تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     27-11-2013

سرخیاں‘ متن اور زکریا شاذؔ

ڈرون حملوں پر آخرکار امریکہ کو 
جھکنا پڑے گا... پرویز رشید 
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ''ڈرون حملوں پر امریکہ کو آخرکار جھکنا پڑے گا‘‘ اور کم از کم روزِ قیامت سے پہلے پہلے یہ واقعہ ضرور رونما ہو جائے گا جبکہ اس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ امریکہ آئندہ یہ حملے جھک کر کرتا رہے اور اس سلسلے میں پوری پوری عاجزی کا مظاہرہ کرے اور ایک بار پھر کہے کہ وہ ہماری سرحدوں اور خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''حکومت ہر سطح پر دبائو بڑھا رہی ہے‘‘ جس میں مالی دبائو بطور خاص شامل ہے کہ ہم اُس پر اپنی ضروریات کا بوجھ ہی اس قدر ڈال دیں گے کہ وہ تنگ آ کر ڈرون حملوں سے باز آ جائے۔ انہوں نے کہا کہ ''حملوں کے حوالے سے ہمارا موقف اصولی ہے‘‘ اگرچہ امریکہ کا موقف بھی خاصا اصولی ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو ہمارا موقف زیادہ اصولی ہے کہ ویسے بھی ہمارے سارے کام اصولی ہی ہوتے ہیں جس کے بارے میں وزیراعظم صاحب خود بھی کئی بار اعلان کر چکے ہیں کیونکہ کام کی بجائے بیان دینا بھی ہمارے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں دنیا نیوز سے گفتگو کر رہے تھے۔ 
عمران خان کا پاکستان کے لیے کسی طرح کی جدوجہد میں کوئی حصہ نہیں... عاصمہ جہانگیر 
سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ ''عمران خان کا پاکستان کے لیے کسی طرح کی جدوجہد میں رَتی برابر حصہ نہیں‘‘ اگرچہ وہ پیدا ہی قیام پاکستان کے 6 سال بعد ہوئے تھے؛ تاہم ان کے والدین اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کر سکتے تھے جو کہ میری اطلاعات کے مطابق انہوں نے نہیں کیا‘ اور صرف کینسر ہسپتال بنا دینا کسی جدوجہد میں شمار نہیں ہوتا کیونکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ہسپتال کی تعمیر سے پہلے کینسر سے مرنے والوں کا ذمہ دار کون ہے‘ یعنی یہ جدوجہد بھی انہیں پیدا ہوتے ہی شروع کر دینی چاہیے تھی بلکہ بعد میں بھی انہوں نے کرکٹ کھیل کھیل کر سارا وقت ضائع کر دیا کیونکہ ورلڈ چیمپیئن ٹرافی کوئی اور کپتان بھی حاصل کر سکتا تھا بلکہ جن ممالک نے اب تک ورلڈ چیمپیئن ٹرافی حاصل نہیں کی وہ بھی تو زندہ رہ ہی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''آخر عمران خان ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں‘‘ حالانکہ ملک خود جس طرف جا رہا ہے‘ اس میں کسی طرح کی رکاوٹ ڈالنے کی بجائے اسے اپنے منطقی یا غیر منطقی انجام تک پہنچنے دینا چاہیے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک انٹرویو دے رہی تھیں۔ 
ایران کے ساتھ معاہدہ پیپلز پارٹی کا
عوام کے لیے تحفہ ہے... منظور وٹو 
پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد خاں وٹو نے کہا ہے کہ ''ایران گیس پائپ لائن معاہدہ پیپلز پارٹی کا عوام کے لیے تحفہ ہے‘‘ اگرچہ اس وقت پارٹی اس سلسلے میں نمبر ہی ٹانکنا چاہتی تھی اور صدقِ دل سے سمجھتی تھی کہ امریکہ کبھی ایسا کرنے نہیں دے گا اور اسے موجودہ حکومت کی کمزوری ہی سمجھا جائے گا لیکن بے وفا امریکہ نے ایران کے ساتھ معاہدہ کر کے ہماری ساری توقعات پر پانی پھیر دیا ہے حالانکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے عوام کو خاکسار اور دیگر معززین سے بڑا تحفہ اور کون سا ہو سکتا ہے جنہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر ان کے لیے دن رات کام کیا اور اب خود فاقوں سے دوچار ہیں اور عوام کو کبھی اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ اس حالتِ زار پر ہمارے ساتھ ہمدردی کے دو بول ہی بول دے۔ انہوں نے کہا کہ ''منصوبے کی تکمیل سے ملک میں جاری انرجی بحران پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے‘‘ جس سے بڑی بدقسمتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ سب کچھ ہماری توقعات کے خلاف اور امیدوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہوگا حالانکہ ملک میں پانی کی پہلے ہی اس قدر قلّت ہے اور اسے ایسے کاموں پر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک بیان جاری کر رہے تھے۔ 
وزیراعظم کی 90ء والی ٹیم
کابینہ کا حصہ ہے... شیخ رشید 
عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ''وزیراعظم کی 90ء والی ٹیم کابینہ کا حصہ ہے‘‘ اور اس حساب سے خاکسار کو بھی اس کا حصہ ہونا چاہیے تھا لیکن کچھ معززین کو اس سے علیحدہ کر دینا سراسر قطع رحمی ہے اور جس کے مرتکب افراد کو روزِ حشر حساب دینا پڑے گا‘ اور جس کا نتیجہ یہ ہے کہ میں ٹی وی پروگراموں ہی میں اپنا اور دوسروں کا دل بہلاتا اور دنیا کی بے ثباتی پر غور کرتا رہتا ہوں کہ آخر اس کا کیا بنے گا کیونکہ اگر میرے جیسے آدمی کا کچھ نہیں بن سکا تو یہ دنیا کیا چیز ہے۔ آپ نے کہا کہ ''میں نظریاتی مسلم لیگی ہوں‘‘ اور مسلم لیگ کے اس نظریے پر پوری طرح سے کاربند ہوں کہ مسلم لیگ کو موقعہ محل کے مطابق اپنا چولا بدلتے رہنا چاہیے کیونکہ ایک ہی لباس سے آدمی ویسے بھی تنگ آ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''میں نے ذاتی حیثیت سے عمران خان کا ساتھ دیا‘‘ کیونکہ ایک کٹڑ نظریاتی آدمی کو کبھی کبھی ذاتی حیثیت سے بھی سوچنا چاہیے حالانکہ اسی نظریاتی حیثیت سے میں نے سب سے پہلے مسلم لیگ نواز ہی کا ساتھ دینے کا فیصلہ اور کوشش کی تھی لیکن افسوس کہ یہ جماعت اپنے سارے نظریات فراموش کر چکی ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ 
زکریا شاذؔ 
زکریا شاذؔ کا مجموعۂ کلام ''خاموشی کی کھڑکی سے‘‘ شائع ہو چکا ہے جس کی سعادت زریون مطبوعات فیصل آباد نے حاصل کی ہے اور کوئی ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل نظموں اور غزلوں کی اس کتاب کی قیمت 450 روپے رکھی گئی ہے۔ پسِ سرورق وزیرآغا نے تحریر کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ''زکریا شاذؔ کی غزل جدید لب و لہجہ کی حامل ہے۔ کہیں بھی شاعر کی بھیگی ہوئی آواز جذباتی خروش میں تبدیل نہیں ہوئی۔ اس نے غزل کی عام اور پامال روش سے ہٹ کر بات کہنے کی کوشش کی ہے اور ان کی انفرادیت بھرپور انداز میں سامنے آئی ہے اور جلد ہی ان کا شعری دستخط سب لوگوں کو دکھائی دینے لگے گا‘‘ میں اس سے مکمل اتفاق کرتا ہوں اور کافی عرصہ پہلے ہی ان کی اس انفرادیت کا نوٹس لے لیا تھا۔ دیباچہ اظہارالحق نے لکھا ہے اور اپنے پیش لفظ میں شاعر نے دعویٰ کیا ہے کہ ساقیؔ فاروقی ان کے استاد اور گُرو ہیں۔ ہمارے خیال میں ساقیؔ کو اپنے شاگرد کی شاعری ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ ان پر واضح ہو سکے کہ ان کی اور اس شاعری میں فرق کیا اور کہاں تک ہے۔ اس کے چند شعر دیکھیے: 
 
 
 
وہ بھی موج موج کا سامنا نہ کر سکا 
میں بھی درمیان میں دیر تک نہیں رہا 
دیواریں سی ہر پل گرتی رہتی ہیں 
اندر کوئی رستہ بنتا رہتا ہے 
شاذؔ کس دشت سے میں لوٹ کے آیا ہوا ہوں 
جو بھی ملتا ہے سرِ راہ‘ شجر لگتا ہے 
گفتگو ہوتی رہی ہے رات بھر بارش کے بیچ 
دو دیئے جلتے رہے اک بام پر بارش کے بیچ 
یہ فائدے پہ فائدہ یوں ہی نہیں ہے شاذؔ
نقصان ہو رہا ہے ہمارا کسی طرف 
شاذؔ کوئی تو ہے آخر جو مری رات کو رات 
اور سویرے کو سویرا نہیں ہونے دیتا 
رہ جاتا ہوں کچھ میں بھی ملاقات سے باہر 
کچھ وہ بھی مجھے سارے کا سارا نہیں ملتا 
سنگ کسی کے چلتے جائیں‘ دھیان کسی کا رکھیں 
ہم وہ مسافر ساتھ اپنے سامان کسی کا رکھیں 
رنگ برنگے منظر دل میں‘ آنکھیں خالی خالی 
ہم آواز کسی کو دیں‘ امکان کسی کا رکھیں 
 
 
جگہ کی تنگی آڑے آئی ہے ورنہ اس کتاب میں نادر و نایاب مال اور بھی بہت ہے‘ شاباش زکریا شاذؔ! 
آج کا مقطع 
اُس نے پیدا کیا سوال‘ ظفرؔ 
میں نے اب اُس کا نام رکھنا ہے 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved