ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ عسکری حملے اور اس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے ان تمام خدشات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ عالمی قوتوں کا اصل ہدف ایران میں رجیم چینج تھا۔ یہ واقعہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسی سٹرٹیجک تبدیلی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ ایران میں انقلاب کے بعد سے ہی عالمی طاقتیں تہران کے نظام کو اپنے مفادات کیلئے خطرہ سمجھتی آئی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ایران کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کیلئے متعدد کوششیں کی گئیں‘ معاشی پابندیوں کا سہارا لیا گیا‘ اندرونی خلفشار کو ہوا دی گئی تاہم جب یہ تمام حربے ناکام ثابت ہوئے تو اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر اس انتہائی قدم کا فیصلہ کیا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای محض ایک سیاسی لیڈر نہیں تھے بلکہ وہ ایران کے نظریاتی دفاع کی علامت تھے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری سانس تک عالمی قوتوں کے تسلط کے خلاف چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ ان کی شہادت اسی ثابت قدمی کی قیمت ہے جو انہوں نے اپنے اصولوں کیلئے ادا کی۔ دنیا بھر کے دفاعی تجزیہ کاروں کیلئے یہ سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ تہران جیسے ہائی سکیورٹی زون میں اسرائیل اور امریکہ ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے میں کیسے کامیاب ہوئے۔ تہران کے ایک انتہائی محفوظ کمپاؤنڈ میں ہونے والی اس اعلیٰ سطح میٹنگ کی اطلاع اور وہاں آیت اللہ خامنہ ای کی موجودگی کا درست وقت معلوم کر لینا کسی بہت بڑی انٹیلی جنس دراندازی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حملے کے چند گھنٹوں بعد ان کی شہادت کی باقاعدہ تصدیق بھی کر دی گئی جو اس آپریشن کی درستی اور منصوبہ بندی کی عکاسی کرتی ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ایران پر اس بڑے حملے کی باقاعدہ منصوبہ بندی دسمبر 2025ء میں شروع ہو چکی تھی جب نیتن یاہو نے فلوریڈا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ یہ وہی وقت تھا جب ایران اندرونی طور پر پُرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں تھا اور اسرائیل اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے پر تول رہا تھا۔ صدر ٹرمپ 14 جنوری کو حملوں کی منظوری دینے والے تھے مگر آخری لمحات میں کچھ تزویراتی وجوہات کی بنا پر فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیلی عسکری قیادت اور امریکی حکام کے درمیان ملاقاتوں کا ایک طویل سلسلہ چلا جس کا محور مشترکہ فوجی کارروائی تھا۔ اس کارروائی کیلئے جنیوا میں ہونے والے عالمی مذاکرات سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل 28 فروری کا دن چنا گیا۔ اسرائیل اور امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ اگر ایران کو اس آپریشن کی ذرا بھی بھنک پڑ گئی تو سپریم لیڈر زیرِ زمین چلے جائیں گے اور آپریشن ناکام ہو جائے گا۔ تاہم آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی سکیورٹی پر منڈلاتے خطرات کے باوجود اپنے معمولاتِ زندگی کو تبدیل نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے واضح بادل منڈلانے کے باوجود ایران اپنی اعلیٰ ترین قیادت کو محفوظ بنانے کیلئے وہ اقدامات نہ کر سکا جو ایسے حالات میں ناگزیر ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سپریم لیڈر کی شہادت سے اسرائیل کا رجیم چینج کا خواب پورا ہو جائے گا؟ زمینی حقائق اس کے برعکس اشارہ کر رہے ہیں۔ منصوبہ ساز اس زعم میں مبتلا تھے کہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کے لوگ رجیم چینج کیلئے باہر نکلیں گے۔ لوگ باہر ضرور نکلے مگر رجیم چینج کیلئے نہیں بلکہ اپنے سپریم لیڈر کے دکھ میں اور موجودہ قیادت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قوم اور پاسدارانِ انقلاب میں غم و غصے کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے اور ایرانی مزاحمت میں غیرمعمولی تیزی آ گئی ہے۔ کل تک جو سفارتی ماہرین افہام و تفہیم کی امید لگائے بیٹھے تھے‘ آج وہ بھی مان رہے ہیں کہ خطہ ایک ایسی کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا انجام ہولناک تباہی پر ہی ہو گا۔ یہ خدشات سچ ثابت ہو رہے ہیں کہ ایران پر حملہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس وقت جنگ کے شعلے متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ کویت‘ بحرین اور سعودی عرب تک پہنچ چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا کر سفارت خانہ بند کر دیا ہے‘ جو دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات کے خاتمے کا اعلان ہے۔ جنگ کے اثرات صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ سمندری گزرگاہیں بھی غیرمحفوظ ہو چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز اور دیگر تجارتی راستوں پر منڈلاتے خطرات نے تیل کی عالمی سپلائی چین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر یہ جنگ مزید چند دن جاری رہی تو عالمی تجارت شدید متاثر ہو گی اور اس کے معاشی اثرات پوری دنیا کو کساد بازاری کی طرف دھکیل دیں گے۔
ایران کا پڑوسی ہونے کے ناتے پاکستان اس صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والا حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد اور داخلی سلامتی کے حوالے سے کتنا سنجیدہ ہے۔ اجلاس میں عسکری و سیاسی قیادت نے ایران کی صورتحال اور افغانستان کی جانب سے جاری سرحدی جارحیت کا جائزہ لیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دو مارچ کا دورۂ روس مؤخر کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تعزیتی بیان میں جہاں ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا وہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر گہری تشویش بھی ظاہر کی۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی ریاست کے سربراہ کو نشانہ بنانا بین الاقوامی مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
خامنہ ای کی شہادت کے بعد احتجاج کی لہر پاکستان سے لے کر امریکہ کے شہروں تک پھیل چکی ہے جو اس واقعے کی عالمی حساسیت کو ظاہر کرتی ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے یا موت کیلئے تیار رہنے کی وارننگ دے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ آپریشن چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے‘ ان کے خیال میں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا آسان ہو گیا ہے تاہم ایران کے آرمی چیف جنرل امیر حاتمی کا یہ بیان کہ ایرانیوں کو غلام بنانے کا خواب قبروں میں جائے گا‘ ایران کے عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے بھی کہا ہے کہ اب امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ایران اس وقت اپنی پوری قوت کے ساتھ خلیج میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے کیونکہ ایران کے خلاف زیادہ تر حملے انہی اڈوں سے ہو رہے ہیں۔ اگر یہ جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو ایران کے پاس متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ پر جوابی حملوں کا اخلاقی اور دفاعی جواز موجود ہو گا۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عرب ممالک نے کبھی بڑی عسکری مزاحمت کا مظاہرہ نہیں کیا اور ایران ان کی اس کمزوری سے بخوبی واقف ہے‘ لیکن کیا اس صورتحال کے باوجود ایران اپنی استقامت برقرار رکھ پائے گا اور کیا خلیجی ممالک اس جنگ کی تپش کو برداشت کر سکیں گے؟ اسرائیل اور امریکہ کا اندازہ ہے کہ قیادت کے خاتمے سے ایران ٹوٹ جائے گا لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ نظریاتی تحریکیں شہادتوں سے ختم نہیں ہوتیں ‘مزید توانا ہوتی ہیں۔ ایران پر حملہ عالمی امن کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کیلئے یہ وقت انتہائی نازک ہے جہاں انہیں اپنی سکیورٹی کے ساتھ ساتھ ایک مشکل سفارتی توازن بھی برقرار رکھنا ہے۔ آنے والے چار سے پانچ ہفتے اس خطے کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یہاں امن کی کوئی شمع روشن ہو گی یا یہ پورا خطہ بارود کے ڈھیر میں بدل جائے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved