تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     28-02-2026

رب مجھے معاف کرے

گزرتے وقت اور ڈھلتی عمر کے ساتھ کیسے کیسے بھید اور راز افشا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ کہیں اپنی جہالت کا ادراک بے چینی کا باعث ہے تو کہیں اپنی لاعملی کا ملال۔ زمانۂ رپورٹنگ سے لے کر ادارت اور کالم نگاری تک اِک عمر گزارنے کے بعد رائیگانی کا احساس آگہی کی نئی کھڑکیاں اور دروازے آئے روز کھولتا چلا جاتا ہے۔ سقراط نے یونہی نہیں کہا تھا کہ ''میں بھی جاہل ہوں اور میرے اردگرد رہنے والے بھی جاہل ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ میں اپنی جہالت جان گیا ہوں اورباقی نہیں جانتے‘‘۔ یوں لگتا ہے کہ سقراطی جراثیموں کی زد میں آچکا ہوں اور اب برملا اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جن خبروں کے تعاقب میں کئی دہائیوں سے بھاگتے رہے‘ آج وہ سبھی خبریں جابجا‘ ہر سُو اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ منہ چڑاتی اور یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ Catch me if you can۔
تین دہائیوں سے زائد عرصہ بیت چکا وہی خبریں‘ وہی وارداتیں‘ وہی جبر‘ وہی ظلم‘ وہی سانحے‘ وہی صدمات‘ وہی اَلمیے‘ وہی عذاب‘ وہی عتاب جوں کے توں اور ہوشربا اضافوں کے ساتھ بدستور جاری ہیں۔ حکمران بھی وہی ہیں اور طرزِ حکمرانی بھی وہی‘ چہرے بھی وہی‘ کردار بھی وہی‘ قابلِ داد مستقل مزاجی اور اسی مائنڈ سیٹ کے ساتھ باریاں لگاکر نہ صرف شوقِ حکمرانی پورے کرتے چلے آرہے ہیں بلکہ سسٹم میں بھی ایسے ایسے جگاڑ لگا رکھے ہیں کہ بڑی سے بڑی مشکل بھی آجائے تو آسانیوں کے سامان اس طرح پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں جیسے مشکلات کبھی آئی ہی نہیں تھیں۔ حالتِ نزع میں رہنے والوں کو تو اب بخار بھی نہیں ہوتا‘ کپکپاتے ہاتھوں اور لڑکھڑاتی ٹانگوں کے ساتھ وہیل چیئر پر عدالتوں میں پیش ہونے والے اس طرح بھاگے پھرتے ہیں جیسے اسیری ختم بیماری ختم۔
اس تمہید کو فلسفہ تصور کیا جائے نہ دانشوری بلکہ حالاتِ پریشاں کو الفاظ میں ڈھالنے کی اپنے تئیں ایک کوشش ہے کیونکہ کئی دہائیوں کے تجربات‘ مشاہدات کے علاوہ شعبدے بازیوں اور منافقت میں لتھڑے ہوئے واقعات اور خبروں کے نقطے ملائیں تو بھیانک حالات کی وہ سبھی فلمیں چشمِ تصور سے بخوبی دیکھی جا سکتی ہیں جو کہیں مکافاتِ عمل کے تصورات کو دھندلا ڈالتی ہیں‘ تو کہیں جزا و سزا کے۔ کہیں میرٹ تار تار دکھائی دیتا ہے‘ تو کہیں گورننس شرمسار‘ کہیں بھوک کا بیوپار جاری ہے تو کہیں ضرورتوں کی دلالی‘ آئین اور قانون سے لے کر سماجی قدروں کی پامالی تک اُدھم برابر جاری ہے۔ سرکاری وسائل کو ضائع کرنے سے لے کر اقتدار کے بٹوارے سمیت من مانی حکمرانی نے اس مقام پہ لاکھڑا کیا ہے کہ تحفظ اور ذمہ داری سے منسوب اداروں سے بھی سہمے اور ڈرے بیٹھے ہیں۔ داغ مٹانے کے بجائے چھپانے کیلئے سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال سمیت مضحکہ خیز حجتیں اور جواز گھڑنے کیلئے کیسے کیسوں کی خدمات مستعار ہیں۔ ریاست کی ذمہ داریوں سے جڑے سبھی امور کے معانی اس طرح الٹ ڈالے ہیں کہ سبھی کچھ الٹ پلٹ اور درہم برہم دکھائی دیتا ہے۔ ان سبھی کی جمع تفریق کریں تو اس اندھیر نگری پر درجنوں کالم بھی ناکافی ہیں‘ بقول شاعر:
خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے
حکومتی ترجمانوں کے دفاعی بیانیے نہ صرف دفاع سے قاصر ہیں بلکہ ان کے عذر اور توجیہات حکومت کیلئے مزید کڑے سوالوں کا باعث بنتے چلے آئے ہیں۔ سرکاری سچ کے دیوانہ وار پرچارک کہیں دانشورانہ روپ میں دکھائی دیتے ہیں تو کہیں بیانیہ سازی کے بہروپ میں۔ گویا:
سچ بڑھے یا گھٹے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
مفادِ عامہ کے منافی اقدامات اور فیصلوں کے دفاع میں وزیروں اور مشیروں کی منطق اور دلائل کے جوہر دیکھ کر اپنی کم علمی اور جہالت کا احساس ہر بار بڑھ جاتا ہے۔ اکثر یہ گمان بھی غالب آجاتا ہے کہ میں کسی مغالطے میں تو نہیں جی رہا‘ میرے اردگرد سب کچھ ٹھیک ہو اور مجھے ہی غلط نظر آرہا ہو‘ میں ساری عمر جھوٹ ہی لکھتا اور بتاتا آ رہا ہوں‘ مملکتِ خداداد کرۂ ارض کا بہترین فلاحی خطہ ہو‘ قائدؒ کے افکار کے عملی نمونے ملک کے کونے کونے میں دکھائی دے رہے ہوں‘ علامہ اقبالؒ کا خواب ان کے تخیل سے بھی کہیں زیادہ شرمندۂ تعبیر ہو چکا ہو‘ حکومت واقعی عوام دوست ہو اور مجھے ناموافق نظر آرہی ہو‘ مجھے نظر آنے والا ملک و قوم پر ناقابلِ برداشت بھاری قرضوں کا بوجھ وہ چڑھاوا ہو جسے آئی ایم ایف اور دوست ممالک ہماری عظمت کے باعث ہدیہ کے طور پر پیش کرتے چلے آرہے ہوں‘ حکومت کے خزانے ابل ابل کر باہر آرہے ہوں‘ خوشحالی حکومتی اعداد و شمار سے کہیں آگے نکل چکی ہو‘ معاشی اشاریے پکڑے نہ جا رہے ہوں‘ ملک کے طول و عرض میں نہ کہیں غربت ہو اور نہ ہی بھوک و افلاس‘ ڈھونڈے سے کہیں بھوکا نہ ملتا ہو‘ مخیر حضرات جھولیاں بھر کر مستحقین کی تلاش میں نکلتے ہوں اور کوئی لینے والا نہ ملتا ہو‘ حکمران خدام بنے عوام کی سیوا میں مصروف ہوں‘ کوئی بچہ سکول سے باہر ننھے منے ہاتھوں سے مزدوی نہ کر رہا ہو‘ سرکاری دفاتر میں عوامی مسائل خودکار نظام کے تحت حل ہو رہے ہوں‘ سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو‘ تھانے دارالامان بن چکے ہوں اور ہسپتال دارالشفا‘ پٹوار خانوں میں ہیر پھیر اور جعلسازی کا تصور تک نہ ہو‘ الغرض دھتکار پھٹکار کا دور دور تک کہیں شائبہ نہ ہو‘ ایوانوں میں بیٹھے عوامی نمائندے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے دن رات قانون سازی اور اصلاحات میں مصروف ہوں‘ ملک بھر میں ماورائے انصاف واقعات پر منصفوں کی خاموشی میری ہی نظر کا دھوکا ہو‘ جابجا نظر آنے والے ڈیفارمز کے ڈھیر درحقیقت ریفارمز ہوں‘ واجبی پس منظر رکھنے والے سرکاری بابوؤں کے ٹھاٹ باٹ اور تام جھام میری نظر کا فریب ہوں‘ کم مایہ بستیوں سے اٹھ کر آنے والے افسر شاہی کے غیرملکی اثاثے اور کاروبار محض افواہیں ہوں‘ دہری شہریت کے علاوہ غیر ملکی خواتین سے خفیہ شادی رچانے والے اعلیٰ سرکاری افسران پر نیشنل سکیورٹی کا قانون خفیہ انداز میں لاگو ہوتا ہو‘ کئی دہائیوں سے نسل در نسل باریاں لگا کر شوقِ حکمرانی پورے کرنے والے اپنے عوام کی خواہش کے احترام میں اقتدار سے چمٹے ہوں اسی لیے عوام تواتر سے انہیں حقِ حکمرانی دیتے چلے آرہے ہوں‘ تاہم یہ اور بات ہے کہ عوام کو ووٹ ڈالنے کی زحمت سے بچانے کیلئے ان کے محبوب لیڈر خود ہی اپنے حق میں ووٹ ڈال لیتے ہوں‘ ملک چھوڑنے کا رجحان محض تفریح اور سیاحت کی غرض سے ہو‘ ہم برے ہرگز نہیں ہیں‘ ہمارا ملک برا نہیں ہے‘ ہم برے ہمسایوں اور ناقدرے دوست ممالک کے درمیان پھنس چکے ہوں‘ استعمال ہونے کی لت نے ہی ہمیں پرائی جنگوں میں الجھایا ہو‘ ٹھیکے کی جنگوں نے ہی ہمیں مستقل جنگی حالات سے دوچار رکھا ہوا ہو‘ دادا کے بعد پوتا اور باپ کے بعد بیٹا ہی ہماری جمہوریت کا حسن ہو‘ سرکاری وسائل پر بندہ پروری اور کنبہ پروری کی بدعت ہی ہماری روایت ہو‘ خدا میری جہالت دور فرمائے اور ماضی میں لکھے گئے سبھی جھوٹ کو لاعلمی کی رعایت دیتے ہوئے معاف فرمائے۔ گوتم بدھ نے دنیا کو دکھوں کا گھر قرار دیتے ہوئے ناحق ہی ترکِ دنیا کر ڈالی۔ محلات اور ٹھاٹ باٹ چھوڑ کر جنگلوں کا رخ کرنے کے بجائے مملکتِ خداداد چلے آتے تو انہیں معلوم پڑتا کہ ساری دنیا دکھوں کا گھر نہیں ہے۔ دنیا میں دکھ ضرور ہوں گے‘ بڑے بڑے ملکوں میں بڑے بڑے دکھ ہوں گے لیکن ہمارے ہاں دکھ تکلیف اور پریشانی کا شائبہ تک نہیں۔ رب مجھے معاف کرے!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved