتے تھے میرے سے باتیں کرنے لگے۔ واپسی اس طرح ہوئی کہ پنڈت نہرو اور میں اکٹھے چل رہے تھے (اور کتابوں پر گفتگو کر رہے تھے) اور صدر ایوب خاموشی سے ہمارے پیچھے آ رہے تھے۔
1959ء کے بعد میری مصطفی زیدی سے کوئی ملاقات نہ ہوئی۔ وہ ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر بنائے گئے تو وہاں میرے دوستوں نے ان سے متعلق اچھی رپورٹیں دیں۔ وہ عوام دوست تھے۔ نہ بددماغ اور نہ افسرانہ ٹھاٹ باٹ کے دلدادہ مگر چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ اُردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک (مجید امجد) کو کئی بار سائیکل چلا کر ضلع کے سب سے بڑے افسر کے گھر جانا پڑتا۔ مصطفی زیدی بطور افسر نہ زیادہ اچھے تھے اور نہ زیادہ برے۔ نہ حد درجہ ایمان دار اور نہ پرلے درجے کے بے ایمان۔ ہمیں آج تک نہیں بتایا گیا کہ یحییٰ خان کے دورِ (آمریت) میں سرکاری افسروں کو کس تفتیشی کمیٹی کی سفارش پر کون سے الزامات ثابت ہو جانے کے بعد برطرف کیا گیا تھا۔ مصطفی زیدی پر بھی یہی تلوار چلائی گئی۔ اس سے پہلے یہ (بظاہر) غیر قانونی قدم ایوب خان کے آمرانہ دور میں بھی اٹھایا جا چکا تھا۔
انگریزوں نے اپنے نو آبادیاتی راج کو دو صدیوں تک کامیابی سے چلانے کے لیے اپنی سول سروس کو فولادی ڈھانچے کا نام دیا تھا‘ ہم نے حصولِ آزادی کے بعد اسے تارِ عنکبوت بنا دیا۔ سول سروس کے نظامِ کار کو بہتر بنانے اور عوام کو رعایا سمجھنے والے افسروں کو عوام دوستوں میں تبدیل کرنے کا عمل تو ہمارے بس میں نہ تھا مگر اسے تباہ و برباد کرنے کی جس صلاحیت کا ہم نے ایوب اور یحییٰ ادوار میں مظاہرہ کیا‘ اس کی وجہ سے سول سروس مملکت کا ٹھوس اور پائیدار ستون بننے کے بجائے سیاستدانوں کے پسندیدہ اور غیر پسندیدہ دھڑوں میں بٹ کر رہ گئی۔
مصطفی زیدی کی بدقسمتی کہ جنرل یحییٰ خان کی نادر شاہی تلوار جن 303 اعلیٰ افسروں (نجانے ان میں کتنے بے گناہ تھے) پر چلی‘ ان میں وہ بھی شامل تھے۔ عین اس وقت جب وہ اپنی ملازمت کا نصف دور ختم کر چکے تھے اور مزید بلندیوں کی طرف پرواز کے لیے پر تول رہے تھے‘ انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ انہوں نے مے نوشی میں راہِ فرار اور خود فراموشی کا خطرناک راستہ چنا‘ جس کے ایک سال کے اندر ہی مہلک نتائج نکلے۔ 12 اکتوبر 1970ء کو وہ کراچی میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔ یہ سطور لکھتے وقت 55 برس گزر گئے اور ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ وہ قتل کیے گئے یا انہوں نے خودکشی کی۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
ان کا یہ شعر ان کی اپنی موت کی داستان بیان کرتا ہے۔ معمہ یہ تھا کہ گھر میں ان کے ساتھ والے کمرہ میں ایک خاتون بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی۔ یہ خاتون ان کی کئی غزلوں اور نظموں کا موضوع تھی۔ یقین جانیے ایک زمانہ میں نہ صرف ہمارے اخباروں کے صفحات اس خاتون کے تذکرے اور تعارف سے بھرے ہوتے تھے بلکہ اس کی تصاویر بھی خوب نمایاں کر کے شائع کی جاتی تھیں۔
مصطفی زیدی پر اشرف قدسی نے ایک پوری کتاب لکھی۔ 1947ء سے 1971ء کے دوران ان کی شاعری کے سات مجموعے شائع ہوئے مگر مضمون نگار کو اُن کے لکھے گئے ہزاروں اشعار میں سے صرف یہ شعر ہی یاد ہے:
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
پاکستان کے غیر منصفانہ نظام نے مصطفی زیدی کے ساتھ زیادتی کی اور مصطفی زیدی نے اپنی بیوی اور دومعصوم بچوں کے ساتھ۔ دونوں کے جرائم سنگین ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved