نئی عالمی صورتحال میں پاکستان سب سے زیادہ مشکل کا شکار ہے۔ اگرچہ پچھلے سال مئی کی جنگ نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بحال کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ آج کل دنیا بھر میں ملکوں یا قوموں کی عزت ان کی معیشت سے ہوتی ہے لیکن ہماری اکانومی بھلے خراب ہے لیکن اس جنگ کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کو وائٹ ہائوس مدعو کیا۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں کیلئے بے چین تھے۔ انہیں لگا کہ پاکستان آرمی ہی ان کا تحفظ کرسکتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تو پاکستان نے باقاعدہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی کیا‘ جس کے جواب میں متحدہ عرب امارات نے بھارت کے ساتھ ملتے جلتے معاہدے کیے۔ تاہم ایران پر امریکی حملوں کے بعد اگر کوئی ملک سب زیادہ مشکل کا شکار ہے تو وہ پاکستان ہے۔ یقینی طور پر پاکستان کی ملٹری اورسیاسی قیادت پر دبائو ہوگا کہ ان حالات میں وہ کیا ریاستی پالیسی اپناتے ہیں‘ خصوصاً جب معاملہ ایران اور سعودی عرب میں جنگ تک پہنچ گیا۔ بات صرف یہاں تک نہیں رکتی بلکہ ایران مشرقِ وسطیٰ کے تمام ملکوں پر میزائلوں یا ڈرون سے حملے کر چکا اور کر رہا ہے۔ اگرچہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف امریکی اڈوں پر حملے کر رہا لیکن اب دبئی اور سعودی عرب میں سویلین ٹارگٹس پر حملے ہو رہے ہیں۔ ایران پر بھی اسرائیلی اور امریکی حملوں میں سویلین بڑی تعداد میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ ایک سکول پر حملے میں ڈیڑھ سو معصوم بچے شہید ہو گئے‘ جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت الگ سے ایرانیوں کے لیے شدید غم کی گھڑی ہے۔ اب جب خطے میں جنگ پھیلتی جا رہی ہے‘ بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کس سائیڈ پر کھڑا ہو؟
میرے خیال میں پاکستان کے پاس نیوٹرل رہنے کے امکانات بڑی تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کو جلد یا بدیر کوئی پوزیشن لینا پڑے گی‘ خصوصاً اگر سعودی عرب اور ایران کے مابین صورتحال خراب ہوئی۔ ایران سمجھتا ہے کہ اس پر امریکی اوراسرائیلی حملہ کرانے میں مڈل ایسٹ کے کچھ ممالک کا بھی ہاتھ ہے‘ لہٰذا اب وہ ان پہ بھی حملہ کر رہا ہے‘ جس سے جنگ مزید خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان اگر سعودی عرب پر ہونے والے حملوں میں نیوٹرل رہتا ہے تو یقینی طور پر سعودی خوش نہیں ہوں گے کیونکہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کھل کر ان کا ساتھ دے اور ان حملوں کی مذمت کرے۔ پاکستان اگر سعودی عرب کا ساتھ دیتا ہے تو جنگ پاکستان تک پھیل سکتی ہے اور ملک کے اندر حالات خراب ہوسکتے ہیں۔
اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کارڈ کھیلا ہے اور سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کو فون کر کے حملوں کی مذمت کی ہے اور عربی زبان میں ایک ٹویٹ بھی کیا ہے۔ سعودی عرب کو اس وقت احساس دلایا گیا کہ بھارت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ اگرچہ اس ٹویٹ میں مودی نے ایران کا نام نہیں لیا لیکن واضح ہے کہ سعودیوں کا ماننا ہے کہ ان پر حملہ ایران کی طرف سے کیا گیا۔ دوسری طرف پاکستان کی طرف سے ان حملوں کی مذمت نہیں کی گئی کیونکہ وہی بات کہ پاکستان اس وقت ایران کے ساتھ صورتحال خراب نہیں کرنا چاہتا۔ پاکستان بہت احتیاط سے چل رہا ہے کہ کوئی چھوٹا سا جذباتی بیان یا غلطی اسے جنگ میں دھکیل سکتی ہے اور پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ خصوصاً جب اسرائیل کے حملے پاکستانی سرحد سے کچھ دور‘ ایران کے مختلف علاقوں میں ہو رہے ہیں۔
دوسری طرف یہ بات سب کیلئے حیران کن ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس اتنی ناکام کیوں ثابت ہوئی کہ انہیں اسرائیلی حملوں کا پتا ہی نہیں چل سکا اور ان کی ٹاپ مذہبی اور فوجی قیادت اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں ختم ہو گئی۔ ایران میں بھی اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ کیسی انٹیلی جنس ہے کہ آپ خود تسلیم کر رہے کہ اداروں کے اندر موساد کے ایجنٹس موجود ہیں اور انہوں نے اسرائیل کا کام آسان کیا۔ دنیا کی تاریخ میں انٹیلی جنس کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ایران ہی کی مثال لیں تو میں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لکھی کہ کیسے سکندر نے اپنے دور کی سب سے بڑی‘ ایرانی سلطنت کو فتح کرنے سے پہلے انٹیلی جنس سے کام لیا تھا۔ سکندر کے ایران کی طرف رخ کرنے کی بھی دلچسپ کہانیاں ہیں۔ یونان کا سکندر اپنے باپ فلپس کی عدم موجودگی میں‘ مقدونیہ میں ہر اس جگہ موجود ہوتا تھا جہاں کچھ لوگ دور دراز سے آئے ہوتے تھے۔ وہ ان مسافروں سے ان کے آبائی علاقوں کے بارے میں پوچھتا۔ اسے سکندر کی عادت کہیں یا شوق کہ وہ باہر سے آنے والے ہر مسافر یا تاجر سے ایک ایک تفصیل پوچھتا کہ ان کا ملک کتنا بڑا ہے‘ زمین کتنی زرخیز ہے‘ وہاں کتنی قوموں کے لوگ آباد ہیں‘ ان کے آپس میں کیا اختلافات ہیں‘ وہاں تک پہنچنے کا راستہ کون کون سا ہے‘ قصبے اور گائوں کہاں کہاں ہیں‘ راستے میں کتنے دریا یا پہاڑ پڑتے ہیں اور ان کو لوگ کیسے عبور کرتے ہیں۔ وہ لوگوں سے ایک ایک بات پوچھتا۔ سب سے بڑھ کر وہ یہ پوچھتا کہ ان علاقوں کے اہم لوگ کون کون سے ہیں۔ دیکھا جائے تو آج کی جدید زبان میں نوجوان سکندر معاشی‘ علاقائی‘ سٹرٹیجک انٹیلی جنس اور خطے کے بارے معلومات اکٹھی کر رہا تھا جو بعد میں اس کے کام آئیں جب اس نے اُس ایرانی سلطنت‘ جو اپنے دور کی بہت بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی‘ کو فتح کرنے کیلئے فوجی چڑھائی کی۔ اگرچہ ایران کو فتح کرنے میں سکندر نے یونان کے اُن خونخوار قبائل سے فوج اکٹھی کی تھی جو مقدونیہ کے شاہی خاندان کے وفادار تھے لیکن یہ بات اہم ہے کہ سکندر نے حملہ کرنے سے پہلے ایران کی سلطنت سے متعلق سب معلومات حاصل کی تھیں اور سلطنت کے کمزور حصوں پر جہاں حملہ کیا‘ وہیں اس نے سلطنت کی باہمی چپقلش‘ دشمنیوں اور لڑائی جھگڑوں سے فائدہ اٹھایا۔ قوموں پر حملوں سے پہلے تقسیم کرنے کی حکمت عملی میں بھی لوکل انٹیلی جنس کا اہم کردار ہوتا ہے۔ آخر سکندر نے ایران کی اُس سلطنت کو فتح کر لیا جس کے بارے اس نے کبھی یونان میں آئے لوگوں سے شعوری یا لاشعوری طور پر انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کی تھیں۔ سکندر کی عادت تھی کہ کسی بھی مہم جوئی کے وقت تیس کلومیٹر دور تک اپنے جاسوس پہلے ہی بھیج دیتا جو خبریں لاتے کہ آگے کیا صورتحال ہے۔ وہ تجارتی قافلوں اور مسافروں کو بھی پکڑ کر پوچھ گچھ کرتا کہ جن علاقوں کی طرف فوج لے کر جا رہا تھا وہاں انہوں نے کیا دیکھا۔ سب سے بڑھ کر اس ملک یا علاقے میں فیصلہ کرنے والے کون ہیں۔ سکندر پہلے ہی سے فہرست تیار رکھتا تھا کہ اس ملک کے اہم اور فیصلہ ساز کون ہیں۔
سکندر نے ہمیشہ انسانی انٹیلی جنس کو ہتھیار بنایا جبکہ اس کے مقابلے ہلاکو خان نے اپنی دہشت کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ہلاکو خان کی دہشت اس سے پہلے سفر کرتی تھی اور لوگ بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیتے تھے لیکن معافی تب بھی نہ ملتی تھی‘ جیسے بغداد کے خلیفہ معتصم باللہ کے ساتھ ہوا جس نے اس شرط پر شہر کے گیٹ کھولے کہ اس کی جان بخشی کی جائے گی۔ ہلاکو نے شرط مان لی! جونہی منگول فوج کیلئے گیٹ کھولے گئے سب سے پہلے معتصم باللہ کو اذیت ناک طریقے سے ہلاک کیا گیا۔ اب دیکھا جائے تو اسرائیل نے بھی ایران کے ساتھ وہی کیا ہے جو سکندر نے ہزاروں سال پہلے ہیومین انٹیلی جنس کی مدد سے شہنشاہ دارا کے ساتھ کیا تھا۔ اسرائیل کو جنگ سے زیادہ ایران پر انٹیلی جنس میدان میں برتری رہی۔ سوال یہ ہے کہ ایران نے ہزاروں سال پہلے سکندر اور دارا کی جنگوں سے کیا سبق سیکھا؟ ان کے ہاں ایسی کیا خوفناک کمزوری ہے جس سے اس کے دشمن آج تک فائدہ اٹھاتے آئے ہیں؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved