تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     01-03-2026

The Art of War

آپ کو جو چند نان فکشن کتابیں دنیا کے ہر کونے میں بکتی نظر آتی ہیں ان میں تین ہزار سال پرانی کتاب The Art of War بھی شامل ہے‘ جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ پانچویں صدی قبل از مسیح میں ایک چینی‘Sun Tzu نے لکھی تھی جو جنگی حکمت عملی کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ تین ہزار سال کے بعد بھی اس کتاب کی اہمیت یا اس میں چھپی جنگی ذہانت کا اثر آج تک جاری ہے۔ ہم حیران ہوں گے کہ تین ہزار سال پہلے کی جنگ اور جنگی ہتھیاروں‘ حکمت عملی اور سوچ میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے لیکن آج بھی اس کتاب کی اہمیت موجود ہے۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ جو بات میرے ذہن میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ انسان کی بنیادی جبلتوں میں سے ایک خطرناک جبلت تشدد پسندی بھی ہے۔ تشدد اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے‘ جب تک انسان ہے تشدد کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے گا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ دنیا میں تشدد کم ہوا ہے یا کنٹرول ہوا ہے اور جنگیں کم ہوئی ہیں۔ بڑے بڑے ملک سمٹ کر چھوٹے ہو گئے‘ سلطنتیں ٹوٹ گئیں اور ایک قوم نے دوسری اقوام کے تشدد سے بچنے کیلئے سرحدیں قائم کرکے‘ فوجیں کھڑی کرکے اپنے عوام کو بچایا یا پھر امن معاہدے کیے‘ لیکن اس کے باوجود بھی ان تین ہزار برسوں میں ہزاروں جنگیں لڑی گئیں جن میں اَن گنت لوگ مارے گئے۔ انسان ایک دوسرے پر اپنی قبائلی‘ قومی یا نسلی برتری ثابت کرنے کیلئے دوسری قوموں کے خون کی ندیاں بہاتا آیا ہے۔ اب بھی جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں تو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ ایران نے بھی جواباً اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل فائر کیے ہیں اور یوں باقاعدہ ایک جنگ شروع ہو چکی ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے بھی افغانستان کی طرف سے کیے گئے حملوں کے جواب میں اپنی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ یوں خطے کو ایک نئی جنگ کا سامنا ہے۔ اس وقت پانچ ممالک اس جنگ میں براہِ راست شریک ہیں۔ ایران‘ امریکہ اور اسرائیل اگر مشرقِ وسطیٰ میں لڑ رہے ہیں تو پاکستان اور افغانستان یہاں جنگ لڑ رہے ہیں۔ بے شک ان پانچوں ملکوں کے اہداف مختلف ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ ان جنگوں میں اکثر مارے وہی جاتے ہیں جو اِن جنگوں کا فیصلہ نہیں کرتے۔ وہ محض شکار ہوتے ہیں۔
خیر ذکر ہو رہا تھا چین کے فوجی ماہر کا جس نے وہ کتاب لکھی تھی۔ اس کی کتاب میں کئی قابلِ غور باتیں ہیں لیکن جو سب سے زیادہ مشہور اور شاید متنازع بھی ہے‘ اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ کسی بھی فوج کا بہادر جنرل وہ ہوتا ہے جو جنگ سے بچتا ہے‘ وہ جنگ میں کود نہیں پڑتا۔ یقینی طور پر کوئی بھی یہ بات پڑھے گا تو اس کا پہلا تاثر یہی ہو گا کہ وہ کیسا بہادر جنرل ہے جو جنگ سے بچنا چاہتا ہے۔ انسان تو اُس کو بہادر مانتے ہیں جو کسی بھی جنگ سے نہ گھبرائے اور ہر وقت جنگ کیلئے تیار رہے۔ میرا بھی پہلے یہی تاثر تھا‘ پھر میں نے اس فلسفیانہ تصور کے بارے میں مزید پڑھنا شروع کیا کہ چین کے اس جنگی ماہر کا یہ بات کہنے کا کیا مقصد تھا کہ بہادر جنرل جنگ سے گریز کرتا ہے۔ جب پڑھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ دراصل یہ ایک فلسفیانہ تشریح ہے کہ اصل فاتح وہ ہوتا ہے جو بغیر لڑے اپنی مہارت سے جنگ لڑے اور جیت جائے۔ اس کے پاس اتنی حکمت اور مہارت ہونی چاہیے کہ وہ دشمن کو بغیر لڑے تسخیر کر لے۔ اس کیلئے وہ سفارتکاری اور حکمت عملی سے کام لیتا ہے اور غیرضروری لڑائیوں سے گریز کرتا ہے۔ جب کوئی جنرل جنگ سے بچ رہا ہوتا ہے تو یہ اس کی بزدلی نہیں بلکہ سمجھداری سمجھی جاتی ہے کیونکہ جنگ کے بعد کے حالات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ جنگ شروع ہو گئی تو اسے بند کرنا مشکل ہو گا۔ اب تو فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے لیکن پھر وہ فیصلہ مخالف پارٹی کے ہاتھ میں بھی ہو گا۔ تب جنگ روکنے کا فیصلہ اس اکیلے نے نہیں کرنا بلکہ دوسرے ملک یا پارٹی نے بھی کرنا ہے۔ اس لیے جنگ سے پہلے دشمن کو نفسیاتی طور پر شکست دینا اہم ہوتا ہے۔ اس کے اعصاب کو توڑنا ہوتا ہے اور کم سے کم نقصان سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔
اس سوچ کے حامل لوگوں کو عام طور پر بزدل ہی سمجھا جائے گا کیونکہ انسان صدیوں سے خطرات سے کھیلنا یا لڑنا ہی بہادری سمجھتا رہا ہے۔ لہٰذا جب ایسی سوچ سامنے آتی ہے کہ جنگ سے بچا جائے تو پھر یقینی طور پر اس جنرل کو بزدلی کے طعنے ملتے ہیں۔ لیکن تین ہزار سال قدیم چینی جنگی فلاسفی کا ماہر اسے بزدلی نہیں سمجھتا تھا بلکہ اس جنرل کی زبردست ذہنی اور حکمت عملی کا مداح تھا جو بغیر لڑے دشمن کو نفسیاتی طور پر شکست دے کر لڑنے کے قابل نہ چھوڑے‘ کیونکہ جنگ بڑا نقصان لاتی ہے جس کے اثرات قوموں اور ملکوں پر بڑے عرصے تک رہتے ہیں‘ اور بعض ملک یا سلطنتیں تو ڈوب جاتی ہیں‘ جس کی کئی مثالیں قدیم اور جدید دور میں ملتی ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ جنگی طاقت ہونے کے باوجود طاقت کو استعمال نہ کرنا بلکہ حکمت عملی اور سفارتکاری کے ذریعے اپنے جنگی مقاصد حاصل کرنا بہادری ہے۔ خود کو جنگ سے روکنا بڑی بہادری ہے‘ نہ کہ کمزوری۔ یقینی طور پر اس بات کو کتابی ہی سمجھا جائے گا کہ یہ پڑھنے کی حد تک تو بڑا مزہ دیتی ہے کیونکہ یہ بہادری کا ایک نیا تصور ہمارے سامنے لاتی ہے ورنہ تو بہادری کا انسان ایک ہی مطلب سمجھتا ہے کہ جہاں فرشتے بھی چلتے ہوئے احتیاط کرتے ہوں وہاں انسان دوڑتا ہوا جائے‘ نتائج اورخطرات کی پروا کیے بغیر۔ اس بارے میں مشہور شاعر الیگزینڈر پوپ کی نظم کا ایک شعر بھی ہے ''Fools rush in where angels fear to tread‘‘۔ اس طرح کسی اور جگہ پڑھ رہا تھا کہ بیوقوف اور سمجھدار میں کیا فرق ہے۔ وہاں لکھا تھا کہ بیوقوف نتائج کے بارے نہ سوچتا ہے نہ وہ سوچ سکتا ہے جبکہ ذہین انسان اپنے کسی بھی عمل سے پہلے اس کے نتائج سوچ سکتا ہے‘ لہٰذا وہ خطرات کا اندازہ لگا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم انسانوں کو بھی وہی بیوقوف پسند آتے ہیں جو خطرات میں کود جائیں۔ ہم ان کو ہی اپنا ہیرو سمجھتے ہیں۔ انہیں بہادر کا ٹائٹل دیتے ہیں۔ سمجھدار لوگ تو ڈرپوک اور بزدل سمجھے جاتے ہیں بلکہ یہ محاورہ بھی ہے کہ قسمت بھی بہادر لوگوں کا ساتھ دیتی ہے اور جو نتائج سوچتے رہے ہوں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ جتنے بڑے خطرات اتنے بڑے فوائد بھی انسانوں یا ملکوں کی گود میں گرتے ہیں۔ انڈیا کو ہی دیکھ لیں کہ پچھلے سال مئی کی جنگ شروع کرنے سے پہلے اس کا پوری دنیا میں کیا رعب دبدبہ اور اثر و رسوخ تھا۔ پوری دنیا ان کے ساتھ کاروبار کرنے کیلئے تیار تھی اور بھارتیوں کا تکبر اور غرور آسمان کو چھو رہا تھا۔ ان کے سیاستدان یا حکمران جماعت سے لے کر ٹی وی چینلز یا سوشل میڈیا پیجز تک ہمارا مذاق اڑا رہے تھے۔ لہٰذا انہوں نے بغیر نتائج کا اندازہ لگائے پاکستان پر حملہ کیا اور پھر سب نے دیکھا کہ اس تین ہزار سال پرانے چینی جنگی ماہر کی بات سچی نکلی کہ بہادر جنرل جنگ سے بچتا ہے۔ اب وہی بھارت پوری دنیا میں ہزیمت کا سامنا کررہا ہے۔ لیکن میں نے ابھی وزارتِ اطلاعات کا یونیورسٹی طلبہ کیساتھ بنایا گیا ایک وڈیو کلپ دیکھا تو ڈر گیا کہ اس میں افغانوں کے بارے ہتک آمیز الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ تکبر خدا کو پسند نہیں ‘ چاہے وہ ہم کریں یا ہمارے دشمن۔جنگ برُی چیز ہے اس سے بچنا ہی بہادری ہے لیکن اگر لڑنی پڑے تو پورے وقار کے ساتھ لڑنی چاہیے نہ کہ بچگانہ وڈیوز بنا کر دوسروں کے بارے نازیبا الفاظ استعمال کرکے‘ جو ہم سب کیلئے شرمندگی کا سبب بنے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved