تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     02-03-2026

انا للہ وانا الیہ راجعون

آیت اللہ خامنہ ای عالمِ پیری میں جواں مردوں کی طرح دنیا سے رخصت ہوئے:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
خامنہ ای شہید نے استقامت دکھائی اور عزیمت کی ایک ایسی داستان کو دہرایا جو ہم ماضی کے قصوں میں پڑھتے ہیں۔ انہوں نے جسے درست سمجھا‘ اس پر قائم رہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ میں وحشت وبربریت کا ایک نیا باب رقم کیا۔ نیتن یاہو نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ ازلی کو سچ ثابت کیا جو اس کی قوم کے لیے عالم کے پروردگار نے جاری کیا ہے۔ ہمیشہ کی ذلت اور مسکنت اس قوم کا مقدر ہے۔ نیتن یاہو اس قوم کا نمائندہ ہے۔ اس نے امریکی مقاصدکی تکمیل کے لیے خود کو پیش کیا اور بدلے میں ذلت خریدی۔ اسرائیل آنے والے وقت میں انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا بنا رہے گا۔ امریکی صدر نے بھی ایک بار پھر زبانِ حال اور زبانِ قال سے یہ بتایا کہ اخلاقی قدروں سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ انسانی جانوں کی اس کی نظر میں کوئی وقعت نہیں اور وہ ایک بے رحم سوداگر ہے۔ وہ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے ایک قوم کو تاراج کر سکتا ہے۔
مقدمہ سادہ ہے۔ دنیا اس وقت جس عالمی نظم کے تحت قائم ہے‘ اس میں یہ ضابطہ بنا دیا گیا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی حدود میں آپ کو مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ اگر کبھی اس کی ضرورت پڑ جائے تو اس کے لیے اقوامِ متحدہ سے اجازت ضروری ہے۔ عالمی قانون نے سرحدوں کو تقدس بخشا ہے۔ ایران کے خلاف اقدام کے لیے اس طرح کی کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ پہلے اسے کھلی دھمکیاں دی گئیں اور اس کے بعد اچانک حملہ کر دیا گیا۔ امریکہ اور اسرائیل اعلانیہ اس جرم کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے کھلے لفظوں میں اس کا اعتراف کیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس الزام کے تحت یہ حملہ کیا گیا‘ وہ محض الزام ہے۔ ایران ہمیشہ سے یہ کہتا رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ حدود سے تجاوز کا کوئی مقدمہ اس کے خلاف ثابت نہیں ہے۔ چوتھی بات یہ کہ امریکہ اس سے پہلے بھی ایران پر حملہ کر چکا اور اس وقت اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کی ایٹمی تنصیبات تباہ کردی ہیں۔ اس کے بعد‘ ا گر اس کا مقدمہ درست مان لیا جائے تو بھی‘ اس دوسرے حملے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ آخری بات یہ کہ اگر دنیا کے دوسرے ممالک کو ایٹم بم بنانے کا حق حاصل ہے تو ایران کو کیوں نہیں؟
رہا ایران کا داخلی بحران‘ تو امریکہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے۔ ایران کے عوام کیا چاہتے ہیں‘ اس کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔ کوئی دوسرا ملک یہ طے نہیں کر سکتا کہ اقتدار کس کے پاس ہونا چاہیے۔ پھر یہ کہ اس باب میں امریکہ کی منافقت ساری دنیا پر عیاں ہے۔ حسینہ واجد لوگوں کا عدالتی قتل کرتی رہی ہے۔ ساری دنیا دہائی دیتی رہی مگر امریکہ نے بنگالیوں کو اس ظلم سے نجات کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اسرائیل مسلسل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی بے حرمتی کرتا آیا ہے مگر امریکہ نے کبھی اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ اس لیے یہ مقدمہ بھی بدنیتی پر مبنی ہے کہ امریکہ ایرانی عوام کا نجات دہندہ بن کر آیا ہے۔ یہ اسی طرح کی آزادی ہے جو صدام حسین کو قتل کر کے‘ عراقی عوام کو دلائی گئی۔ اس لیے اس مقدمے میں بھی کوئی جان نہیں۔
امریکہ کا یہ اقدام‘ لہٰذا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اخلاقی اور قانونی قدروں کی صریحاً پامالی ہے۔ صدر ٹرمپ کے نزولِ ثانی کے بعد‘ دنیا جس طرح مزید غیر محفوظ ہو گئی ہے‘ یہ واقعہ اس کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ جس طرح طاقت کے سامنے بے اثر ہے‘ یہ اس کا بھی پریشان کن اظہار ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت امریکہ کے سامنے سب بے بس ہیں۔ روس کی اوقات بس اتنی ہے کہ ایک مذمتی بیان داغ دے۔ چین کو صرف اپنے معاشی استحکام سے دلچسپی ہے۔ عالمی امور میں سرِ دست وہ کوئی کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ بھی صرف مذمتی بیان ہی جاری کر سکتا ہے۔ ان سب باتوں نے مل کر اس کو ناگزیر بنا دیا ہے کہ دنیا کسی نئے عالمی نظام کی طرف پیش رفت کرے۔ بیسویں صدی میں جو نیا عالمی نظام بنا تھا‘ اس کی ناکامی بارہا ثابت ہو چکی۔ روس اور چین اگر کھل کر امریکہ کا سامنا نہیں کر سکتے تو ایک نئے عالمی سیاسی نظام کی بات تو کر سکتے ہیں۔
اس حادثے سے یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوئی کہ انسان کی فطرت آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھی۔ اخلاقی قدروں سے بے نیازی اسے آج بھی حیوان کے درجے میں لا کھڑا کرتی ہے۔ تہذیب کے نام پر اس نے جو سرخی پائوڈر لگا رکھا ہے‘ واقعات کی بارش اسے مسلسل دھوتی رہتی ہے۔ اندر سے اس کا تاریک تر نفس ظہور کرتا ہے اور اس کی درندگی نمودار ہو جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ اس کا شاکلہ نہیں بدلا‘ صرف طریقۂ واردات بدلا ہے۔ اس سے ان لوگوں کے نقطہ نظر کی تردید ہوتی ہے جو انسانی شخصیت کو حالات کے تابع ایک متغیر وجود سمجھتے ہیں۔ دنیا میں آج بھی اسی طرح ہابیل وقابیل پیدا ہوتے ہیں جس طر ح آدم کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ جب کسی کا داخلی تزکیہ نہ ہوا ہو تو اس کی وحشت درندوں سے کم نہیں ہوتی۔ ہم نے فلسطین اور ایران میں اس کی جھلکیاں دیکھ لیں۔
میں ابھی تک اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ امریکی نظام ایک شخص کے ہاتھوں یرغمال کیسے بنا۔ اس طرح کے واقعات کے عواقب سے وہاں کے اہلِ سیاست اور نظام چلانے والے یقینا واقف ہیں۔ اس سے اگر دنیا میں ماورائے ریاست انتقام کے جذبات پیدا ہوں تو یہ بعید از عقل نہیں ہو گا۔ اس واقعے نے امریکی زوال کے عمل کو مہمیز دی ہے اور اسے مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ امریکی جمہوریت ایک شخص کو من مانی سے نہیں روک سکی۔ گیلپ کا تازہ ترین سروے بتاتا ہے کہ پہلی بار امریکیوں میں فلسطینیوں کی حمایت 57 فیصد ہو گئی ہے۔ وینزویلا کے صدر کا اغوا اور جناب خامنہ ای کی شہادت مل کر امریکہ کے بارے اس منفی تاثر کو جلا بخشیں گے جو پہلے سے موجود ہے۔ یہ امریکی سیکولرازم کی بھی شکست ہے‘ جو ایک ایسے شخص کو اقتدار میں آنے سے روک نہیں سکا جو خود کو کسی قانون اور اخلاقی ضابطے کا پابند نہیں سمجھتا اور شدید متعصب ہے۔
ایران اس انجام سے کیوں دوچار ہوا؟ ایران اگر خلیجی ممالک کو ہدف نہ بناتا تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا؟ کیا ایران اس حادثے سے بچ سکتا تھا؟ یہ سوالات آج میرا موضوع نہیں۔ ان پر ان شاء اللہ بات ہو گی لیکن بعد میں۔ آج سوگ کا موقع ہے۔ دل اداس ہے۔ کاش یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ کاش ہماری تاریخ میں ایک نئے المیے کا اضافہ نہ ہوتا۔ آنے والے دن مزید تکلیف دہ دکھائی دے رہے ہیں۔ سرِ دست ان کے تجزیے پر بھی دل آمادہ نہیں۔ میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ جانے والوں کی مغفرت فرمائے۔ ایرانی قوم کو مزید آزمائشوں سے محفوظ رکھے۔ اسے وہ قیادت عطا فر مائے جو اسے بحرانوں سے نکال سکے۔ للہ تعالیٰ دنیا کو فسادیوں سے نجات دلائے۔ نیتن یاہو اور اس کی قوم مشرقِ وسطیٰ کے دل کا ناسور بن چکے‘ اللہ تعالیٰ اس قوم کی ذلت ا ور مسکنت میں اضافہ کرے‘ جس نے اپنی بداعمالیوں کے سبب‘ ایک بار پھر خود کو اس کا مستحق ثابت کیا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved