اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنی سمندری مخلوق کا تذکرہ کرتے ہیں‘ انسانوں کو یاد دلاتے ہیں کہ تم لوگ اس کے پانیوں سے موتی اور مرجان جیسی خوبصورت اور قیمتی دولت نکالتے ہو۔ جی ہاں! موتی اور مرجان مجھے افطار کی اس تقریب میں نظر آئے جس کا انعقاد بھی موتی نام کی ایسی عمارت میں تھا کہ جس کا وسیع ہال موتیوں کی طرح سجا ہوا تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ اس تقریب میں بڑی بڑی شخصیات موجود ہیں مگر ان میں سے کوئی شخصیت بھی سٹیج پر موجود نہیں تھی۔ سٹیج پر صرف موتی اور مرجان تھے مگر وہ کس طرح کے موتی اور مرجان تھے‘ اس کا تذکرہ ذرا بعد میں... پہلے ہم ایک موتی یا مرجان کا نظارہ ساڑھے چودہ سو سال پہلے کے جہان میں کرتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں کرتے ہیں۔ یہ شہر نور سے درخشاں اور تاباں کیوں نہ ہو کہ یہ اس عظیم ہستی کا دارالحکومت ہے جنہیں قرآن ذیشان نے سراج منیر کہا۔ حضرت آمنہ کا آفتاب اپنے صحابہ کے درمیان ضوفشاں ہے۔ مدینہ منور ہو رہا ہے۔ حضور رحمت دو عالمﷺ چلتے چلتے ایک چوراہے پر پہنچتے ہیں تو سامنے ایک خاتون آکر رک جاتی ہے۔ نورانی قافلہ ٹھہر جاتا ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ بتاتے ہیں کہ اس خاتون کی دماغی صحت درست نہ تھی۔ جی ہاں! اس خاتون میں اس قدر شعور ضرور تھا کہ وہ جانتی تھی کہ جس ہستی سے وہ مخاطب ہے وہ اللہ کے رسول ہیں‘ مدینہ کے والی ہیں‘ ان کے سامنے اپنی مشکل پیش کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ اس نے یا رسول اللہﷺ کہہ کر حضور کریمﷺ کو مخاطب کیا اور گزارش کی کہ مجھے آپ سے ایک کام ہے مگر گزارش ان لوگوں (صحابہ کرامؓ) سے الگ گوش گزار کرنی ہے۔ حضورﷺ نے چوراہے میں تشریف فرما چاروں راستوں کی جانب دیکھا اور فرمایا: جس راستے پر چاہو چلو‘ میں اسی راستے پر آپ کی بات سنتا ہوں۔ صحابہ وہیں کھڑے دیکھ رہے ہیں۔ حضورﷺ اس خاتون کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔ ہ ایک ایسے راستے یا بازار کی طرف چلتی ہے جہاں ایک قطار میں چند درخت تھے۔ وہ ایک سایہ دار درخت کی چھائوں میں بیٹھ جاتی ہے۔ حضورﷺ بھی اسی درخت کے نیچے ریتلی اور پتھریلی زمین پر تشریف فرما ہو جاتے ہیں۔
اس خاتون نے حضورﷺ کے سامنے اپنی ضروریات بیان کیں۔ اللہ کے رسولﷺ سنتے رہے اور پھر تمام ضروریات کو پورا کر دیا۔ ظاہر ہے کہ ضروریات پورا کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ آپﷺ نے حضرت انسؓ یا دیگر صحابہ کرام کی ڈیوٹی لگائی ہو گی کہ اس بی بی کو بیت المال میں لے جائو‘ جو جو اس کی ضرورت ہے وہ پوری کر دو۔ قارئین کرام! مذکورہ واقعہ صحیح مسلم‘ سنن ابو دائود اور مسند احمد کی صحیح السند احادیث میں مذکور ہے۔ میں نے تینوں احادیث کو سامنے رکھ کر‘ عربی الفاظ کی وسعت کو کھول کر اس لیے بیان کیا ہے کہ حضور رحمت دو عالمﷺ نے اپنے پاکیزہ عمل سے اُمت کو یہ سبق دیا ہے کہ زمین پر انسانوں کے سمندر میں ایسے کمزور لوگ موتی اور مرجان ہیں۔ جو لوگ ان کا خیال کریں گے وہ معاشرتی سمندر کے موتی اور مرجان ہیں۔
میں محترم جسٹس(ر) نذیر احمد غازی کے ہمراہ بیٹھا ہوا دیکھ رہا تھا کہ سٹیج پر ایسی خواتین تشریف فرما تھیں جن کا دماغ ضعیف تھا۔ ایسے ضعیف الدماغ لڑکے تھے جو رنگ برنگی وردی پہن کر سٹیج پر آئے اور ایک ترانے کی دھن پر ایسی پرفارمنس دی کہ تالیوں کی گونج میں جناب اسامہ غازی نے اعلان کیا کہ یہ ہیں ہمارے معاشرے کے وہ لوگ کہ جن میں سے کچھ فطری طور پر کمزور دماغ ہیں‘ اور ایسے بھی ہیں جو ذہین ترین تھے مگر معاشرتی ظلم نے ان کے دماغ کو جامد کر دیا اور پھر وہ ٹھکرا دیے گئے‘ اس قدر کہ گلیوں بازاروں میں ٹھوکریں کھانے لگ گئے۔ فائونٹین ہائوس نے انہیں اٹھایا اور موتی اور مرجان بنا دیا۔ ڈاکٹر سید عمران مرتضیٰ ایم ایس فائونٹین ہائوس نے مذکورہ حدیث مبارک کی روشنی میں بتایا کہ ہم سالانہ دو لاکھ مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ سرگودھا اور فاروق آباد کے فائونٹین ہائوسز جو کئی مربع اراضی پر محیط ہیں‘ میں مرد‘ خواتین اور خواجہ سرا‘ سب موجود ہیں۔ معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کو یہاں رہائش‘ کھانا‘ کپڑے‘ علاج اور والدین کے پیار جیسا ماحول ملتا ہے۔ دکھوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر جو منشیات کا شکار ہو جاتے ہیں ان کیلئے بھی یہاں ایک شعبہ قائم ہے۔ تقریب کے روحِ رواں اخوت کے بانی جناب ڈاکٹر امجد ثاقب نے مرکزی خطاب کیا۔ انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ہے ''چار آدمی‘‘۔ سرگنگارام‘ ملک معراج خالد اور ڈاکٹر رشید چودھری کی داستانیں ہیں جنہوں نے لاہور میں خدمت انسانی کے ادارے قائم کیے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب نے اس کتاب کا انتساب روزنامہ دنیا کے ایڈیٹر انچیف جناب میاں عامر محمود کے نام کیا ہے۔ اس عظیم کتاب کا انتساب میاں عامر محمود صاحب کی اُن خدمات کو خراجِ تحسین ہے جو تعلیم اور خدمت انسانی کے ساتھ ساتھ استحکامِ پاکستان کیلئے بھی ہیں۔ پاک وطن میں نئے صوبوں کی مہم بقائے پاکستان اور استحکام پاکستان کے لیے کس قدر اہم ہے‘ جناب میاں عامر محمود کی اس میدان میں آگاہی مہم اپنی مثال آپ ہے۔ اس تقریب میں ''چار آدمی‘‘ کتاب بھی تحفہ میں دی گئی۔ حقیقت یہ ہے افطار کی اس تقریب میں معاشرے کے کمزور لوگ سٹیج پر تھے تو وہ بھی موتی اور مرجان ہیں‘ اور ان کمزوروں کے لیے جن لوگوں کی خدمات ہیں وہ بھی موتی اور مرجان ہیں۔ وہ اپنی محنتوں کا صلہ صرف اپنے رب سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نمود ونمائش سے بچتے ہیں کہ کہیں ان کے اجر میں کمی نہ ہو جائے۔
انسان دو چیزوں کا مرکب ہے۔ یہ دو چیزیں جسم اور روح ہیں۔ جسم کی بات کریں تو یہ اُتنا ہی پرانا ہے جتنی یہ کائنات پرانی ہے۔ قرآن مجید کی ''سورۃ الدھر‘‘ کہ جس کا نام ''الانسان‘‘ بھی ہے‘ اس کی پہلی آیت انسان کی قدامت کا پتا دیتی ہے۔ فرمایا ''کیا انسان پر زمانے میں سے ایسا لمحہ بھی آیا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر شے نہ تھا‘‘ مطلب یہ ہے کہ جب ٹائم وجود میں آیا اور اس ٹائم کے ساتھ ہی انسان کے وجود کا آغاز ہو گیا تو یہ کوئی قابلِ ذکر شے نہ تھا۔ جی ہاں! تھا تو سہی مگر قابلِ ذکر نہ تھا۔ اسی لیے تو اس سورت کا نام ''الدھر‘‘ یعنی زمان ہے اور اس کا نام ''انسان‘‘ بھی ہے۔ پھر جب ستارے وجود میں آئے تو وہ مختلف عناصر کی بھٹیاں بن گئے۔ پھر یہ ستارے پھٹ کر دھول بنے تو اسی دھول میں ایٹم تھے جس سے فزکس کا علم وجود میں آیا۔ اسی سے مالیکیول بنے جس سے کیمسٹری کا علم سامنے آیا۔ انہی مالیکیولز سے زندگی وجود میں آئی‘ جسے بیالوجی کہا جاتا ہے۔ یعنی انسانیت کا سفر ستاروں سے آگے زمینی مٹی سے شروع ہوا جس میں کاربن کی بنیاد پر زندگی وجود میں آئی۔ اس کاربن کا رنگ سیاہ ہے۔ قرآن بتاتا ہے اس سیاہ گارے سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا۔ درختوں میں کاربن ہے‘ وہ جلتے ہیں تو سیاہ دھواں اٹھتا ہے۔ آخر میں کوئلہ رہ جاتا ہے جو سیاہ ہے۔ جاندار کو آگ لگتی ہے تو آگ کے ساتھ سیاہ دھواں اٹھتا ہے۔ یہ سیاہی کاربن ہے۔ آگ کا شعلہ ختم ہوتا ہے تو وجود جو باقی بچتا ہے‘ وہ کوئلے کی طرح سیاہ ہوتا ہے یعنی کاربن باقی رہ گیا اور زمین میں مل گیا۔ انسانی وجود قبر میں جاتا ہے تو یہ وجود زمانے کے ساتھ ساتھ سیاہی مائل ہوتا ہوا یعنی کاربن کی شکل اختیار کرتا ہوا مٹی میں مل جاتا ہے۔ اصل چیز روح ہے‘ وہ روشن اور نورانی ہے۔ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ پر ایمان کے بعد انسانیت سے محبت کی‘ مشکلات میں ان کے کام آئے‘ یہ نورانی اعمال قبر میں اک نورانی ہستی کی شکل اختیار کر لیں گے۔ حضورﷺ کے فرمان کے مطابق اندھیرے اور سیاہ قبر میں انتہائی محبت و پیار والی نورانی ہستی نمودار ہو گی۔ بندہ پوچھے گا: سب چھوڑ گئے‘ تم میرے مونس و غمخوار کون ہو؟ وہ ہستی کہے گی: میں تیرا نیک عمل ہوں‘ میں نیک عمل کا نور ہوں۔ آئیے ہم سب انسانی محبت کا نور بننے کی کوشش کریں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved