ان دنوں ٹی وی دیکھنے یا اخبارات پڑھنے سے اداسی وپریشانی بڑھ جاتی ہے۔ داخلی صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے! کوئی دن نہیں جاتا کہ ہمیں اپنے جوانوں کے لاشے نہ اٹھانے پڑتے ہوں۔ ہمارے دو صوبوں میں امن وامان کی حالت دگرگوں ہے۔ علاقائی صورتحال بھی کچھ کم تشویشناک نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمارے پڑوسی اسلامی ملک ایران کے سر پر تلوار لٹکا رکھی ہے۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ ہم امریکی صدر کے بحری بیڑوں یا اس کی دھمکیوں سے جھکنے والے نہیں‘ ہم ایٹم بم نہیں بنا رہے البتہ صنعتی ضروریات کیلئے یورینیم کی افزودگی کو اپنا حق سمجھتے ہیں‘ تاہم مسائل کا حل ڈائیلاگ ہے۔ اگر امریکہ نے ایران پر حملے کی غلطی دہرائی تو ہمارا ردعمل پہلے سے شدید تر ہوگا جس سے سارے خطے میں تباہی وبربادی ہو گی۔ ا یرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ہم دفاعی طور پر پہلے سے کہیں بڑھ کر مضبوط ہیں‘ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں اور اسے جنگ کے شعلوں سے بچانا چاہتے ہیں‘ ہم ڈائیلاگ سے معاملات حل کرنے کے حق میں ہیں۔
ادھرپیر کے روز وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے ایک بار پھر اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ پارلیمنٹ کا حصہ بنے‘ ایوان کی پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت کرے‘ اپنا مؤقف بیان کرے بلکہ دلائل سے اسے منوائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دوبارہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہتی ہے۔ رانا صاحب سند اور مینڈیٹ کے بغیر بات نہیں کرتے۔ وہ پہلے پارٹی کی قیادت سے یقین دہانی حاصل کرتے اور پھر اپوزیشن کو کوئی پیشکش کرتے ہیں۔ رانا صاحب نے مزید کہا کہ ہم ملکی بہتری کیلئے اپوزیشن کے ساتھ چارٹر آف ڈیمو کریسی کی تفصیلات طے کرنے اور اس پر دستخط کرنے کو تیار ہیں۔ منگل کے روز ایوان میں لیڈر آف دی اپوزیشن محمود خان اچکزئی نے بھی کہا کہ رمضان المبارک صبر اور باہمی تحمل وبرداشت کا مہینہ ہے۔ اس ملک کی خاطر‘ پارلیمان کی خاطر بلاتاخیر مذاکرات ہونے چاہئیں‘ ہر مسئلے کا حل ڈائیلاگ ہے۔ محمود اچکزئی نے ایران کی صورتحال اور اس کے اطراف سمندر میں طیارہ بردار جنگی بحری بیڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے حالات انتہائی کشیدہ اور پیچیدہ ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت مزید کشیدگی نہیں چاہتی‘ ملکی بہتری کی خاطر ڈائیلاگ چاہتی ہے‘ اپوزیشن بھی محمود خان اچکزئی جیسے گرم سرد چشیدہ پارلیمنٹرین اور سیاستدان کی زیر قیادت ڈائیلاگ اور مذاکرات کو تمام مسائل کا حل گردانتی ہے تو پھر رکاوٹ کہاں ہے؟ اس دوطرفہ آمادگی کے بعد بظاہر دوری کی ایک شاعرانہ تشخیص مرزا غالب نے کی تھی‘ کہتے ہیں:
غلط ہے جذب ِدل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
ہم حکیم ہیں نہ کوئی سیاسی طبیب‘ البتہ اس کشاکش کے خاتمے اور ڈائیلاگ کی کامیابی کیلئے کچھ دل لگتی تجاویز ضرور پیش کریں گے۔
منگل کے روز دوحہ میں وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی‘ دیگر امور کے علاوہ دونوں قائدین نے ایران اور افغانستان کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام امور کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے کیونکہ جنگ چاہے محدود ہی کیوں نہ ہواس سے سوائے تباہی وبربادی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی کے باعث نوبت پاکستان پر افغان حملے تک پہنچ چکی ہے۔ افواجِ پاکستان نے اس جارحیت کا بھرپور جواب دیا ہے۔طالبان کو فی الفور اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ادھر غزہ میں امن بورڈ کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ سب سے زیادہ باعثِ تشویش اور قابلِ توجہ ہے۔ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کسی لگی لپٹی کے بغیر ایک انٹرویو میں کہہ دیا کہ نیل سے لے کر فرات تک یعنی موجودہ فلسطین‘ اردن‘ عراق‘ شام اور سعودی عرب کے بعض حصوں پر بائبل کے مطابق اسرائیل کو حکمرانی کا حق حاصل ہے۔ یہ سن کر ہمارے عرب بھائیوں میں زبردست تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بالکل درست کہا ہے کہ غزہ پر اہلِ فلسطین کے علاوہ کسی اور کو حکمرانی کا حق حاصل نہیں۔ او آئی سی کو بھی متفقہ طور پر یہ واضح کرنا چاہیے کہ جب تک امریکہ ارضِ فلسطین میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی فارمولا نافذ نہیں کرے گا اس وقت تک وہاں امن قائم نہیں ہو سکتا۔پاکستان چونکہ اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے‘ اس لیے تمام مسلم ممالک پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ اتنی وسیع تر ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے ہمیں سب سے پہلے گھر کو درست کرنا ہوگا۔ گھر میں امن و استقرار ہوگا تو پھر پاکستان علاقائی وعالمی معاملات میں مضبوط مؤقف اختیار کر سکے گا۔ اس کیلئے اندرونِ ملک بلاتاخیر ڈائیلاگ کا آغاز ہونا چاہیے۔ دونوں فریق بامقصد مذاکرات کے خواہاں ہیں تو پھر تاخیرکیوں؟
مذاکرات کی کامیابی کیلئے حکومت کو اعتماد سازی اور خوشگوار ماحول کی فراہمی کیلئے کچھ فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت کو بانی تحریک انصاف کی آنکھ کے علاج کیلئے ان کی ہسپتال منتقلی اور اس سلسلے میں پارٹی اور خان کی فیملی کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات سے باہمی اعتماد کی ایسی فضا قائم ہو گی جو مذاکرات کی کامیابی کیلئے سازگار ثابت ہوگی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت اور عمران خان کی بہنوں کے درمیان اختلافات ہرگز منظر عام پر نہیں آنے چاہئیں۔ بدھ کے روز علیمہ خان صاحبہ اپنی پارٹی قیادت پر برس پڑیں‘ انہوں نے بیرسٹر گوہر‘ لطیف کھوسہ اور حامد خان جیسے پارٹی کے سینئر وکلا اور قائدین کو نشانۂ تنقید بنایا۔ بھائیوں کیلئے بہنوں کے جذبات کے آبگینے بڑے نازک ہوتے ہیں مگر سرعام ایسی تنقید سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ پارٹی اندرونی انتشار وخلفشار کا شکار ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور عمران خان کی فیملی میں جو کمیونیکیشن گیپ ہے اس کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ پارٹی اور فیملی کا مشترکہ ومتفقہ مؤقف ہی سامنے آئے۔
اب ذرا ایک نظر وطنِ عزیز کے معاشی منظرنامے پر بھی ڈال لیجئے۔ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پندرہ روز دورے پر پاکستان پہنچ چکا ہے۔ آئی ایم ایف نے کراچی میں سٹیٹ بینک کے حکام سے پہلی ہی ملاقات میں مطالبہ کر دیا کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے ڈیپازٹس ایک سال کیلئے رول اوور کرائیں۔ یو اے ای نے ہمیں دو ماہ کی مہلت دی تھی۔ قرض کی یہ صورتحال ہے اور ادھر کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 200 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی‘ روک تھام کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کمپنیوں کی بدترین کارکردگی‘ ایک سال میں 397 ارب کا نقصان ہوا۔ قرض خواہ ہمیں مزید مہلت دینے اور اگلی قسط دینے کو تیار نہیں‘ ادھر ہمارا حال دورِ زوال کے مغلیہ شہنشاہوں جیسا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے 11 ارب روپے کا لگژری طیارہ خریدلیاہے جس کی ماہانہ دیکھ بھال کا خرچ ہی کروڑوں میں ہے۔ پنجاب میں وزرا‘ وی آئی پیز اور بیورو کریسی کیلئے 100 بڑی بڑی گاڑیاں بھی خریدی جا رہی ہیں۔ آج کی دونوں حکمران جماعتیں جب محرومِ اقتدار ہوتی ہیں تو جمہوریت اور میثاقِ جمہوریت کے گن گاتی ہیں مگر جب برسرِ اقتدار آ جاتی ہیں تو پرانا سبق بھول جاتی ہیں۔ یاد رکھیے اجتماعی دانش کا کوئی نعم البدل نہیں۔ آج پاکستان کو ملکی‘ علاقائی اور اسلامی ہر سطح پر ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ ڈائیلاگ کے کارِ خیر کا آغاز اپنے گھر سے ہی ہونا چاہیے۔ رانا صاحب! بسم اللہ کیجئے۔
کالم پریس میں جا چکا تھا کہ خبر آئی: مذاکرات کیلئے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور رانا ثنا اللہ کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں سیاسی صورتحال پر مشاورت ہوئی۔ دعا ہے یہ سلسلہ اب مثبت انداز میں آگے بڑھے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved