پاکستان نے گزشتہ ہفتے افغانستان کے صوبوں ننگر ہار‘ پکتیکا اور خوست میں کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے ٹھکانوں پر حملہ کر کے 100کے قریب دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے اڈوں کو تباہ کر دیا۔ پاکستان کی طرف سے یہ کارروائی باجوڑ اور اسلام آباد میں ایک مسجد میں خودکش حملوں کے جواب میں کی گئی کیونکہ ان دونوں حملوں میں ملوث عناصر کے تانے بانے افغانستان میں موجود ان دو دہشت گرد تنظیموں سے ملتے ہیں۔ پاکستان نے افغان طالبان کی عبوری انتظامیہ پر واضح کر رکھا ہے کہ افغانستان نے ان دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال سے نہ روکا تو پاکستان ان تنظیموں کے افغانستان میں موجود اڈوں کو خود تباہ کرے گا۔ گزشتہ ہفتے وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے افغان طالبان اور کابل انتظامیہ کو متنبہ کیا تھا کہ پاکستان اپنی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کے دفاع کیلئے سرحد پار افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے 22 فروری کو افغانستان میں دہشت گردوں کے ان ٹھکانوں پر حملہ‘ جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے استعمال ہو رہے تھے‘ پاکستان کا پہلا فضائی حملہ نہیں تھا۔ گزشتہ برس اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان جھڑپوں کے بعد سے اب تک دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ آئے روز سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور ان کے خلاف پاکستانی فورسز کی کارروائی کی خبریں بھی سننے کو ملتی ہیں۔ تاہم خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں ابھی کمی نہیں آئی بلکہ دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی طرف سے افغانستان میں کیے گئے حالیہ فضائی حملے اب تک کے تمام حملوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور تباہ کن تھے۔
اس بات سے قطع نظر کہ دہشت گردی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا اور پاکستانی عوام‘ حکومت اور مسلح افواج ملک کے دفاع اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کیلئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے‘ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے موجودہ حکمت عملی میں ضروری تبدیلی لازمی ہوتا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ طول پکڑتی جا رہی ہے‘ جسے دہشت گرد اور دیگر بیرونی عناصر تو جاری رکھنے کے متحمل ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے‘ مگر ریاستِ پاکستان‘ جس کیلئے یہ ایک بقا کی جنگ ہے‘ کو اپنے اطراف میں بھی نظر رکھنا پڑتی ہے۔ سب سے پہلے تو ہماری بین الاقوامی سرحدیں ہیں جن پر امن کا قیام ہی ریاستِ پاکستان کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
اس وقت ہماری چار بین الاقوامی سرحدوں میں سے دو یعنی بھارت کے ساتھ مشرقی اور افغانستان کے ساتھ مغربی سرحدوں پر حالات نارمل نہیں ہیں۔ ایران جس کے ساتھ پاکستان کی 900کلو میٹر سے زیادہ طویل سرحد ہے‘ پر امریکہ حملہ کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان اس ممکنہ جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ ان حالات میں اپنی ترجیحات کو درست انداز میں ترتیب دے کر زیادہ فوکس دہشت گردی کے جلد خاتمے پر ہونا چاہیے۔ اس کیلئے خود حکومتِ پاکستان کو پہل کرتے ہوئے افغانستان میں امن‘ مصالحت‘ استحکام اور ترقی کے حامی عناصر سے رابطہ پیدا کر کے ان کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے بلکہ حکومت کو اس سلسلے میں ایک اہم سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس بات سے سب واقف ہیں کہ ملک کے ہر حصے میں ایسے امن پسند عناصر موجود ہیں جو اس ضمن میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ تمام فریقین ان پر اعتماد کرنے کیلئے تیار ہیں۔ دوسرا‘ دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے ہمارے سامنے ایک علاقائی اپروچ اپنانے کے سوا اور کوئی چارہ کار بھی نہیں‘ کیونکہ پاکستان واحد ملک نہیں جس کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک مثلاً ایران‘ تاجکستان‘ ترکمانستان اور ازبکستان کو نہ صرف افغانستان میں دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کی موجودگی پر تشویش ہے بلکہ تاجکستان تو کچھ عرصہ قبل افغانستان سے دہشت گرد حملوں کا شکار بھی ہو چکا ہے۔ ان حملوں میں نہ صرف تاجک بارڈر گارڈ بلکہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی ورکرز بھی ہلاک ہوئے تھے۔ تاجکستان نے اس پر کابل کی انتظامیہ سے احتجاج بھی کیا اور ان حملوں کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا مگر ان ممالک کی اپروچ قدرے مختلف ہے۔ وہ کابل کو انگیج کر کے اسے دہشت گرد تنظیموں پر قابو پانے کے قابل بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ نہ صرف ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں اور تجارت بند کر کے یا افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں پر حملہ کرنے سے اجتناب کرتی ہیں بلکہ افغانستان کو بیرونی ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کی سہولت بھی مہیا کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ روس نے افغان طالبان کی حکومت کو باقاعدہ تسلیم کر رکھا ہے بلکہ چین‘ بھارت اور متعدد دیگر ممالک کے سفارتخانے کابل میں موجود ہیں اور ان کے ذریعے یہ ممالک افغانستان کے ساتھ معمول کے تجارتی‘ کاروباری اور معاشی روابط جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ خطے میں امن کے قیام میں گہری دلچسپی لینے بلکہ پاک افغان تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کروانے میں ایک فعال کردار ادا کرنے والے ممالک ترکیہ اور قطر بھی پاکستان کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ کے بجائے امن کے ذریعے مسئلے کے حل کے حامی ہیں۔
پاکستان کیلئے اس سے بڑھ کر بہتر راستہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ ایک پُرامن ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان ہمیشہ جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے بین الاقوامی تنازعات کے حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کا سلسلہ اس حقیقت کا ثبوت ہے۔ افغانستان کے اندر فضائی حملے صرف کابل انتظامیہ کی طرف سے افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کو لگام دینے میں ناکامی پر کیے گئے ہیں مگر افغانستان کے دیگر ہمسایہ اور خطے سے باہر ممالک جو پورے خلوص کے ساتھ پاک افغان تنازع کے مذاکرات کے ذریعے حل کے خواہاں ہیں‘ کے ساتھ مل کر ایک اتفاقی اپروچ اپنانے سے افغان طالبان کو اپنے یہاں مقیم دہشت گرد تنظیموں کو ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کی کارروائی کرنے سے روک سکتے ہیں۔ دہشت گردوں کا تعلق خواہ ٹی ٹی پی سے ہو یا بی ایل اے سے‘ کے ہاتھوں ہمارے بہادر سکیورٹی افسران اور شہری شہید ہو رہے ہیں۔ ان تنظیموں میں باہمی کوآرڈی نیشن میں بھی اضافہ ہو رہا ہے مگردونوں کا طریقہ کار اور سوچ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ٹی ٹی پی‘ داعش اور دیگر انتہا پسند تنظیمیں اپنی انتہا پسندانہ تشریح کے ساتھ اپنا نظام رائج کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے مقابلے میں بلوچستان میں سرگرم انتہا پسندوں کے مطالبات سیاسی ہیں۔ لیکن ریاست کی رِٹ کو چیلنج برداشت نہیں کیا جا سکتا‘ اس لیے جن لوگوں نے ہتھیار اٹھا رکھے ہیں ان سے اس وقت تک مذاکرات ممکن نہیں جب تک وہ ہتھیار پھینک کر ریاست کی رٹ کو تسلیم نہیں کرتے۔ جن شخصیات اور تنظیموں نے تشدد کی راہ نہیں اپنائی ان سے مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے ملک میں دہشت گردوں کو باقی پُرامن شہریوں سے الگ کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved