اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر جبکہ ایران کے اسرائیل پر اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ برطانیہ کے سابق سینئر نیٹو کمانڈر سر رچرڈ شیرف نے کہا ہے کہ تیسری عالمی جنگ چھڑ چکی ہے۔ ایرانی فوج کی جانب سے کہا گیا کہ خلیجی ممالک میں امریکہ کی بیشتر تنصیبات ایران کے نشانے پر ہیں۔ ایرانی فوج نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 160امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ بتایا گیا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 650ہو چکی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ بحر ہند میں 650کلو میٹر دور ایندھن بھرنے والے امریکی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب بدھ کے روز امریکہ اور اسرائیل نے تہران کے آزادی سکوائر کے علاقے میں موجود عمارتوں پر پھر بمباری کی۔ حملوں کے بعد آزادی سکوائر کے قریب موجود گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی‘ جس کے نتیجے میں کئی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتیں‘ فضائیہ‘ نیوی اور فوجی قیادت ختم ہو چکی ہے اور اس نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن ان کے خیال میں بہت دیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے امریکہ کے سٹاک شدہ ہتھیاروں کی بھرپور تیاری کا بھی اعلان کیا اور جنگ کے لمبے عرصے تک جاری رہنے کے امکانات ظاہر کیے۔
امن پسند ملکوں کی جانب سے تو ایران پر حملے کے تناظر میں امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کی ہی جا رہی ہے امریکہ کے اندر سے بھی اس مِس ایڈونچر پر ٹرمپ کو خوب رگیدا جا رہا ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک سینیٹر الزبتھ وارن نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی جنگ اور جھوٹ پر مبنی ہے‘ جو ایران کی جانب سے امریکہ کو بغیر کسی خطرے کے چھیڑی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی سینیٹ میں اقلیتی لیڈر چک شومر کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد وہ پہلے سے زیادہ تشویش کا شکار ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کا جواز ہر گھنٹے بعد بدل رہی ہے۔
اس ساری صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو آج کا سب سے بڑا سوال یہ بنتا ہے کہ کیا ایران امریکہ جنگ امریکہ کے لیے ایک نیا کمبل ثابت ہونے والی ہے؟ اور یہ سوال اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کہ جنگ شروع کرنا تو کسی کے اختیار میں ہوتا ہے لیکن جنگ بند کرنا یا روکنا کسی کے بھی اختیار میں نہیں رہتا۔ حالات و واقعات اور حربی نتائج فیصلہ کرتے ہیں کہ جنگ بند ہونی چاہیے یا نہیں۔ یہ سوال اٹھائے جانے کی دوسری وجہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف فتح کا وعدہ کیا ہے‘ لیکن ایران کی جانب سے ان حملوں کا جس شدت اور تیزی سے جواب دیا جا رہا ہے‘ وہ بتاتا ہے کہ معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے۔ 25سال پہلے نائن الیون کے رونما ہونے کے بعد افغانستان پر حملہ آور ہوتے ہوئے سابق صدر جارج بش (جونیئر) نے بھی ایسی ہی فتح کی نوید سنائی تھی‘ لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ روئے زمین کی واحد سپر پاور بیس سال تک افغانستان کی جنگ میں پھنسی رہی اور وہاں سے نکلی بھی تو ایسی حالت میں کہ نہ تو افغانستان پوری طرح فتح ہو سکا‘ نہ وہاں کوئی مستحکم جمہوری حکومت قائم کی جا سکی اور نہ افغانستان کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک ہی کیا جا سکا۔ افغانستان سے انخلا ہوا بھی تو جنگی فتح کے بعد نہیں بلکہ دوحہ معاہدے کے تحت اور وہ بھی ان حالات میں اور اس انداز سے کہ اربوں ڈالر کا اسلحہ وہیں چھوڑ دیا گیا۔ یہ غلطی یہ جانتے بوجھتے ہوئے کی گئی کہ امریکہ کو افغانستان سے انخلا کے لیے مجبور کرنے والی قوتیں ان کا غلط استعمال کر سکتی ہیں۔ یہ غلط استعمال پاکستان کے خلاف ہو رہا ہے۔ اس کی پوری دنیا گواہ ہے۔ افغان طالبان کے سدھر جانے کا خاصا انتظار کرنے کے بعد اب پاکستان اپنی طاقت دکھا رہا ہے اور معاملات کو عملی طور پر ٹھیک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اور ان شاء اللہ معاملات جلد ٹھیک ہو بھی جائیں گے۔
بات ہو رہی تھی امریکی وزیر دفاع کی۔ امریکی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایران میں امریکی فوج کو نہیں اتارا گیا ہے‘ تاہم انہوں نے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ قدم کو مسترد کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جہاں تک جانا پڑا جائے گا‘ لیکن غیر دانش مندانہ اقدام نہیں کیا جائے گا۔ میرے خیال میں جس روز امریکہ ایران میں اپنے فوجی اتارے گا وہی دن ہو گا جب ایران کی جنگ امریکہ کے لیے کمبل بن جائے گی۔ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے میں بیس سال لگ گئے‘ لیکن اگر امریکی افواج ایران میں اتاری گئیں تو پھر ممکن ہے امریکہ کو وہاں سے نکلنے میں افغانستان سے بھی زیادہ عرصہ لگ جائے۔
ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب ایران کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری تھے‘ دونوں جانب سے ان کے مثبت نتائج سامنے آنے کے دعوے کیے جا رہے تھے‘ اور ایران کی جانب سے ایک ممکنہ معاہدے کا مسودہ امریکہ کے حوالے کیا جا چکا تھا‘ پھر بھی امریکہ نے ایران پر حملہ کیوں کر دیا؟ اگرچہ نیتن یاہو نے اس سے انکار کیا ہے لیکن کہا یہ جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ میں آ کر یہ جنگ شروع کی ہے۔ ٹرمپ جنگ شروع کرنے کا جو بھی جواز پیش کریں‘ وہ قابلِ قبول نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل نہ کیا جا سکتا۔ اس سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران تو اپنے ایٹمی پروگرام کے بابت عالمی برادری کے ساتھ ایک معاہدے میں بندھ چکا تھا۔ ایران کے اس جوہری معاہدے پر 2015ء میں امریکہ کی جانب سے اُس وقت کے صدر باراک اوباما نے دستخط کیے تھے جبکہ یورپی یونین سمیت برطانیہ‘ فرانس‘ جرمنی‘ روس اور چین بھی اس میں فریق بنے تھے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں مئی 2018ء میں ایران کے ساتھ ہو چکے اس جوہری معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ کہا تھا کہ ایران پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی اور وہ ایران سے جوہری تعاون کرنے والی ریاست پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔ اُس وقت کے ایرانی صدر حسن روحانی نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ کا فیصلہ عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے‘ امریکہ ایرانی جوہری معاہدے سے کبھی مخلص نہیں تھا‘ ٹرمپ نے وعدہ خلافی کی ہے۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے کے ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنا گمراہ کن اور سنگین غلطی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کا 2018ء میں کیا گیا وہ فیصلہ ہی اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہو چکی تشویشناک صورتحال کا باعث اور سبب ہے۔ اچھے خاصے پُرامن اور پُرسکون ہو چکے ایران کو ٹرمپ نے خود جگایا اور پابندیاں لگا کر بھڑکایا۔ اب خود ہی اسے رام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں‘ لیکن یہ بات وثوق کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو جائیں گے۔ سوویت یونین اور افغانستان کے ریچھ سے تو امریکہ نے بالترتیب دس سال اور بیس سال اُلجھنے کے بعد اپنی جان کسی نہ کسی طرح چھڑا لی تھی‘ لیکن لگتا نہیں کہ ایران سے اس کی جان جلدی چھوٹ جائے گی۔ ایران کی جنگ امریکہ کے لیے ایسا کمبل بن سکتی ہے جسے امریکہ اور ٹرمپ تو چھوڑنا چاہیں گے لیکن کمبل انہیں نہیں چھوڑے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved