اس وقت پاکستان اور افغانستان میں جو جھڑپیں ہوئی ہیں اور اسرائیل اور امریکہ نے پھرسے ایران پر حملہ کر دیا ہے‘ پاکستان کا داخلی اتحاد مثالی ہونا چاہیے تھا۔ کوئی سیاسی انتشار نہ ہوتا بلکہ سیاسی صورتحال ایسی ہوتی کہ ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی یہ نہ کہہ سکتے کہ 170 سیٹوں والا تو جیل میں ہے اور 80سیٹوں والے حکومت کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے پھبتی نہیں کَسی تھی حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ داخلی منظر نامے کے علاوہ پاکستان کو بیرونی جھمیلوں میں نہیں پڑا ہونا چاہیے تھا‘ لیکن ایک تو ہندوستان کیساتھ صورتحال بگڑی ہوئی ہے اور اگر یہی کافی نہیں تھا تو افغانستان کیساتھ جنگ کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ مانا کہ تحریک طالبان پاکستان یہاں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے اور اُس کی پشت پناہی طالبان حکومت کی طرف سے ہو رہی ہے لیکن اتنا تو ماننا پڑتا ہے کہ اس سارے افغان قضیے میں پاکستان اور اُس کے حکمران ٹولوں سے بہت غلطیاں سرزد ہوتی رہی ہیں۔
ٹی ٹی پی نے ریاستِ پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ شروع کی ہوئی ہے۔ پاکستانی فوج پورے علاقے میں ڈِپلائے ہے لیکن گوریلا جنگجوؤں کوفائدہ یہ ہوتا ہے کہ اپنی مرضی کے ٹارگٹ اور مرضی کا وقت حملے کیلئے چُن سکتے ہیں۔ روایتی فوج‘ جیسا کہ ہماری ہے‘ کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے۔ یا تو ہوائی بمباری مسلسل اور زوردار ہو‘ پھر تو بات اور ہے۔ لیکن وقتاً فوقتاً یا کبھی کبھار کی بمباری سے گوریلا فورسز کا مقابلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ یہ مشکل امریکہ کو ویتنام میں پیش آئی اور سوویت یونین کو افغانستان میں۔ کوتاہی یا غلطی یہ ہوئی ہے کہ جب سولہ سال تک طالبان امریکہ سے برسرِپیکار تھے تو اس امر کا ادراک نہ کیا گیا کہ سرحدی علاقوں سے قبائلی قسم کے لوگ طالبان کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں اور لڑائی کرنے کی غرض سے افغانستان میں اُن کا آنا جانا شروع ہو گیا ہے۔ یہی عناصر ٹی ٹی پی کی بنیاد بنے۔ یعنی یہ قبائلی عرصہ دراز تک طالبان کے ہمنوا اور ہم خیال ہوکر طالبان کے ساتھ امریکہ مخالف کارروائیوں میں شامل رہے۔ یہ بھائی چارہ یا اتحاد میدانِ جنگ میں تیار ہوا۔پاکستان کی استدعا بالکل درست کہ طالبان اپنے ہاتھ ٹی ٹی پی سے کھینچ لیں لیکن اتنا سمجھنا ضروری ہے کہ خون اور گولی کے بندھن اتنے جلد نہیں ٹوٹتے۔ بہرحال اب یہ باتیں بیکار ہیں‘ بات بہت دور تک چلی گئی ہے حالانکہ ہمارے ہاں ایک سوچ یہ بھی تھی کہ اُن چار یا پانچ ہزار پاکستانی نژاد جنگجوؤں کو یہاں بلا کر کہیں آباد کر دیا جائے۔ اس کو غلط سمجھا گیا‘ البتہ یہ سوال متعلقہ ہے کہ وہ چار یا پانچ ہزار یہاں ہوتے تو اُن سے نمٹنا آسان تھا یا جو ننگرہار اور پکتیا میں بیٹھے ہیں اُن سے نمٹنا آسان ہے؟
بہرحال اس صورتحال کا اتنا ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ طالبان رجیم نہیں ہے۔ ہمارے اور اُن کے درمیان اور کوئی تضاد نہیں سوائے اُن چار یا پانچ ہزار پاکستانی نژاد جنگجوؤں کے۔ اعلانِ جنگ آسان ہے تصورِ جنگ بھی آسان ہوتا ہے لیکن جنگ شروع ہو جائے تو پہلے سے بنائے تخمینے ہوا میں اُڑ جاتے ہیں اور نئی حقیقتیں سامنے آنے لگتی ہیں۔ اس وقت جب گولی بارود کا تبادلہ ہو رہا ہے تو قوم کا فرض بنتا ہے کہ مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہو۔ لیکن اتنی سمجھ تو ہونی چاہیے کہ مغربی سرحد پر دیرپا جنگ کسی صورت میں پاکستان کے فائدے کی بات نہیں۔ اور حالات کو مزید خراب ہونے سے پیشتر اب بھی لچک اور سیاسی حل کی تلاش پرزور ڈالنا چاہیے۔
بلوچستان کا ذکر نہیں ہوا حالانکہ وہاں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔سوچنا بنتا ہے کہ جب اتنے خطرات اُمڈ رہے ہوں اور گولی بارود کی آوازیں پورے مغربی بارڈر سے آ رہی ہوں داخلی طور پر تو پھر اتحاد اور یگانگت کی فضا پیدا ہونی چاہیے۔ زیادہ کھل کے بات ہو نہیں سکتی کیونکہ مختلف قسم کی نزاکتیں اظہار کے راستے میں حائل ہو جاتی ہیں لیکن ہر سمجھ رکھنے والا پاکستانی سمجھ رکھتا ہے کہ داخلی یگانگت اور قومی اتحاد کے تقاضے کیا ہیں۔ یہ قوم بہت دیکھ چکی ہے کہ سپاہ کی ہمت اور استقامت کے باوجود جب فیصلے اکیلے اور بغیر وسیع تر مشاورت کے ہوتے ہیں تو خطرات کے بڑھ جانے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
افواج کے ساتھ کون نہیں ہے ‘سب ہیں۔ پوری قوم کی دعا رہتی ہے کہ جنگ و جدل کی آزمائش آئے تو ہماری افواج ہی سرخرو ٹھہریں۔ لیکن یہ بھی تو ہے کہ کوئی پاکستانی نہیں چاہے گا کہ ہر طرف خطرات کے بادل چھائے ہوں‘جنگ کی آوازیں آ رہی ہوں اور داخلی طور پر مختلف وجوہات کی بنا پہ قوم کی یکسوئی میں کوئی خلل پڑے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں کسی کی صحت کے بارے میں آوازیں کیوں اُٹھیں؟دھیان تو سارا ملکی دفاع پر ہونا چاہیے۔ فیصلہ سازی کا معیار بہت اونچا ہو اور کوئی اندرونی عوامل ایسے نہ ہوں جن کی وجہ سے دھیان ادھر اُدھر جائے۔
کچھ نہیں کہا جاسکتا ایران پر حملے کتنا عرصہ جاری رہتے ہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ ان حملوں کا مقصد کیا ہے۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر تو حملے پچھلے سال جون میں بھی ہوئے تھے۔ اب پھر سے حملے کیوں؟ کیا اسرائیل اور امریکہ کا ارادہ بندھ چکا ہے کہ ایران کی موجودہ مذہبی حکومت کو ہٹانا ہے؟ اگر یہ مقصد ہے تو جنگ کا دورانیہ دنوں کی گنتی سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ہم جو ایران کے ہمسایہ ہیں‘ ہماری تمام تر توجہ ان حملوں اور ان کے ممکنہ مضمرات پر مرکوز ہونی چاہیے نہ کہ کچھ دھیان افغانستان کی طرف ہو۔ کچھ دھیان بی ایل اے اور بلوچستان کی طرف اور کبھی دارالحکومت کے بالکل قریب یہ مخمصہ اُٹھے کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا سلسلہ کیا اور کیسا ہونا چاہیے۔ خطرات کا دائرہ بہت وسیع ہو رہا ہے اور ایران والی بات پتا نہیں کہاں جا رکے اور پاکستان کا موجودہ حکمرانی بندوبست اڈیالہ کے خطرات سے ہی نہ نمٹتا رہے۔
ہندوستان سے پچھلے سال چار روزہ معرکے کے بعد یہ خواہش دل میں اُٹھتی کہ کتنا ہی اچھا ہو کہ قوم کا ہر شعبے میں معیار ہمارے ہوابازوں جیسا ہو جائے۔ جیسی کارکردگی لہو گرم کرنے والی پاکستان ایئرفورس کی رہی حکومت اور عوام کی ہو جائے۔ لیکن اُس آزمائش کے بعد حکمرانی کی چال میں کوئی فرق آیا؟ جذبۂ ایثار میں اضافہ کیا ہونا تھا وہی چال بے ڈھنگی‘ وہی شہ خرچیاں وہی فضول کی عیاشیاں۔ کہیں جہاز خریدا جا رہا ہے جس کے بارے میں سوچنا ہی طرفہ تماشا ہوتا‘ کہیں پنجاب سرکار کے لیے مہنگی گاڑیاں خریدنے کا شوشہ۔ ہماری سپاہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سینوں پر گولیاں کھا رہی ہیں اور یہاں غیر نمائندہ سیاسی حکمرانوں کی فضول خرچیوں کے سلسلے ختم نہیں ہو رہے۔ قرضوں میں دبی معیشت کی حالت یہ کہ یواے ای دو بلین ڈالر کا رول اوور بجائے سال کے فقط دو مہینوں کاکر رہا ہے اور حکومتی سرخیلوں کی منتیں ختم نہیں ہو رہیں۔
کیا ہوگا پھر؟کچھ نہیں ہوگا‘ کوئی ٹس سے مس نہیں ہوگا۔ حکیم لقمان کی دانائی آ جائے یہاں کسی پر کوئی فرق نہیں پڑنے کا۔سب عقلِ کُل۔ جنہوں نے اس ملک کو افغانستان کے معاملات میں ملوث کیا یہ کہہ کر کہ افغانستان میں تزویراتی گہرائی حاصل کرنے نکلے ہیں وہ بھی عقلِ کُل تھے۔ جنہوں نے درپردہ‘ امریکیوں سے چھپ کر‘ طالبان کی مدد کی وہ بھی عقلِ کُل تھے۔یہ عقلِ کُل کی ماری قوم ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved