تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     26-02-2026

اِچی کاوا کا بوزنہ

بندر کے ایک بچے کی وڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بندر کے اس بچے کی بے بسی اور معصومیت نے پوری دنیا کو رُلا کر رکھ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وائرل ہونے والے بندر کے اس بچے کا نام پنچ (Punch) ہے۔ پنچ گزشتہ سال جولائی میں جاپان کے شہر اِچی کاوا (Ichikawa) کے چڑیا گھر میں پیدا ہوا تھا لیکن پیدائش کے کچھ ہی دنوں بعد اس کی ماں نے اسے اپنانے سے انکار کر دیا‘ یعنی تنہا چھوڑ دیا تھا۔ ابتدائی کچھ مہینوں میں پنچ نے چڑیا گھر کے اس انکلوژر میں موجود دوسرے بندروں سے دوستی کرنے کی کوشش کی لیکن اسے اپنی اس کوشش میں کامیابی نہ ملی۔ اس ناکامی پر بندر کا یہ بچہ نفسیاتی عوارض کا شکار ہونے لگا اور چڑچڑا ہو گیا۔ کچھ دن سوچ بچار کے بعد چڑیا گھر کی انتظامیہ نے ماں کی ممتا سے محروم بندر کے اس بچے کے اکیلے پن کو دور کرنے کیلئے بندر کی شکل والا ایک کھلونا (Orangutan) دیا جسے اس بچے نے اپنا لیا اور اب وہ ہر وقت اسے اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کھیلتا ہے اور اسی کے پہلو میں سوتا ہے۔ وائرل ہونے والی ایک وڈیو تو ایسی ہے جس میں بندر کا بچہ کھلونے میں اپنی ماں کی آغوش تلاش کر رہا ہے۔ ماں کی محبت سے محروم جانور کا یہ بچہ اب دنیا بھر سے محبت سمیٹ رہا ہے۔
بندر کا یہ بچہ یقینا محبت اور ہمدردی کا حق دار ہے۔ ماں کی ممتا سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ ماں کی محبت سے بڑا سایہ اور سائبان اور کوئی نہیں۔ ماں مہر و محبت‘ ایثار و مروت‘ صبر و رضا اور خلوص و وفا کا ایک ایسا پیکر ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ یہ ایسا سدا بہار شجرِ سایہ دار ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ ماں تہذیب و شائستگی کا خوبصورت ترین گہوارہ اور کائنات کا سب سے پُرخلوص رشتہ ہے۔ ماں کو یہ محبت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ودیعت کی گئی ہے۔ یہ محبت محض انسانوں کو ہی تحویل نہیں کی گئی۔ وہ کسی پرندے کی ماں ہو یا درندے کی‘ کسی چوپائے کی ماں ہو یا کسی کیڑے مکوڑے کی‘ بے لوث محبت‘ ہمدردی اور ایثار کا سمندر ہر جگہ ٹھاٹھیں مارتا نظر آتا ہے۔ جانوروں میں تو ماؤں کو بچوں کی خاطر اپنی جانیں قربان کرتے بھی کئی وڈیوز میں دیکھا ہے۔ کون ہے جو پرندوں میں ماؤں کو یہ سکھاتا ہے کہ بارش سے بچوں کو بچانے کے لیے ان پہ سایہ کرنا ہے اور خود بارش میں بھیگ کر ان کو بچانا ہے۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ پنچ کی ماں نے اسے پیدا کر کے چھوڑ کیوں دیا۔ کاش کوئی اس کا بھی تجزیہ کرتا۔ اگر پنچ کی ماں زندہ ہے تو کیا وہ اپنے بچے کی یہ حالت دیکھتی نہ ہو گی؟
ماں خلوص و مہر کا پیکر‘ محبت کا ضمیر
ماں خدا کا رحم‘ وہ دنیا میں جنت کی سفیر
ماں سر تا پا محبت‘ ماں سر تا پا کرم
ماں وہ جس کے دم سے قائم وفاؤں کا بھرم
ماں نشانِ منزلِ آدم‘ تقدس کا پیام
ماں کے قدموں میں ہے جنت‘ ماں کے قدموں کو سلام
بندر کے ایک بچے کی حالت دیکھ کر لوگوں کے دل پسیج رہے ہیں۔ پسیجنے بھی چاہئیں کہ نرم دلی اور انسانیت کا یہی تقاضا ہے لیکن دل موم ہونے کا یہ عمل محض بندر کے ایک بچے کی حالت زار تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ یونیسیف کے 2021ء تک کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 17کروڑ کے قریب بچے یتیم ہیں جبکہ روزانہ 10 ہزار سے زائد بچوں سے ان کے والدین کا سایہ چھن جاتا ہے۔ اس طرح آج فروری 2026ء میں یتیم بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو چکی ہو گی۔ یہ وہ بچے ہیں جن کے اعداد و شمار اکٹھے کر لیے گئے‘ ورنہ حقیقت میں تو دنیا بھر میں یتیم بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یتیم بچوں کی اکثریت غریب افریقی اور ایشیائی ممالک میں ہے۔
دنیا بھر میں کئی عوامل بچوں کی یتیمی کا باعث بن رہے ہیں۔ علاقائی اور عالمی جنگیں‘ خانہ جنگیاں‘ سیاسی عدم استحکام‘ غربت‘ بے روزگاری‘ مہنگائی‘ بد امنی‘ قدرتی آفات‘ ہجرت اور متوازن خوراک تک عدم رسائی ایسے عوامل ہیں جو بچوں کے سروں پر سے سایہ اٹھانے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ عوامل جہاں ممالک‘ اقوام‘ معاشروں‘ تہذیبوں اور خاندانوں اور افراد کے لیے تباہی کا پیغام لاتے ہیں‘ وہیں معصوم بچوں کی زندگیاں بھی آزمائش بنا دیتے ہیں۔ اندازہ غزہ کی جنگ سے لگایا جا سکتا ہے جہاں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 71ہزار 400سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں‘ جن میں اکتوبر میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی جاری اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے 480 سے زائد افراد بھی شامل ہیں۔ طبی جریدے The Lancet Global Health میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی فوجی حملے کے پہلے 15ماہ کے دوران 75ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے تھے جو اس وقت پٹی کے محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے اعلان کردہ 49ہزار کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ نومبر 2024ء میں سامنے آنے والی ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق اس وقت تک یعنی جنگ شروع ہونے کے تیرہ ماہ بعد تک 17ہزار 400فلسطینی بچے اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے تھے جبکہ ہزاروں ملبے تلے دبے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دو سال پانچ ماہ کی اس جنگ میں اب تک کتنے بچے شہید ہو چکے ہوں گے اور کتنے یتیم۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں اوسطاً ہر 30منٹ بعد ایک بچہ شہید ہوا اور اقوام متحدہ نے غزہ کو ہزاروں بچوں کا قبرستان بھی قرار دیا۔ غزہ وزارتِ صحت کا ہی کہنا ہے کہ ہزاروں افراد اب بھی غزہ کے تباہ شدہ علاقوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ اس جنگ نے 40ہزار بچوں کو والدین (ایک یا دونوں) کے سائے سے محروم کر دیا ہے جو انسانی تاریخ کا یتیموں کے حوالے سے بد ترین کرائسز ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ جانوروں سے پیار نہیں کرنا چاہیے یا ان کے دکھ درد کا درمان نہیں بننا چاہیے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں جانوروں کے ساتھ تو ہمدردیاں جتائی جاتی ہیں لیکن انسان‘ جو اشرف المخلوقات ہے‘ بے وقعت ہو کر رہ گیا ہے۔ دنیا بھر میں انسانیت پہلے سسک رہی تھی اب مر رہی ہے‘ اور اس کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ شکار بچے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ غزہ کے ہزاروں یتیم اور جزوی یا مکمل اپاہج ہو جانے والے اور جنگ کی تباہ کاریوں کا براہِ راست مشاہدہ کرنے والے بچوں‘ جو پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈِس آرڈر (PTSD) کا شکار ہیں‘ کی بحالی کا تو کوئی انتظام نہیں کیا گیا لیکن جاپان کے ایک چڑیا گھر کے بوزنے نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ اِچی کاوا چڑیا گھر کے اس بندر بچے کو ایک فیملی نے اڈاپٹ کر لیا ہے‘ اچھی بات ہے لیکن دنیا کو تھوڑی توجہ غزہ کے یتیموں پر بھی مرکوز کرنی چاہیے‘ جو انسان ہیں‘ جو اشرف المخلوقات ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved