جنگ کے خدشات کا اظہار کئی بار اس صفحہ پر کرتا رہا ہوں۔ گزشتہ مضمون میں بھی مرکزی نقطہ یہی تھا مگر ہمارے ملکوں کی قیادت‘ اندر کی کہانیاں اور کچھ اہم کمزوریوں کا بھی ذکر تھا۔ جنگوں کی زد میں آنے والے ملکوں کی فہرست میں افغانستان‘ عراق (دو مرتبہ)‘ لیبیا‘ شام اور اب ایران بھی شامل ہو چکا۔ گزشتہ دو تین سالوں میں یمن اور جنوبی لبنان بھی اس کی زد میں آئے اور ابھی تک وہاں آگ کے شعلے ٹھنڈے نہیں ہوئے۔ غزہ میں خطے کی جدید تاریخ کی سب سے ہولناک نسل کشی پوری دنیا نے دیکھی۔ ان تمام ممالک اور واقعات میں کوئی بھی ملک جنگ نہیں چاہتا تھا مگر جنگیں مسلط کی گئیں۔ یہ کوئی راز نہیں کہ کس نے وہ جنگیں شروع کیں۔ اسرائیل اور امریکہ مشرقِ وسطیٰ کی تزویراتی افراتفری میں یک جان دو قالب رہے ہیں۔ یہ کہنا عبث ہے کہ سوچ اور مفاد کس کا تھا اور تباہی کے اسباب اور وسائل کس نے مہیا کیے اور تعاون کتنا گہرا تھا۔ یوں سمجھیے کہ اسرائیل نے امریکی طاقت کو اپنے مفاد کیلئے اس طرح استعمال کیا جیسے یہ بڑی طاقت اس کے ہاتھ کی چھڑی ہو۔ ابھی تو سوچوں پر‘ زبان کھولنے پر اور کچھ لکھنے پر مغرب میں ریشمی پردے طاقت کے زور پر پڑے ہوئے ہیں‘ جب کبھی کوئی تاریخ کے دریچے کھول کر حقائق کو دیکھے گا تب بات کھلے گی کہ وہاں اندر کی طاقت کے وسائل کو کیسے ایک مخصوص گروہ نے اسرائیل کے قیام سے لے کر اسے علاقے کا سب سے طاقتور ملک بنانے میں استعمال کیا۔
ایرانی انقلاب کے بعد خطے کے ممالک میں دھڑے بندی ہوئی اور ایک انجانے خوف اور گدی نشینی کے مفادات کے تقاضوں کے مطابق کچھ ممالک امریکی دفاعی چھتری کے سائے میں چلے گئے۔ ان کی تاریخی روایت بھی یہی تھی‘ مگر تیل کی دولت اور بُرج بنا کر دنیا کے سامنے جدید شہر بسانے اور چمکانے کی دھن نے بغل گیری کی گرفت کو اور مضبوط کر دیا۔ ان سب ممالک نے ہزاروں ارب ڈالر کا جدید اسلحہ خرید ا‘ امریکہ کو فوجی اڈے دیے اور اس کے شجر سے وابستہ رہ کر ابدی بہار کے خوابوں میں رہنے لگے۔ گزشتہ دو سالوں میں آپ نے ایک بڑے معاہدے کے بارے میں سنا ہوگا کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے تیار تھے جن کی حرمت کی قسمیں کھائی جاتی رہی ہیں۔ بات کچھ بگڑ گئی اور ایران کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔ اس دوران جو غزہ میں خون کی ندیاں بہائی گئیں‘ لبنان‘ شام اور یمن میں تباہی پھیلائی گئی وہ اس بڑی جنگ کی تیاری تھی جو آج آپ ایران کے خلاف دیکھ رہے ہیں۔
پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ ایران نے جنگ سے بچنے کی پوری کوشش کی اور وہ جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کرنے کیلئے بھی تیار تھے‘ مگر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ عزائم کچھ اور تھے۔ جب انہوں نے اپنے بحری بیڑوں کا رخ خلیج فارس کی طرف کر دیا اور ہر نوع کا فوجی ساز وسامان علاقے میں واقع اپنی عسکری تنصیبات میں جمع کرنا شروع کیا تو یہی آثار نظر آ رہے تھے۔ مقصد واضح تھا کہ ایران میں اسلامی حکومت کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ دیرینہ خواہش ہے‘ اور ابھی تک کئی کاوشیں ناکام رہی ہیں۔ پہلے ذرا چند سطور میں خطے کی دیگر ایسی جنگوں کے سیاسی اور سماجی نتائج کا مختصر ذکر کریں‘ جہاں سوائے افرا تفری‘ فساد‘ بے چینی اور تباہی کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ جو قیادت اور حکومت اسرائیل اور امریکہ کی آنکھوں میں چبھتی تھی وہ تو اپنی جانوں کی قربانی دے گئی‘ لیکن کہیں بھی امن وسکون‘ سلامتی اور اچھے دن نہ آئے۔ ملک اندر سے تقسیم کیے گئے‘ متحارب دھڑے لسانی‘ گروہی اور قبائلی بنیادوں پر مسلح کیے گئے اور قومی یکجہتی کے تمام تاریخی نشانات مٹا دیے گئے۔ جن کا ذکر اوپر ہو چکا‘ ان کو تھوڑی دیر کیلئے ٹکٹکی باندھ کر دیکھیں تو تباہی اور فساد کے مظاہر آپ کے سامنے کھل کر آ جائیں گے۔ جیسے امریکی قیادت ایران میں رجیم چینج کو جنگ کے بنیادی مقاصد میں مرکزی خیال بتا رہی ہے‘ سوائے تباہی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پہلی بات جو ذہن میں رکھنی چاہیے وہ یہ کہ ایران ایک مختلف ملک ہے۔ اس کی تاریخی ساخت‘ قومی روایت اور تزویراتی طاقت کے وسائل نہ محدود ہیں اور نہ ہی اپنے ملک تک محیط ہیں۔ اس کی جغرافیائی اکائی تاریخی طور پر گہری اور اس کا مرکزی‘ سماجی گروہ ''ایرانی‘‘ اس کی سیاسی طاقت‘ معیشت اور ثقافت کا امین رہا ہے۔ اسے اندر سے توڑنا اور تقسیم کرنا اتنا آسان نہ ہو گا جتنا آپ کچھ بیرونی طاقتوں کی نعرہ بازی میں دیکھتے ہیں۔
ایرانی قیادت اور حکومت کے عہدیدار شہید بھی کر دیے جائیں تو بھی میری رائے میں ایران کمزور ملکوں کی طرح دھڑام سے نیچے نہیں گرے گا۔ ابھی تو کچھ نہیں کہہ سکتے کہ امریکہ اور اسرائیل کب تک جنگ جاری رکھیں گے اور کتنی تباہی وہ برپا کر سکیں گے‘ لیکن ایک بات واضح ہے کہ ایران کے ریاستی اورآ ئینی ادارے مضبوط ہیں اور ان میں مشکل ترین حالات میں بھی تسلسل جاری رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ایران اور اس کی قوم کیلئے یہ جدید تاریخ کی بہت بڑی آزمائش ہے۔ امریکہ چاہتا ہے اور اس کی تمام تر کوشش یہی ہو گی کہ وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو‘ لوگ باہر نکل کر حکومت کا تختہ الٹ دیں‘ یا پھر فوج یا پاسدارانِ انقلاب میں سے قیادت سامنے آ کر گھٹنے ٹیک دے۔ ایسی جنگوں میں خوف‘ لالچ اور موقع پرستی غالب آ جاتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایسے ہی رجحانات سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ غزہ کو ہی دیکھ لیں کہ کوئی عمارت‘ ہسپتال اور نہ کوئی بازار اور خور ونوش کا سامان رہنے دیا۔ 80 ہزار فلسطینیوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی اور ابھی تک یہ قربانیاں جاری ہیں۔ ایران‘ دیکھیں قربانیوں کی کیسی تاریخ رقم کرتا ہے۔ اس درویش کی اس ملک کی تاریخ‘ ثقافت اور قومی روایت سے جیسی واقفیت ہے اس کی بنیاد پر یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ امریکی اور اسرائیلی خوابوں کی تعبیر وہی ہو گی جو اکثر سڑک پر بیٹھے طوطا فال والے سائلوں کو ملتی ہے۔
اگر گزشتہ مضمون آپ نے نہیں دیکھا تو صرف آخری سطر دوبارہ لکھ دیتا ہوں۔ 'اگر خدا نخواستہ ایران گر گیا تو اپنی باریوں کا انتظار کرنا ہوگا‘۔ جو کچھ ایران کے ساتھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں کسی اور ملک کو تشویش ہو نہ ہو ہمیں بہت فکرمند ہونے کی ضرورت ہے۔ ایران اپنے مرکز سے کبھی نہیں ٹوٹے گا‘ مخالف جتنا بھی زور لگا کر دیکھیں۔ افراتفری اس کے کنارے کے صوبوں میں پھیلائی جائے گی۔ عراق کے خلاف پہلی خلیجی جنگ کے بعد کردوں کو ایک علیحدہ خودمختار علاقہ دے کر ان کی حفاظت کی ذمہ داری امریکیوں نے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ آج بھی وہ اس کے سائے میں جی رہے ہیں۔ایران میں بھی ممکنہ طور پر شمال مغرب میں کردوں اور جنوب مشرق میں بلوچوں میں سے اتحادیوں کو تیار کرنے کی طویل منصوبہ بندی کی جاتی رہی ہے۔ بیانیے ہمیشہ محرومیوں‘ شکایات‘ عدم اطمینان اور سیاسی حقوق کے پُرکشش ہتھیاروں سے تراشے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں مقامی کارندوں کے ذریعے اتارے جاتے ہیں۔ فرقہ بندی‘ زبان ولباس کا فرق پورے زور وشور سے ایک علیحدہ قوم کی شناخت کا مجسمہ کھڑا کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ بڑی اور طویل جنگوں میں یہ گروہ ہر جگہ اپنے بیرونی آقائوں کے ایما پر حالات کو سازگار سمجھ کر وار کرتا ہے۔ جیسا کہ آپ ایرانی اور اپنے بلوچ علاقوں میں عسکریت پسندی کا مسلسل رجحان دیکھتے آئے ہیں‘ اس کے تانے بانے کچھ بیرونی طاقتوں کے علاقائی اور استعماری منصوبوں سے جدا نہیں ہیں۔ اس خطے کی وسیع تر تزویراتی بساط کو اگر ہم دور اندیشی کی عینک سے دیکھیں تو ایران کی جغرافیائی سلامتی‘ اس کا استحکام اور امن ہمارے اپنے قومی مفاد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ دیکھیں آنے والے دنوں اور ہفتوں میں جنگ کی کیا صورتحال بنتی ہے۔ ایران کو بہرحال یہ جنگ موجودہ حالات میں خود ہی لڑنا پڑے گی اور صبر واستقامت اور قربانیوں کے جذبے کے ساتھ اپنا وجود قائم رکھنا ہوگا۔ ایسی آزمائشوں میں دوستوں اور دشمنوں کے چہرے بھی واضح ہوں گے۔ دعا ہے کہ ایران سرخرو ہو۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved