یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں یونیورسٹی آف ٹورونٹو سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا اور ڈاؤن ٹاؤن میں یونیورسٹی کی اپارٹمنٹ بلڈنگ میں 19ویں منزل پر واقع اپارٹمنٹ میں رہتا تھا۔ بلڈنگ 35چارلس سٹریٹ کہلاتی تھی اور اس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طلبہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہتے تھے۔ میں اور اسما اپنے دو بچوں صہیب اور ہاجرہ کے ہمراہ یہاں رہ رہے تھے۔ یہیں میں پہلی بار بین الاقوامی شہرت کے مالک مصور اورنیشنل کالج آف آرٹس (NCA)میں فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ظہور اخلاق سے ملا تھا۔
وہ ٹورونٹو کا ایک خوبصورت دن تھا۔ باہر ہلکی سنہری دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ میں اپنی اپارٹمنٹ بلڈنگ کی انیسویں منزل پر واقع اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے نیچے سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں کود یکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہاں کی زندگی کس قدر تیز رفتار ہے اور کیسے ہم زندگی کی اس دوڑ میں ایسے گم ہو جاتے ہیں کہ اپنا پتا بھی بھول جاتے ہیں۔ میں انہی خیالوں میں کھویا ہوا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ میں لپک کر لاؤنج میں رکھے فون کی طرف گیا۔ فون پر دوسری طرف امین الرحمن تھا۔ امین لاہور کا رہنے والا تھا۔ اس نے لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے تعلیم حاصل کی تھی اور آج کل ٹورونٹو میں پینٹنگ کر رہا تھا۔ یہی اس کا ذریعۂ معاش تھا۔ امین سے میر ی پہلی ملاقات کئی برس پہلے مانچسٹر میں ہوئی تھی جہاں میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے انگریزی میں ایم اے اور امین فائن آرٹس میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ میں تعلیم مکمل کر کے پاکستان آ گیا اور امین سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔ اس دوران کئی برس گزر گئے۔ پھر میں کامن ویلتھ سکالر شپ پر پی ایچ ڈی کے لیے ٹورونٹو یونیورسٹی چلا آیا۔ زندگی کا سفر بھی عجیب ہے۔ نجانے اگلے موڑ پر کیا ہو جائے۔ ایک روز میں ٹورونٹو میں سب وے میں سفر کر رہا تھا‘ سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے میں کھڑے ہو کر سفر کر رہا تھا اور کھڑکی سے باہر تیزی سے گزرتے ہوئے مناظر کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک مجھے یوں لگا جیسے کسی نے مجھے میرے نام سے پکارا ہے۔ میں نے سر گھما کر آواز والی سمت دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ وہ امین تھا۔ میرا مانچسٹر کے دنوں کا دوست۔ ہم کئی برس بعد ایک غیر متوقع مقام پر ملے تھے۔ یہ ایک دلچسپ اتفاق تھا۔ میں اسے اپنے گھر لے گیا اور دیر تک مانچسٹر کے دنوں کو یاد کرتے رہے۔ پھر ہم تواتر سے ایک دوسرے سے ملنے لگے۔ کبھی میں اس کے گھر چلا جاتا اور کبھی وہ ہمارے ہاں آ جاتا۔ آج اس کا فون آیا تو اس نے بتایا کہ وہ میری طرف آرہا ہے اور اس کے ہمراہ دو مہمان بھی ہوں گے۔ میں نے کہا ''ضرور‘‘۔
شام کو دروازے پر دستک ہوئی تو میں نے دروازہ کھولا۔ میرے سامنے امین تھا اور اس کے ہمراہ دو مہمان تھے ایک مرد اور ایک خاتون۔ ہم لِونگ روم میں بیٹھ گئے۔ امین نے تعارف کرایا: یہ ظہور اخلاق ہیں اور یہ ان کی بیگم شہرزاد ہیں۔ دونوں کی شخصیت میں کوئی سحر تھا کہ کچھ ہی دیر میں یوں محسوس ہوا جیسے ہم ایک مدت سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ ظہور اخلاق سے مل کر لگتا ہی نہیں ہم پاکستان کے نامور مصور سے مل رہے ہیں جس نے مصوری کی دنیا میں نئے رجحانات متعارف کرائے لیکن روایت کا دامن بھی تھامے رکھا۔ طبیعت میں حد درجہ حلم اور عاجزی۔ ادھر شہرزاد کی اپنی پہچان تھی‘ وہ پاکستان میں سرامکس کے شعبے کی ماہر تھیں اور مٹی کے برتن بنانے میں اپنا مقام رکھتی تھیں۔ شہرزاد اور ظہور اخلاق سے وہ ملاقات گہری دوستی میں بدل گئی۔ میرے لیے یہ خوش کُن خبر تھی کہ ظہور صاحب اور شہرزاد نے پاکستان سے ٹورونٹو منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے ہمارے گھر سے پندرہ منٹ کے فاصلے پر ایک گھر کرائے پر لے لیا تھا۔ ان دنوں پاکستان سے تین اور دوست نصیر‘ ہارون اور فاروق بھی یونیورسٹی آف ٹورونٹو میں پڑھ رہے تھے۔ یہ اکثر ہمارے گھر آجاتے۔ ظہور صاحب کی ان سے بھی دوستی ہو گئی۔ ظہور صاحب اور شہرزاد کا گھر مہمانوں کیلئے ہمیشہ کھلا رہتا۔ کئی بار میں اور اسما بچوں کے ہمراہ ان کے گھر گئے۔ اسی طرح ظہور صاحب بھی ہمارے ہاں آجاتے اور خوب گپ شپ ہوتی۔ پھر ظہور صاحب اونٹیریو کالج آف آرٹ سے جز وقتی طور پر وابستہ ہو گئے۔ ایک بار انہیں کسی کانفرنس میں جانا تھا اور کانفرنس کے آرگنائزر کو ان کے تازہ سی وی کی ضرورت تھی۔ ظہور صاحب نے مجھے کچھ کاغذات ٹائپ کرنے کو دیے۔ ان کا سی وی واقعی متاثر کن تھا۔ ظہور صاحب ایک سیلف میڈ شخص تھے جنہوں نے اپنی محنت اور بے پناہ تخلیقی صلاحیت کی بدولت فن کی دنیا میں اپنا مقام بنایا۔
ظہور صاحب کی جائے پیدائش دہلی تھی جہاں وہ 1941ء میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد لاہور آگئے اور پھر کراچی میں ڈیرہ جمایا۔ نوجوانی سے ہی ظہور اخلاق کا رحجان آرٹ کی طرف تھا۔ لاہور میں میو سکول آف آرٹس کے نام سے آرٹ کا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہوا کرتا تھا‘ جہاں پاکستان کے معروف آرٹسٹ شاکر علی بھی پڑھاتے تھے۔ وہی شاکر علی جنہوں نے Cubism کی روایت کو آگے بڑھایا۔ بعد میں لاہور میو سکول آف آرٹس کا نام نیشنل کالج آف آرٹس رکھ دیا گیا تو شاکر علی 1962ء میں اس کے پہلے پاکستانی پرنسپل بنے تھے۔ جب نوجوان ظہور اخلاق کراچی سے لاہور آیا تو شاکر علی نے اس کی آنکھوں میں وہ خواب دیکھ لیے جن کی تعبیر نے ظہور اخلاق کو پاکستان کا ایک بڑا مصور بنانا تھا۔ شاکر علی نے نوجوان ظہور اخلاق کو اپنے حلقۂ اثر میں لے لیا۔ ظہور صاحب شاکر علی کا ذکر بہت محبت سے کرتے اور برملا فن پر شاکر علی کے اثرات کا اعتراف کرتے۔
جب پہلی بار میں ظہور اور شہرزاد کے گھر گیا تو ان کی دو بیٹیوں سے ملاقات ہوئی۔ بڑی بیٹی جہاں آرا نے اپنے لیے کلاسیکل رقص کا شعبہ منتخب کیا تھا۔ چھوٹی بیٹی نور جہاں ابھی کالج میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ میں جب بھی ظہور صاحب اور شہرزاد کے گھر گیا ہمیشہ خوش دلانہ تپاک کا احساس ہوا۔ ان کے گھر جا کر ہم بے تکلف لوِنگ روم میں بیٹھتے اور طرح طرح کے موضوعات پر گفتگو ہوتی۔ ان کے گھر اکثر نئے لوگوں سے ملاقات ہوتی۔ میری پہلی بار آئی اے رحمن سے اسی گھر میں ملاقات ہوئی۔ اسی طرح گوپی چند نارنگ سے بھی میں پہلی بار یہیں ملا۔ اسی طرح ایک محفل میں معروف شاعر اور فلمساز گلزار پر ڈاکومینٹری بنانے والی ایک نوجوان فلم میکر سے بھی یہیں ملاقات ہوئی۔ اُس روز ہم رات گئے تک فلموں اور شاعری پر گفتگو کرتے رہے۔ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ اُس روز میں ظہور صاحب اور شہرزاد کو خداحافظ کہہ کر گھر سے نکلا تو باہر ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی۔ ہوا میں خاص طرح کی کاٹ تھی۔ میں نے جیکٹ کی زِپ کا لر تک بند کر لی اور سائڈ واک کی نرم برف پر احتیاط سے قدم رکھتا ہوا اپنے گھر کی طرف چلنے لگا۔(جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved