تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     01-03-2026

بجلی، گیس اور خطِ افلاس

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوئی گیس کمپنیوں میں گیس چوری اور لیکج سے قومی خزانے کو سالانہ 60 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور یہ بوجھ عوام برداشت کرتے ہیں۔ ایم ڈی سوئی ناردرن نے بتایا کہ سوئی ناردرن کے گیس نقصانات (لیکج اور چوری) 5.27فیصد ہیں اور موجودہ گیس نقصانات کا تخمینہ 30ارب روپے سالانہ ہے۔ سوئی سدرن کے ایم ڈی کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کے سالانہ نقصانات بھی 30ارب روپے ہیں جنہیں 17فیصد سے کم کر کے 10فیصد تک لایا گیا ہے۔ ڈی جی گیس نے بتایا کہ گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرض 3283ارب روپے ہے‘ جس میں 1452ارب لیٹ پیمنٹ سرچارجز شامل ہیں۔ یہی نہیں‘ بجلی کے حوالے سے بھی انکشاف ہوا ہے۔ پتا چلا ہے کہ سالانہ 200ارب روپے کی بجلی چوری کر لی جاتی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بجلی کی اس وسیع پیمانے پر چوری کے سد باب کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔
ایک اور انکشاف یہ ہے کہ ملک بھر کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے مالی سال 2024-25ء کے دوران قومی خزانے کو 472ارب روپے نقصان پہنچایا۔ یہ انکشاف نیپرا کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ترسیلی اور تقسیمی مد میں 265ارب روپے کا نقصان کیا جبکہ 207ارب روپے کا نقصان کم وصولیوں کی مد میں ہوا۔ انکشافات کا سلسلہ یہاں تھما نہیں‘ حال ہی میں ایک اور بڑا انکشاف یہ ہوا کہ پاکستان میں غربت بڑھ کر 28.8فیصد ہو گئی ہے۔ تازہ ترین تخمینوں کے مطابق 2018-19ء میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی اور گزشتہ چھ برسوں کے دوران اس میں تقریباً 6.9فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ خبر بھی نظر سے گزری کہ آئندہ برسوں میں غربت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
مندرجہ بالا سبھی خبروں کا آپس میں کوئی تعلق‘ کوئی انسلاک نظر نہیں آتا لیکن ذرا گہرائی تک جائزہ لیں تو یہ خبریں ایک دوسرے کے ساتھ منطبق و منسلک نظر آئیں گی اور ان کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق بھی محسوس ہونے لگے گا۔ یہ اندازہ لگانے کیلئے ذہن پر بہت زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ جب لوگ دوسروں کی چوری کردہ بجلی اور گیس کا بوجھ جبراً برداشت کریں گے تو ان کے پاس اپنے کھانے جوگا کیا رہ جائے گا؟ جب صارفین اس گیس اور بجلی کی قیمت بھی ادا کریں گے جو انہوں نے استعمال ہی نہیں کی اور جو محکمے کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ضائع جاتی ہے تو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان کے پاس کیا باقی رہ جائے گا؟ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں آئی ایم ایف کے تین استحکام پروگراموں‘ کووڈ19 کے اثرات‘ اجناس کے سپر سائیکلز‘ مہنگائی میں اضافے‘ کم جی ڈی پی ترقی کی شرح‘ دو شدید سیلاب اور گندم کی سپورٹ قیمتوں کو ترک کرنے جیسے مختلف عوامل کی وجہ سے پاکستان میں غربت کی سطح بلند ہوئی لیکن غیر استعمال شدہ اور چوری شدہ بجلی و گیس کو اگر کرپشن قرار دیا جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کرپشن بھی غربت بڑھانے کا ایک بڑا سبب ہے۔ اگر یہ بوجھ نہ ہو تو عوام کا سانس سوکھا نکلے گا اور ان کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا یعنی اپنی ضروریات پوری کرنا آسان ہو جائے گا۔
یہ چوری اور ضائع ہونے والی گیس اور بجلی ہی نہیں ہے جس کا خمیازہ صارفین بھگتتے چلے آ رہے ہیں بلکہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں اور خزانے پر بوجھ بننے والے اداروں کو کندھا بھی عوام ہی دیتے چلے آ رہے ہیں کیونکہ ملک میں جب بھی کوئی مالی بحران پیدا ہوتا ہے‘ کہیں ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں تو حکومتوں اور حکمرانوں کی توجہ سب سے پہلے عوام کی جیب پر ہی مرکوز ہوتی ہے۔ ٹیکس بڑھائے جاتے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتیوں پر کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔ اس طرح سب سے زیادہ متاثر عوام ہی ہوتے ہیں‘ لیکن ان افراد‘ اداروں اور حکمرانوں کو کوئی نہیں پوچھتا جو ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو بعد ازاں مالی بحرانوں کا باعث بنتی ہیں۔ بجلی اور گیس کی چوری ہو رہی ہے تو یہ ایک دم شروع نہیں ہوئی ہو گی یا اگر توانائی کے ان دونوں ذرائع کے لائن لاسز میں اضافہ ہو رہا ہے تو یہ بھی ایک دم شروع نہیں ہو گیا‘ یہ کہیں زیرو سے شروع ہوا ہو گا اور بڑھتے بڑھتے اب اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ ان پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اب جبکہ حالات انتہائی پیچیدہ و خراب ہو چکے ہیں تو اب بھی اصلاحِ احوال کے لیے اقدامات کرنے کے بجائے توجہ عوام کی جیبوں پر ہی مرکوز ہوتی ہے۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے‘ افراطِ زر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘ بے روزگاری کا عفریت قابو سے باہر ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے لوگوں کی قوتِ خرید جواب دیتی جا رہی ہے تو اس کے ذمہ دار ظاہر ہے کہ عوام نہیں ہیں بلکہ وہ ادارے اور ان کے وہ سربراہان ہیں جنہوں نے طویل المیعاد اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام دوست پالیسیاں مرتب کرنے کے بجائے محض ڈنگ ٹپاؤ اقدامات کیے تاکہ ان کا دور پورا ہو جائے۔ آگے کیا ہو گا‘ اس بارے میں کبھی کسی نے نہیں سوچا‘ اور حالات خراب ہوتے ہوتے اب یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ بجلی کی سپلائی کی ذمہ دار کمپنیاں سالانہ اتنا نقصان کر رہی ہیں اور بجلی چوری اور لائن لاسز کے جو پیسے ہیں وہ عوام کی جیب سے پورے کیے جاتے ہیں۔ رہی سہی کسر ذخیرہ اندوز اور منافع خور مافیاز پوری کر دیتے ہیں جو اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے عوام کے حقوق کو روندنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان سارے حالات میں اگر غربت میں اضافہ نہ ہو تو پھر کیا ہو؟ عوام کو اپنی روزی روٹی تو پوری کرنا ہی ہوتی ہے‘ ساتھ ساتھ ناکارہ اداروں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکسز میں چوری کو روکا جائے گا‘ اگلے بجٹ میں ڈائریکٹ ٹیکسز میں کمی کی جائے گی۔ ڈائریکٹ ٹیکسوں میں کمی یقینا حکومت کا ایک اچھا اقدام ہو گا جس کے مثبت اثرات بھی جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر عوام کو گیس و بجلی چوری اور لائن لاسز کے بوجھ سے نجات مل جائے تو عوام کے حالات مزید بہتر ہو سکتے ہیں‘ ان کی قوتِ خرید مزید بڑھ سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ غربت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ عوام پر بوجھ بڑھانے کے بجائے اگر بجلی چوری روکنے کے ٹھوس اقدامات کر لیے جائیں تو خود ان اداروں کا قومی خزانے پر پڑنے والا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔ لائن لاسز روکنا تو متعلقہ محکموں اور اداروں کے لیے چنداں مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ بجلی و گیس چوری اور لائن لاسز روکنے یا کم کرنے کے لیے اب تک متعدد اقدامات کئی بار کیے جا چکے ہیں۔ اس کے باوجود اگر یہ نقصانات کم نہیں ہوئے تو یقینا اس حوالے سے تیار کی گئی پالیسیوں میں کوئی سقم ہو گا۔ یہ سقم دور کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کو خطِ افلاس سے اوپر لانے کے لیے یہ ضروری ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved