تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     02-03-2026

ادبی افق کا چاند

میں 1975ء میں لندن کے مغربی مضافات میں ہیتھرو ایئرپورٹ کے پاس ایک صنعتی شہر سلائو میں آباد ہوا۔ سلائو کے قریب ایک قصبہ ہے جس کا نام Isleworthہے‘ جہاں اردو کے مشہور ناول نگار (اُداس نسلیں کے مصنف) عبداللہ حسین رہتے تھے۔ اُن سے تعارف ہوا اور پھر دوستی۔ ہر ماہ ایک ملاقات ضرور ہو جاتی۔ ایک دن اُنہوں نے فون کیا کہ اگر اس اتوار کی دوپہر کو آجائو تو فہمیدہ ریاض سے ملاقات ہو جائے گی۔ میرے پاس فہمیدہ کی شاعری کی کتاب 'بدن دریدہ‘ تھی جو کئی بار پڑھ چکا تھا اور اُن کے مداحوں میں اپنا نام لکھوا چکا تھا۔ جس بہادری اور جرأت کا اظہار عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں کیا تھا‘ شاعری میں مجھے اُس کی جھلک فہمیدہ کے ہاں نظر آئی۔ اُن کی لکھی ہوئی نظمیں اپنی جگہ‘ مجموعہ کلام کا نام (بدن دریدہ) ہی چونکا دینے والا تھا۔ ہمارے منافقت‘ دوغلاپن اور گھٹن کے مارے معاشرے میں کسی خاتون کی جانب سے شاعری میں سب سے پہلے بغاوت کا عَلم فہمیدہ نے بلند کیا۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس مجموعہ کی دو تین نظمیں کتنے بڑے ہنگامے کا باعث بنیں۔ لگتا تھا کہ ایک بھونچال آگیا۔
اُس ملاقات سے فہمیدہ ریاض سے ملاقاتوں کا دروازہ کھل گیا۔ وہ مغربی لندن میں رہتی تھیں۔ ہر دو تین ماہ بعد کار میں آدھ گھنٹے کا سفر کر کے اُنہیں ملنے چلے جاتا۔ ایک بار عبداللہ حسین بھی ساتھ گئے۔ میں اُنہیں جب بھی ملتا اُن سے فرمائش کرتا کہ اپنی ایک نظم سنائیں۔ وہ ایک کے بجائے دو سناتیں۔ اُنہیں شعر لکھنے کا ہی نہیں‘ شعر سنانے کا سلیقہ بھی آتا تھا۔ مہمانوں کو مسالا دار چائے اور گرما گرم کباب کھلاتیں اور پھر پوچھتیں کہ چائے اور کباب کیسے تھے؟ اچھے لگے تو اور لائوں؟ میں جواباً کہتا کہ چائے شاعری جتنی مسالا دار ہے اور کبابوں جیسی گرما گرم۔ وہ قہقہہ لگاتیں اور کہتیں کہ آپ اتنے دقیانوس اور مردانہ برتری پر ایمان رکھنے والے میل شائونسٹ ہیں کہ آپ کو میری شاعری میں وہ جنسی رنگ نظر آتا ہے‘ جس کا اشعار لکھنے والی کے دماغ میں وہم وگمان تک نہ تھا۔ یہ بے حد خوشگوار ملاقاتیں کافی عرصہ جاری رہیں۔وہ عمر میں مجھ سے دس برس چھوٹی تھیں‘ اس لیے میں اپنے آپ کو ان کا بزرگ سمجھتا تھا اور اس بزرگی کا فائدہ اُٹھا کر اُن سے مزاحیہ باتیں بھی کر لیتا تھا مگر فہمیدہ نے ہمیشہ حفظِ مراتب کا خیال رکھا۔ اُن کی یہ خوبی اُن کی عزت مزید بڑھانے کا موجب بنی۔ فہمیدہ کی ساری شاعری کا خلاصہ چار الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے ''میرا جسم میری مرضی‘‘۔ یہ وہ باغیانہ نعرہ ہے‘ جو فہمیدہ کی ہم خیال خواتین نے تین چار عشروں کے بعد پاکستان میں بلند کیا۔ عبداللہ حسین کی طرح فہمیدہ سے میری دوستی کی بنیاد ذہنی ہم آہنگی پر تھی۔ آئیے آپ کو فہمیدہ سے متعارف کراتا ہوں۔
28 جولائی 1946ء کو اُترپردیش کے شہر میرٹھ کے ایک ادبی ذو ق والے پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ والد صاحب (ریاض الدین احمد) ماہر تعلیم تھے۔ اُنہوں نے صوبہ سندھ کے لیے جدید نظام تعلیم مرتب کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ تقسیم ہند کے بعد یہ گھرانہ حیدرآباد (سندھ) میں آباد ہو گیا۔ بدقسمتی سے چار برس کی عمر میں فہمیدہ کے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ گیا۔ فہمیدہ کی تعلیم اور پرورش کی ذمہ داری اُن کی والدہ نے بخوبی نبھائی۔ تعلیم اور کالج کے دوران انگریزی‘ اُردو‘ سندھی اور فارسی ادب کا وسیع مطالعہ کر کے فہمیدہ نے اپنے ذہنی اُفق کو وسیع کیا۔ تعلیم مکمل ہوئی تو فہمیدہ ریڈیو پاکستان سے بطور نیوز کاسٹر وابستہ ہو گئیں۔ وہ اپنی والدہ کے حکم کی تعمیل میں ان کے پسند کردہ شخص سے شادی کر کے برطانیہ آئیں۔ برطانیہ میں قیام کے دوران فہمیدہ بی بی سی کی عالمی اُردو سروس کے ساتھ جزوقتی وابستہ ہوئیں۔ اسی دوران ایک کالج میں داخلہ لے کر فلم سازی میں ڈگری حاصل کی اور ایک بیٹی کی ماں بنیں۔ بدقسمتی سے یہ شادی زیادہ دیر نہ چل سکی۔ (نجی گفتگو میں وہ اکثر ذاتی زندگی میں خوشی اور محبت کے فقدان کا اشارتاً ذکر کرتی تھیں) جب معاملات طلاق تک پہنچے تو وہ اپنی بیٹی کو لے کر پاکستان چلی گئیں۔ بعد ازاں اُنہوں نے ظفر علی اُجان‘ جو ایک بائیں بازو کے سیاسی کارکن تھے‘ سے شادی کر لی‘ جس سے ان کے دو بچے پیدا ہوئے۔ اپنا سیاسی جریدہ (آواز) شائع کرنے سے پہلے فہمیدہ نے کراچی میں ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں کچھ عرصہ کام کیا۔ یہ دور جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء کا تھا۔ فہمیدہ کا رسالہ بند کر دیا گیا۔ میاں بیوی پر جھوٹے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ فہمیدہ‘ اُن کے شوہر اور تین بچوں کا پاکستان میں رہنا ناممکن ہو گیا تو اُن کو مجبوراً بھارت میں سیاسی پناہ لینا پڑی۔ وہ اپنے رشتہ داروں کی مہمان نوازی کی بدولت سات برس بھارت میں رہیں۔ فہمیدہ کی دوست امرتا پریتم نے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی سے خصوصی سفارش کی کہ اُنہیں طویل قیام کا خصوصی ویزہ دیا جائے۔ وہ جامعہ ملیہ یونیورسٹی (دہلی) سے بطور شاعرہ وابستہ ہو گئیں اور اس دور میں اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ بھارت جانے سے قبل اُن پر اور اُن کے شوہر پر دیگر مقدمات کے ساتھ لوگوں کو بغاوت پر اُکسانے کے مقدمات بھی درج کئے گئے تھے۔ فہمیدہ تو ضمانت قبل از گرفتاری لینے میں کامیاب رہیں مگر ان کے شوہر کو جیل جانا پڑا۔ رہائی کے بعد وہ بھی کسی بہانے بھارت جانے میں کامیاب رہے۔ضیا دور ختم ہوا اور بینظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں تو فہمیدہ اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ پاکستان واپس آگئیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ تنگ نظری‘ عدم برداشت اور خواتین کو مساویانہ درجہ دینے سے انکار کی پالیسی فہمیدہ کے پاکستان سے مفرور ہونے کا باعث بنی اور بالکل یہی وجوہات اُن کے بھارت چھوڑنے کی ذمہ دار تھیں۔ 8 مارچ 2014ء کو دہلی میں ایک مذاکرہ ہوا جس میں فہمیدہ نے جو کمال کی نظم پڑھی اُس کا عنوان تھا: ''تم بالکل ہم جیسے نکلے‘‘۔ ہندوتوا کی فسطائی تحریک اتنا زور پکڑ رہی تھی کہ فہمیدہ کے لیے بھارت میں سکون سے زندگی گزارنا ممکن نہ رہا تھا۔ یہاں مجھے ایک بھولا بسرا مصرع یاد آیا:
جب دیا دکھ بتوں نے تو خدا یاد آیا
فہمیدہ کو پہلے پاکستان چھوڑنا پڑا اور پھر بھارت‘ مگر وجوہات یکساں تھیں۔ فہمیدہ نے 72 برس عمر پائی اور بہت سے دکھ اُٹھا کر 21 نومبر 2018ء کو لاہور میں ابدی نیند سو گئیں۔ اُن کی لکھی ہوئی نثر‘ نظم کے سات مجموعے (پتھر کی زبان‘ بدن دریدہ‘ کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے؟‘ میں مٹی کی مورت ہوں‘ یہ خانہ آب و گل‘ سب لعل و گوہر اور تم کبیر) شائع ہوئے۔ فہمیدہ کو کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات اور انعامات ملے۔ 1998ء میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی طرف سے Hammett Grant ملا۔ حکومت سندھ کی طرف سے شیخ ایاز ایوارڈ‘ حکومت پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفامنس‘ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے کمالِ فن ایوارڈ ملا۔
دنیا کے کسی بھی حصے میں خواتین جب بھی اپنے حقوق کے تحفظ کی خاطر مزاحمتی اور احتجاجی تحریک چلائیں گی‘ وہ فہمیدہ کے بیانیے کی تجدید اور تائید کریں گی۔ فہمیدہ کی ایک اور خوبی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہو گی۔ اُنہوں نے نہ صرف سندھی زبان پر عبور حاصل کیا بلکہ شاہ عبداللطیف بھٹائی اور شیخ ایاز کے کلام کا اُردو میں ترجمہ بھی کیا۔ انتظار حسین نے فہمیدہ پر جو کمال کا مضمون لکھا‘ اُس کے ایک اقتباس پر اختتام کرتا ہوں: ''دھرتی سے کٹا ہوا آدمی جب اپنے وجود کو دوبارہ دھرتی کی بو باس اور نمک میں پیوست کرنے کیلئے ریاض کرتا ہے تو ان بولوں کی کھوج کرتا ہے جو اس کی میراث تھے اور جو بے رحمی سے اس کی نوکِ زبان سے جھپٹ لیے گئے تھے۔ حلال میراث کی کھوج میں موجودہ اُردو سے گزر کر جسے وہ اپنی بولی کی طبقاتی شکل سمجھتی ہیں‘ وہ لوک گیتوں‘ کبیر اور تلسی داس کی بولی تک پہنچنا چاہتی ہیں۔ اس کے ساتھ وہ سندھ کے لوک کلچر (ثقافت) اور بولی سے بھی رشتہ پیدا کرنا چاہتی ہیں‘‘۔
نجانے ادبی افق پر دوسری فہمیدہ کا چاند کب طلوع ہوگا؟ ہوگا بھی یا نہیں؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved