کچھ کرناتو دور کی بات ہے کچھ مناسب کہنے کی صلاحیت بھی مملکتِ خداداد سے جا رہی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ اسحاق ڈار گلف ریاستوں پر ایرانی حملوں کو بلاجواز کہہ رہے ہیں لیکن امریکی جارحیت کیلئے مناسب الفاظ اُنہیں نہیں مل رہے۔ گلف میں صورتحال خطرناک ہو گئی ہے لیکن یہ قصہ کس بلاجواز اور منافقانہ جارحیت سے شروع ہوا اُس بارے اسحاق ڈار آئیں بائیں شائیں سے کام لے رہے ہیں۔ پوری عرب دنیا لگتا ہے امریکہ کی کاسہ لیسی کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسلامی دنیا کی واحدایٹمی قوت کی حالت یہ ہے کہ لاچاریاں اتنی معاشی مجبوریاں اتنی کہ جو عزت اور وقار کا سٹینڈ لینا چاہیے وہ نہیں ہو پا رہا۔ یہ کوئی عام سی جارحیت ہم نہیں دیکھ رہے‘ امریکہ اور اسرائیل ایران کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہاں کی اسلامی حکومت کو بدلنا چاہتے ہیں۔ یہاں اس احساس کی کمی ہے کہ ایران کی تباہی ہو گئی تو پاکستان کا حال کیاہوگا۔ اسی صفحے پر خالد مسعود نے کل لکھا کہ ایران میں امریکی اسرائیلی عزائم پورے ہوتے ہیں تو اسرائیل کی عملاً سرحد بلوچستان تک آن پہنچے گی۔ لیکن یہاں اللے تللوں سے کام لیا جا رہا ہے کہ امریکہ ناراض نہ ہو جائے‘ دوست عرب ممالک کسی بات کا بُرا نہ منا جائیں۔ اس کوشش میں جو بڑی تصویر ہے یعنی امریکہ اسرائیل حملے کی اُس سے صرفِ نظر کیا جا رہا ہے۔
اتنا تو نظر آنا چاہیے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ ایرانی خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر ایرانی لیڈروں کے قاتل کون ہیں؟ غزہ میں بربریت کا ذمہ دار اسرائیل ہے مگر اسرائیل کو امداد کہاں سے ملی؟ وہ اسلحہ بارود کہاں سے آیا؟ اور پاکستان کی حالت تو دیکھئے یہ سب جانتے ہوئے صدر ٹرمپ کی شان میں وہ وہ قصیدے پڑھے گئے کہ دیکھ اور سن کر شرم آتی ہے۔ ٹرمپ کو بھی دیکھئے کہ چالبازی کا اتنا ماہر کہ دو تین تعریفی کلمات پاکستان کی طرف ادا کر دیے اور ہمارے لوگ آپے سے باہر ہو گئے۔ اتنی عقل تو ہونی چاہیے کہ سلاطینِ اقتدار دیکھ سکیں کہ پاکستان کا حقیقی مفاد کس میں ہے‘ علاقے کی سالمیت میں یا بے معنی تعریفی الفاظ میں؟ اسلامی دنیا کے حوالے سے امریکہ نے کون سی کسر چھوڑی ہے؟ کیا عراق‘ کیا لیبیا‘ کیا شام سب کو امریکی عزائم کی تکمیل میں تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن آفرین ہو اسلامی دنیا پر کہ سب کچھ دیکھ کر سربراہانِ اُمہ مجسمے بنے رہے۔ اور یہ جو ہمارے تیل کی دولت سے لدے دوست عرب ممالک ہیں اسی دولت نے ان کیلئے خوف کاسامان پیدا کیا ہے۔ امریکی اسلحہ خرید کر نڈھال ہو گئے لیکن جو آگ کے شعلے اب اُٹھ رہے ہیں اُن میں وہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ اسلحے کے انبار کچھ خاص کام نہیں آ رہے۔
اور جو امریکیوں اور اسرائیلیوں نے سوچ رکھا تھا کہ بمباری کے نتیجے میں قیادت مٹ جائے گی اور اُس کے مٹنے سے اسلامی ریاست ختم ہو جائے گی‘ یہ خام خیالی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر لیڈروں کی شہادت کے بعد بغیر کسی مشکل کے قیادت کی تبدیلی ہو چکی ہے اور ایران کے عزم اور استقامت میں جیسا کہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے‘ ذرا سی لغزش نہیں آئی۔ سائبر کی دنیا اس جاری جنگ پر تبصروں سے بھری پڑی ہے لیکن بیشتر یہی کہہ رہے ہیں کہ اسلامی ریاست کہیں جانے والی نہیں اور نقصان ایران کو جو بھی ہو جنگ جاری رہے گی۔ اور اس کا دورانیہ لمبا ہوتا ہے تو نقصان امریکہ کا ہو گا۔ امریکہ اسرائیل نے جو کرنا تھا کر دیا‘ اور کتنی بمباری کریں گے؟ حوثیوں پر امریکہ نے بمباری کا آغاز کیا تھا اور ایک مہینے میں اندازہ ہوا کہ اسلحہ اور میزائل بہت خرچ ہو رہے ہیں جس کا امریکہ متحمل نہیں ہو سکتا۔ اُس ایک ماہ کے آپریشن میں امریکہ کا ایک بلین ڈالر خرچ ہو گیا تھا۔ امریکی اور اسرائیلی میزائلوں کی تعداد لامحدود نہیں۔ ایران کے میزائل بھی لامحدود نہیں لیکن اُس کے پاس اتنے ہیں کہ تھوڑی سی ٹُک ٹُک سے پورے علاقے میں کہرام مچتا رہے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای کا فتویٰ تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ایران ایک نئے جوہری معاہدے کے لیے تیار ہو گیا تھا‘ عمان کے وزیرخارجہ نے اس بارے دنیا کو تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل حملے پر تُلے ہوئے تھے اور حملہ اُنہوں نے کر دکھایا۔ اب جو ہوتا ہے دیکھا جائے گا اور جو نتائج اس بڑھتی ہوئی شورش کے رونما ہوتے ہیں وہ سب کو بھگتنے پڑیں گے۔ لیکن اتنی بات تو واضح ہو جانی چاہیے کہ ایران گھٹنے نہیں ٹیک رہا۔ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے کھڑا ہے اور اپنی ہمت سے باقی اسلامی دنیا کو شرم دلا رہا ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ایک عجیب صورتحال میں اس نے اپنے آپ کو ڈال دیا ہے۔ اسلحہ بارود‘ جوہری صلاحیت کس کام کی ‘اس نازک مرحلے میں جب ایک ہمسایے پر کھلی جارحیت ہو رہی ہے ہمیں تو اُس کی امداد کرنی چاہیے‘ بے شک کھلے بندوں نہیں درپردہ ہی سہی۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایرانی قیادت کو ہماری حمایت کا یقین ہو‘ جو کچھ ہم اُن کے لیے کر سکیں وہ کریں۔ دوست عرب ممالک کے ساتھ ہمارے الگ تعلقات ہیں لیکن حق اور سچ کا کچھ تو خیال رکھا جائے۔ امریکہ کا گھمنڈ انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ سارے آثار بتا رہے ہیں کہ ایران وہ میدان ہوگا جس میں اس گھمنڈ کا کچھ علاج ہو سکے۔ دوست عرب ممالک کیلئے بھی یہ جنگ سبق ثابت ہوگی کہ امریکہ پر اندھے انحصار سے ان ممالک کو حاصل کیا ہوا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنا سارا دھیان اس جنگ کی طرف رکھے۔ لیکن پاکستان کے اپنے ہاتھ افغانستان میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک طالبان پاکستان اور طالبان حکومت نے جارحیت کی تمام حدیں کراس کر لیں لیکن کھلی اور اعلانیہ جنگ تو آخری حربہ ہونا چاہیے۔ اُس سے پہلے دیگر راستے ڈھونڈنے چاہئیں تاکہ کوئی حل نکل سکے۔ جب ترکیہ اور قطر کی وساطت سے دوحہ اور استنبول میں طالبان حکومت سے مذاکرات ہوئے تھے تو ہمارے نمائندوں خاص طور پر خواجہ آصف کا لہجہ ہی عجیب تھا۔ تحکمانہ انداز میں اور الٹی میٹم کی زبان استعمال کرتے ہوئے کوئی مذاکرات ہو سکتے ہیں؟ وہاں طالبان نمائندوں نے زبانی کلامی وعدے کئے کہ ٹی ٹی پی کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستانی وفد کا مؤقف تھا کہ تحریری ضمانتیں دی جائیں۔ لگتا یوں تھا کہ زبردستی اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔ ایسا کبھی ہوتا ہے؟ ٹی ٹی پی کے بارے میں پاکستانی شکایات جائز ہیں لیکن مسئلہ طویل مدتی ہو اور ایسا کہ اُس میں اپنا کچھ قصور بھی بنتا ہو تو پھر دھیرے سے اور لچک سے ہی کام چلتا ہے۔ اب جو صورتحال پیدا ہو چکی ہے جتنی دیر رہے اُس میں نقصان پاکستان کا ہے۔ اب بھی ضرورت ہے کہ گولا بارود کی زبان استعمال نہ ہو اور بات چیت کے ذریعے کوئی راستہ ڈھونڈا جائے۔ بارڈر پر پاکستان ایک انچ پیچھے نہ ہٹے لیکن دور اور اندر کی بمباری پر سوچنا چاہیے کہ اس سے کیا حاصل ہوگا۔
ایک بات ذہن نشین رہے‘ سیاسی جمود جو پاکستان میں کارفرما ہے اُسے ختم کرنا پڑے گا۔ اظہارِ رائے اورآئینی سیاست کو جو جکڑ کر رکھا ہوا ہے اُس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ اِس پر اہلِ نظر کچھ غور فرمائیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved