راوی بے شک چین لکھتا رہے مگر ہم سب گہرے اور تشویشناک خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ظلم کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے صاحبانِ اقتدار میں اس بارے میں کسی فکر کے آثار نظر نہیں آتے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج کے اس مشکل دور میں آپس کی سیاسی لڑائیاں‘ جو ایک طویل کشمکش کی صورت اختیار کر چکی ہیں‘ جاری نہ رہتیں۔ کوئی صلح صفائی‘ قومی ہم آہنگی اور اجتماعی طور پر غور و فکر ہوتا کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں ہم اندرونی اور بیرونی خطرات کا کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں جو امریکہ‘ بلکہ یوں سمجھیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دو تین دفعہ زبانی تھپکی دی گئی اس پر ہمارے کچھ دوست پھولے نہیں سما رہے۔ اسے ایک بڑی تزویراتی شراکت‘ کامیاب سفارتکاری اور ملک کی عالمی حیثیت اور اہمیت کو تسلیم کیے جانے کے مترادف خیال کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ ہر ملک کی کسی نہ کسی حوالے سے دنیا کے دیگر ممالک کیلئے اہمیت ہوتی ہے‘ مگر یہ ان کے مفاد کے لحاظ سے طے ہوتی ہے۔ اچھی سفارتکاری کا پیمانہ یہ ہے کہ ہم اپنے لیے کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ ماضی کے ادوار میں عالمی سیاست میں کئی ایسے موڑ آئے کہ ہماری اہمیت بڑھی اور تین مواقع پر ہم امریکہ اور اس کے حلیفوں کی صف میں سرد جنگ اور افغانستان کی جنگوں میں اگلے محاذوں پر رہے۔ یاد تو ہو گا کہ جب وہ سب کچھ اچانک چھوڑ چھاڑ کر واپس چلے گئے تو دو بڑی اور طویل جنگوں کا سارا ملبہ ہمارے اوپر آ گرا۔ ہمارا معاشرہ‘ ہماری قومی سلامتی اور ہمارے دو صوبوں کا امن و امان ابھی تک اس ملبے سے گرد آلود ہے۔ ذرا وسیع تر قومی اور بین الاقوامی تناظر میں کیے گئے ان چند فیصلوں کو دیکھیں تو آپ کو بعد کے زیادہ تر قومی المیوں کی داستانِ تحریر نظر آئے گی۔ قومی اہمیت کے فیصلے وقتی دباؤ اور سامنے نظر آتے مفادات کے پیشِ نظر نہیں بلکہ دور اندیشی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اس کیلئے پھردور اندیش قیادت‘ تاریخ اور وقت کی عالمی سیاست کا مطالعہ اور گہری سوچ بچار کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج دنیا اور ہم جس قسم کے حالات سے گزر رہے ہیں‘ ہمیں اگر قابلِ تقلید رہنما میسر نہیں تو کم از کم سب سر جوڑ کر تو بیٹھ سکتے ہیں۔ اعلیٰ قیادت کا معیار بھی یہی ہے کہ وہ مشکل حالات میں سیاسی قیادت‘ مختلف دھڑوں‘ جماعتوں اور عوام کو ریاست کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اگر کوئی یہ فرمائے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہے اور ہم جیسے لوگوں نے خدشات خواہ مخواہ کے پالے ہوئے ہیں تو میرے خیال میں یہ خوش خیالی یا پھر حالات سے فرار ہی ہو سکتا ہے۔ حالات ایسے بنتے جا رہے ہیں کہ اب یہ فرار بھی ممکن نہیں رہا۔ یہاں ان تلخ حالات کا سرسری جائزہ بھی لیں تو کئی صفحات درکار ہوں گے۔ ہمارے سلامتی کے اداروں‘ پولیس اور دیگر اہلکاروں پر ہر روز بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں کے حملوں کے خلاف پوری قوم کو اکٹھا کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ قوموں کو سیاسی رہنما ہی جوڑتے ہیں اور اس کی ابتدا اور انتہا سیاسی جماعتوں اور دیگر قیادتوں کے درمیان یکجہتی ہے۔ اگر وہ نہیں تو پھر قوم بھی تقسیم رہتی ہے۔ مسئلہ صرف دہشت گردی تک محدود نہیں‘ کرپشن ایک عرصے سے اور وہ بھی اعلیٰ مقام رکھنے والے لوگوں میں اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر چکی ہے۔ کوئی بھی دور ایسا نہیں گزرا کہ ہم کہہ سکیں کہ اس بارے میں کوئی بہتری سامنے آئی ہے۔ بدانتظامی کا ذکر شہروں‘ قصبوں سے لے کر گاؤں تک ہے‘ اور حکومتی اداروں کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کا کس کو معلوم نہیں۔ ہر نئی آنے والی حکومت کے ساتھ ہماری امیدیں ابھرتی ہیں اور کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرتا وہ دم توڑ دیتی ہیں۔ ہماری صنعتیں بند ہو رہی ہیں‘ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ناممکن ہے کہ جو نجی کمپنیوں کے ساتھ بجلی کی پیداوار کے معاہدے کیے گئے تھے ان کے نتیجے میں ہم دیگر ممالک کے صنعتکاروں کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ جنہوں نے وہ معاہدے کیے وہ آج بھی اقتدار میں ہیں اور لگ بھگ گزشتہ نصف صدی سے ہیں۔
قومی معیشت جو ایک زمانے میں قابلِ رشک تھی‘ اس کو ڈبونے میں سب نے حصہ ڈالا۔ خود کھرب پتی ہو گئے مگر وہ صنعتکار جنہوں نے ان صنعتوں کی بنیاد رکھی اور ملک کے سنہری دور میں حصہ ڈالا وہ کنگال ہو کر دوسری دنیا کو رخصت ہوئے‘ اور جو بچ گئے وہ کہیں اور سرمایہ کاری لے کر چلے گئے۔ آپ خود سوچیں کہ کتنی حکومتیں آئیں اور کتنی گئیں‘ اگرچہ وہ صرف دو گروہوں میں ہی بدلتی رہیں مگر ہماری اکلوتی سٹیل مل ایک سفید ہاتھی کی طرح کھڑی ہے‘ کوئی بھی حل ابھی تک نہیں نکال پائے۔ یہ مسئلہ ہو یا ہر سال ریاستی کمپنیوں کا کھربوں کا خسارہ‘ جس کا بوجھ ٹیکسوں اور قرضوں کی صورت ہمارے اوپر پڑتا ہے‘ ہمارے اہلِ اقتدار صرف منصوبے ہی بناتے رہتے ہیں عملی طور پر ابھی تک کچھ ہمارے سامنے نہیں آیا۔ یہ چند باتیں صرف اس لیے عرض کی ہیں کہ اگر معاشرے اور ریاست کا رشتہ کمزور ہو‘ حکمران طبقہ احتساب اور جوابدہی سے مستثنیٰ ہو تو ہر لحاظ سے سب کمزور ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اندرونی اور بیرونی دشمن فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے‘ جو ہم آج کل کے دور میں دہشت گردی کی صورت دیکھ رہے ہیں۔ جن کی قومی مفادات کو محفوظ کرنے کی ذمہ داری ہے‘ وہ اگر ان کو نقصان پہنچانے میں لگے رہیں یا جو ملوث ہیں اور ماضی میں رہے ہیں ان کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لے کر آئیں تو قوم اور ریاست کا زوال پذیر ہونا فطری سی بات ہے۔ ہم جو بھی نعرے لگاتے رہیں ‘ہماری جن سے معاشی‘ سیاسی اور تزویراتی مسابقت رہی ہے ہم ان سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ طاقت کی اصل بنیاد جدید معیشت‘ قومی ہم آہنگی اور ریاست اور معاشرے کا مضبوط تعلق ہے جس پر ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں اعتدال نہیں رہا۔ تین بڑی عالمی طاقتیں اپنی اپنی راہ پر ہیں اور سب سے بڑی نے تو اپنے دیرینہ اتحادیوں سے بھی راستے جدا کر لیے ہیں۔ روس نے یوکرین پر جنگ مسلط کر کے طاقت کے استعمال کی ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ اس کا نتیجہ جو بھی نکلے کمزور اور متوسط درجے کی ریاستوں کو اپنی سلامتی کی فکر کرنا ہوگی۔ ہمیں تاریخ‘ جغرافیہ اور ماضی کے تنازعات کو سامنے رکھ کر کچھ ایسے خطرات کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ نے ملکوں کی تباہی کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری رکھا ہوا ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی امریکی اشیرباد اور جنگی اسلحے کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ دو سال تک وہ دنیا جسے ہم اسلامی کہتے ہیں خاموش تماشائی بنی رہی۔ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔ کسی نے بڑا جلوس نکال کر دل خوش کیا تو کسی کے حکمران طبقے نے سخت بیانی کا سہارا ڈھونڈا۔ اس دوران لبنان‘ یمن اور شام پر حملے جاری رہے اور پورے خطے کی بساط امریکہ اور اسرائیل نے پلٹ کر رکھ دی۔ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو اس خطے کے کلیدی ممالک کے امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید مربوط اور مضبوط ہوئے۔ آگے کیا ہونے جا رہا ہے اس کے بارے میں سوچیں تو دنیا کے اپنے حصے کے ممالک کی قیادت پر افسوس‘ ترس اور زیادہ تر درد کی ٹیس اٹھتی ہے۔ ایران پر حملے کی پوری تیاری کی جا چکی ہے۔ ایران ایک عرصہ تک دنیا سے الگ تھلگ رہا ہے اور اس پر پابندی لگا کر اس کی معیشت کو اپاہج کر دیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ لڑنے مرنے پر تیار ہے یا پھر ایسا معاہدہ کرتا ہے جس پر امریکی زبردستی دستخط کرائیں گے۔ اگر ایران پر جنگ مسلط ہوتی ہے یا وہاں مزید حالات خراب کرنے کے بعد رجیم چینج کرنے کے اقدامات کیے جاتے ہیں تو معاملہ یہیں نہیں رکے گا۔ میرے خیال میں خطے کے دیگر ممالک کو اس کا کوئی ادراک نہیں۔ اسرائیل میں امریکی سفیر نے جو وسیع تر اسرائیل کے تاریخی حق کی بات کی ہے‘ اسے شوشہ نہ خیال کریں۔ مضبوط‘ مقتدر اور آزاد یران پورے خطے کیلئے ایک ڈھال ہو گا۔ خدانخواستہ وہ گر گیا تو پھر اپنی باریوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved