تحریر : اسد طاہر جپہ تاریخ اشاعت     27-02-2026

جیفری چوسر کے دیس میں

آج سے لگ بھگ تین دہائیاں قبل انگریزی زبان و ادب میں ماسٹرز ڈگری کے دوران جن تین قد آور ادبی شخصیات نے مجھے اپنے سحر میں گرفتار کیا ان میں بابائے انگریزی ادب جیفری چوسر‘ شہرہ آفاق رومانوی شاعر ولیم ورڈزورتھ اور عظیم ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر شامل ہیں۔ اس رومان کی وجہ ان کی فنی مہارت کے ساتھ ساتھ ہمارے انتہائی قابل اور کہنہ مشق اساتذہ کرام کا اندازِ تعلم تھا جس کی بدولت ہمیں انگریزی ادب کے ان عظیم المرتبت ناموں سے عشق ہو گیا۔ خاص طور پر پروفیسر غلام سرور قریشی مرحوم جس طرح ڈوب کر جیفری چوسر کی The Canterbury Tales میں موجود تمام کرداروں کی تصویر کشی کرتے اور اس دور کے برطانوی معاشرے کی عکاسی کرتے تو گویا پورے لیکچر کے دوران ہم سب چشمِ تصور میں خود کو چودہویں صدی کے انگلینڈ میں موجود پاتے۔ انہی ایامِ طالب علمی میں یہ خواہش کوند گئی تھی کہ چشمِ باطن میں ہمیشہ کیلئے بس جانے والے اس بلند پایہ شاعر کے دیس میں خود جاکر کسی روز ان تمام کرداروں کو 'کینٹربری‘ کے کوچہ و بازار میں چلتے پھرتے محسوس کیا جائے۔ بالآخر تین سال قبل برطانیہ میں پی ایچ ڈی کی تعلیم نے مجھے یہ موقع فراہم کر دیا۔ سب سے پہلے میں لیک ڈسٹرکٹ میں آسودۂ خاک شاعرِ فطرت ولیم ورڈزورتھ کی آخری آرام گاہ پر حاضر ہوا اور قدرتی مناظر کی دلآویز خوبصورتی سے مزین اس پورے ماحول کو قریب سے دیکھنے اور محسوس کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد کافی عرصے تک تعلیمی مصروفیات نے اپنے حصار میں جکڑے رکھا۔ گزشتہ ہفتے مجھے ایک تعلیمی سرگرمی کے باعث جیفری چوسر کے دیس کینٹربری میں جانے کا موقع مل گیا اور یوں میں بابائے انگریزی ادب کے شہر کی گلیوں میں گھومتے ہوئے اس کے تمام کرداروں کی کہانیاں دہرا رہا تھا۔شہر میں داخل ہوتے ہی چھوٹے بھائیوں جیسے قاسم چودھری نے خوش آمدید کہا اور ہم بلاتاخیر ٹاؤن سنٹر کی طرف روانہ ہو گئے۔ کینٹربری کیتھڈرل کا بلند وبالا ٹاور دور سے ہی ہر شخص کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ اگلے چند گھنٹوں میں ہم نے اس تاریخی شہر کی تمام اہم عمارات اور مقامات کو دیکھا اور صدیوں سے آباد اس شہر میں جیفری چوسر کے ان تمام کرداروں کی موجودگی کو محسوس کیا جنہیں پروفیسر قریشی صاحب نے ہمارے قلب و روح میں ہمیشہ کیلئے اتار دیا تھا۔ برادرم قاسم چودھری میرے ٹورسٹ گائیڈ کے طور پر قدم قدم پر پھیلی ہوئی تاریخ اور گلی گلی میں موجود ثقافتی ورثے سے متعلق تمام ضروری معلومات فراہم کر رہے تھے۔ میں سینٹ آگسٹائن کی 597ء میں کینٹربری کیتھڈرل کی تعمیر کے آغاز سے لے کر 1387ء سے 1400ء تک لکھی گئی جیفری چوسر کی کینٹربری ٹیلز کے درمیان گھوم رہا تھا اور اس دوران مجھے 1990ء کی دہائی میں پروفیسر غلام سرور قریشی مرحوم کے وہ تمام لیکچرز بھی رہ رہ کر یاد آ رہے تھے جن کی بدولت میرے اندر کینٹربری شہر کو قریب سے دیکھنے کی امنگ پیدا ہوئی تھی۔
کینٹربری ٹاؤن لندن سے تقریباً پچپن میل دور جنوب میں کینٹ کاؤنٹی میں واقع ہے۔ اس کے جنوب مشرق میں صرف سولہ میل دور ڈوور کا ساحلی علاقہ ہے جہاں سے برطانیہ اور فرانس کے مابین فیری سروس چلتی ہے اور یوں سمندری راستے سے ان دونوں ممالک کے مابین سفر آسان ہو چکا ہے۔ اس شہر کی تاریخی‘ ادبی‘ مذہبی اور ثقافتی اہمیت ہے کیونکہ یہ رومی سلطنت کے زمانے سے آباد چلا آرہا ہے۔ اسی شہر میں برطانیہ کا سب سے قدیم کینٹربری کیتھڈرل بھی واقع ہے جسے سینٹ آگسٹائن نے 597ء سے 616ء تک تعمیر کروایا جنہیں پوپ گریگوری دی گریٹ نے اس مشن پر خصوصی طور پر بھجوایا تھا۔ ابتدائی طور پر اس کا نام کرائسٹ چرچ رکھا گیا اور بعد میں یہی کینٹربری کیتھڈرل میں تبدیل ہو گیا۔ بعد ازاں گیارہویں صدی سے لے کر سولہویں صدی کے مختلف ادوار میں اس کی تزئین و آرائش پر بے پناہ کام کیا گیا۔ مسیحی برادری میں اس کی مذہبی اہمیت آرچ بشپ تھامس بیکیٹ کے 1170ء میں قتل کے بعد سے زیادہ مستحکم اور مقبول ہوئی کیونکہ ان کی قبر کیتھڈرل کے اندر واقع ہے اور دنیا بھر سے سیاح اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد گزشتہ کئی صدیوں سے انتہائی عقیدت و احترام سے روحانی سکون حاصل کرنے کی غرض سے یہاں سفر کرتے آرہے ہیں۔ آج بھی یہ پُرشکوہ عمارت گوتھک فنِ تعمیر کے ایک شاہکار کے طور پر موجود ہے جسے 1988ء سے یونیسکو نے سینٹ آگسٹائن ایبے اور سینٹ مارٹن چرچ کے ساتھ ساتھ عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔ اسی کیتھڈرل میں آرچ بشپ آف کینٹر بری خود براجمان ہیں جس کے باعث اسے چرچ آف انگلینڈ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
ادبی لحاظ سے بھی اس شہر کو منفرد مقام حاصل ہے‘ جس کی وجہ جیفری چوسر کی وہ مشہورِ زمانہ کتاب دی کینٹربری ٹیلز ہے جس میں شاعر نے ان تیس زائرین میں سے چوبیس کی کہانیاں قلمبند کر رکھی ہیں جو لندن سے چل کر یہاں تھامس بیکیٹ کی قبر پر حاضری کیلئے جمع ہوئے تھے۔ لندن سے کینٹربری کیلئے سفر پر روانہ ہوتے وقت زائرین میں یہ طے پایا تھا کہ سب اپنی اپنی کہانی سنائیں گے اور سب سے زیادہ خوبصورت کہانی سنانے والے کے اعزاز میں دوسرے تمام زائرین ایک پُرتکلف ضیافت کا اہتمام کریں گے جو دراصل اس زائر کی قصہ گوئی کی صلاحیتوں کا اعتراف ہوگا۔ اس کتاب میں 24 کرداروں کی کہانیاں شامل ہیں اور ہر کہانی اپنے کردار کی شخصیت اور سماجی حیثیت کی مکمل تصویر کشی کرتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کتاب چودہویں صدی کے برطانوی معاشرے میں پائی جانے والی سماجی تقسیم اور طبقاتی درجہ بندی پر ٹھوس دلالت کرتی ہے۔ شاعر نے کمال مہارت سے زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیوں کا عمیق مشاہدہ کرکے اپنی جاندار کردار نگاری سے ان تمام کرداروں کو ہمیشہ کیلئے امر کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دا نائٹ‘ دا فرائر‘ دا کلرک‘ دا وائف آف دی باتھ‘ دا پارڈنر اور دا پارسن سمیت تمام کردار جیتے جاگتے افراد کے روپ میں آج بھی ہمارے سامنے گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ جیفری چوسر نے یہ کتاب 1387ء میں شروع کی اور 1400ء میں اس کی وفات کے سبب نامکمل ہی ختم ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں سب زائرین کی کہانیاں شامل نہیں ہیں اور نہ ہی کینٹربری سے لندن واپسی کے احوال درج کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کو جیفری چوسر کی وفات کے چھہتر برس بعد 1476ء میں ولیم کیکسٹن نے پہلی مرتبہ شائع کیا۔ بلاشبہ یہ شہرہ آفاق کتاب انگریزی زبان و ادب میں ایک کلاسک کا درجہ اختیار کر چکی ہے جس میں چودہویں صدی کے برطانوی معاشرے کی صحیح معنوں میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے کینٹربری شہر کو شعر و ادب کا صدر مقام بھی گردانا جاتا ہے۔
اس کیساتھ ساتھ یہاں شعبہ تعلیم کے فروغ کیلئے بھی قابلِ تحسین کام کیا گیا۔ 1960ء کی دہائی میں دو بڑی جامعات یونیورسٹی آف کینٹ اور کینٹربری کرائسٹ چرچ یونیورسٹی بھی قائم کی گئیں جن میں دنیا بھر سے ہزاروں طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کرتے آتے ہیں۔ علاوہ ازیں برطانیہ کا سب سے قدیم کنگز سکول بھی اسی شہر میں موجود ہے جس میں دنیا بھر کے امرا اور اشرافیہ کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس سکول کی فیس اور دیگر اخراجات عام لوگوں کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں۔ اس ایلیٹ ادارے میں رہائش پذیر طلبہ تقریباً چھ ہزار پاؤنڈز ماہانہ ادا کرتے ہیں جبکہ رہائش کے بغیر ماہانہ فیس چار ہزار پاؤنڈز کے لگ بھگ ہے۔ قاسم چودھری کی رہنمائی میں ہم نے نہ صرف کینٹربری کیتھڈرل کو مکمل طور پر دیکھا بلکہ ٹاؤن سنٹر میں موجود تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل تمام مقامات کو بھی قریب سے محسوس کیا۔ یہاں متعدد فلموں کی عکس بندی کی گئی اور انہی مقامات میں سے ایک کو ہمایوں سعید اور ماہرہ خان کی نئی فلم میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ دن ڈھلنے لگا تو مجھے لیسٹر واپس گھر لوٹنا تھا اور راستے میں کچھ دیر کیلئے ایک اور تاریخی شہر کیمبرج رکنا تھا جہاں ہمدم دیرینہ ڈاکٹر اطہر منصور میرے منتظر تھے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved