مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر بارود کی لپیٹ میں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے نے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ جس ملک کی تقریباً 909 کلومیٹر سرحد پاکستان سے لگتی ہے‘ وہاں جنگ کا اثر پاکستان پر خاصا گہرا ہو سکتا ہے۔ کشیدگی مزید بڑھنے سے سرحدی سکیورٹی اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دفاعی اخراجات بڑھیں تو ترقیاتی اخراجات سکڑ سکتے ہیں‘ یوں معاشی ترجیحات کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ ایران جنگ سے سب سے پہلا جھٹکا تیل کی عالمی منڈی کو لگا ہے۔ جنگ کے فوراً بعد عالمی تیل مارکیٹ میں شدید بے چینی دیکھی گئی اور خام تیل کی قیمت 70 ڈالر سے 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو یہ قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہیں۔ ایران نہ صرف خود تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے بلکہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے‘ جہاں سے دنیا کا بیشتر تیل گزرتا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے‘ جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی آئے گی۔ پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے‘ اس لیے تیل کی ہر عالمی لہر ملک میں مہنگائی کے طوفان میں بدل جاتی ہے۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے سے زیادہ کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ دنوں کشیدہ حالات کے باعث پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔ موجودہ جنگی حالات میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے‘ اس کے اثرات اگلے مہینوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہو گا تو لازمی بات ہے کہ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو گی‘ ڈیزل مہنگا ہوگا تو زرعی لاگت بھی بڑھ جائے گی۔ بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا‘ جس سے صنعت اور گھریلو صارفین‘ دونوں متاثر ہوں گے۔ کشیدہ حالات کی وجہ سے پاکستان سٹاک ایکسچینج پہلے ہی تقریباً 22 ہزار پوائنٹس گر چکی ہے۔ آج (پیر کے روز) بھی مارکیٹ منفی جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان حالات میں سونے کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال میں سونے میں سرمایہ کاری سب سے زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ ملک میں پہلے ہی سرمایہ کاری منفی میں ہے اور جنگ کی صورت میں بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری میں مزید کمی کا خدشہ ہے۔ پاکستانی معیشت میں ترسیلاتِ زر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ مالی سال 2024-25ء میں پاکستان کو تقریباً 30 ارب ڈالر کے قریب ترسیلات موصول ہوئیں‘ جن میں سے تقریباً 55 سے 60 فیصد سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر اور کویت جیسے خلیجی ممالک سے موصول ہوئیں۔ رواں سال ترسیلاتِ زر کا تخمینہ 40 ارب ڈالر تک ہے لیکن اگر خطے میں کشیدگی لمبے عرصے تک جاری رہی تو ترسیلات زر میں اضافے کے بجائے کمی آ سکتی ہے۔
ایک طرف سرحد کے اُس پار جنگ جاری ہے اور دوسری طرف پاکستان میں معاشی حالات پر بحث بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ حکومت کے اعداد وشمار کچھ بہتری دکھا رہے ہیں‘ مگر عام آدمی کی سوچ مختلف ہے۔ اپسوس سروے کے مطابق زیادہ تر لوگوں نے معیشت کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ صرف 23 فیصد پاکستانی سمجھتے ہیں کہ معیشت مضبوط ہے‘ جبکہ 60 فیصد لوگوں کی رائے ہے کہ معیشت کمزور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی بہتری کے دعووں کے باوجود عوام کو ابھی تک اپنے حالات میں فرق محسوس نہیں ہو رہا۔ سب سے تشویشناک بات سرمایہ کاری کا خوف ہے۔ تقریباً 84 فیصد افراد سرمایہ کاری کرنے سے ڈرتے ہیں اور صرف 16 فیصد لوگ موجودہ حالات میں سرمایہ لگانے کو تیار ہیں۔ سروے میں جو بات سب سے زیادہ تشویشناک ہے وہ 95 فیصد لوگوں کا بڑی خریداری سے خوف ہے۔ یہ صرف غربت کا مسئلہ نہیں بلکہ مستقبل کے بارے میں بے یقینی کی علامت بھی ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں اسی مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کاروبار کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ جب بڑے سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال محسوس کریں گے تو عام شہری بھی پیچھے ہٹ جائے گا۔ پاکستان کو ایسے معاشی ماڈل کی ضرورت ہے جو صرف اعداد وشمار کو نہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی بہتر بنا سکے۔ تبھی ترقی پائیدار ہوتی ہے جب عام شہری بھی بہتر محسوس کرے۔
پلاننگ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق غربت کی شرح بڑھ رہی ہے اور تقریباً 28.8 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ ترقی کا مطلب صرف شرح نمو کی ترقی نہیں ہوتا بلکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری ہونا بھی ضروری ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ بھی یہی بتاتی ہے کہ پاکستان کی معیشت ترقی کے باوجود غربت کم کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ عملی سطح پر مہنگائی میں کمی نہ ہونا اور آمدنی کی غیر مساوی تقسیم ہے۔ کارپوریٹ منافع تو بڑھا‘ مگر حقیقی اجرتیں وہیں رہیں یا مہنگائی کے مقابلے میں قوتِ خرید کم ہو گئی۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو یہ ایک طرح کا خاموش ٹیکس بن جاتا ہے‘ جو عام شہری کی قوتِ خرید کو کم کر دیتا ہے۔ ریاستی اشرافیہ نے خود کو مہنگائی سے محفوظ کر رکھا ہے۔ بیورو کریسی اور اسمبلی ممبران کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں غیر معمولی اضافے ہوں یا اعلیٰ سرکاری افسران کی مراعات‘ ان پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاتا۔ جب ریاستی اخراجات کم کرنے کی بات آتی ہے تو بوجھ نچلے طبقات پر ڈالا جاتا ہے مگر اوپر کی سطح پر مراعات اور الائونسز میں کوئی کمی نظر نہ آتی۔
معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے اس وقت وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا مسئلہ موضوع بحث ہے لیکن این ایف سی ایوارڈ میں فوری اور بڑی تبدیلی مشکل دکھائی دے رہی ہے کیونکہ صوبوں کو اپنے حصے میں کمی پر تحفظات ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی تسلیم کیا ہے کہ موجودہ 57.5 فیصد صوبائی حصہ فی الحال تبدیل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ملک میں اصل مسئلہ پیسے کی تقسیم کا نہیں بلکہ معیشت کو بہتر بنانے کا ہے۔ اگر ٹیکس وصولی بڑھ جائے تو تقسیم کے لیے زیادہ وسائل موجود ہو سکتے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام اپنی مکمل صلاحیت استعمال نہیں کر رہا۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں اور ٹیکس اہداف میں فرق بڑھ رہا ہے۔ اس وقت تقریباً 450 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔ صوبوں کو صرف رقم دینے کے بجائے ترقیاتی ذمہ داریوں میں شریک کر کے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر صوبے اور وفاق مل کر کام کریں تو معیشت کا مجموعی حجم بڑھ سکتا ہے۔ وفاق اور صوبوں کی چپقلش سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ملک کی معیشت کا مجموعی حجم بڑھایا جائے‘ کیونکہ اگر آمدنی ہی کم رہی تو تقسیم کے لیے پیسہ بھی کم رہے گا۔
حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کے دور میں ایک اہم قانون سازی کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا نے ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نئے قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی گئی۔ یہ ادارہ پہلے ہی ایک آرڈیننس کے تحت عارضی طور پر کام کر رہا تھا۔ اس قانون کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو مارکیٹ کو قانون کے دائرے میں لانا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا تحفظ ہو سکے اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ قانون کے مطابق بغیر لائسنس ورچوئل اثاثوں کی سروسز دینے والوں کو پانچ سال تک قید یا پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح مارکیٹ میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ضابطے اتنے سخت نہ ہوں کہ نئی ٹیکنالوجی اور سٹارٹ اَپس کی ترقی رک جائے۔ یہ قانون پاکستان کے لیے ایک موقع بھی ہو سکتا ہے اور ایک امتحان بھی۔ اگر حکومت نے ڈیجیٹل فنانس کو درست طریقے سے سنبھال لیا تو سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں‘ لیکن اگر ریگولیشن زیادہ سخت یا غیر واضح ہوئی تو مقامی مارکیٹ کا ترقی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved