افغانستان کے محاذ پر پاکستان کی دفاعی حکمت عملی مؤثر ثابت ہوئی اور افغانستان کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر قائم چوکیوں پر فائرنگ کے واقعات اور افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ نے پاکستان کی افواج کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے اڈوں اور تربیتی مراکز کو ٹارگٹ کر کے افغان انتظامیہ کو یہ باور کرائیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی برداشت نہیں کرے گا اور افغان سرزمین کے استعمال پر افغان انتظامیہ کی غفلت ہضم نہیں کی جائے گی۔ یہی وجہ تھی کہ افغانستان کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر حملے کے جواب میں پاکستان کی فوج اور فضائیہ کی کارروائی نے افغانستان پر واضح کر دیا کہ اب پاکستان کی اس حوالے سے پالیسی زیرو ٹالرنس ہے اور بات صرف احتجاج یا سفارتی دبائو تک محدود نہیں رہے گی‘ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تو اسے بھرپور جواب ملے گا۔ پاکستان کی جانب سے دیے جانے والے ردِعمل کی تفصیلات ہفتہ کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے قوم کے سامنے رکھیں‘اور انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آپریشن غضب للحق اپنے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ نوبت یہاں تک کیونکر پہنچی‘ تو جب سے طالبان انتظامیہ کابل میں برسر اقتدار آئی ہے‘ تب سے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا سلسلہ بڑھا ہے۔ دوحہ میں امریکہ اور طالبان انتظامیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ بنیادی نکتہ تھا کہ طالبان کابل کا نظم ونسق سنبھالنے کے بعد دہشت گردی کا قلع قمع کریں گے اور افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ دوحہ معاہدے میں پاکستان کا بھی ایک کردار تھا اور پاکستان سمجھتا تھا کہ کابل میں سیاسی تبدیلی کا عمل امن کے قیام کے ساتھ خطے میں استحکام کا باعث بھی بنے گا۔ پاکستان‘ جس کی افغانستان کے حوالے سے قربانیوں کی ایک تاریخ رہی ہے‘ کا خیال تھا کہ کابل میں پاکستان دوست حکومت کا قیام سی پیک کی نتیجہ خیزی میں اہم ہوگا۔ وسط ایشیائی ریاستوں سے تعلقات میں بہتری کے ساتھ انہیں سی پیک میں بھی شامل کیا جا سکے گا لیکن دشمن کو پاکستان کا یہ کردار ہضم نہیں ہو پا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے تو خود انحصاری کی منزل پر پہنچ چکا ہے‘ اگر معاشی محاذ پر بھی اسے مواقع میسر آئے تو اسے ترقی وخوشحالی کی منزل پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکے گا‘ لہٰذا اس نے دہشت گردوں کو اسلحہ اور فنڈنگ فراہم کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کی۔
ہر بار دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان نے اس کے شواہد افغان انتظامیہ کو فراہم کیے اور ان سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی بیخ کنی کریں۔ اس ضمن میں پاکستان نے افغانستان کو ہر ممکن سپورٹ کی آفر بھی کی لیکن بار بار یقین دہانیوں کے باوجود افغان طالبان نے اس ضمن میں عملاً اقدامات سے گریز کیا ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان اور کالعدم ٹی ٹی پی میں نظریاتی تعلق بہت مضبوط ہے‘ دوسرا افغان حکومت سمجھتی ہے کہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی انہیں افغانستان میں ایک نئی صورتحال سے دوچار کر دے گی‘ لہٰذا افغان طالبان نے دہشت گردی کے معاملے پرمجرمانہ غفلت برتی اور افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ مئی 2025ء میں پاکستانی افواج کے ہاتھوں بھارت کو ہونے والی شکست فاش کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف کسی جارحیت کی پوزیشن میں نہیں رہا لیکن اس نے پاکستان سے اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے افغان سرزمین اور افغان انتظامیہ کو استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کی اور افغان طالبان کو سہانے خواب دکھا کر انہیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا مشن سونپا۔ گزشتہ چند ماہ میں دہشت گردی کی وارداتوں خصوصاً پاکستانی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا‘ جو ریاستِ پاکستان کیلئے کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔ پاکستان نے افغانستان کے خلاف حتمی کارروائی سے گریز کرتے ہوئے دوست ممالک کو اس میں شامل کرنے کی سعی کی۔ سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ نے اپنے تئیں اس حوالے سے کوشش بھی کی لیکن افغان طالبان کوئی ایسی تحریری یقین دہانی کرانے کیلئے تیار نہ تھے جو انہیں جوابدہ بنائے۔ اس پر دوست ممالک نے بھی خاموشی اختیار کر لی؛ البتہ وہ پاکستان اور افغانستان میں کوئی بڑا تصادم نہیں چاہتے تھے۔ پاکستان کی لیڈرشپ کو کہا گیا کہ ایک ذمہ دار نیوکلیئر پاور کے طور پر پاکستان افغانستان سے براہِ راست تصادم سے گریز کرے۔ پاکستان‘ جس نے ہمیشہ دوست ممالک کا احترام کیا‘ بڑے نقصانات اٹھانے کے باوجود حتمی اقدام سے گریز کرتا رہالیکن افغان طالبان نے پاکستان کی اس حکمت عملی کو اس کی کمزوری سمجھا اور دہشت گرد پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے خلاف اپنے مذموم ایجنڈے میں مزید فعال ہو گئے۔ پاکستان نے یہ طے کر رکھا تھا کہ اب کابل رجیم کی ضد اور ہٹ دھرمی کا توڑ اس انداز میں کیا جائے گا کہ دہشت گردی کی کمر بھی ٹوٹ جائے اور دہشت گرد بھی اپنے انجام کو پہنچیں۔ افغان طالبان نے پاکستان کی چوکیوں پر حملہ کرکے اس کا بڑا جواز فراہم کر دیا‘ تاہم بڑا سوال یہی ہے کہ یہ کشیدگی جاری رہے گی اور افغان طالبان اپنی ذمہ داری کا احساس کر پائیں گے؟ فی الحال تو ایسا امکان نظر نہیں آ رہا۔ دوست ممالک متحرک نظر آ رہے ہیں لیکن کیا طالبان اس کیلئے تیار ہوں گے اور کوئی گارنٹی دے پائیں گے‘ یہ بڑا سوال ہے۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جب تک ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیموں کو افغان سرزمین پر پناہ گاہیں اور محفوظ چھتری میسر رہے گی کشیدگی ختم نہیں ہو گی۔ اس حوالے سے گیند طالبان کی کورٹ میں ہے‘ فیصلہ انہیں کرنا ہے۔ پاکستان افغانستان سے اچھے تعلقات اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں رہا ہے لیکن افغانستان کا اس حوالے سے کردار مثبت نہیں رہا۔ اب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد خطے میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور پورے خطے میں خطرات اور خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ‘ اس صورتحال میں طالبان انتظامیہ کو دیکھنا ہوگا کہ آگے انہیں کیسے چلنا ہے۔ پاکستان فیصلہ کر چکا ہے کہ ہم نے اپنا ہائوس اِن آرڈر رکھنا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ ماہرین کی رائے یہی ہے کہ ہمسایہ ممالک میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔کابل کو یہ سمجھنا ہو گا کہ بھارت افغانستان کو ہلہ شیری ضرور دے گا‘ فنڈنگ اور اسلحہ بھی فراہم کرے گا لیکن عملاً اس کے ساتھ کھڑا نہیں ہو پائے گا۔ وہ محض اسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ خود افغانستان میں اتنی صلاحیت نہیں کہ پاکستان اور اس کی افواج کا مقابلہ کر سکے‘ لہٰذا جب تک افغان طالبان حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار نہیں کرتے صورتحال میں بہتری نہیں آئے گی۔ اگر افغان انتظامیہ بھارتی حصار سے نہیں نکلتی اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتی ہے تو پھر اسے نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے جس پر پاکستان کا یہ پیغام رقم ہے کہ ہمیں اپنی بقا اور سلامتی ہر چیز سے زیادہ مقدم ہے جو اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا اسے قیمت چکانا پڑے گی‘ جس کا سب سے بڑا ثبوت معرکہ حق کے بعد آپریشن غضب للحق ہے جس کی نتیجہ خیزی دنیا نے دیکھ لی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved