تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     26-02-2026

طیارہ خریداری ، تصویر کا دوسرا رُخ

ڈاکٹر محمد یونس 16 فروری کو بنگلہ دیش کے نگران مشیر اعلیٰ کی حیثیت سے مستعفی ہو گئے اور 17فروری کو بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم طارق رحمن نے حلف اٹھا لیا۔ محض 18مہینوں میں ڈاکٹر محمد یونس نے بنگلہ دیش کے قومی خزانے میں تقریباً ساڑھے نو ارب ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔ جب ڈاکٹر محمد یونس نے اگست 2025ء میں مسندِ اقتدار سنبھالی تو زرِمبادلہ کے ذخائر 20 ارب 39 کروڑ ڈالر تھے لیکن جب انہوں نے اقتدار منتخب حکومت کے سپرد کیا تو یہ ذخائر 29 ارب 85کروڑ ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ اس کے برعکس پاکستان کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے دور میں گندم سکینڈل کے باعث ملکی معیشت کو تقریباً 20 ارب روپے کا نقصان پہنچا تھا اور معیشت مجموعی طور پر ہچکولے کھاتی رہی۔
ہمارے حکمرانوں کو اپنی مراعات اور آسائشوں میں اضافے ہی سے فرصت نہیں ہے۔ حکومت پنجاب نے چند روز قبل مبینہ طور پر 11 ارب روپے کا ایک نیا طیارہ خریدا ہے۔ جب عوام کی طرف سے اس اقدام پر شدید ردِ عمل آیا تو وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری صاحبہ نے وضاحت دی کہ یہ جہاز وزیراعلیٰ کے لیے نہیں بلکہ ایئر پنجاب کے لیے خریدا گیا ہے۔ حالانکہ ایئر پنجاب کے نام سے کوئی باقاعدہ ایئر لائن ابھی تک رجسٹرڈ نہیں کرائی گئی‘ سول ایوی ایشن سے ایسی کسی ایئر لائن کو کوئی لائسنس جاری نہیں ہوا‘ نہ ایئر لائن کا کوئی سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی چیئرمین تعینات ہوا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی 44فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے‘ یعنی 11 کروڑ سے زائد افراد کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا اگلا کھانا کہاں سے آئے گا۔ ملک میں دو کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی میں روز افزوں اضافہ جاری ہے‘ نوکریوں اور بہتر مستقبل کی تلاش میں ہر سال لاکھوں پاکستانی ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں مگر حکومتِ پنجاب نے 11 ارب روپے کا لگژری جہاز خرید لیا ہے۔ یہ گلف سٹریم G500 سیریز کا طیارہ ہے جو دنیا کے مہنگے ترین ایگزیکٹو طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔
حکومتی فیصلوں کے اثرات صرف حکومت تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ عوام کیلئے واضح پیغام ہوتے ہیں کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔ جب ریاست کا حکمران طبقہ عوام کے مسائل نظر انداز کرکے اپنے لیے کسی مہنگی سہولتوں بلکہ آسائشوں کو ترجیح دینے لگتا ہے تو وہ دراصل اپنی ترجیحات کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے طیارہ خریدنے کی خبر نے یہی سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا ایسے صوبے میں‘ جہاں عوام مہنگائی‘ بیروزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے نبرد آزما ہوں‘ ایک لگژری جہاز واقعی ایک ضرورت تھا یا یہ محض حکومتی اشرافیہ کی آسائش کیلئے خریدا گیا ہے۔ میڈیا کو بتایا گیا کہ ویسے تو یہ جہاز ایئر پنجاب کیلئے خریدا گیا ہے مگر کبھی کبھار وزیراعلیٰ پنجاب بھی اسے استعمال کر لیں گی۔ حکومت کے چند خود ساختہ ترجمان اسے ایئر ایمبولینس قرار دے رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے طیارے ایئر ایمبولینس کیلئے نہیں ہوتے بلکہ دنیا کے امیر ترین افراد یا اعلیٰ حکومتی شخصیات کیلئے خریدے جاتے ہیں۔ یہ طیارہ بزنس جیٹس میں شمار ہوتا ہے‘ یہ عام مسافر بردار طیارہ نہیں بلکہ اعلیٰ حکومتی شخصیات‘ کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور وی وی آئی پیز کے لیے مخصوص طیارہ ہے۔ اس کی تیز رفتار‘ آرام دہ کیبن‘ جدید نیوی گیشن سسٹم اور بین الاقوامی رینج اسے ایک فلائنگ آفس بنا دیتی ہے۔ مگر یہاں سوال ٹیکنالوجی یا معیار کا نہیں‘ ترجیحات کا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت ہو‘ سرکاری سکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہوں اور کسان مہنگے زرعی مداخل کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوں‘ وہاں اربوں روپے کے جہاز کی خریداری کو عوامی احساسات سے ہم آہنگ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ حکومتیں بعض اوقات سکیورٹی‘ ہنگامی دوروں اور سفارتی روابط کیلئے خصوصی طیارے استعمال کرتی ہیں۔ اکثر دلیل دی جاتی ہے کہ وقت کی بچت حکمرانوں کی کارکردگی بڑھاتی ہے‘ لیکن پاکستان جیسے ملکوں میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وقت کی بچت عوامی وسائل کے اس قدر بڑے خرچ کو جائز بنا دیتی ہے؟ جب ایک گھنٹے کی آپریٹنگ لاگت تقریباً اٹھارہ سے انیس لاکھ روپے ہو اور سالانہ دیکھ بھال پر بھی لاکھوں ڈالر خرچ ہوں تو یہ صرف سفر نہیں بلکہ مستقل مالی بوجھ بن جاتا ہے‘ جو بالآخر ٹیکس دینے والے عوام ہی برداشت کرتے ہیں۔ یہاں اصل مسئلہ صرف ایک جہاز کا نہیں بلکہ حکمرانی کے رویے کا ہے۔ عوام مہنگی بجلی‘ نیٹ بلنگ‘ اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور محدود آمدنی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ایسے حالات میں حکمرانوں کی سادگی عوام کیلئے نفسیاتی سہارا بنتی ہے جبکہ حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات ان کے احساسِ محرومی کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں محض اصلاحات سے معاشی بحرانوں کا سامنا نہیں کر سکتیں اس کے لیے اخلاقی قیادت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جب حکمران خودکفایت شعاری اختیار کرتے ہیں تو عوام بھی قربانی دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی دلیل دی جا سکتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے پاس سرکاری طیارے موجود ہوتے ہیں مگر وہاں بنیادی فرق احتساب‘ شفافیت اور ترجیحات کا ہے۔ پہلے عوام کی صحت‘ تعلیم اور روزگار کو یقینی بنایا جاتا ہے‘ بعد میں حکومتی سہولتیں بڑھائی جاتی ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ حکومتِ پنجاب یہ جہاز خرید سکتی تھی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا اسے خریدنا چاہیے تھا؟ قانون اس اقدام کی اجازت دے سکتا ہے مگر اخلاقی جواز عوامی حالات سے پیدا ہوتا ہے۔ جب ریاست کا عام شہری مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو تو حکمران کی سادگی سیاسی حکمت بھی ہوتی ہے اور اخلاقی ذمہ داری بھی۔ اگر حکومت اس فیصلے کو درست سمجھتی ہے تو اسے عوام کو مکمل شفافیت کے ساتھ بتانا ہو گا کہ اس جہاز سے صوبے کو کیا معاشی یا انتظامی فائدہ ملے گا۔ ریاستیں طاقت سے نہیں‘ اعتماد سے چلتی ہیں۔ اعتماد تب بنتا ہے جب حکمران عوام جیسی زندگی گزارنے کی کوشش کریں‘ نہ کہ باہمی خلیج کو مزید وسیع کریں۔ حکومت پنجاب کی جانب سے جہاز خریدنے کے اثرات آئندہ انتخابات پر بھی پڑتے نظر آ رہے ہیں۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے بھارتی وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی کابینہ کے اجلاس میں دور رس احکامات جاری کیے تھے۔ جواہر لال نہرو نے کابینہ کے اراکین کو سادگی کی تلقین کرتے ہوئے نمود و نمائش کی حوصلہ شکنی کی اور کہا کہ عام لباس استعمال کریں جو غریب عوام کا لباس ہے۔ سادہ خوراک اور سادہ رہن سہن اختیار کریں‘ ڈرائنگ روم میں صوفوں کے بجائے کرسیوں کو ترجیح دیں‘ چھوٹی گاڑی استعمال کریں۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی یہ پالیسی 1975ء تک جاری رہی۔ اس کے بعد جب حالات تبدیل ہوئے تو بھارتی عوام خودکفالت کی طرف بڑھ چکے تھے۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد آٹھ نشستوں کا جہاز خریدا ۔ بھٹو کے اس اقدام کا عوام پر گہرا اثر ہوا۔ جب ان کا اقتدار ختم ہوا تو ان کا خریدا گیا فیلکن جہاز پی آئی اے کے فلیٹ میں شامل کر دیا گیا ۔
اگر حکومتِ پنجاب کو ایئرلائن چلانے کا اتنا ہی شوق ہے تو پی آئی اے کو خرید لیتی۔ بہت آسانی سے پی آئی اے 'پاکستان‘ کے بجائے 'پنجاب انٹرنیشنل ایئر لائن‘ بن سکتی تھی۔ پنجاب کی حکمران اشرافیہ کی غلط حکمت عملی سے ملک کے موجودہ نظام پر سے عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ اب عوام حکمرانوں کی عیاشیوں پر چپ نہیں بیٹھتے بلکہ وہ قومی خزانے کی لوٹ مار پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اگر ہمارے حکمرانوں کا یہی وتیرہ رہا تو یہاں بھی کسی عوامی تحریک کے اٹھنے کا امکان خارج از امکان نہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved