تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     05-03-2026

یہ کہانی کسی بھی وقت دہرائی جا سکتی ہے

جب دو‘ عالمی دس نمبری غنڈے آپ کے ساتھ والے گھر پر قبضہ کرنے کیلئے چادر چار دیواری کے سارے اصول توڑتے ہوئے حملہ آور ہو رہے ہوں اور ان شہدوں کی شہرت یہی ہو کہ وہ نہ کسی کے دوست ہیں اور نہ ہی کسی اخلاقی قاعدے کے پابند‘ تو ایسے میں اپنے گھر کے مستقبل کی خاطر ہمسایے سے پرانی شکایات کا دفتر کھولنا حماقت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔
شاہ جی کے بقول موجودہ صورتحال میں ایران ہم سب کی طرف سے اکیلا فرضِ کفایہ ادا کر رہا ہے۔ لیکن کیا ایران کے اس عمل سے ہم سب کی ذمہ داری اور فرائض ساقط ہو سکتے ہیں؟ یہ فرضِ کفایہ والا نہیں‘ فرضِ عین والا معاملہ ہے اور سب نے اس کیلئے علیحدہ علیحدہ اور انفرادی جواب دینا ہے۔ اپنی کمزوری‘ کوتاہی‘ کم ہمتی اور بزدلی کو فرضِ کفایہ میں نہیں چھپایا جا سکتا۔ لڑنے کی ہمت نہیں تو نہ سہی‘ لیکن کم ازکم مؤقف کو تو صاف رکھا جاتا۔ یہ کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے بھی ایران پر حملہ کر کے غلط کیا ہے اور ایران نے بھی خلیجی ممالک پہ جوابی حملہ کر کے غلط کام کیا ہے۔ جب امریکہ کے اڈے ان ممالک میں ہوں گے اور وہاں سے ایران کیخلاف کارروائی ہوگی تو ان اڈوں پر حملہ ویسے ہی منطقی طور پر درست ہے جیسے ہم آج کل آپریشن غضب للحق میں ٹی ٹی پی وغیرہ کے قائم اڈوں اور ان کے حواریوں کی طبیعت صاف کر رہے ہیں۔ جو ممالک اس ناجائز حملے میں امریکہ کے مددگار ومعاون ہیں‘ امریکی فوجیوں کو اپنی سرزمین پر کارروائیوں کیلئے اور امریکی جہازوں کو لاجسٹک اور فیول کی سہولتیں دے رہے ہیں‘ اپنی ایئر سپیس اسرائیلی اور امریکی جہازوں اور میزائلوں کے گزرنے کیلئے دے رہے ہیں وہ سب لوگ حقیقی طور پر اس جنگ میں عملی طور پر امریکہ کے ساتھ اور اسرائیل کے سہولت کار ہیں۔ ہمسایے میں آگ لگائیں گے تو تپش برداشت کرنی پڑے گی۔
صورتحال یہ ہے امریکہ اور سارے مغرب کو ایران میں انسانی حقوق‘ مولویوں کی سخت گیری‘ عوام کی بے چینی‘ مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ایرانیوں اور جمہوریت کی کسمپرسی کا بڑا غم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی عوام کی معاشی بدحالی‘ مہنگائی اور افراطِ زر کی بنیادی وجہ امریکہ کی عائد کردہ پابندیاں ہیں جن کے باعث چند ممالک کے علاوہ سب نے مارے خوف کے ایران کا اقتصادی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ دور کیوں جائیں‘ ہم خود امریکی پابندیوں کے خوف سے سہم کر ایران سے طے شدہ معاہدے کے مطابق سستی گیس کے حصول کیلئے پائپ لائن تعمیر نہیں کر پا رہے۔ 2009ء میں ہونے والے اس معاہدے کے مطابق پاکستان نے ایران سے روزانہ 750ملین مکعب فٹ گیس لینی تھی۔ اس گیس کی سپلائی کیلئے 1900 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر ہونی تھی۔ اس میں سے ایران اپنے حصے کی 1150کلومیٹر پائپ لائن تعمیر کر چکا ہے۔ پاکستان نے اپنے علاقے میں 780 کلومیٹر تعمیر کرنی تھی تاہم اس کے بیشتر حصے پر ابھی کام بھی نہیں شروع ہوا۔ یہ منصوبہ 2014ء میں مکمل ہونا تھا اور تاخیر کی صورت میں پاکستان کو روزانہ ایک ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنا ہے۔ پاکستان اس معاہدے میں توسیع لیتے لیتے 2024ء تک جرمانے سے معافی لے چکا ہے۔ یہ معاہدہ جسے GSPA کہا جاتا ہے‘ فرانسیسی قانون کے تحت ہوا اور اس میں کسی قانونی پیچیدگی یا خلاف ورزی کا معاملہ پیرس کی بین الاقوامی ثالثی عدالت (Paris Arbitration) میں جائے گا۔ یاد رہے کہ ایسے معاہدوں میں امریکی پابندیاں جواز کے طور پر قبول نہیں کی جاتیں۔ یعنی اگر ایران عدالت میں چلا جائے تو اندازاً پاکستان کو ہرجانے کی مد میں تقریباً 18 ارب ڈالر دینے پڑ سکتے ہیں۔ جی! ملک کے زرِمبادلہ کا سارا ذخیرہ جس میں چین‘ سعودی عرب اور یو اے ای کے سود پر لیے گئے تقریباً دس ارب ڈالر ہیں‘ سارے کے سارے اس جرمانے میں چلے جائیں گے۔
قارئین! معاف کریں میں کہیں سے کہیں نکل گیا۔ مسئلہ ایران کی حالیہ صورتحال کا ہے۔ اس پر مغرب کے پیٹ میں جو مروڑ اٹھ رہے ہیں ان سے قطع نظر ایران میں سیاسی اور معاشرتی صورتحال کو آج کے حالات کے تناظر میں دیکھیں تو اس سلسلے میں ایک ایرانی کا یوٹیوب پر تبصرہ درج ذیل ہے‘ اس سے اتفاق یا اختلاف بالکل مختلف بات ہے لیکن یہ بے لاگ تبصرہ چونکہ ایک متاثرہ فریق کی جانب سے آیا ہے اس لیے قابلِ غور ضرور ہے۔
''ایک ایرانی ہونے کے ناتے میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اب صورتحال صرف سیاسی نہیں رہی بلکہ وجودی بن چکی ہے۔ ہم دو بکھرتے ہوئے ڈھانچوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک اندرونی اور دوسرا بیرونی۔ ایک طرف ہمیں بری طرح ناکام اور ناکارہ حکومت کا سامنا ہے جس کی قیادت سپریم لیڈر اور اسلامی جمہوریہ کے غیر منتخب نمائندے کر رہے ہیں۔ معاشی بدانتظامی کی دہائیوں‘ اختلافِ رائے کو دبانے اور سخت نظریاتی کنٹرول نے کئی نسلوں کو حکومت سے بدظن کر دیا ہے۔ اب کوئی اصلاحات پر یقین نہیں رکھتا‘ کیونکہ ہر کوشش یا تو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر لی گئی یا طاقت کے ذریعے کچل دی گئی۔ لیکن یہاں ایک تضاد بھی ہے۔ ہم حکومت کے خاتمے سے بھی خوفزدہ ہیں‘ کیونکہ ہم نے عراق‘ لیبیا‘ شام اور افغانستان جیسے ممالک میں مغربی مداخلت کے بعد کے حالات دیکھے ہیں۔ ہر ایک سے آزادی کا وعدہ کیا گیا مگر ہر ایک افراتفری‘ خانہ جنگی یا بیرونی قبضے کا شکار ہے۔ اس لیے نہیں کہ ہم امریکہ یا اسرائیل پر اعتماد نہیں کرتے‘ اس لیے نہیں کہ ہم اپنی حکومت کے حامی ہیں‘ بلکہ اس لیے کہ ہم جانتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں سامراجی طاقتیں آزاد کیے گئے ممالک کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں۔ اس وقت بہت سے ایرانی بیک وقت تین حقیقتوں کے ساتھ زندہ ہیں۔ اسلامی جمہوریہ اخلاقی اور سیاسی طور پر دیوالیہ ہو چکی ہے۔ بیرونی قوتوں کی طرف سے پیش کیے گئے متبادل آزادی نہیں بلکہ تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہیں۔ بری حکومت کے ساتھ زندہ رہا جا سکتا ہے مگر بغیر حکومت کے نہیں۔ ہم خاموش اس لیے نہیں کہ متفق ہیں‘ بلکہ اس لیے کہ محتاط ہیں کہ ہم بہت اچھی طرح سیکھ چکے ہیں کہ جب بڑی طاقتیں ''مدد‘‘ کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ مختصراً یہ کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جو اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں یرغمال ہے مگر اپنے پڑوسی ممالک کے انجام سے خوفزدہ بھی ہے۔ ہم ایک ایسے گھر میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے ہمیں نفرت ہے‘ مگر اس کے باہر لگی آگ سے ہمیں اس سے بھی زیادہ ڈر لگتا ہے‘‘۔
ایران کی اندرونی صورتحال سمجھنے کیلئے اس سے بہتر اور مختصر منظر کشی بھلا اور کیا ہو سکتی ہے؟ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایران کی قیادت کیلئے تین نام زیر غور ہیں لیکن ابھی نہیں بتائوں گا۔ یعنی ایران میں جمہوریت کی بحالی کیلئے تہران سے دس ہزار دو سو کلومیٹر دور واشنگٹن میں بیٹھا ہوا ایک امریکی فیصلہ کرے گا کہ ایران کی حکومت کون سنبھالے گا۔ اس جمہوری ایجاد پر تو قربان ہونے کو جی کرتا ہے۔ فی الحال امریکہ پوری دنیا کا ''ماما‘‘ ہے۔ اگر وہ چاہے تو عشروں سے حکمران بادشاہوں کو جمہوریت کی سند عطا کر دے اور چاہے تو برسوں سے مسلط وردی والوں کو جائز حکمران قرار دے کر ان کے سر پر دستِ شفقت رکھ دے۔ساری دنیا مل کر انسانی حقوق اور انسانی جان کی وہ بے حرمتی اور تذلیل نہیں کر سکتی جو اکیلا اسرائیل کر رہا ہے اور امریکہ اسی اسرائیل کے ساتھ مل کر اپنے سے دس ہزار کلومیٹر دور ملک میں انسانی حقوق کے نام پر حکومت تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ فی الوقت اس بلائے بے درماں سے نجات کی صورت بھی دکھائی نہیں دیتی۔ مجھے خوف یہ ہے کہ ہم جس ایٹم بم کو اپنی حفاظت اور آزادی کی ضمانت سمجھتے ہیں کہیں وہی ہمارے لیے مصیبت کا باعث اور ہم پر چڑھ دوڑنے والوں کیلئے بہانہ نہ بن جائے۔ بھیڑ کے بچے اور بھیڑیے والا قصہ گو کہ ایک کہانی ہے لیکن ایسی کہانیاں کسی بھی وقت دہرائی جا سکتی ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved