تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     01-03-2026

ایران بہانہ‘ پاکستان نشانہ

نائن الیون کے حوالے سے سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل حمید گل کہا کرتے تھے: ''نائن الیون ڈرامہ‘ افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان نشانہ ہے‘‘۔ آج کے گمبھیر اور پیچیدہ حالات کے تناظر میں یہ جملہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ نئی تعبیر اختیار کر گیا ہے کہ ''ایران بہانہ‘ پاکستان نشانہ ہے‘‘۔ اس وقت چار ''الف‘‘ یعنی امریکہ‘ اسرائیل‘ انڈیا اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ پاکستان کے ازلی دشمن‘ گجرات کے قصائی نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت ماں ہے اور اسرائیل باپ۔ اس موقع پر افغان طالبان کیلئے خصوصی امدادی پیکیج کا اعلان اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ہنود و یہود اب مل کر افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ افغانستان عملاً بھارتی پراکسی وار لڑ رہا ہے۔
قارئینِ کرام! آپ کو یاد ہو گا کہ بھارت نے 26فروری 2019ء کو پاکستان میں بالاکوٹ پر حملہ کیا تھا‘ اس بار پھر اس نے افغانستان کے ذریعے پاکستان پر حملے کیلئے 26 فروری ہی کی تاریخ کا انتخاب کیا۔ بھارت کو یہ ٹاسک سونپا گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت پاکستان کو کمزور کیا جائے۔ ایک جانب ایران پر امریکہ اور اسرائیل حملہ آور ہو چکے ہیں اور دوسری جانب بھارت افغانستان کے ذریعے یا براہِ راست پاکستان کو الجھائے رکھنا چاہتا ہے۔ گویا ''ایران بہانہ‘ پاکستان نشانہ ہے‘‘۔ ایران جوہری قوت بننے کی خواہش رکھتا ہے جبکہ پاکستان عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا ایٹمی پروگرام دلِ دشمناں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ پاکستان جس دن سے ایٹمی قوت بنا ہے اس کے کھلے دشمن اور دوستی کا نقاب اوڑھنے والے پوشیدہ مخالفین سب بے چینی کا شکار ہیں۔ بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ بھارت جس شدت سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا مخالف ہے‘ اسی شدت سے امریکہ بھی اس سے ناخوش ہے‘ اگرچہ وہ اپنے خبثِ باطن کا کھلے عام اظہار نہیں کرتا۔ ملک میں داخلی تصادم‘ لاقانونیت اور سیاسی عدم استحکام جیسے ہتھکنڈے دراصل ہمیں ڈی نیوکلیئرائز کرنے کی مذموم حکمتِ عملی کا حصہ ہی ہیں۔
افغانستان پاکستان کے لیے محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی‘ تہذیبی‘ ثقافتی اور مذہبی رشتہ موجود ہے جس کی جڑیں نہایت گہری ہیں۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی‘ جو امارتِ اسلامیہ کے نمائندہ بھی ہیں‘ سے سوال ہے کہ ان کے استاد محترم ملا عمر نے بامیان میں بدھا کے مجسمے توڑے تھے مگر آج انہی بت شکنوں کے وارث اور شاگرد کافر و مشرک کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔ ''افغان باقی کہسار باقی‘‘ کا نظریہ کیا پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے؟ افسوس کہ بت شکنوں کے جانشین بت پرستوں سے معانقہ کر رہے ہیں اور لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم پاکستان پر ہندو بنیے کی ایما پر یلغار کر رہے ہیں۔
پاکستان کو توقع تھی کہ افغانستان سے امریکی انخلا اور افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے خطے میں امن‘ سلامتی اور استحکام کے نئے دور کا آغاز ہوگا مگر اس کے برعکس پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں اور بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی وارداتوں نے امن عمل کو شدید دھچکا پہنچایا۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ اور روسی وزارتِ خارجہ کی رپورٹس میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں داعش خراسان کی شمالی افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب فعالیت اور اس کی قابلِ ذکر صلاحیت کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق افغانستان میں 20سے 23ہزار دہشت گرد موجود ہیں جن میں نصف سے زائد غیرملکی ہیں۔ داعش کے تقریباً تین ہزار جبکہ ٹی ٹی پی کے پانچ سے سات ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود بتائے گئے ہیں۔ القاعدہ‘ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر گروہ افغانستان میں اپنے تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں۔ افغانستان القاعدہ کیلئے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ القاعدہ کے مراکز افغان صوبوں غزنی‘ لغمان‘ کنڑ‘ ننگرہار‘ نورستان‘ پروان اور ارزگان میں موجود بتائے جاتے ہیں جبکہ داعش خراسان نے مشرقی و شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں اور اس کا طویل مدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیلاؤ ہے۔ جنوری 2026ء میں کابل میں ایک چینی ریسٹورنٹ پر دھماکہ داعش کی موجودگی کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ افغانستان سے بیرونی ممالک میں منشیات کی سمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق افغانستان کی صورتحال خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ روس نے افغان طالبان کی ناجائز حکومت کو کیوں تسلیم کر رکھا ہے؟ اور اب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ امریکہ اپنا اسلحہ کابل میں اس لیے چھوڑ کر گیا تاکہ وہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو سکے۔
کہا جاتا ہے کہ احسان فراموش سب سے پہلے اپنے محسن کو نشانہ بناتا ہے‘ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے اس مقولے کو سچ ثابت کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب دنیا نے ان سے منہ موڑ لیا تھا تب بھی پاکستان نے افغانوں کو تنہا نہیں چھوڑا۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد افغانستان نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا مگر 1979ء میں سوویت مداخلت سے لے کر طالبان کے دوسرے دور تک پاکستان نے 1951ء کے عالمی کنونشن اور 1967ء کے مہاجرین پروٹوکول پر دستخط کیے بغیر محض انسانی ہمدردی‘ بھائی چارے اور ہمسائیگی کی بنیاد پر 60لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ بدلے میں پاکستان کو دہشت گردی‘ سرحدی حملے‘ بھارتی ایما پر افغان سرزمین سے سازشیں‘ نفرت انگیز بیان بازی ملی۔ افغانستان نے بھارت کو اپنی سرزمین پر سرگرمیوں کی اجازت دی؛ کابل میں بھارتی قونصل خانے قائم ہوئے جو بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے تربیتی مراکز کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔ نریندر مودی نے افغان قیادت‘ فوج اور انٹیلی جنس کے اذہان کو ہمیشہ زہر آلود کیے رکھا‘ جس کے باعث پاکستان کی جانب سے قیامِ امن کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے لیے خیر سگالی کا اظہار کم ہی دیکھنے میں آیا۔ 2021ء میں برسرِ اقتدار آنے والی افغان عبوری حکومت کا چہرہ اب پاکستان کے مخالف کی صورت میں عیاں ہو چکا ہے‘ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا کسی مشرک کی یاری میں مسلمانوں پر حملہ جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
طالبان حکومت پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کرے اور بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے سے گریز کرے۔ آپریشن ''بنیانٌ مرصوص‘‘ کے تحت افواجِ پاکستان نے بھارت کے اندر اہم سٹریٹجک اہداف کو بغیر کسی بڑے نقصان کے کامیابی سے نشانہ بنایا اور دشمن کو چاروں شانے چت کیا۔ اسی طرح ''آپریشن غضب للحق‘‘ کے تحت افواجِ پاکستان کی طرف سے افغان طالبان رجیم کی 104چوکیاں تباہ کیں‘22 پر قبضہ کیا‘ دو کور ہیڈکوارٹرز‘ تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز‘ دو ایمونیشن ڈپو‘ ایک لاجسٹک بیس‘ تین بٹالین اور دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ 80سے زائد ٹینکس‘ آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کیے گئے۔ پاکستان کے خلاف اس شیطانی اتحاد کی ہر سازش ناکام ہو رہی ہے اور افواجِ اس کی راہ میں ایسی سیسہ پلائی دیوار ہے جس سے یہ عناصر ٹکرا کر پاش پاش ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved