28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی جنگ امریکی گلوبل ایمپائر کو اس کے ناگزیر انجام سے بچانے کی ایک آخری کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے ۔اس سے قبل اس نے 1948ء میں فلسطین میں اسرائیل کی یہودی ریاست قائم کر کے‘ 1967ء میں عرب قوم پرستی کو شکست دے کر اور خطے میں عراق‘ مصر اور شام کی طرف سے امریکی ایمپائر کی چوکی‘ اسرائیل کو لاحق خطرات کا خاتمہ کر کے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے تسلط کو محفوظ بنانے کی کوشش کی تھی‘ تاہم اس کیلئے ایران کی جانب سے چیلنج برقرار رہا‘ اور ایران پر تسلط قائم کیے بغیر مشرقِ وسطیٰ پر امریکی بالادستی‘ دوسرے الفاظ میں اس کی گلوبل ایمپائرمکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتی۔
یہ امر خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب سلطنتِ عمان کی وساطت سے امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری تھے۔ عمانی اور ایرانی ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان سمجھوتے کے بنیادی اصولوں پر اتفاقِ رائے تقریباً ہو چکا تھا اور جمعہ‘ 27 فروری کو جنیوا میں ان مذاکرات کے تیسرے دور کے اختتام پر باہمی رضامندی سے ٹیکنیکل سطح پر بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔اس نوعیت کی تکنیکی بات چیت کیلئے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کی ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان بھی سامنے آ چکا تھا۔ خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات جاری رہیں گے اور ان کا اگلا دور جمعہ چھ مارچ کو ہوگا۔ مگر 28فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی کا آغاز کر دیا جو صدر ٹرمپ کے اپنے بیان کے مطابق گزشتہ جون میں کیے جانے والے حملے سے کہیں زیادہ وسیع اور تباہ کن تھی۔ اس کارروائی میں خلیج فارس کے اطراف میں تعینات امریکی بحری بیڑوں‘ آبدوزوں اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں قائم امریکی اڈوں سے ایران پر فضائی حملے کیے گئے۔ ان اہداف میں ایران کی فوجی‘ شہری اور ایٹمی تنصیبات شامل تھیں۔ ابتدائی حملوں ہی میں ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای‘ ایرانی فوج کے سربراہ اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر کی شہادت کی خبر منظر عام پر آئی۔ الجزیرہ کی نشریات کے مطابق ایران کے 31صوبوں میں سے 24صوبوں میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور یہ حملے تاحال جاری ہیں جن کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کے ایک بیان کے مطابق ایرانی قیادت کے 48 اعلیٰ اراکین شہید کیے جا چکے ہیں۔
بیشتر مبصرین اور تجزیہ کار اس رائے کے حامی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کو اسرائیلی وزیراعظم نے سبوتاژ کیا ہے۔ اسرائیل کے ایک سابق دفاعی افسر نے یہ رائے دیتے ہوئے کہ نیتن یاہو کو اپنے خلاف کرپشن کے الزامات سے بچنے اور آئندہ چند ماہ میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی کیلئے اس جنگ کی ضرورت ہے‘ مذاکراتی عمل میں اہم پیش رفت کے باوجود ایران پر حملے کا ذمہ دار اسرائیلی وزیراعظم کو ٹھہرایا ہے۔ یہ رائے ایک حد تک درست معلوم ہوتی ہے کہ نیتن یاہو اور حکومت میں شامل اس کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی نہ صرف پورے فلسطین بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور عدم استحکام کے خواہاں ہیں تاکہ فلسطین میں دو ریاستی فارمولے کو ہمیشہ کیلئے ختم کر کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ مگر 1948ء سے اب تک مشرقِ وسطیٰ میں جتنی بھی عرب اسرائیل جنگیں ہوئیں‘ ان سے اسرائیل سے زیادہ امریکہ کو فائدہ پہنچا ہے۔ اسرائیلی بیانیے کے مطابق یہ جنگیں اس پر مسلط کی گئیں اور اس نے صرف اپنی بقا اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عرب علاقوں پر قبضہ کیا‘ لیکن عربوں کے خلاف چار بڑی جنگیں لڑنے اور شام‘ اردن اور مصر کے علاقوں پر قبضہ جمانے کے باوجود صہیونی ریاست آج بھی خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے۔ غزہ میں دو سال سے زیادہ عرصے تک گولوں‘ بموں اور میزائلوں کی بارش سے 78ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت اور 80فیصد علاقے کھنڈرات میں تبدیل کرنے کے باوجود بھی وہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے جن کا اعلان سات اکتوبر 2023ء کو غزہ پر حملے کے آغاز پر کیا گیا تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد سے 1979ء تک ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا حلیف ملک رہالیکن آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں سابق شاہ ایران کے خلاف انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسلامی حکومت نے سب سے پہلے خلیجِ فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی مخالفت کرتے ہوئے خلیجِ فارس اور اس کے اطراف سے امریکی فوجیوں کے انخلا اور فوجی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ایران کے اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے عراق کے صدام حسین کو ایران پر یکطرفہ حملہ کرنے کی ترغیب دی گئی۔ تقریباً ایک دہائی تک جاری رہنے والی اس جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان کے علاوہ ایران میں دہشت گردی کے ذریعے قیادت اور اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدر جمی کارٹر کے دور میں ایران میں وسیع پیمانے پر تخریب کاری اور قتل و غارت گری کیلئے مسلح ایجنٹ داخل کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن یہ تمام کوششیں ناکام رہیں۔ بالآخر امریکہ نے ایران پر براہِ راست حملہ کرنے اور وہاں قائم اسلامی حکومت کا خاتمہ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کی مگر اس پر عملدرآمد میں دو بڑی رکاوٹیں حائل تھیں۔ پہلی رکاوٹ یہ تھی کہ اسلامی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدار سنبھالنے کیلئے کوئی قد آور‘ مقبول اور قابلِ قبول شخصیت یا سیاسی جماعت امریکہ کے پاس موجود نہیں تھی۔ دوسری رکاوٹ ایران پر حملے کیلئے کسی معقول جواز کا فقدان تھا۔ تاہم 2003ء میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو جنوبی ایشیائی امور کے ماہر پروفیسر سٹیفن کوہن کے مطابق ایران پر بھی حملے کا منصوبہ زیرِ غور تھا‘ مگر افغانستان کی بگڑتی صورتحال کے باعث اس ارادے کو مؤخر کرنا پڑا۔ امریکہ میں اسرائیل کے حامی نیو کنزرویٹو عناصر عراق کی طرح ایران پر بھی جوہری ہتھیار بنانے کا الزام عائد کر کے اسے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کا نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن براک اوباما کے صدر منتخب ہونے اور ان کی دوسری مدت کے دوران 2015ء میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پا جانے سے ان عناصر کو اپنے عزائم کی تکمیل کا موقع نہ مل سکا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ‘ جنہوں نے اپنی پہلی مدت میں 2018ء میں اوباما دور کے ایران امریکہ جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا‘ اب اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ آور ہیں۔
امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں مطلوبہ نتائج حاصل ہونے تک یہ حملے جاری رہیں گے۔ مطلوبہ نتائج سے مراد ایران میں موجودہ حکومت کی جگہ امریکہ کی من پسند حکومت کو برسرِ اقتدار لانا ہے۔ لیکن کیا امریکہ اپنے اعلان کردہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا؟ ایران امریکہ جنگ کیا رُخ اختیار کرے گی؟ ایران کی اسلامی حکومت اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کرے گی؟ اور اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے‘جس کا بہت زیادہ امکان ہے‘ تو ایران کے گرد و نواح کے ممالک‘ جن میں پاکستان بھی شامل ہے‘ اور بین الاقوامی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ان اہم اور پیچیدہ سوالات کو آئندہ کالموں میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved